وجود

... loading ...

وجود

چھوٹے میاں بڑےمیاں میں اختلافات کی افواہیں دم توڑگئیں

جمعرات 01 مارچ 2018 چھوٹے میاں بڑےمیاں میں اختلافات کی افواہیں دم توڑگئیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا ہے جب کہ نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دیدی ہے۔میڈیاپرجاری ہونے والی خبروں کے مطابق ماڈل ئون میں پارٹی چئیرمین راجا ظفرالحق کی صدارت میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ سمیت 125 اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر کے لیے شہباز شریف جب کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف نے تاحیات قائد کے لیے نواز شریف کا نام تجویز کیا، جس کے بعد مرکزی مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا جب کہ نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دیدی۔ شہبازشریف کو مستقل پارٹی صدر بنانے کی منظوری مسلم لیگ (ن) کے جنرل کونسل اجلاس میں لی جائے گی۔مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات مشاہد اللہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو قائم مقام بنانے کی منظوری دے دی، نواز شریف نے کسی لالچ کے بغیر اور دباؤ کے باوجود پاکستان کی بہتری کے لیے کام کیا، ایٹمی دھماکے کرنے پر نواز شریف کو ہائی جیکر بنایا گیا، کروڑوں لوگوں کے لیڈر کو ہٹانا عدالت کا کام نہیں عوام کا ہے، عدلیہ سے محاذآرائی ہم نہیں عدلیہ خودکررہی ہے، عدالتی فیصلوں سے عوام کے حق حکمرانی کو ختم کیا جارہا ہے، عوام نے عدالتی فیصلے قبول نہیں کئے، عوام سب باتیں سمجھتے ہوئے نوازشریف کا ساتھ دے رہے ہیں، ووٹ کا تقدس بحال ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔

سپریم کورٹ کی طرف سے میاں نواز شریف کی نااہلیت کا فیصلہ آیا تو میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے میاں نواز شریف کی خالی ہونے والی نشست سے انتخاب لڑنا تھا جس کے لیے ایک مدت متعین ہے، اس دورانئے میں خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا مگر بوجوہ خاقان عباسی کے نام ہی مستقل وزارت عظمیٰ کا قرعہ نکلا، اسی دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے مسلم لیگ ن کے صدر کے انتخاب کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تو پھر مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شہباز شریف کے نام پر اتفاق کیا گیا، جبکہ ان کے انتخاب تک یعقوب خان ناصر کو قائم مقام صدر بنایا گیا، انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن اور 7 ستمبر 2017ء کو الیکشن کا اعلان کر دیا گیا مگر الیکشن کمیشن کی کوئی سرگرمی نظر نہ آئی اور یہ مقررہ دن خاموشی سے گزر گیا، اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہوئے کہ پارلیمان کی طرف سے میاں نواز شریف کی پارٹی صدارت کی راہ ہموار ہو گئی۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ کیا گیا کہ نااہل شخص پارٹی صدر نہیں بن سکتا جس پر مسلم لیگ ن کی صدارت کی سیٹ ایک بار پھر خالی ہو گئی، اس کے لیے لیگی قیادت نے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا۔ اس حوالے سے پہلا اور اہم اجلاس گزشتہ ہفتے جمعرات کو پنجاب ہائوس اسلام آباد میں ہوا جس میں میاں نواز شریف کی صدارت میں اعلیٰ پارٹی قیادت شریک ہوئی جس میں مسلم لیگ ن کے صدر کے لیے کھل کر بحث ہوئی، کچھ رہنمائوں کی رائے تھی کہ بیگم کلثوم نواز کو صدر بنایا جائے لیکن ان کی خرابی صحت کی بنا پر فعال عملی سیاست سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اسی اجلاس میں شہباز شریف کو مستقل صدر بنانے کا فیصلہ اور اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اس روز الیکٹرانک میڈیا پر یہ خبر نمایاں رہی اور اگلے روز اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی۔ گزشتہ روز ایک بار پھر شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کا صدر بنانے کی مزید تصدیق خود سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے شہباز شریف سے طویل ملاقات کے بعد کی اور پارٹی صدر بنانے کے حوالے سے آگاہ کیا۔ ضابطے کی کارروائی کے لیے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی توثیق رسمی ہو گی۔ اب حالات اس ڈگر پر ہیں جن میں شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانا ضروری لگتا ہے۔

