وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف خوابوں سے باہر نکلیں ،سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں

اتوار 29 اکتوبر 2017 نواز شریف خوابوں سے باہر نکلیں ،سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں

کسے نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے گیے نواز شریف جنرل جیلانی کی سفارش پر جنرل ضیا کی گود میں بیٹھ کر ان کی بیساکھی کے سہارے پہلی بار اقتدار میں آئے اور پھر بار بار آتے رہے۔ اس طویل عرصے میں وہ بزعم خود اس ملک کے بادشاہ بن بیٹھے اور اس ملک کی تمام دولت کو اپنی میراث اور اس ملک کے عوام کو اپنی رعایہ یا کمی تصور کرنے لگے اور صورت حال یہاں تک پہنچی کہ وہ عام آدمی سے تو کجا اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی براہ راست ملاقاتوں سے کترانے لگے ،جس قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر وہ اقتدار کی سنگھاسن تک پہنچے تھے اس قومی اسمبلی میں حاضری اورعوام کے منتخب رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنے کو کسر شان سمجھنے لگے ،بار بار اقتدار میں آنے اور مخالف پارٹیوں کی غلطیوں کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی کامیابی کو انھوں نے اپنی کامیابی تصور کیا اوریہ فرض کرلیا کہ اب ان کو ہر کام کی کھلی چھوٹ حاصل ہوچکی ہے اور اس ملک میں کسی کو ان سے کسی بھی معاملے میں باز پرس کی جرات نہیں ہوسکتی ، لیکن ان کی قسمت نے یاوری نہیں کی اور اچانک پانامہ پیپرز کا بم پھٹ گیا اور ان سے یہ رازفاش ہوگیاکہ نواز شریف کس طرح اس ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بناتے رہے ہیں اور کس طرح انھوں نے اپنے بیٹوں کے نام بیرون ملک کمپنیاں قائم کرلی تھیں جو مبینہ طورپر منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھیں جس کاثبوت یہ ہے کہ جب نواز شریف اقتدار میں ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں غیر معمولی انداز میں منافع کمانا شروع کردیتی تھی اور نواز شریف کے اقتدار سے الگ ہوتے ہی یہ سونے کے انڈے دینے والی کمپنیاں کڑک ہوجاتیں اورخسارے میں جانے لگتی تھیں ۔پانامہ پیپرز سے یہ راز افشا ہوگیا کہ مسکین صورت بنا کر خود کو مسٹر کلین کے طورپرپیش کرنے والے میاں نواز شریف نے اس قوم کی دولت کو کس بیدردی سے لوٹا ہے اور اس لوٹ مار میں انھوں نے نامی گرامی ڈاکوؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے،میاں نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے جان نثاروں کو ساتھ رکھنے اور اہم معاملات پر ان مشورے کرنے کے بجائے خود کو عقل کل تصور کرلیا اورایسے جہاندیدہ لوگوں کو بتدریج کنارے لگاتے گئے جو ان کے فیصلوں سے ان کے منہ پر انحراف کرتے ہوئے انھیں صائب مشورے دینے کی کوشش کرتے تھے یا کرسکتے تھے جس کی مثال چوہدری نثار کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ،ان کی اس روش کی وجہ سے ان کی پارٹی ان کے ہاتھوں اس طرح تباہ ہوئی کہ پرانے آزمائے ہوئے مخلص اور تجربہ کار ساتھیوں نے پارٹی کے معاملات میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اورسیاست میں تازہ تازہ آنے والے نام نہاد سیاست دانوں نے ان کے گرد ایسا گھیرا ڈالاکہ وہ پارٹی کے کارکنوں سے بالکل ہی کٹ کر رہ گئے اور اپنے حلقہ انتخاب میں جھانک کر دیکھنا بھی انھیں ناگوار معلوم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آئی کہ انھوں نے ذو الفقار کھوسہ اور اپنے مخلص بھائی شہباز شریف کو بھی رفتہ رفتہ اپنے سے دور کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم سے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد یہ عمل بجائے درست ہونے کے مزید بگڑ گیا اور نواز شریف مکمل طور سے مریم نواز اینڈ کمپنی کے رحم وکرم پر رہ گئے اور اب بھی نوشتہ دیوار پڑھنے اور حالات کوسمجھنے کے بجائے وہ خود کو اب بھی ذہنی طور پروزیر اعظم تصور کرتے ہیں ، اس کی ایک وجہ تو وہ خوشامدی ٹولہ ہے جو ان کو مسلسل اپنا لیڈر کہہ کر پکاررہا ہے دوسرے وہ سرکاری پروٹوکول ہے جو شہباز شریف بادل نخواستہ ابھی تک ان کو اور ان کی فیملی کو دے رہے ہیں جبکہ اندرونی کہانی یہ ہے کہ مسلم لیگ( ن) ان دنوں انتہائی نازک،صبرآزما اور انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے اور نواز اور مریم ایک طرف اور شہباز، چوہدری نثار اورکئی دوسرے رہنما دوسری طرف جاتے نظر آرہے ہیں ، اس صورتحال کے پیش نظر سیاسی جغادری اورتجزیہ نگار یہ پیشگوئی کرنے لگے ہیں کہ نواز شریف کی ضد، ہٹ دھرمی اور مریم پر ضرورت سے زیادہ انحصار جلد یا بدیر اس پارٹی کو توڑ دے گا اور مریم کی بڑھک کہ نواز شریف کو چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیراعظم بنائیں گے، دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ثابت ہوگی لیکن خواب دیکھنے سے کسی کو کون روک سکتا ہے۔
مریم نواز شریف کی بھڑکوں اورمیاں نواز شریف کے رویے سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ نواز شریف کے سر سے ابھی تک ’’اکثریت‘‘ کانشہ نہیں اترا ہے اوروہ اکثریت کے نشے سے سرشار ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی پالیسی پر گامزن ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب کی انا اور ضد نے مسلم لیگ(ن) کے سیاسی مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے کیوں کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ وہ جماعت کے ووٹ بینک کے بل بوتے پر محاذ آرائی کرکے احتساب سے بچ سکتے ہیں اور بیرونی ممالک موجود اپنے اثاثے منجمدکرائے جانے سے بچاسکتے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما کو شدت سے یہ احساس ہورہاہے کہ موجودہ صورتحال میں محاذ آرائی اورتصادم کی پالیسی کسی طوربھی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے اورنواز شریف تصادم اور محاذ آرائی کی راہ اختیار کرکے دراصل مسلم لیگ کو داؤ پر لگارہے ہیں ۔
موجودہ صورت حال میں مسلم لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے زبان زد عام قیاس آرائیوں کی اگرچہ مریم صفدر یہاں تک کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی کھل کر تردید کرتے رہے ہیں لیکن ان باتوں کومحض قیاس آرائی قرار دے اس کی حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کیونکہ تہمینہ شہباز کی حالیہ ٹویٹس اور حمزہ شہباز کے انٹرویو اور بیانات سے واضح طورپر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے اندر صف بندی کاعمل جاری ہے۔نواز شریف کے قریبی ساتھی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مریم صفدر کی قیادت کے بارے میں پہلے ہی اعتراضات کرتے ہوئے سنجیدہ سوالات اْٹھا چکے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں ریاستی اداروں سے محاذ آرائی کی مخالفت کررہے ہیں ۔ رہی سہی کسر سینئر سیاستدان وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے میاں شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی تجویز پیش کرکے پوری کردی ہے ریاض پیرزادہ کی اس تجویز پر توقع کے مطابق مخالفانہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے لیڈر، اراکین پارلیمنٹ اور سرگرم متوالے موجودہ معروضی حالات میں میاں شہباز شریف کو متبادل قائد کے طور پر دیکھ رہے ہیں ،اور انھیں یہ احساس ہوگیاہے کہ ان کاشیراب بوڑھا ہوچکاہے اور اسکے قویٰ مضمحل ہونے لگے ہیں ۔ میاں نواز شریف کا سیاسی مقدمہ کمزور ہوچکا ہے۔ وہ طویل سیاسی اننگ کھیل چکے ہیں انکی اخلاقی ساکھ متاثر ہوچکی ہے اور ان کا خاندان ایسے سنگین مقدمات میں پھنس چکا ہے جن سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔ میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر پاک فوج اور عدلیہ کیخلاف احتجاج کرکے اپنے خاندان اور ریاستی اداروں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کردی ہے جسے پاٹنابہت مشکل ہوگا۔ پاکستان کے دشمن مودی کے ساتھ میاں صاحب کی ذاتی دوستی کسی پاکستانی کو قبول نہیں ہے اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کوعوام کی اس خواہش کاپوری طرح ادراک ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتاکہ نواز شریف ایک طرف عدالت میں پیشیاں بھی بھگتتے رہیں اور اپنی انتخابی مہم کی فعال قیادت بھی کرسکیں ۔بہت سے مسلم لیگی رہنما پارٹی کے کسی ایسے رہنما کی سربراہی میں انتخاب لڑنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرینگے جس کا اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہو۔ اس صورتحال میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدکی یہ بات کسی حد تک درست معلوم ہوتی ہے کہ مسلم لیگ کے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد مسلم لیگ کو خیر باد کہنے کو تیار بیٹھی ہے،مسلم لیگ ن کو خیرباد کہنے کے لیے پرتولنے والے رہنماؤں کاموقف یہ ہے کہ جمہوری اْصولوں اور اخلاقی روایات کا تقاضہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف مسلم لیگ(ن) کے علامتی رہبر رہیں اور پارٹی کی قیادت ایسے لیڈر کو سونپ دیں جو اسٹیبلشمنٹ کو قبول ہو اور وہ نہ صرف انتخابی مہم کی قیادت کرسکتا ہو بلکہ شریف خاندان کو افسوسناک انجام سے بچانے کے لیے معاونت بھی کرسکتا ہو۔
معروضی حالات میں میاں شہباز شریف مسلم لیگ(ن) کے فطری آئیڈیل صدر ثابت ہوسکتے ہیں ۔ وہ پنجاب میں مقبول ہیں ان پر کرپشن کے سنگین الزامات نہیں ہیں جب بھی ان پر کسی نے انگلی اْٹھائی انہوں نے غیر معمولی عزم و یقین سے چیلنج کیا کہ ان کیخلاف ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو ان کی وفات کے بعد بھی ان کی لاش کو قبر سے نکال کر بجلی کے کھمبے سے لٹکا دیا جائے جبکہ میاں نواز شریف کے پاس کرپشن کے الزامات کا کوئی ٹھوس دفاع نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف پر ’’بھارت نواز‘‘ ہونے کا الزام بھی نہیں لگایا جاتا۔ ان کے پاکستان سے باہربظاہر کوئی اثاثے نہیں ہیں ۔مسلم لیگ(ن) اگر اخلاقی طور پر مفلوج، عدالتی طور پر نااہل اور فرد جرم کے حامل لیڈر کی قیادت میں انتخابی میدان میں اْتری تو اس کیخلاف نفرت کی لہر بھی اْٹھ سکتی ہے جو مسلم لیگ(ن) کے اْمیدواروں کے لیے بڑی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔موجودہ صورتحال میں اگر میاں نواز شریف مسلم لیگ کے مفاد کو نظر انداز کرنے اور قیادت پر براجمان رہنے پر بضد رہے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وفاق میں اگلی حکومت مسلم لیگ ن نہیں بناسکے گی ۔ موجودہ صورت حال میں دانش مندی کاتقاضہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنی انا اور ضد کو ترک کردیں ۔ زمینی حقائق کا درست ادراک کریں ۔ ریاستی اداروں سے تصادم اور محاذ آرائی سے گریز کریں اور اپنی پارٹی کے لیڈروں کو بغاوت پر مجبور نہ کریں ۔ نواز شریف کو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کہ ان کی عملی سیاست کے امکانات اب مخدوش ہوچکے ہیں اور وہ جماعت کے علامتی سربراہ کے طور پر ہی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اب وہ جس جگہ پہنچ چکے ہیں وہ پارٹی کی قیادت اپنی بیٹی کو منتقل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں ۔


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر