... loading ...
گزشتہ روز ملک بھر میں بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن کی وجہ سے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے۔ کئی گھنٹے تک بجلی معطل رہنے سے کاروبار ٹھپ ہو گیا، بجلی بند ہوئی تو پانی بھی بند ہو گیا۔تاجر اور مزدور دونوں ہی پریشان نظر آئے۔ وزارتِ توانائی نے وجہ تربیلا، مظفر گڑھ اور گڈو پاور پلانٹس میں فنی خرابی قرار دی‘ لیکن این ٹی ڈی سی نے حقیقت افشا کر دی کہ بریک ڈاؤن کم پیداوار کی وجہ سے ہوا‘ سالانہ نہر بندی کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے اور ایندھن کی کمی کے باعث تھرمل پاور پلانٹس بھی کم ترین مقدار میں بجلی پیدا کر رہے ہیں، طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا۔ وزارت توانائی کے مطابق مظفر گڑھ میں 500 کے وی سپلائی لائن ٹوٹ گئی، جس کے باعث تربیلا، گڈو سمیت متعدد پاور پلانٹس ٹرپ کر گئے۔ نیشنل پاور کنٹرول سسٹم کا کہنا تھا کہ پاور فریکوینسی میں کمی کے باعث سسٹم بیٹھ گیا تھا‘ اگر بجلی بند نہ کرتے تو پورے ملک میں بلیک آو?ٹ ہو جاتا۔ بجلی کے اس طویل بریک ڈائون کی وجہ جو بھی ہو‘ یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارا بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ اس میں کہیں بھی کوئی بھی خرابی پیدا ہو سکتی ہے، رات ہو تو پورے ملک کو اندھیروں میں ڈبو سکتی ہے اور اگر دن ہو تو نظامِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتی ہے۔
پھر مختلف ذرائع کی جانب سے بجلی کے طویل بریک ڈائون کی جو مختلف وجوہ بیان کی گئیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔ وجہ جو بھی ہو‘ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے‘ کہ یہ کیسے اور کیوں پیدا ہوئی۔ بریک ڈائون اگر کم پیداوار کی وجہ سے ہوئی تو اس کم پیداوار کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما ہیں اور ان عوامل پر بروقت قابو پانے کی مناسب کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ پچھلے دنوں یہ سننے میں آیا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تاخیر سے اجازت ملنے کی وجہ سے فرنس آئل کی درآمد میں دیر ہو رہی ہے۔ یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا طویل بریک ڈائون کی وجہ فرنس آئل کی درآمد میں تاخیر ہے‘ یا کچھ اور؟ اگر وزارت توانائی کی یہ بات مان کی جائے کہ مظفر گڑھ میں 500 کے وی سپلائی لائن ٹوٹ گئی، جس کے باعث تربیلا، گڈو سمیت متعدد پاور پلانٹس ٹرپ کر گئے‘ تو انفراسٹرکچر میں خرابی کسی بھی وقت پیدا ہو سکتی ہے؛ تاہم ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ مناسب دیکھ بھال کی جائے تو ترسیلی انفراسٹرکچر میں کسی ممکنہ خرابی کا قبل از وقت سراغ لگا کر اسے بر وقت دْور بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس زمینی حقیقت سے انکار نہ کرنا ہی بہتر ہے کہ ہمارے ملک میں بجلی کی ترسیل کا انفراسٹرکچر ناقص اور ایک حد سے زیادہ برقی رو کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے؛ چنانچہ جب حکمران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے تو ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ کیسے؟ بجلی اگر زیادہ پیدا کر بھی لی جائے تو ہمارے پاس اس کی ترسیل کا مناسب نظام ہی نہیں ہے‘ اور وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی اوور ہالنگ پر توجہ ہی نہیں دی گئی‘ اس کو تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ نیشنل پاور کنٹرول سسٹم نے ایک الگ جواز پیش کیا ہے‘ جو بہرحال تسلیم کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اگر پاور فریکوینسی میں کمی کے باعث سسٹم بیٹھ گیا تھا اور بجلی بند نہ کی جاتی تو پورے ملک میں بلیک آئوٹ ہو جاتا‘ تومناسب تھا کہ پھر جلد ہی برقی رو بحال بھی کر دی جاتی تاکہ صارفین کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اس سے قبل 15 اور 21 جنوری 2016ء کو بھی بجلی کے دو بڑے بریک ڈائون ہوئے تھے۔ 2013ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے وقت بھی اسی طرح کے طویل بریک ڈائون ہوئے تھے‘ اور 2007ء میں مسلم لیگ ق کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی یہی صورتحال تھی۔ اب مسلم لیگ نون کی حکومت ختم ہونے والی ہے تو ایک بار پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ماہ رواں میں یہ برقی رو کا دوسرا بڑا بریک ڈائون ہے۔ یاد رہے کہ یکم مئی کو بھی ملک بھر بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن اس وقت ہوا تھا جب نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی تھی۔ اس کی وجہ سے سسٹم میں 5 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی اور بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا تھا۔ تو کیا اس کا مقصد یہ تاثر قائم کرنا ہے کہ جب منتخب حکومت تھی تو ٹھیک کام ہوتا رہا‘ لیکن جونہی حکومت کے خاتمے کا وقت قریب آیا ہے‘ بد انتظامی پیدا ہونے لگی ہے۔ جو قوتیں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں‘ انہیں اس کام سے باز آ جانا چاہیے اور اپنی توجہ بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر بنانے پر دینی چاہیے۔ گزشتہ روز ہونے والے طویل بریک ڈائون کی جامع تحقیقات وقت کا تقاضا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر ئندہ ایسے مسائل سے بچنے کی کوشش کی جا سکے۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...