... loading ...
ریاض احمدچودھری
مغربی ممالک میں بھارتی تارکین وطن اور ہندو برادری کے حوالے سے سماجی رویوں اور سیاسی بیانیے پر نئی بحث جنم لے رہی ہے۔ بعض رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق ہندو قوم پرستی سے متعلق مباحثہ اور بھارت کی داخلی سیاست کے اثرات اب بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
بھارتی جریدے”نیشنل ہیرالڈ” کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ سیاسی بیانیے اور خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کے رجحان نے بیرون ملک بھارتی شہریوں کے طرزِ عمل اور ان کے بارے میں عوامی ردِعمل پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ بعض مغربی ممالک میں بھارتی کمیونٹی کے بعض رویوں پر مقامی آبادی کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے اصولوں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ کسی بھی ملک یا کمیونٹی کے حوالے سے عمومی رائے قائم کرنا درست نہیں، اور ایسے حساس معاملات میں احتیاط اور ذمہ دارانہ بیانیہ اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق انتہا پسندانہ یا منفی سیاسی بیانیے نہ صرف داخلی ماحول بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی باہمی رابطوں کی وجہ سے ہر ملک کی داخلی سیاست اور سماجی رویے عالمی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں، لہذا برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عالمی میڈیا بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسی پر بول اٹھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رہنماؤں کی ایما پر مسلمانوں پر تشدد اور مساجد میں توہین آمیز پوسٹرز آویزاں کر دیئے گئے، جبکہ بھارتی ریاست اتر پردیش، ہریانہ اور مہاراشٹرا میں مسلمانوں پر حملوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت میں 20 نفرت انگیز اسلاموفوبک گانے جاری کئے گئے اور بی جے پی رہنما نیتیش رانے نے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کی اشتعال انگیز اپیل بھی کی ہے۔پہلگام واقعے کے بعد کشمیری مسلمانوں پر حملے اور بھارت بھر میں 21 سے زائد تشدد کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، بھارت میں مسلمان مریضوں کا علاج روکنے اور طلبا پر تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔واشنگٹن ڈی سی کے ‘مرکز برائے مطالعہ منظم نفرت’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلم دشمنی شدید بڑھ چکی ہے۔مودی مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکا کر سیاسی مقاصد حاصل کر رہا ہے اور مودی ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے کر خطے میں کشیدگی بڑھانے میں مصروف ہے۔
ہندوتوا انتہاپسندی میں مبتلا مودی کے غرور کو عالمی سطح پر سفارتی پسپائی نے مٹی میں ملا دیا ہے۔بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کی توثیق کے بعد بھارتی جرائد بھی بھارت میں مستقل خوف اور غیر یقینی کیفیت کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔ بھارتی جریدہ دی پرنٹ نے امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریاست میں پھیلے خوف اور سفارتی ناکامی کا پردہ فاش کر دیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ امریکی صدر ٹرمپ کی مودی کیلئے تضحیک آمیز زبان کے خوف کا شکار ہے۔ امریکی ٹیرف میں مزید اضافہ، سخت امیگریشن قوانین اور ویزا منسوخی نے بھارتی عوام کو شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔ 1971 کی جنگ میں امریکا نے کھل کر پاکستان کی حمایت کر کے بھارت کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے قریبی اتحادی بن کر مودی کو شدید حیرت اور خوف میں ڈال چکے ہیں۔بی جے پی نے ٹرمپ کو مسلمانوں سے نفرت کرنے والا شدت پسند سمجھنے کی سنگین غلطی کی۔اب ٹرمپ کے قریبی دوستوں میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔
بھارتی جریدہ “فورس” بھی بھارت کی خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کی بدلتی بساط میں غلط سمت اختیار کرنے کا انکشاف کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے سخت بھارت مخالف فیصلوں نے مودی حکومت کو شدید سیاسی و سفارتی دھچکا دیا ہے۔ماہرین نے روس کے ساتھ مودی کی طاقت کے نشے میں اندھی وابستگی کو زمینی حقائق سے متصادم قرار دے دیا۔ایران اور امریکہ کے درمیان مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لئے طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے اور بھارت کے لئے ایک بڑا سفارتی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کو “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کا نام دیا جانا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب مغربی ایشیا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہونے والا پاکستان اب دوبارہ علاقائی سفارت کاری میں نمایاں حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ خطے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، تاہم اگر فریقین اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو یہ “مفاہمتی یادداشت” کے بجائے “غلط فہمی کی یادداشت” بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ آئندہ ساٹھ دن اس معاہدے کے مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہوں گے۔ ایران نے سخت معاشی پابندیوں اور جنگی دباؤ کے باوجود غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور معاہدے میں اسے کئی اہم سفارتی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک بھی اس معاہدے کے بعد اپنی علاقائی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لے سکتے ہیں۔