وجود

... loading ...

وجود

اگلے انتخابات اور مذہبی جماعتوں کا محدود ہوتا کردار

پیر 30 اکتوبر 2017 اگلے انتخابات اور مذہبی جماعتوں کا محدود ہوتا کردار

پاکستانی سیاست اور معاشرہ میں مذہبی جماعتیں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ مذہبی حوالوں سے ان کا کام مستقلاً جاری ہے جبکہ سیاسی حوالوں سے بھی ملک کی مذہبی قوتیں اہم مسائل پر اپنا مؤقف دینے کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی قوتوں خصوصاً سیکولر قوتوں کی راہ میں مزاحم رہی ہیں۔ ملکی قوانین کو سیکولر بنانے اور معاشرہ کو لامذہبیٹ کی را ہ پر لے جانے کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت انہی مذہبی قوتوں نے کی۔ کبھی مشترکہ جدوجہد کے ذریعہ اور کبھی انفرادی حیثیت میں۔ ملکی سیاست میں ان جماعتوں اور ان کے قائدین کا اثر کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی ہر سیاسی تحریک یا جدوجہد میں مذہبی جماعتوں کے قائدین ہر اول دستہ میں رہے ہیں حتیٰ کہ کہیں نہ کہیں شراکت داری میں حکومتوں میں بھی شریک رہے ہیں۔ تاہم اب یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار محدود سے محدود ہوتا چلاجارہا ہے۔ وہ سلسلہ جو 2008 میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد کم ہونا شروع ہوا اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ پاکستان کے عوام مذہبی سیاسی جماعتوں سے بڑی حد تک بیزار ہوچکے ہیں، اب کسی بھی حلقے میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ متاثر کن نہیں رہا حتیٰ کہ اپنی مضبوط ترین جنم بھومی صوبہ کے پی کے میں بھی اس حد تک کمزور ہوگیا ہے کہ عوام مذہبی جماعتوں کے بجائے سیکولر یا قوم پرست جماعتوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
آج سے محض دو انتخابات قبل تک جب مذہبی جماعتیں مل جل کر اپنے ووٹ مجتمع کرکے اقتدار میں بھی آگئی تھیں، اب اس حال کو پہنچی ہیں کہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی کاسہ لیسی پر مجبور ہیں۔ اور جو جماعتیں تن تنہا پرواز کی شوقین تھیں وہ اپنا ٹین بجوا چکی ہیں ،یہ تاثر محض پچھلے چند ضمنی انتخابات کی بناء پر قائم نہیں ہوا بلکہ تمام رائے عامہ کے جائزے، بلدیاتی انتخابات اور سیاسی ہماہمی میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مذہبی جماعتیں اور ان کے سیاسی مطالبات نقار خانے میں طوطی کے مترادف ہیں۔ ان سب کی بنیادی وجوہات بہت سی ہیں جن میں بنیادی وجہ ان جماعتوں کا پاکستانی معاشرہ کے عام رجحانات سے لاتعلق ہونا ہے۔ مذہبی جماعتیں طویل عرصہ سے پاکستانی عوام کی زبان نہیں بن سکیں ان کی سوچ عوام کی سوچ سے مختلف بلکہ بہت سے معاملات میں متضاد رہی ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل میں اگر مذہبی جماعتوں کا کوئی کردار تھا بھی تو اب وہ بہت حد تک محدود ہوچکا ہے۔ یہ کام اب میڈیا اور دیگر اداروں نے چھین لیا ہے۔ صورتحال اب اس جگہ پہنچ چکی ہے کہ بیشتر مذہبی قوتوں کو اس چیز کا ادراک یا احساس تک نہیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور انہیں اس بدلی ہوئی دنیا میں اپنی حکمت عملی اپنے رویے اور اپنے اسٹائل کو تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ سمجھ نہ ہونے کے سبب یہ جماعتیں حقائق کا ادراک کیے بغیر ریس میں دوڑ کر نہ صرف اپنی توانائیاں ضائع کررہی ہیں بلکہ بری طرح بھد بھی اڑوا رہی ہیں نتیجہ یہ ہے کہ جوان کی رہی سہی اہمیت ہے وہ بھی ضائع کررہی ہیں۔
سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ عام انتخابات سر پر ہیں اور اس کا بھی امکان ہے کہ یہ عام انتخابات کسی قدر قبل از وقت بھی ہوسکتے ہیں جس میں آنکھیں بند کرکے مذہبی جماعتیں بھی کودنے کو تیار ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ موجودہ ماحول میں وہ اپنا رہا سہا اعتبار، اپنا نام اور پوزیشن سب کچھ گنوا بیٹھیں گی۔ ان میں سب سے زیادہ خطرناک صورتحال جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی ہے کہ یہ دو جماعتیں ابھی تک ماضی میں جی رہی ہیں۔ عامۃ الناس سے قطعی لا تعلق یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی بات سنی او تسلیم کی جارہی ہے۔ ان کے عوام تک پہنچنے کے ذرائع منبر اور میڈیا ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے سے دور اور بیزار ہیں۔ عوام کا یہ حال ہے کہ مذہبی طور پر چاہے وہ کسی بھی مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھتے ہوں اور اپنے مذہبی عمائدین کو کتنا ہی پسند کیوں نہ کرتے ہوں، انہیں سیاسی قائد ماننے اور ووٹ دینے کو تیار نہیں۔ گویا عوام کے مذہبی اور سیاسی قائد الگ الگ ہوچکے ہیں۔ رہی سہی کسر میڈیا نے پوری کردی ہے کہ وہ ان مذہبی قوتوں کو اپنی ضرورت اور برانڈ کے طور پر کوریج اور اہمیت دیتا ہے مگر مذہبی جماعتیں اس کوریج کو اپنی مقبولیت کا معیار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئیں۔
پاکستان کی عمومی سیاست ایک دوسرے ہی رخ پر جارہی ہے جس میں مذہبی یا شرعی ایشوزکے بجائے کرپشن، قومیت اور عوام کے روزمرہ مسائل بنیادی نکات ہیں۔ اور انہی بنیادوںپر قومی سیاست ایک بار پھر سے پولرائز یعنی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ اس تقسیم میں مذہبی جماعتوں، مذہبی قوتوں اور ان کے ووٹ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی کردار، اگر خدا نخواستہ یہ صورتحال برقرار رہی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں اور غیر سیاسی مذہبی قوتیں دونوں آئندہ انتخابات میں اس بری طرح پِٹیں گی کہ شاید دہائیوں تک سر نہ اٹھا سکیں۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ماضی میں ملکی سیاست میں مذہبی قوتیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے اپنے حصہ سے زیادہ سیاست کرتی رہی ہیں مگر اس بار ملک کی کوئی سیاسی قوت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں کھڑی بلکہ زیادہ تر نے اپنا وزن اس کی مخالفت میں نوازشریف کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے۔ یہ کوئی دین ایمان کا مسئلہ نہیں بلکہ حکمت عملی کی بات ہے مگر عوامی رائے کے میدان میں خطرناک گراوٹ کا شکار مذہبی قوتوں کا اپنی حمایت نوازشریف جیسی ڈوبتی ہوئی سیاسی قوت کے ساتھ منسلک کرنا مزید خطرناک کام ہے۔ اورجو باقی ہیں وہ عملاً لاتعلق بلکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ سے نالاں بھی ہیں۔ اب درس نظامی، فتوحات الشام، مشکوۃ المصابیح، کنزالاعمال اور سید مودریؒ کی تعلیمات کی حامل یہ قوتیں چونکہ عقل کل ہیں اس لیے انہیں مشورے تو دیے نہیں جاسکتے ہاں یہ ضرور بتایا جاسکتا ہے کہ آپ سب تاریخ کے اوراق میں دفن ہونے میں چند دنوں اور ایک آدھ فیصلہ کی دوری پر ہیں۔ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ایک بار یہ منزل پار کرلی تو آپ کی مسالک دین یا مکتبہ ہائے فکر کی قیادت بھی چھن جائے گی۔ اگر کوئی سوچ سمجھ والا عنصر باقی ہے تو اسے معلوم ہوکہ تاریخ سے سبق نہ لینے والے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے فیصلے کرنے والے خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اگر یقین نہیں توعام انتخابات کون سے دور ہیں۔ دو دو ہاتھ کرلیں۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر