وجود

... loading ...

وجود

حوا کی بیٹی پر دردناک مظالم

هفته 10 مارچ 2018 حوا کی بیٹی پر دردناک مظالم

دنیا بھرسمیت پاکستان میں8 مارچ کوخواتین کا عالمی دن منایا گیا ۔ گوکہ اس دن کا باقاعدہ آغاز تو 20 فروری 1909 میں ہی ہوگیا تھا لیکن اس کے آغاز سے مغربی ممالک میں خواتین کو برابری کے حقوق ملنے کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرلیا گیا لیکن ایشیائی ممالک میں خواتین جس طرح ماضی کے دورمیں پیچھے تھیں اسی طرح آج بھی پیچھے ہی ہیں۔یورپ نے تو خواتین کے حقوق کی بات بہت بعد میں کی، اگراس سلسلے میں مذہب اسلام کا جائزہ لیا جائے تواس نے 1400 سال قبل ہی خواتین کی عزت وتکریم کے ساتھ ساتھ انہیں برابری کے حقوق دیئے لیکن ہم اسلامی ملک ہونے کے باوجود خواتین کووہ حقوق نہیں دے پائے جن کا اسلام نے تعین کیا تھا۔ ہاں! ہم نے یورپی ممالک کی اس بات کی تقلید ضرورکی کہ ہرسال خواتین کا ایک مخصوص طبقہ 8 مارچ کوخواتین کا عالمی دن مناتا ہے اوراس دن کی مناسبت سے ملک بھرمیں سیمنار، جلسے، جلوس، ریلیاں منعقد ہوتی ہیں جن میں چیخ چیخ کرخواتین کے حقوق اور سربلندی کی باتیں کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ آج بھی ہمارے ملک کے پسماندہ علاقوں میں مرد حضرات، خواتین کو کسی جوتی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان علاقوں کی خواتین کل کی طرح آج بھی جانوروں کی طرح نہ صرف گھرکے تمام کام کاج میں مردوں کے ہا تھ بٹاتی ہیں بلکہ دوردرازسے گھر کے لیے اپنے سروں پر گندا اور گدلا پانی لانا ان کی ہی ذمہ داریوں میں شامل ہے جبکہ ان علاقوں کی کچھ خواتین بھیڑ بکریاں چرانے کے ساتھ ساتھ گھریلو دستکاری کے کام سے حاصل ہونے والی معمولی رقوم سے گھر کا بوجھ بھی اٹھاتی ہیں۔ مگران تمام کاموں کے باوجود انہیں رتی برابر بھی اہمیت حاصل نہیں۔ البتہ اتنا ضرورہے کہ جوخواتین دن رات کی محنت سے دستکاری سمیت دیگرکام انجام دیتی ہیں انہیں پوش علاقوں کے دکاندار یا بعض خواتین این جی اوز انتہائی سستے داموں خرید کر مارکیٹوں میں مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے منافع سے ہرسال نت نئے ماڈلزکی گاڑیاں بدلنے کا کام انجام دیتی نظر آتی ہیں۔اب اگران خواتین کے ساتھ ہونے والے مزید مظالم کا تذکرہ کیا جائے تو انہیں آج بھی پنجاب میں کالا کالی، بلوچستان میں سیاہ کاری، خیبرپختونخواہ میں طوروطورا اور سندھ میں کاروکا ری کے نام سے کھلے عام قتل کیا جارہا ہے جس پرخواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی انجمنیں سال میں صرف ایک دن تقریرکرکے ان کے حقوق پر با تیں کرنے کے ساتھ ساتھ فوٹوسیشن کروا کرچلی جا تی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خواتین جنہیں غیرت کے نام پر قتل کردیا جا تا ہے، ان کے معاملے کو اب تک نہیں روکا جاسکا۔ اگر اس سلسلے میں پاکستان میں غیرت کے نام پرعورتوں کے قتل کا جائزہ لیا جائے توسال بھر میں 500 سے زائد خواتین غیرت کے نام پر قتل کردی جا تی ہیں جن میں سے بیشترقتل کے واقعات پولیس کو رپورٹ بھی نہیں ہوپاتے۔

غیرت کے نام پرقتل کے حوالے سے پسماندہ علاقوں کو چھوڑیئے، شہرمیں بھی اکثروبیشترچولہا پھٹنے سے بہوکی ہلا کت اورتیزاب گردی سے جلنے کے واقعات بھی عام ہیں مگراس حوالے سے خواتین کی نمائندگی کے دعوے کرنے والوں کے ساتھ ساتھ حکومت اور قانون بھی اسے روکنے میں بے بس نظر آتے ہیں جبکہ انہی جاہلانہ رسومات میں قرآن کریم سے شادی یا حق بخشوانے کی رسم بھی را ئج ہے جس کے تحت وڈیروں اورجاگیردار گھرانوں میں جب بیٹیاں جوان ہوتی ہیں توجائیداد تقسیم ہونے کے خوف سے ان کی شادی قرآن کریم سے کروائی جاتی ہے، اس دن لڑکی کوعروسی جوڑا پہنائے جانے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں مہندی بھی سجائی جاتی ہے اور لڑکی کا گھونگھٹ نکا ل کرسہیلیوں اور ضعیف خواتین کے جھرمٹ میں بٹھا دیا جاتا ہے۔
اس کے برابرمیں ریشمی جزدان میں سجا ہوا قران مجید رکھا جا تا ہے جس میں با قاعدہ طورپر صندل و کا فور کی خوشبو بھی لگائی جاتی ہے اور پھر قرآن مقدس کو اٹھا کر دلہن کی جھولی میں رکھا جاتا ہے اوراس طرح وہ اپنی جائیداد کا حق قرآن کریم کو بخش دیتی ہے جس سے جا ئیداد تو تقسیم ہونے سے بچ جا تی ہے مگرجس لڑکی کی قرآن سے شادی کروائی جا تی ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سفید جوڑا پہن کر ’بے بی‘ سے ’بی بی‘ بن جاتی ہے؛ اور وہ ذہنی طور پر متاثر ہوکر ہسٹیریا کی مریضہ بن جاتی ہے جس کا علاج کروانے کے بجائے اس کے پا گل پن کو روحانیت کے اعلی در جے پر فائز کردیا جاتا ہے۔اسی قسم کی دیگر رسومات کے تحت بھی پسماندہ علاقوں کی خواتین کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے مگر اس سلسلے میں حکومت، عدالت اورخواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی اسے روکنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ دراصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان جاہلا نہ رسومات کے خاتمے کے لیے حکومت اور قانون حرکت میں ا?ئے تاکہ بنیادی حقوق سے محروم خواتین کو انسانوں کی زندگی گزارنے کے حقوق حاصل ہوسکیں۔ہم جس دن بھی ان فرسودہ رسومات کو ختم کروا کر خواتین کے قتل عام کوروکنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ دن پاکستان میں بھی ہرسال 8 مارچ کو خواتین کے منائے جانے والے عالمی دن کی کامیابی کا دن ثابت ہوگا ورنہ ہرسال منائے جانے والے اس دن سے وہ خواتین جو مظالم کا شکار ہیں، ان کی بے بس زندگیوں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر