وجود

... loading ...

وجود

بجٹ اور عام آدمی

بدھ 02 مئی 2018 بجٹ اور عام آدمی

شدید مخالفت اور احتجاج کے باوجود ن لیگ کی حکومت نے چھٹا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ چند دن کی حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ اصولی طور پر تو بات صحیح ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو متضاد دعوے کردیے ہیں۔ ایک بات تو انہوں نے یہ کہی کہ نئی حکومت چاہے تو پورا بجٹ مسترد کردے اور دوسرے یہ کہ نئی حکومت اس بجٹ میں ایک لفظ کی تبدیلی بھی نہیں کرسکے گی۔ اس سے ایک بات تو یہ ظاہر ہورہی ہے کہ وزیراعظم کو یہ یقین نہیں کہ اگلی حکومت ن لیگ ہی کی ہوگی۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ن لیگ کے ارکان اسمبلی اسے چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی خانہ بدوشوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومت جارہی ہے اور اب نئی چراہگاہ تلاش کی جائے۔ آمد ورفت کا یہ سلسلہ دوسری جماعتوں میں بھی جاری ہے۔ کوئی پیپلزپارٹی چھوڑ کر جارہا ہے تو کوئی پیپلزپارٹی میں آرہا ہے۔ ہر ایک اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گوشہ عافیت کی تلاش میں ہے۔ ایسے لوگوں کو عوامی نمائندے کہنا مشکل ہے۔ ن لیگ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ ایک غیر منتخب شخص مفتاح اسماعیل کے ذریعے بجٹ پیش کروایا۔یہ بجٹ وزیراعظم یا احسن اقبال بھی پیش کرسکتے تھے، لکھے ہوئے اعدادوشمار کو پڑھنا ہی تو تھا۔ اس طرح مفتاح اسماعیل بھی کڑی آزمایش سے بچ جاتے۔ انہیں ایسے معاملات کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔

گزشتہ جمعہ کو بجٹ پیش کرنے کے دوران میں ارکان اسمبلی میں ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ اس بارے میں یہ طے کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رکن مراد سعید اور ن لیگ کے وزیر مملکت عابد شیر علی میں سے کون زیادہ قصور وار ہے اور زیادتی کس نے کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ہی کا رویہ نا شائستہ تھا۔ احتجاج کرنے کو جمہوری حق قرار دیا جاسکتا ہے لیکن معزز ارکان اسمبلی اور گلی کے غنڈوں میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان تو اپنی روایت اور عادت کے مطابق اس موقع پر بھی قومی اسمبلی میں نہیں آئے چنانچہ مراد سعید کو سمجھانے والا کوئی نہیں تھا۔ عابد شیر علی تو ایک عرصے سے شیر بنے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ وہ مفتاح اسماعیل کو بچانے کے لیے درمیان میں آئے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کو چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی کی طرح واک آؤٹ کرجاتے۔

جہاں تک 59کھرب، 32 ارب 50 کروڑ روپے کے بجٹ کا تعلق ہے تو یہ بھی ماضی کے ہر بجٹ کی طرح روایتی ہے کہ فلاں چیز کی قیمت کم اور فلاں کی بڑھادی گئی۔ اس کی حقیقت اس وقت کھلے گی جب عام آدمی پر اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے اور اس میں خسارہ بھی تاریخی ہے۔ 10کھرب 90ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ خسارہ کس طرح پورا ہوگا، ظاہر ہے کہ عوام ہی کی گردن دبوچی جائے گی چنانچہ ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ بجٹ میں صرف ایک اچھی بات نظر آئی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پنشن پانے والے بزرگ شہریوں کو تھوڑی سی سہولت ضرور ملے گی۔ کم سے کم پنشن 10ہزار روپے کی گئی ہے۔ مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ بھی اچھا اقدام ہے لیکن سب تو سرکاری ملازم نہیں ہیں مگر مہنگائی کا بوجھ برداشت کررہے ہیں۔ عام آدمی کو کیا سہولت دی گئی ے؟بجٹ میں دفاع کے لیے رقم پہلی بار ایک کھرب روپے سے آگے چلی گئی ہے۔ اس کو مجبوری کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے دفاع کو کئی خدشات لاحق ہیں اور پھر موجودہ حالات میں فوج کو خوش کرنا حکومت کی بھی مجبوری ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ بجٹ کا 30فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ قرضے ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں جن پر سود کی ادائیگی سے اللہ اور اس کا رسول ﷺبھی ناراض۔ن لیگ کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے ہیں جو عوام کو ادا کرنے پڑیں گے۔ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ اس پر دعویٰ یہ کہ اب آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ یہی رونا روتی ہے کہ جانے والی حکومت نے ملک کو مقروض کردیا چنانچہ مزید قرضے لینا مجبوری ہے۔

نئے بجٹ میں صحت کے لیے محض 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ عوام کو صحت و علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکمرانوں کی ترجیح نہیں ہے، چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں کہ پینا ڈول کی دو گولیوں کے لیے مریض خوار ہوتے ہیں۔ اسپتالوں کا حال کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ پورے ملک میں صحت کے لیے 13 ارب روپے ناکافی ہی نہیں، اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء￿ میں ملاوٹ، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بلکہ زہریلے اور آلودہ پانی کی فراہمی جعلی دواؤں کی وجہ سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں غریب عوام علاج سے محروم ہیں البتہ حکمرانوں اور با اثر طبقے کے افراد نزلہ زکام کے علاج کے لیے بھی یورپ و امریکا کا رخ کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے بقول یہ عوام کا نہیں پارٹی بجٹ ہے جسے غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت کا بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ تاریخی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اب تک کا ن لیگ کا بہترین بجٹ ہے۔ یعنی اس سے پہلے کے 5 بجٹ بد ترین نہیں تو بہترین بھی نہیں تھے۔

کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیاگیا ہے۔ لیکن یہ رقم کون استعمال کرے گا، اور کس مد میں خرچ ہوگی۔ ظاہر ہے کہ مرکز ہی اپنی نگرانی میں یہ رقم خرچ کرے گا اور اس پر صوبائی حکومت اگر برہم نہ ہوئی تو خود استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ 25 ارب روپے سے اگر کچرا ہی صاف ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ بجٹ میں کھاد، زرعی و صنعتی مشینری، الیکٹرک گاڑیاں، پولٹری کی اشیا سستی مگر سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کی مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی جس کا مطلب ہے کہ مکان بنانا اور دشوار ہو جائے گا کیونکہ سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کا تعلق تعمیرات سے ہے۔ بڑے بلڈرز تو شاید یہ جھٹکا سہ لیں اور اپنے منصوبوں، فلیٹوں کی قیمت بڑھا کر بوجھ خریداروں پر ڈال دیں لیکن اپنی چھت اور چار دیواری کے خواہش مند یہ آرزو ملتوی کردیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نا اہل وزیراعظم نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد ایک جلسے میں نعرہ لگایا تھا کہ ’’اب لوگوں کو مکان بھی فراہم کریں گے‘‘۔ گویا سب کچھ تو فراہم کردیا، بس یہی کام رہ گیا تھا جس کا خیال 5 سال میں نہیں آیا۔ اور اب ن لیگ ہی کی حکومت نے مکان بنانا مشکل کردیا۔ بجٹ میں 2300 ارب روپے قرض لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ بجٹ نواز شریف کے وژن کا عکاس ہے، ان کی کمی محسوس کررہے ہیں۔ بجٹ تقریر میں نا اہل قرار دیے گئے نواز شریف کو 7 مرتبہ یاد کیاگیا۔ بہر حال ایل ای ڈی لائٹس، ایل این جی، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اسٹیشنری، نظر کے چشمے، آپٹیکل فائبر، استعمال شدہ کپڑے (لنڈا) اور جوتے سستے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کوئی شے عام آدمی کے لیے نا گزیر نہیں ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان پر سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ برقرار رہی ہے۔

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ ایسا بجٹ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے یہ اعتراض مسترد کردیا کہ مفتاح اسماعیل کا بجٹ پیش کرنا غیر آئینی تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فی کس آمدنی ایک لاکھ 80 ہزار 1204 روپے ہوگئی ہے۔ یہ مذاق ہے تو بہت سنگین ہے۔ جن کی فی کس آمدنی اتنی ہے وہ اس ملک میں کتنے ہیں اور کہاں ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ پچھلے 5 سال میں معاشی ترقی کی بلند شرح کی بدولت معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور الحمدللہ آج ہم دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو لیکن یہ جو گلی گلی، محلے محلے بھوک اور افلاس کے ڈیرے ہیں والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو ہلاک کررہے ہیں، یہ سب کیا ہے۔ ہمارے حکمران کس دنیا کے باسی ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر