وجود

... loading ...

وجود

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

هفته 20 جون 2026 خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

ریاض احمدچودھری

مغربی ممالک میں بھارتی تارکین وطن اور ہندو برادری کے حوالے سے سماجی رویوں اور سیاسی بیانیے پر نئی بحث جنم لے رہی ہے۔ بعض رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق ہندو قوم پرستی سے متعلق مباحثہ اور بھارت کی داخلی سیاست کے اثرات اب بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی جریدے”نیشنل ہیرالڈ” کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ سیاسی بیانیے اور خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کے رجحان نے بیرون ملک بھارتی شہریوں کے طرزِ عمل اور ان کے بارے میں عوامی ردِعمل پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں بھارتی کمیونٹی کے بعض رویوں پر مقامی آبادی کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ کسی بھی ملک یا کمیونٹی کے حوالے سے عمومی رائے قائم کرنا درست نہیں، اور ایسے حساس معاملات میں احتیاط اور ذمہ دارانہ بیانیہ اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق انتہا پسندانہ یا منفی سیاسی بیانیے نہ صرف داخلی ماحول بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی باہمی رابطوں کی وجہ سے ہر ملک کی داخلی سیاست اور سماجی رویے عالمی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں، لہذا برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عالمی میڈیا بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسی پر بول اٹھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رہنماؤں کی ایما پر مسلمانوں پر تشدد اور مساجد میں توہین آمیز پوسٹرز آویزاں کر دیئے گئے، جبکہ بھارتی ریاست اتر پردیش، ہریانہ اور مہاراشٹرا میں مسلمانوں پر حملوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت میں 20 نفرت انگیز اسلاموفوبک گانے جاری کئے گئے اور بی جے پی رہنما نیتیش رانے نے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اشتعال انگیز اپیل بھی کی ہے۔پہلگام واقعے کے بعد کشمیری مسلمانوں پر حملے اور بھارت بھر میں 21 سے زائد تشدد کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، بھارت میں مسلمان مریضوں کا علاج روکنے اور طلبا پر تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔واشنگٹن ڈی سی کے ‘مرکز برائے مطالعہ منظم نفرت’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلم دشمنی شدید بڑھ چکی ہے۔مودی مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکا کر سیاسی مقاصد حاصل کر رہا ہے اور مودی ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے کر خطے میں کشیدگی بڑھانے میں مصروف ہے۔
ہندوتوا انتہاپسندی میں مبتلا مودی کے غرور کو عالمی سطح پر سفارتی پسپائی نے مٹی میں ملا دیا ہے۔بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی توثیق کے بعد بھارتی جرائد بھی بھارت میں مستقل خوف اور غیر یقینی کیفیت کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔ بھارتی جریدہ دی پرنٹ نے امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریاست میں پھیلے خوف اور سفارتی ناکامی کا پردہ فاش کر دیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ امریکی صدر ٹرمپ کی مودی کیلئے تضحیک آمیز زبان کے خوف کا شکار ہے۔ امریکی ٹیرف میں مزید اضافہ، سخت امیگریشن قوانین اور ویزا منسوخی نے بھارتی عوام کو شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔ 1971 کی جنگ میں امریکا نے کھل کر پاکستان کی حمایت کر کے بھارت کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے قریبی اتحادی بن کر مودی کو شدید حیرت اور خوف میں ڈال چکے ہیں۔بی جے پی نے ٹرمپ کو مسلمانوں سے نفرت کرنے والا شدت پسند سمجھنے کی سنگین غلطی کی۔اب ٹرمپ کے قریبی دوستوں میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔
بھارتی جریدہ “فورس” بھی بھارت کی خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کی بدلتی بساط میں غلط سمت اختیار کرنے کا انکشاف کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے سخت بھارت مخالف فیصلوں نے مودی حکومت کو شدید سیاسی و سفارتی دھچکا دیا ہے۔ماہرین نے روس کے ساتھ مودی کی طاقت کے نشے میں اندھی وابستگی کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دے دیا۔ایران اور امریکہ کے درمیان مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے اور بھارت کے لئے ایک بڑا سفارتی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کو “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا نام دیا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب مغربی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہونے والا پاکستان اب دوبارہ علاقائی سفارت کاری میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، تاہم اگر فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو یہ “مفاہمتی یادداشت” کے بجائے “غلط فہمی کی یادداشت” بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ آئندہ ساٹھ دن اس معاہدے کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہوں گے۔ ایران نے سخت معاشی پابندیوں اور جنگی دباؤ کے باوجود غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور معاہدے میں اسے کئی اہم سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک بھی اس معاہدے کے بعد اپنی علاقائی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر