وجود

... loading ...

وجود

جواہر لعل یونیورسٹی میں اسلام و جہاد مخالف نصاب پر تنازع

جمعرات 02 ستمبر 2021 جواہر لعل یونیورسٹی میں اسلام و جہاد مخالف نصاب پر تنازع

بھارت کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں “جہادی دہشت گردی” کے نام سے ایک نیا کورس متعارف کرایا گیا ہے، جس میں جہادی دہشت گردی کو مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سابقہ سوویت یونین اور چین کو ریاستی دہشت گردی کے اہم اسپانسر قرار دیا گیا ہے۔ نئی دہلی کی  جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)میں اس برس نئے تعلیمی سال سے انسداد دہشت گردی پر کورس شروع ہونے سے پہلے ہی تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ سول سوسائٹی اور دانشوروں نے اسے نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ بائیں بازو  کی جماعتوں نے یہ کورس پڑھانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) عمرانیات اور سماجیات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بھارت کی بہترین یونیورسٹیوں میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے باہمی تبادلہ خیال کے بغیر ہی رواں تعلیمی سال سے ایک نیا کورس شروع کرنے کی منظوری دے دی۔ سول سوسائٹی، دانشوروں اور ماہرین سماجیات کو اعتراض اس بات پر ہے کہ اس کورس کے لیے جو نصاب مرتب کیا گیا ہے اس میں بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کے ضمن میں کہا گیا ہے کہ صرف جہادی دہشت گردی ہی بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ سوویت یونین اور چین ریاستی اعانت سے کی جانے والی دہشت گردی کے اہم ممالک رہے ہیں۔دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ کورس ہی غلط ہے کیونکہ یہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔ ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ، اگر یونیورسٹی کو مذہبی دہشت گردی سے متعلق مضمون اپنے کورس میں شامل کرنا اتنا ہی ضروری تھا تو اسے تمام مذاہب کو اس میں شامل کرنا چاہئے تھا۔ کس مذہب میں دہشت گردی نہیں ہے؟ ہندؤں میں ہے، سکھوں میں ہے، بودھسٹوں میں ہے، مسیحیوں میں ہے، یہودیوں میں ہے۔ ہر جگہ اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی تھیں اور آج بھی ہیں۔ظفرالاسلام خان مزید کہتے ہیں، حالانکہ ہندوتوا میں اس طرح کی تحریکیں بھری پڑی ہیں۔ بجرنگ دل اور کرنی سینا جیسے نہ جانے کتنے سینا ہیں۔ اور یہ جو بے گناہ لوگوں کو سر عام قتل کیا جا رہا ہے وہ کون کر رہا ہے؟۔۔۔ یہ درست ہے کہ ہمارے یہاں بھی ایسے لوگ ہیں۔ داعش وغیرہ ہے۔ لیکن ہم اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔”اس کورس کو پروفیسر اروند کمار نے تیار کیا، جو جے این یو میں امریکی، لاطینی امریکی اور کینیڈین اسٹڈیز کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ پروفیسر اروند کمار کی دلیل ہے، پوری دنیا اسلامی دہشت گردی کو تسلیم کرتی ہے اور طالبان کی آمد کے بعد اسے ایک نئی رفتار مل گئی ہے۔ جہاد ایک عالمی چیلنج ہے اور ایسے وقت میں جب کہ طالبان نے افغانستان پر کنٹرول کر لیا ہے۔ یہ موضوع پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ میری معلومات کی حد تک کسی دوسرے مذہب میں دہشت گردی کو اختیار کرنے کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی ہے۔”ظفر الاسلام کا تاہم کہنا ہے، اگر دوسرے مذاہب میں مذہبی دہشت گردی نہیں ہے تو لنچنگ کیا ہے؟ بھارت میں جس کا مظاہرہ آئے دن ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس طرح کے کورس کا اصل مقصد مسلمانوں اور اسلام سے لوگوں کو بدظن کرنا ہے۔ یہ غلط فہمی پھیلانا ہے کہ مسلمان قابل اعتماد نہیں ہیں اور ہر مسلمان ممکنہ طور پر دہشت گرد ہو سکتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(سی پی آئی)نے اس کورس کو پڑھانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی آئی کے رکن پارلیمان بنوئے وسووم نے بھارتی وزیر تعلیم کو ارسال کردہ خط میں لکھا، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ادھوری سچائی اور دانشورانہ بے ایمانی کے ذریعے تعلیم کو  فرقہ وارانہ اور سیاسی رنگ میں رنگنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ سی پی آئی کے رکن پارلیمان کا مزید کہنا تھا، جہادی دہشت گردی کو بنیاد پرست مذہبی دہشت گردی کی واحد شکل اور سوویت یونین اور چین کو دہشت گردی کی اعانت کرنے والے اہم ممالک قرار دینا نہ صرف تاریخی لحاظ سے غلط ہے بلکہ یہ تعصب اور سیاسی مفادات پر مبنی ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی سیکرٹری موسمی باسو کا اس حوالے سے کہنا ہے، اگر مذہب کو دہشت گردی سے اس طرح جوڑ دیا جائے تو سڑک پر چلنے والے عام آدمی اور دانشوروں میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟ کیا میانمار اور سری لنکا میں کوئی فرق ہے؟ کیا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اسے بودھسٹ دہشت گردی کہہ سکتے ہیں؟”وہ کہتی ہیں کہ اگر دہشت گردی کو ایک نئے مضمون کے طور پر شامل کرنا اتنا ضروری ہی تھا تو پہلے خاطر خو اہ تبادلہ خیال کر لیا جاتا۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کہتے ہیں کہ جے این یو نے تین برس پہلے ہی اس کورس پر کام شروع کر دیا تھا۔ اس وقت جب اس کے بارے میں خبریں سامنے آئی تھیں تو کمیشن نے یونیورسٹی کو نوٹس بھیج کر حقیقی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے کہا تھا اور کہا تھا کہ اگر اس طرح کا کوئی کورس زیر غور ہے تو تمام مذاہب کو اس میں شامل کیا جائے۔ لیکن یونیورسٹی نے اپنے تحریری جواب میں اس طرح کا کوئی کورس شروع کرنے کی خبر سے انکار کیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کورس کو روکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دیگر یونیورسٹیاں بھی اسے اپنے لیے مثال بنا سکتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر