وجود

... loading ...

وجود

پی ٹی آئی دور حکومت میں پاکستان اسٹیل ملز میں نقصانات اور من مانی تعیناتیوں کا سلسلہ جاری

اتوار 27 مارچ 2022 پی ٹی آئی دور حکومت میں پاکستان اسٹیل ملز میں نقصانات اور من مانی تعیناتیوں کا سلسلہ جاری

ملک کا سب سے بڑا صنعتی ادارہ پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن پی ٹی آئی حکومت کے پچھلے تقریبا پونے چار برس میں شدید مالی نقصانات اور انتظامی بدحالی کی ایک بدترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ موجودہ حکومت جو اس ادارے کی سرکاری کنٹرول میں بحالی کے بلندوبانگ دعووں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اپنے دور حکومت میں 11 لاکھ ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کے حامل اس انٹیگریٹڈ اسٹیل پلانٹ سے ایک ٹن اسٹیل کی پیداوار بھی حاصل نہ کرسکی۔پاکستان اسٹیل ملز کارپوریشن اسٹیک ہولڈرز گروپ کے کنو نیئر ممریزخان کی جاری پریس ریلیز میں بتاگیا ہے کہ ادارے کے اب تک دستیاب آڈٹ شدہ حسابات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے صرف ابتدائی ڈھائی سالوں میں جولائی 2018 تا دسمبر 2020 پاکستان اسٹیل ملز کو 44.48 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ قابل ادا واجبات میں 96.61 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ تاہم موجودہ انتظامیہ کی جانب سے پچھلے مالی سال 2020-21 کے آڈٹ شدہ مالی حسابات حال ہی میں 2 مارچ کو ہونے والی بورڈ میٹنگ نمبر 418 میں پیش کیے جانے کے باوجود تاحال جاری نہ کیے جاسکے۔اسٹیل ملز بورڈ کے موجودہ چیرمین عامر ممتاز جو کہ دوہری شہریت کے حامل امریکی شہری ہیں اپنا اکثر وقت بیرون ملک گذارتے ہیں اور اسٹیل ملز کے معاملات میں بہت کم دلچسبی لیتے نظر آتے ہیں۔ انکی بطورِ بورڈ چیرمین تعیناتی بھی متنازع ہے کیونکہ وہ ایس ای سی پی قواعدو ضوابط کے مطابق اس سے پیشتر کسی بھی ملکی پبلک یا پرائیویٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے اور نہ ہی اسٹیل سیکٹر کے کسی بھی ملکی یا بین الاقوامی ادارے کا تجربہ رکھتے ہیں اور انکی تعیناتی موجودہ حکومت کی اہم سیاسی شخصیت کی مرہونِ منت ہے۔پچھلے تقریبا دو سال کے عرصے سے بورڈ کے اجلاس صرف ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد کئے جا رہے ہیں جبکہ بورڈ ممبران فی اجلاس مبلغ 25,000 روپے فی کس ہر اجلاس کی فیس باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں۔اسٹیل ملز کی موجودہ نجکاری کا عمل بھی تنازعات کا شکار ہے۔ اسٹیل ملز کے پلانٹ مشنری اور کور اثاثوں بشمول 1229 ایکڑ اراضی پر مشتمل ذیلی کمپنی اسٹیل کورپ پرائیویٹ لمیٹڈ بنا کر پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ذریعے اسکے 51 تا 74 فیصد حصص فروخت کرنے کی کوشش پر اسٹیک ہولڈرز گروپ کے واضح اعتراضات سامنے آ چکے ہیں جن میں پلانٹ، مشنری اور اثاثوں کی مالیت اصل سے انتہائی کم ظاہر کرنا، زمین کی مالیت کو تخمینے میں شامل نہ کرنا، مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہ لینا اور متوقع خریدار کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اربوں روپے کی ادائیگیاں اسٹیل کورپ کو منتقل کرنے کے بجائے کارپوریشن کے ذمے باقی رکھنا شامل ہیں۔ اس مجوزہ غیر شفاف نجکاری عمل اور اسٹیل ملز کو پہنچائے گئے نقصانات کے ذمہ داران کے تعین کے لئے اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ وزارت صنعت و پیداوار، پرائیویٹائزیشن کمیشن، وزیراعظم پاکستان اور نیب کو بھی انکوائری کے لیے خطوط ارسال کر چکا ہے۔دوسری جانب ایڈہاک ازم پر تعینات موجودہ انتظامیہ اسٹیل ملز کے نقصانات پر قابو پانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ تقریبا 5500 ملازمین کو جبری برطرف کرنے کے بعد موجودہ انتظامیہ بغیر کسی اشتہار اور مسابقتی عمل کے، میرٹ کے برعکس،اقرباپروری کی بنیاد پر، 60 سال سے زائدالعمر اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور تجربہ نہ رکھنے والے افراد کی من پسند بھرتیوں اور تعیناتیوں میں مصروف ہے۔ اسٹیل ملز کے موجودہ سی ای او بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) شجاع حسن خرازمی نہ تو مطلوبہ انجنیئرنگ ڈگری اور نہ ہی بزنس یا فنانس کی مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور نہ ہی کارپوریٹ سیکٹر کا کوئی تجربہ رکھتے ہیں اور انکی تعیناتی ایک ٹیلر میڈ اشتہار کے ذریعے ابتدائی طور پر 20 اگست 2020 سے ایک سالہ کنٹریکٹ پر کی گئی جس میں ان سے زیادہ تعلیمی قابلیت،اہلیت اور تجربہ رکھنے والے افراد کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔ مزیدبرآں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اس خلاف ضابطہ تعیناتی پر آڈٹ رپورٹ 2019-20 میں واضح اعتراض اور انکی ایک سالہ خراب مالی کارکردگی کے باوجود پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے انہیں 20 اگست 2021 سے مزید ایک سال کیلئے کنٹریکٹ میں توسیع دے دی گئی۔باخبر ذرائع کے مطابق 2 مارچ 2022 کو ہونے والے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں اربوں روپے کے نقصانات اور ادائیگیوں میں اضافے پر مشتمل آ ڈٹ شدہ حسابات برائے مالی سال 2020-21 منظوری کے لیے پیش کیے گئے جنھیں تاحال ادارے کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا تاہم انتہائی حیران کن طور پر بورڈ کی جانب سے نااھل اور نقصانات کی ذمہ دار انتظامیہ کے احتساب اور سرزنش کی بجائے، سرکردہ متنازعہ افسران کی کنٹریکٹ مدت ملازمت میں نہ صرف توسیع کی گئی بلکہ انکی تنخواہوں میں بلاجواز اضافہ بھی کیا گیا۔پی ای او اے اینڈ پی کرنل (ریٹائرڈ) طارق خان اور ایکٹنگ سی ایف او عارف شیخ کے کنٹریکٹ میں جنوری 2022 سے نہ صرف ایک سال کی توسیع دے دی گئی بلکہ انکی تنخواہوں میں 50,000 روپے فی کس اضافہ کر کے دونوں کی تنخواہیں چار لاکھ روپے ماہانہ کر دی گئی ہیں۔ شفیق انجم بھی 25,000 روپے اضافہ کے ساتھ اپنی ماہانہ تنخواہ دولاکھ روپے کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ باقی ملازمین کی تنخواہیں بورڈ اور انتظامیہ کی جانب سے 2012 کے بعد سے نہیں بڑھائی گئیں کیونکہ ادارہ نقصان میں ہے تاہم منظور نظر کنٹریکٹ ملازمین کے لیے دوہرا معیار عیاں ہے۔واضح رہے کہ کرنل (ریٹائرڈ) طارق خان اور شفیق انجم نہ صرف 60 سال سے زائد العمر ہیں بلکہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت, اہلیت اور تجربہ بھی نہیں رکھتے اور انکی تعیناتی اسٹیل ملز آفیسرز سروس رولز، گورنمنٹ قوانین اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے برعکس کی گئی ہے۔موجودہ سی ای او اور پی ای او کی ان غیرقانونی تعیناتیوں کے خلاف پیپلز ورکرز یونین کی آ ئینی درخواست CP-(D)4699/2020 بھی تاحال سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔حال ہی میں ایس ای سی پی نے سی ای او اسٹیل ملز کو ارسال کیے گئے اپنے مکتوب مورخہ 8 مارچ میں بھی شفیق انجم کے کارپوریٹ گورننس رولز کی شق 14(4) کے تحت مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور اہلیت نہ رکھنے سے متعلق جواب طلبی کی ہے۔ تاہم چیرمین اسٹیل ملز اس سے پہلے ایس سی سی پی کو لکھے گئے اپنے خط مورخہ 18 فروری میں تحریر کر چکے ہیں کہ یہاں فیڈرل گورنمنٹ قوانین اور سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے نافذ العمل نہیں ہیں حتی کہ اسٹیل ملز آفیسرز سروس رولز (جو کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور شدہ ہیں) بھی نان اسٹیچوٹری ہیں لہذا یہاں آقا اور غلام کا اصول چلتا ہے اسلئے ہم جس کو چاہیں رکھیں جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال، گڈ گورننس کے دعووں کے خلاف اور منظور نظر افراد کو نوازنے کے مترادف ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسٹیل ملز کا بورڈ آف ڈائریکٹرز پی ٹی آئی حکومت کے نامزد کردہ موجودہ چیرمین بورڈ عامر ممتاز اور سی ای او برگیڈیئر (ریٹائرڈ) شجاع حسن خرازمی کے ہاتھ میں ربڑ اسٹیمپ بنا ہوا ہے اور کسی بھی حکومتی قاعدے اور قانون کو خاطر میں لائے بغیر ان غیرقانونی تعینات شدہ افراد کے کنٹریکٹ میں توسیع اور تنخواہوں میں من مانے اضافے کرنے پر عمل پیرا ہے۔اسٹیل ملز آفیسر ایسوسی ایشنز, ملازمین تنظیموں اور اسٹیک ہولڈرز گروپ نے ان خلاف ضابطہ تعیناتیوں، بورڈ کی جانب سے انکے کنٹریکٹ میں توسیع اور تنخواہوں میں اضافے پر شدید احتجاج کیا ہے اور اسے اسٹیل ملز کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے اور احتساب کے متعلقہ اداروں بشمول نیب سے اس کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔مزیدبرآں اسٹیک ہولڈرز گروپ کی جانب سے پی ٹی آئی حکومت کے گزشتہ پونے چار سالوں میں اسٹیل ملز میں ہونے والے اربوں روپے کے نقصانات ، کرپشن ، قیمتی سازوسامان کی چوری، اقربا پروری، خلاف ضابطہ تقرریوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر نیب کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے اور سرکردہ مبینہ ذمہ داران بشمول عامر ممتاز، برگیڈیئر (ریٹائرڈ) شجاع خرازمی ، کرنل(ریٹائرڈ) طارق خان، شفیق انجم، عارف شیخ اور سابق جی ایم سکیورٹی کیپٹن (ریٹائرڈ) بابر برنارڈ میسی کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر