... loading ...
شدید مخالفت اور احتجاج کے باوجود ن لیگ کی حکومت نے چھٹا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ چند دن کی حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ اصولی طور پر تو بات صحیح ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو متضاد دعوے کردیے ہیں۔ ایک بات تو انہوں نے یہ کہی کہ نئی حکومت چاہے تو پورا بجٹ مسترد کردے اور دوسرے یہ کہ نئی حکومت اس بجٹ میں ایک لفظ کی تبدیلی بھی نہیں کرسکے گی۔ اس سے ایک بات تو یہ ظاہر ہورہی ہے کہ وزیراعظم کو یہ یقین نہیں کہ اگلی حکومت ن لیگ ہی کی ہوگی۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ن لیگ کے ارکان اسمبلی اسے چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی خانہ بدوشوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومت جارہی ہے اور اب نئی چراہگاہ تلاش کی جائے۔ آمد ورفت کا یہ سلسلہ دوسری جماعتوں میں بھی جاری ہے۔ کوئی پیپلزپارٹی چھوڑ کر جارہا ہے تو کوئی پیپلزپارٹی میں آرہا ہے۔ ہر ایک اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گوشہ عافیت کی تلاش میں ہے۔ ایسے لوگوں کو عوامی نمائندے کہنا مشکل ہے۔ ن لیگ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ ایک غیر منتخب شخص مفتاح اسماعیل کے ذریعے بجٹ پیش کروایا۔یہ بجٹ وزیراعظم یا احسن اقبال بھی پیش کرسکتے تھے، لکھے ہوئے اعدادوشمار کو پڑھنا ہی تو تھا۔ اس طرح مفتاح اسماعیل بھی کڑی آزمایش سے بچ جاتے۔ انہیں ایسے معاملات کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔
گزشتہ جمعہ کو بجٹ پیش کرنے کے دوران میں ارکان اسمبلی میں ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ اس بارے میں یہ طے کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رکن مراد سعید اور ن لیگ کے وزیر مملکت عابد شیر علی میں سے کون زیادہ قصور وار ہے اور زیادتی کس نے کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ہی کا رویہ نا شائستہ تھا۔ احتجاج کرنے کو جمہوری حق قرار دیا جاسکتا ہے لیکن معزز ارکان اسمبلی اور گلی کے غنڈوں میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان تو اپنی روایت اور عادت کے مطابق اس موقع پر بھی قومی اسمبلی میں نہیں آئے چنانچہ مراد سعید کو سمجھانے والا کوئی نہیں تھا۔ عابد شیر علی تو ایک عرصے سے شیر بنے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ وہ مفتاح اسماعیل کو بچانے کے لیے درمیان میں آئے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کو چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی کی طرح واک آؤٹ کرجاتے۔
جہاں تک 59کھرب، 32 ارب 50 کروڑ روپے کے بجٹ کا تعلق ہے تو یہ بھی ماضی کے ہر بجٹ کی طرح روایتی ہے کہ فلاں چیز کی قیمت کم اور فلاں کی بڑھادی گئی۔ اس کی حقیقت اس وقت کھلے گی جب عام آدمی پر اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے اور اس میں خسارہ بھی تاریخی ہے۔ 10کھرب 90ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ خسارہ کس طرح پورا ہوگا، ظاہر ہے کہ عوام ہی کی گردن دبوچی جائے گی چنانچہ ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ بجٹ میں صرف ایک اچھی بات نظر آئی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پنشن پانے والے بزرگ شہریوں کو تھوڑی سی سہولت ضرور ملے گی۔ کم سے کم پنشن 10ہزار روپے کی گئی ہے۔ مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ بھی اچھا اقدام ہے لیکن سب تو سرکاری ملازم نہیں ہیں مگر مہنگائی کا بوجھ برداشت کررہے ہیں۔ عام آدمی کو کیا سہولت دی گئی ے؟بجٹ میں دفاع کے لیے رقم پہلی بار ایک کھرب روپے سے آگے چلی گئی ہے۔ اس کو مجبوری کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے دفاع کو کئی خدشات لاحق ہیں اور پھر موجودہ حالات میں فوج کو خوش کرنا حکومت کی بھی مجبوری ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ بجٹ کا 30فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ قرضے ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں جن پر سود کی ادائیگی سے اللہ اور اس کا رسول ﷺبھی ناراض۔ن لیگ کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے ہیں جو عوام کو ادا کرنے پڑیں گے۔ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ اس پر دعویٰ یہ کہ اب آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ یہی رونا روتی ہے کہ جانے والی حکومت نے ملک کو مقروض کردیا چنانچہ مزید قرضے لینا مجبوری ہے۔
نئے بجٹ میں صحت کے لیے محض 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ عوام کو صحت و علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکمرانوں کی ترجیح نہیں ہے، چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں کہ پینا ڈول کی دو گولیوں کے لیے مریض خوار ہوتے ہیں۔ اسپتالوں کا حال کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ پورے ملک میں صحت کے لیے 13 ارب روپے ناکافی ہی نہیں، اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بلکہ زہریلے اور آلودہ پانی کی فراہمی جعلی دواؤں کی وجہ سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں غریب عوام علاج سے محروم ہیں البتہ حکمرانوں اور با اثر طبقے کے افراد نزلہ زکام کے علاج کے لیے بھی یورپ و امریکا کا رخ کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے بقول یہ عوام کا نہیں پارٹی بجٹ ہے جسے غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت کا بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ تاریخی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اب تک کا ن لیگ کا بہترین بجٹ ہے۔ یعنی اس سے پہلے کے 5 بجٹ بد ترین نہیں تو بہترین بھی نہیں تھے۔
کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیاگیا ہے۔ لیکن یہ رقم کون استعمال کرے گا، اور کس مد میں خرچ ہوگی۔ ظاہر ہے کہ مرکز ہی اپنی نگرانی میں یہ رقم خرچ کرے گا اور اس پر صوبائی حکومت اگر برہم نہ ہوئی تو خود استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ 25 ارب روپے سے اگر کچرا ہی صاف ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ بجٹ میں کھاد، زرعی و صنعتی مشینری، الیکٹرک گاڑیاں، پولٹری کی اشیا سستی مگر سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کی مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی جس کا مطلب ہے کہ مکان بنانا اور دشوار ہو جائے گا کیونکہ سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کا تعلق تعمیرات سے ہے۔ بڑے بلڈرز تو شاید یہ جھٹکا سہ لیں اور اپنے منصوبوں، فلیٹوں کی قیمت بڑھا کر بوجھ خریداروں پر ڈال دیں لیکن اپنی چھت اور چار دیواری کے خواہش مند یہ آرزو ملتوی کردیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نا اہل وزیراعظم نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد ایک جلسے میں نعرہ لگایا تھا کہ ’’اب لوگوں کو مکان بھی فراہم کریں گے‘‘۔ گویا سب کچھ تو فراہم کردیا، بس یہی کام رہ گیا تھا جس کا خیال 5 سال میں نہیں آیا۔ اور اب ن لیگ ہی کی حکومت نے مکان بنانا مشکل کردیا۔ بجٹ میں 2300 ارب روپے قرض لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ بجٹ نواز شریف کے وژن کا عکاس ہے، ان کی کمی محسوس کررہے ہیں۔ بجٹ تقریر میں نا اہل قرار دیے گئے نواز شریف کو 7 مرتبہ یاد کیاگیا۔ بہر حال ایل ای ڈی لائٹس، ایل این جی، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اسٹیشنری، نظر کے چشمے، آپٹیکل فائبر، استعمال شدہ کپڑے (لنڈا) اور جوتے سستے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کوئی شے عام آدمی کے لیے نا گزیر نہیں ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان پر سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ برقرار رہی ہے۔
وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ ایسا بجٹ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے یہ اعتراض مسترد کردیا کہ مفتاح اسماعیل کا بجٹ پیش کرنا غیر آئینی تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فی کس آمدنی ایک لاکھ 80 ہزار 1204 روپے ہوگئی ہے۔ یہ مذاق ہے تو بہت سنگین ہے۔ جن کی فی کس آمدنی اتنی ہے وہ اس ملک میں کتنے ہیں اور کہاں ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ پچھلے 5 سال میں معاشی ترقی کی بلند شرح کی بدولت معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور الحمدللہ آج ہم دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو لیکن یہ جو گلی گلی، محلے محلے بھوک اور افلاس کے ڈیرے ہیں والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو ہلاک کررہے ہیں، یہ سب کیا ہے۔ ہمارے حکمران کس دنیا کے باسی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...