میاں نواز شریف سینئر لیڈر شپ کی مشاورت سے 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کی صورت میں شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کر چکے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے اندر کے ہی بعض حلقے شہباز شریف کے وزیر اعظم بنائے جانے پر ابہام پیدا کرتے ہیں۔ وزیراعظم خاقان عباسی تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے آئندہ کے وزیر اعظم کی نامزدگی کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ خود شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ میاں نواز شریف نے کیا، اس پر عمل ہوا، شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی کے میاں نواز شریف کے فیصلے اور اعلان پر عمل کیوں نہیں ہو گا؟ اسی طرح میاں شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کا صدر بنائے جانے کے حوالے سے بھی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے شہباز شریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کرلیا اور نواز شریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری بھی دیدی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے مسلم لیگ ن کے بکھرنے کی کچھ حلقے امید لگائے بیٹھے تھے۔ پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی تھیں مگر پارلیمان کے اندر مسلم لیگ ن پہلے کی طرح متحد رہی بلکہ سینیٹ میں اقلیت کے باوجود انتخابی اصلاحات کا بل بھی منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ مسلم لیگ ن کو بحرانی کیفیت میں ضمنی انتخابات میں جانا پڑا۔ لاہور اور چکوال کے ضمنی الیکشن میں نہ صرف بھاری اکثریت سے اپنی سیٹیں برقرار رکھیں بلکہ لودھراں میں پی ٹی آئی کی یقینی سیٹ بھی اس کے ہاتھوں سے نکل کر مسلم لیگ ن کی جھولی میں آ گری۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے جس کی چین ترکی اور برطانیا سمیت کئی حکومتوں نے ستائش کی ہے۔ ضمنی انتخابات میں کامیابی میں شہباز شریف کی مثالی کارکردگی سرِفہرست رہی، بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے صوبے میں سویپ کیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کی مجموعی کارکردگی گو قابل رشک نہیں ہے مہنگائی میں اضافہ ہوا پٹرولیم مصنوعات میں جتنا ریلیف مل سکتا تھا اتنا نہیں دیا گیا ‘ دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی اور کراچی کا امن اور روشنیاں لوٹ آئی ہیں، سی پیک منصوبہ ایک گیم چینجر کی حیثیت میں سامنے آیا ہے۔ میاں نواز شریف پارٹی سربراہ ہوتے تو مسلم لیگ ن کی کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی تھے شہباز شریف کے پارٹی صدارت سنبھال لینے کے بعد ن لیگ آئندہ الیکشن میں زیادہ بہتر پوزیشن میں ہو گی۔دیگرصوبوں سے قطع نظرپنجاب میں ابھی تک صورت حا ل خاصی حدتک ن لیگ کے حق میں ہی نظرآرہی ہے ۔دوسری جانب چودھری نثارعلی خان جیسے سینئرسیاستدان کی ناراضگی بھی شہباز شریف کے پارٹی صدارت سنبھالنے کے بعد دور ہوجائے گی۔ یہی نہیں شہباز شریف کے پارٹی صدر بننے سے اداروں اور پارٹی کے مابین معاملات خوش اسلوبی سے چل سکیں گے۔ چودھری نثار علی خان جیسے لیڈروں کو بھی شہباز شریف کی قیادت میں کام کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔ شہباز شریف کے صدر بننے سے مسلم لیگ مزید مضبوط ہو گی اور اس کے آئندہ الیکشن میں کامیابی کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر