... loading ...
اونچ نیچ
آفتاب احمد خانزادہ
مارکس زوساک کے ناول The Book Thief کی سب سے حیران کن اور منفرد بات یہ نہیں کہ اس کی کہانی نازی جرمنی کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی راوی خود موت ہے۔ موت، جسے ہم ہمیشہ اختتام، خاموشی اور تاریکی کی علامت سمجھتے ہیں، یہاں ایک ایسی گواہ بن جاتی ہے جو انسانوں کی تباہی، محبت، نفرت، جنگ اور امید کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ جب موت کہانی سناتی ہے تو وہ ہمیں صرف مرنے والوں کے بارے میں نہیں بتاتی بلکہ زندہ رہنے والوں کی جدوجہد کا بھی حساب دیتی ہے Liesel Meminger ایک عام بچی نہیں۔ وہ اس عہد کی نمائندہ ہے جس میں کتابیں محض کاغذ کے چند صفحات نہیں رہتیں بلکہ روح کی پناہ گاہ بن جاتی ہیں۔ جنگ کے دھوئیں، بمباری کی گونج اور خوف کے سائے میں وہ کتابیں چرا لیتی ہے، لیکن اس کی یہ چوری کسی جرم سے زیادہ ایک مزاحمت ہے۔ وہ ایسے وقت میں الفاظ کو بچا رہی ہوتی ہے جب پوری دنیا انسانیت کو دفن کرنے میں مصروف ہو،یہ ناول ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے کہ الفاظ آخر ہیں کیا؟ وہی الفاظ جن سے آمروں نے نفرت کو جنم دیا، وہی الفاظ ایک ننھی لڑکی کے ہاتھوں امید میں بدل جاتے ہیں۔ ہٹلر نے بھی الفاظ استعمال کیے تھے اور لیزل بھی الفاظ استعمال کرتی ہے، مگر ایک کے الفاظ نے دنیا کو جلایا اور دوسری کے الفاظ نے اندھیروں میں چراغ روشن کیے۔ اس طرح ناول ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ الفاظ بذاتِ خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے، ان کی اخلاقی حیثیت ان ہاتھوں سے طے ہوتی ہے جو انہیں استعمال کرتے ہیں۔ کتاب چور دراصل جنگ کی کہانی کم اور انسانیت کی کہانی زیادہ ہے۔ ایک رضاعی باپ کا اپنی بیٹی کو پڑھنا سکھانا، ایک یہودی پناہ گزین کو چھپا کر رکھنا، اور ایک لڑکی کا دوسروں کو کہانیاں سنانا، یہ سب چھوٹے چھوٹے اعمال ہیں، مگر یہی اعمال اس ناول میں انسانیت کی سب سے بڑی فتوحات بن جاتے ہیں۔
زوساک ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ بڑے ہیروز سے نہیں بدلتی، بعض اوقات ایک نرم لفظ، ایک کھلی کتاب اور ایک مہربان دل بھی تاریخ کے اندھیروں کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں جب نفرت، تعصب، جھوٹ اور تقسیم کے بیانیے پہلے سے زیادہ طاقتور دکھائی دیتے ہیں، The Book Thiefپہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بچتیں بلکہ کہانیوں سے بھی بچتی ہیں۔ جب انسان کتاب پڑھتا ہے تو وہ صرف علم حاصل نہیں کرتا بلکہ دوسرے انسان کے دکھ، خوف اور خواب کو بھی محسوس کرنا سیکھتا ہے، اور شاید یہی احساسِ انسانیت ہر ظلم کے خلاف سب سے بڑی دیوار ہے۔ آخرکار یہ ناول ہمیں ایک مشکل مگر ضروری سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے: اگر آپ کے اردگرد کی دنیا نفرت، خوف اور تباہی میں ڈوب رہی ہو تو کیا آپ پھر بھی مہربانی کا انتخاب کریں گے؟ شاید یہی سوال The Book Thief کی اصل روح ہے، اور شاید اسی لیے یہ ناول ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے دل و دماغ میں زندہ رہتا ہے۔ مارکس زوساک کے The Book Thiefمیں ایک بچی جنگ کے ملبے سے کتابیں چراتی ہے تاکہ اپنی انسانیت کو بچا سکے۔ اگر یہی ناول پاکستان میں لکھا جاتا تو شاید یہاں کوئی بچہ کتابیں نہ چراتا، بلکہ کتابوں کی تلاش میں بھٹکتا رہتا، کیونکہ اس کے گرد کتابوں سے زیادہ نفرت کے نعرے، تعصب کے پرچم، جھوٹے خواب اور مقدس بنا دئے گئے ۔یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتابیں کم ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ شعور ہمیشہ مشکوک سمجھا گیا، سوال ہمیشہ خطرناک قرار دیا گیا اور سوچنے والے ذہن ہمیشہ تنہا چھوڑ دیے گئے۔ پاکستان کی تاریخ ایک ایسی کہانی معلوم ہوتی ہے جس میں کردار اپنی تاریخ سے زیادہ اپنے افسانوں پر یقین رکھتے ہیں۔
قومیں عام طور پر اپنے ماضی سے سیکھتی ہیں، لیکن ہم نے ماضی کو سیکھنے کے بجائے مقدس بنا دیا۔ مقدس چیزوں پر سوال نہیں اٹھائے جاتے، اور جن معاشروں میں سوال مر جائیں وہاں حقیقت بھی آہستہ آہستہ دفن ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری تاریخ کے بہت سے ابواب سچ سے زیادہ بیانیوں کے اسیر ہیں۔ ہم نے شکستوں کو فتوحات اور غلطیوں کو کارناموں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت اپنی جگہ قائم رہی۔ تاریخ کو بدلنے سے تاریخ کے نتائج نہیں بد لتے اگر The Book Thiefکی لیزل جرمنی میں جنگ کے درمیان الفاظ میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی تو پاکستانی انسان اپنی پوری زندگی شناخت کی تلاش میں بھٹکتا دکھائی دیتا ہے۔ اسے بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ کیا سوچنا ہے، لیکن یہ نہیں سکھایا جاتا کہ سوچنا کیسے ہے۔ اسے عقیدت سکھائی جاتی ہے مگر تحقیق نہیں، اطاعت سکھائی جاتی ہے مگر تنقید نہیں، یاد کرنا سکھایا جاتا ہے مگر سمجھنا نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ معلومات کا بوجھ تو اٹھا لیتا ہے لیکن شعور کی روشنی حاصل نہیں کر پاتاپاکستانی سماج کا سب سے بڑا المیہ شاید غربت، مہنگائی یا سیاسی عدم استحکام بھی نہیں۔ اصل المیہ فکری غربت ہے۔ یہ وہ غربت ہے جس میں انسان کے پاس موبائل فون تو ہوتا ہے مگر کتاب نہیں، رائے تو ہوتی ہے مگر مطالعہ نہیں، جذبات تو ہوتے ہیں مگر دلائل نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لائبریریاں ویران اور نفرت کے بازار آباد ہوں، وہاں آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی اسی ویرانی کا عکس بن جاتا ہے، ہماری تاریخ کے ہر دور میں طاقتور طبقے نے الفاظ کی طاقت کو پہچانا، اسی لیے انہوں نے ہمیشہ بیانیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ کہیں نصاب کے ذریعے، کہیں مذہب کے ذریعے، کہیں سیاست کے ذریعے اور کہیں میڈیا کے ذریعے ۔انہیں معلوم تھا کہ جو ذہنوں پر حکومت کر لے گا وہ جسموں پر حکومت کیے بغیر بھی حکمران رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بندوق سے زیادہ خطرناک چیز آزاد سوچ سمجھی گئی۔ سوال پوچھنے والا نوجوان، تحقیق کرنے والا طالب علم اور اختلاف کرنے والا دانشور اکثر مشکوک قرار دیا گیا، کیونکہ طاقت ہمیشہ شعور سے خوفزدہ رہتی ہے ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی انسان اکثر اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ وہ ان نظریات کا دفاع کرتا ہے جو اس کی آزادی چھین لیتے ہیں۔ وہ ان نظاموں کے حق میں کھڑا ہو جاتا ہے جو اس کے حقوق سلب کرتے ہیں۔ وہ ان چہروں پر یقین کر لیتا ہے جنہوں نے بار بار اسے مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ فلسفیوں نے صدیوں پہلے لکھا تھا کہ غلامی کی بدترین شکل وہ ہے جس میں غلام اپنی غلامی کو آزادی سمجھنے لگے۔ شاید ہماری اجتماعی نفسیات کا سب سے المناک پہلو یہی ہے پاکستان کی کہانی صرف حکمرانوں کی ناکامی کی کہانی نہیں، یہ سماجی بے حسی کی کہانی بھی ہے۔ جب ظلم معمول بن جائے، جب ناانصافی روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب جھوٹ کو سچ اور سچ کو غداری سمجھا جانے لگے تو مسئلہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں رہتا، وہ پورے معاشرے کے شعور میں سرایت کر جاتا ہے۔ پھر قومیں باہر سے نہیں، اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں لیکن اس تمام تاریکی کے باوجود ایک حقیقت اب بھی زندہ ہے۔ جیسے لیزل نے جلتی ہوئی دنیا میں کتابوں کو بچانے کی کوشش کی تھی، ویسے ہی پاکستان میں بھی کچھ لوگ اب تک علم، تحقیق، ادب اور شعور کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ چند استاد، چند لکھنے والے، چند محقق، چند طالب علم اور چند بے نام انسان آج بھی اس یقین کے ساتھ زندہ ہیں کہ معاشرے بندوقوں سے نہیں، کتابوں سے بدلتے ہیں؛ نفرت سے نہیں، شعور سے ترقی کرتے ہیں؛ اور نعرے نہیں بلکہ سوال تاریخ کا رخ موڑتے ہیں ۔شاید پاکستان کی اصل جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ یہ جنگ جہالت اور علم، تعصب اور انسانیت، اندھی عقیدت اور تنقیدی شعور کے درمیان ہے۔ اور اگر اس جنگ میں شعور ہار گیا تو ہمارے شہر آباد رہ کر بھی ویران ہوں گے، ہماری سڑکیں بھری رہ کر بھی سنسان ہوں گی، اور ہماری نسلیں زندہ رہ کر بھی فکری طور پر مردہ ہو جائیں گی اگر The Book Thiefپاکستان میں لکھی جاتی تو شاید اس کا سب سے دردناک جملہ یہ ہوتا کہ یہاں کتابیں جلائی کم گئیں، مگر پڑھنے کی خواہش زیادہ ماری گئی۔ اور کسی قوم سے اس کی کتابیں چھین لینا جتنا بڑا جرم ہے، اس سے کہیں بڑا جرم اس کے اندر علم کی محبت کو مار دینا ہے۔
٭٭٭