وجود

... loading ...

وجود

المیہ مشرقی پاکستان اور محصورین

هفته 16 دسمبر 2017 المیہ مشرقی پاکستان اور محصورین

حسن امام صدیقی
٭ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش عالمی سطح پر شروع کردی گئی تھی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے فوجی اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کو بیرون ملک کی تربیت کے لیے بھیجا جانے لگا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افسران کی مغربی پاکستان کے خلاف ذہنی نشونما اور منفی تربیت بیرون ملک بھی دی جانے لگی۔ بنگالی تہذیب و ثقافت کے نام پر بنگالی قومیت کو اُجاگر اور مضبوط پیرائے میں ہندوبنگالی اور مسلمان بنگالی کو ایک قوم اور اس کی ثقافت کے لیے علیحدہ مملکت کی تشکیل کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ان افسران کو بیرون ملک تربیت کے دوران بریفنگ دی جانے لگی۔ بیرون ملک کورس مکمل کرکے آنے والے افسران مشرقی پاکستان میں پاکستان مخالف سوچ کی ابتداء کردی۔ اس سازش کا پہلا انکشاف 1948ء میں مشرقی پاکستان میں بعض نیوی کے افسران کی گرفتاری پر ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد 1949ء تک مشرقی پاکستان کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اس اس کے سدباب کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ پاک و ہند کے درمیان ستمبر 1965ء کی جنگ نے ایک پروپیگنڈہ کے ذریعے مشرقی پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلایا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے بعد کئی سانحات جنم لیتے رہے۔ فروری 1952ء کے بعد مشہور اگرتلہ سازش کیس 1966ء میں ہوا۔ اس دوران سیاسی معمولات منفی جانب گامزن رہے۔ فروری 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنا چھ نکاتی فارمولا عوام کے سامنے پیش کیا۔ یہ بنگالی نیشنلزم اور پاکستان نیشنلزم کے درمیان مقابلہ تھا اور ساتھ ہی بنگلہ دیش کے قیام کی جانب قدم بھی تھا۔ مئی 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کے کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ان پر پاکستان توڑنے کا “اگرتلہ” سازش کا الزام تھا ۔ اگرتلہ مشرقی پاکستان کو وہ سرحدی بھارتی علاقہ جہاں پاکستان توڑنے کی عملاً سازش تیار کی گئی۔ عوامی لیگ نے شیخ مجیب کی گرفتاری کے خلاف 7جون 1966ء کو جنرل اسٹرائیک کا اعلان کردیا۔ جس کے نتیجے میں شدید خونریزی ہوئی۔ 41افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ 1967ء میں فوج سے تعلق رکھنے والے کچھ بنگالی فوجیوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندوستان سے سازباز کرکے ملک کو توڑنے کی سازش کی۔ ا گرتلہ سازش کیس اور مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کو بنگلا زبان کے اخبارات نے نمایاں جگہ دینی شروع کردی اور اس کے حق میں تشہیری مہم بھی شروع کردی گئی ۔ ادھر مغربی پاکستان کے اردو اخبارات نے مجیب کو غدار قراردینا شروع کردیا۔ خاص کر ـ”پریس ٹرسٹ”کے اخبارات نے مشرقی پاکستان کی نازک صورت حال کو محسوس نہیں کیا اور منفی پروپیگنڈہ میں شامل رہے۔ جس کی وجہ سے مغربی پاکستان کے عوام مشرقی پاکستان کے حالات سے بے خبر رہے۔سب اچھا کی رٹ لگاتے رہے۔ 1968ء میں ایوب خان نے ترقیاتی جشن پورے پاکستان میں منانے کا اعلان کردیا مشرقی پاکستان کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی تھی۔ عوامی لیگ کے طلباء چھاتر و لیگ نے احتجاجی تحریک شروع کر رکھی تھی۔ عوام بھی ان کاساتھ دے رہے تھے۔ مغربی پاکستان میں شکر کمی نے صورت حال کو مزید خراب کردیا۔ جس کے نتیجے میں لاہور اور گوجرانوالہ میں کرفیو لگا دیا گیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک شدت اختیار کرتی جارہی تھی ۔ 1969ء میں مشرقی پاکستان کے شمالی شہر پاربتی پور میں ایک سازش کے تحت ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کو توڑنے کے لیے بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کے درمیان تصادم کرادیا گیا۔ بی ڈی ممبران ایوب خان کے حامی تھے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی
سنگین سیاسی صورت حال کو سنبھالنے کے لیے ایوب خان نے لاہور میں “رائونڈ ٹیبل کانفرنس”کا انعقاد کیا اور شرکت کے لیے جیل سے مجیب الرحمٰن کو رہا کردیا۔بھٹو نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کانفرنس کے بعد ایک ڈرافٹ تیار کیا جس میں پاکستان کو ایک فیڈریشن اور مغربی و مشرقی پاکستان کو دوریاستوں کا ذکر تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات ناکام رہے۔ ملک میں شدید سیاسی بحران آگیا جس کے نتیجے میں جنرل ایوب خان نے 25مارچ 1969ء کو اقتدار سے علیحدہ ہوکر جنرل آغا محمد یحیٰ خان کو سونپ دیا۔ جنرل یحیٰ خان نے مارشل لا نافذ کردیا اور جلد الیکشن کرانے کا اعلان کردیا۔
جنرل آغا محمد یحیٰ خان نے جسٹس عبدالستار کو چیف الیکشن کمشنر نامزد کردیا۔ متحدہ پاکستان کا آخری الیکشن 7دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی اور 17دسمبر 1970ء کو صوبائی اسمبلی کا ہوا۔ آزاد اور شفاف الیکشن کے نام پر مشرقی پاکستان میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ عوامی لیگ کے کارکن پولنگ اسٹیشن پر قابض رہے ۔ الیکشن کا عملہ ان کے ساتھ رہا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں عوامی لیگ کو مشرقی پاکستان میں 167سیٹیں ملیں۔ ایک سیٹ نورالامین پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کو اور دوسری سیٹ چٹا گانگ کے پہاڑی قبائلی علاقوں پر مشتمل حقلہ کے قبائلی چیف ـراجاتری دیورائےکو ملی۔ مغربی پاکستان میں 85سیٹیں پیپلز پارٹی کو ملیں۔
جنوری 1971ء میں نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی گروپ) کے سربراہ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی نےآزاد ایسٹ پاکستان کا نعرہ لگایا اور مغربی پاکستان کو خدا حافظ کہا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس3مارچ 1971ء کو ڈھاکا میں طلب کرلیا گیا۔ زیڈ اے بھٹو نے ڈھاکا جانے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ اس کی اکثریت ہے وہ حکومت بنائے گا۔ پاکستان کا نیا قانون چھ نکات پر مشتمل ہوگا۔ سیاسی معاملات پیچیدہ ہور ہے تھے، ادھر مشرقی پاکستان میں خونریزی، جلائو گھیرائو اور سول انتظامیہ عوامی لیگ کے ماتحت آگئی تھی۔ ہر طرف لاقانونیت تھی۔ اسی دوران صدر یحیٰ خان نے قومی اسمبلی کا ہونے والا اجلاس یکم مارچ کو منسوخ کردیا۔ ڈھاکا اسٹیڈیم میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے کھلاڑی میچ کھیل رہے تھے۔ ان پر حملہ کردیا گیا۔ ہوٹل پوربانی میں قائم PIAکا دفتر لوٹ کر جلادیا گیا۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی تصاویر کی بے حرمتی کرنے کے بعد پاکستانی پرچم سمیت جلادیا گیا۔ پورے مشرقی پاکستان میں چاروں طرف آگ اور خون کا دریا بہہ رہا تھا۔ غیر بنگالیوں کی کالونیوں اور گھروں پر حملہ کرکے انہیں قتل کیے جانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ نوجوان لڑکیوں کو اغوا کیا جانے لگا۔ بنگلہ دیش کا پرچم آویزاں کردیا گیا۔ ایسٹ پاکستان رائفلز (E.P.R) اور بنگال رجمنٹ (Bangal Regments)نے بغاوت کرکے اپنے ہی غیر بنگالی افسروں اور نوجوانوں کو ہلاک کرنا شروع کردیا۔ میجر ضیاء الرحمٰن نے ایک پلاٹون کے ساتھ ریڈیو پاکستان چٹاگانگ پر قبضہ کرکے آزاد بنگلا دیش کا اعلان کردیا یہ وہی میجر ضیاء الرحمٰن تھے جو بعد میں میجر جنرل ضیاء الرحمٰن بنگلا دیش بنے۔ پوری طرح سول نافرمانی جاری تھی۔ بڑی تعداد میں اسلام پسند جماعتوں کے بنگالی اراکین محب وطن پاکستانی اور غیر بنگالی محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام جاری تھا۔ ریلوے لائنیں اکھاڑ دی گئیں، پولیس، انصار و دیگر نیم عسکری اور عسکری اداروں کے افراد نے مکمل بغاوت کا علم بلند کر رکھا تھا۔ ہر طرف سیاہ اور بنگلہ دیشی پرچم آویزاں تھے ۔ یہ سب مجیب الرحمٰن کے حکم پر ہورہا تھا۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی فوجی مکتی باہنی کے روپ میں اندر داخل ہوکر تخریبی کاروائیوں میں مصروف ہوگئے۔
ادھر سیاسی محاذ پر مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین، صدر پاکستان جنرل یحیٰ خان اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے۔ سیاسی معاملات مصلحتوں سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے کے بجائے وقت کوطول دیا گیا جس کے نتیجے میں پورا مشرقی پاکستان جہنم بن گیا اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے اعلان آزادی سے چند گھنٹے قبل 25اور 26مارچ 1971ء کی رات کو پاکستانی افواج نے ملک دشمنوں کے خلاف ایکشن شروع کردیا ایک ایک انچ پر دوبارہ حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے پاکستان بچانے
کے لیے پاکستان فوج کی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے چپے چپے پر پھیل گئے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنے شروع کردیے۔ مشرقی پاکستان کے شہری علاقوں میں آباد غیر بنگالیوں کی کالونیوں اور اسلام پسند محب وطن بنگالیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ پاک افواج کے جوانوں نے ہزاروں کی بستی میں چند بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔ 14اگست 1947ء قیامِ پاکستان کے وقت فساد سے زیادہ بدترین قتل و غارت تھی۔ اگست 1971ء تک حالات معمول پر آنا شروع ہوئے۔ حکومت نے “عام معافی”کا اعلان کیا۔ مکتی باہنی،لال باہنی، راکھی باہنی اور دیگر نیم عسکری و عسکری اداروں کے افراد جنہوں نے پاک افواج سمیت دیگر محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام کیا تھا۔ وہ تمام معافی کے ذریعے ہندوستان سے واپس آکر مزید مستحکم ہونے لگے۔ تربیت وار ہر علاقوں میں انہوں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کردیا۔ اکتوبر 1971ء کے وسط میں مشرقی پاکستان کے حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے۔ آگے ہندوستانی فوج سے مقابلہ اور پیچھے مکتی باہنی اور باغی بنگال رجمنٹ کا سامنا تھا۔ بہت خراب حالات تھے۔ دوبارہ ریلوے پلوں کو تباہ کرنے اور غیر بنگالیوں محب وطن پاکستانیوں پر حملہ شروع ہوگیا۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرکے کلکتہ لے جاکر فروخت کردیا گیا۔ ہر قسم کے ظلم ڈھائے گئے۔ دسمبر 1971ء کی جنگ لے پہلے ہفتے میں ہی فضائی اڈے تباہ کردیے گئے ۔ اور بھارتی فوج اندر آگئی تھی۔
ایڈمرل احسن کے بعد جنرل نکا خان اور پھر کمانڈر ایسٹرن کمانڈ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی(اے اے کے نیازی) اور گورنر مشرقی پاکستان جناب مالک بنے لیکن بین الاقوامی سازش ہندوستان کی کارفرمانیاں ہمارے سیاسی اکابرین خصوصاً مغربی پاکستان کے زعمائے ملک اور سیاسی اکابرین اور حکمرانو ں نے نوشتہ دیوار نہ پڑھ سکے۔ نہ ہی امریکی جنگی بیڑہ المعروف سیون فلائٹ آسکا اور 16دسمبر 1971ء کو ڈھاکا غروب ہوگیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا دنیا کے سامنے ہے۔ افواج پاکستانی جنگی قیدی بنے اور پھر وطن واپس آگئے۔ قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ بچ جانے والے محصورین پاکستان کر ب وبلا کے مسافر ٹھہرے۔ انہوں نے تحفظ پاکستان کے لیے پاکستانی افواج کا ساتھ دیا۔ البدروائشمس والے بھی شہید کردیے گئے جنہوں نے کڑے وقت میں پاکستان کی دفاع میں پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ رہے۔ حب الوطنی کو جرم بنا کر پیش کیا گیا۔ محصور پاکستانی آج بھی بنگلہ دیش کے 66کیمپوں میں قید بندکی زندگی گذار رہے ہیں اور پاکستان آنے کی آس میں موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ حشر کے دن اللہ کے حضور یہ محصور پاکستانی، حکمرانوں کا دامن پکڑ کر اللہ سے فریاد کریں گے انصاف کے طالب ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ان پاکستانیوں کو پاکستان لائیں اور عذاب الٰہی سے بیچیں۔ حب الوطنی کے جذبہ کو مزید اجاگر کریں جس کی آج ہمیں سخت ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ باد۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر