وجود

... loading ...

وجود

بلاول بھٹو کی نوازشریف سے ملاقات، موجودہ سیاسی صورتحا ل پر گفتگو

جمعه 22 اپریل 2022 بلاول بھٹو کی نوازشریف سے ملاقات، موجودہ سیاسی صورتحا ل پر گفتگو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لندن میں مسلم لیگ (ن ) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال ، اتحادی حکومت کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کیلئے اسٹین ہوپ ہاؤس پہنچے ۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمان، سینئر رہنما نوید قمر اور قمر زمان کائرہ بھی تھا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں (ن) لیگ کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار، عابد شیر علی، حسن نواز، حسین نواز اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو نے نواز شریف سے ملاقات میں انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پر مبارکباد دی اور وزارت عظمیٰ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات میں کامیابی پر بھی مبارکباد دی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے قومی سیاسی معاملات میں افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے ساتھ چلنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ نوازشریف سے ملاقات ضروری ہے، ایک بار پھر ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحالی کی جانب لے جانا ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ شہید نے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت پر اتفاق ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کا مقصد 18ویں ترمیم کو ختم کرنا تھا، سلیکٹڈ سیٹ اپ کا ٹارگٹ جمہوریت کا خاتمہ تھا، میثاق جمہوریت کو ختم کرنا، میڈیا کی آزادی کو سلب کرنا پی ٹی آئی حکومت کا مقصد تھا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان نے ملک کے نظام کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پھر ویسی ہی صورتحال درپیش ہے جیسی 2007 یا اس سے قبل تھی جب ملک میں تمام ادارے چاہیے وہ عدلیہ ہو، پارلیمان ہو، اسٹیبلشمنٹ ہو یا دیگر اہم ادارے وہ سب متنازع ہو چکے تھے، پھر ہم نے مل کر جد وجہد کی اور تمام اداروں کو متنازع حیثیت سے نکال کر ان کی آئینی حیثیت میں بحال کیا۔انہوں نے کہاکہ پھر پاکستان اور اس کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے کہ ہم مل کر ایک بار پھر تمام اداروں کو متنازع حیثیت سے نکال کر ان کی آئینی اور قانونی حیثیت میں بحال کریں۔اس سوال کے جواب میں جس میں صحافی کی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ عمران خان الزام لگاتے ہیں کہ بیرونی سازش کے باعث میری حکومت ختم کی گئی جبکہ ان کی پارٹی کے سینئر رہنما فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خراب تعلقات کے باعث ہماری حکومت گئی، جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں تھی بلکہ جمہوری سازش تھی، عمران خان کے خلاف وائٹ ہاؤس کی سازش نہیں بلکہ بلاول ہاؤس کی سازش تھی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مل کر عمران خان کے خلاف ایک جمہوری جدوجہد کی اور جمہوری طریقے سے تحریک عدم اعتماد لے کر آئے اور اس سلیکٹڈ راج اور سیٹ اپ کے خاتمے کا بندوبست کیا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ عمران خان نواز شریف کے اس بیانیے پر تنقید کرتے تھے جس میں نواز شریف کہتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا جبکہ خود ان کا بیانیہ یہ ہے کہ مجھے کیوں نہیں بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تمام اداروں کو آئینی قانونی حدودد میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ نواز شریف کا جمہوریت کی بحالی میں کردار اور قربانی سب کے سامنے ہے، اس نیت کے ساتھ آیا ہوں کہ ان چیلنجز کا مقابلہ تب کرسکتے ہیں جب شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زر داری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ پاکستان میں جو ڈیمیج ہوگیاہے اسے ریپئر کرنا ہے، ملک کو گمبھیر مسائل سے نکالنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔نواز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی میں وقت لگے گا۔نوازشریف نے کہاکہ پاکستان کے عوام سے پوچھیں دوائی ، چینی آٹا مل رہا ہے ؟ پوچھ کر بتائیں کہ بچے اسکول جارہے ہیں، بجلی کے بل ادا کر پا رہے ہیں؟ پاکستان کی معیشت کو اب دوبارہ کھڑا کرنا آسان کام نہیں۔نوازشریف نے کہا کہ عمران خان سے اس قوم کو نجات دلانا بھی ضروری تھا، پاکستان میں ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا جو عمران خان نے ملک میں پیدا کیا، عمران خان نے ملک میں بداخلاقی ، غنداگردی کا کلچر پیدا کیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں پاکستان ترقی کی عروج پر تھا،اسحاق ڈار نے معیشت مضبوط کی ملک کی خدمت کی، کہاں ہے وہ آٹا اور چینی جو لوگوں کو سستا ملتا تھا۔ نوازشریف نے کہا کہ بہت بڑا چیلنج ہے جس سے ہمیں نمٹنا ہے، پاکستان کو اس بھنور سے نکالے بغیر بات نہیں بنے گی، ہم پاکستانی ہیں اور ہماری رگوں میں پاکستانیت دوڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بدترین دور عمران خان کے پونے چار سال کا دور ہے ، جگہ جگہ جاکر یہ بھیک مانگتا تھا، ہر چیز پر یوٹرن، جو کہا اس نے اس کے برعکس عمل کیا، کہا تھا آئی ایم ایف جاؤںگا تو خودکشی کرلوں گا ہم نے تو خودکشی کرتے نہیں دیکھا۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کو جو نقصان ہوا ہے اس کو ٹھیک کرنا ہے ، بلاول بھٹو زرداری چل کر میرے پاس آئے شکریہ ادا کرتا ہوں، بلاول بھٹو زرداری سے (آج) جمعہ کو پھر ملاقات ہوگی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے ایک تاریخ رقم کی ہے ، پیپلزپارٹی اور (ن )لیگ نے ماضی میں بھی مل کر تاریخ لکھی ہے، تین چار سال میں ہم نے مل کر اس سلیکٹڈ حکومت کو ختم کیا۔اس موقع پر بلاول نے کہا کہ ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے ایک تاریخ رقم کی ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ماضی میں بھی مل کر تاریخ لکھی ہے، تین چار سال میں ہم نے مل کر اس سلیکٹڈ حکومت کو ختم کیا، ایک غیر جمہوری شخص پاکستان پر مسلط کیا گیا ، ہم نے ان کے خلاف کوئی غیر جمہوری قدم نہیں اٹھایا، ہم نے عدلیہ یا کسی دوسرے اداروں کو اس میں ملوث نہیں کیا، ہم نے جمہوری طریقے اپنا کر اس وزیراعظم کو ہٹایا جو غیر جمہوری طریقے سے کرسی پر بیٹھا تھا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ آج بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا ساتھ اتنا ہی ضروری ہے جتنا میثاق جمہوریت کے وقت تھا، عمران خان کوگھر بھیج دیا جو نقصان اس نے ملک کو پہنچایا اس کو ٹھیک کرنا ہے، سلیکٹڈ راج کا خاتمہ صرف ہماری نہیں پوری قوم کی جیت ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر