وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر بھارتی اخبارات اور کشمیری رہنماؤں کا ردعمل

منگل 01 اگست 2017 نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر بھارتی اخبارات اور کشمیری رہنماؤں کا ردعمل

سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دئے جانے کی خبر کو بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام اور اخبارات نے نمایاں اہمیت دی اور بھارت کے تقریباً تمام بڑے اخباروں نے پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے ناہل قرار دیے جانے اور نواز شریف کے مستعفی ہونے پر اداریے اور تجزیاتی مضامین شائع کیے ہیں۔کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان مسلم لیگ نون کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ ایسی صورت میں جبکہ ایک سال کے بعد وہاں انتخابات ہونے والے ہیں، نواز شریف کی بے دخلی سے یقینی طور پر سیاسی مباحثہ تیز ہو جائے گا۔ اخبار کے مطابق پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اس واقعہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ تاہم اس سے وہاں کی جمہوریت جو پہلے سے ہی نازک ہے، اور کمزور ہو جائے گی۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ عدالتی فیصلے نے نواز شریف کے اختیارات کمزور کر دیے ہیں جس سے فوج کو مدد ملے گی اور طاقت کا توازن فوجی جنرلوں کی طرف جھک جائے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ سیاسی منظرنامہ سے نواز شریف کے ہٹ جانے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل ہوگی اور اس سے یقینی طور پر پاک بھارت رشتوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ تاہم اخبار نے اس خیال پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورت حال کا انتخابی فائدہ عمران خان کی پارٹی کو ہوگا۔
روزنامہ ڈی این اے لکھتا ہے کہ بھارت کے لیے حکمت عملی بہت سادہ سی ہے کہ اس بات کا انتظار کیا جائے کہ نواز شریف کا جانشین کسے بنایا جاتا ہے۔ اخبار کے خیال میں پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل کو ہی دوام حاصل ہے سیاسی استحکام کو نہیں اور پاکستان کے عوام کو اسی صورت حال کے ساتھ جینا ہے۔
روزنامہ انڈیا ایکسپریس لکھتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات پر اصرار کر سکتے ہیں کہ عدلیہ شریف خاندان کی طرف سے اپنے دفاع کو مسترد کرنے میں حق بجانب ہے۔ مگر دوسرے لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نااہل قرار دینا عدالت کا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اخبار کے مطابق ان قیاس آرائیوں کے باوجود کہ اس معاملے میں درپردہ فوج کا ہاتھ ہے، فوج کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آئی۔
ہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمز اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ پاکستان میں جب بھی ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے فوج کے اقتدار پر قابض ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ یہ کہہ کر اس امکان کو مسترد کرتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نواز شریف کے اچھے رشتے ہیں۔ اخبار مشورہ دیتا ہے کہ بھارت کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بقول اس کے سیاسی غیر یقینی کا فائدہ اٹھا کر بھارت مخالف طاقتیں پہلے سے زیادہ سرگرم ہو سکتی ہیں۔روزنامہ دینک ہندوستان پاکستان کی عدلیہ کی ستائش کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ پاکستان میں بھلے ہی جمہوریت کو طویل عمر نہ ملتی ہو اور فوج من مانی کرتی ہو لیکن عدلیہ سرگرم اور آزاد ہے۔ اخبار نے بھارت میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اظہار افسوس کیا جن کے نام پاناما پیپرزمیں آئے تھے۔
کثیر الاشاعت اردو روزنامہ انقلاب کے مطابق اب سرگرم سیاست میں نواز شریف کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ اس نے دیگر شعبوں میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا نے پیش گوئی کی ہے کہ نواز شریف کی جماعت کو اب پہلے جیسی عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور عمران خان زیادہ طاقتور انداز میں ابھر کر سامنے آئیں گے۔
پاکستانی سپریم کورٹ کے پانچ رْکنی بینچ کی طرف سے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو متفقہ طور پر نااہل قرار دیئے جانے اور پھر اْن کے عہدے سے الگ ہوجانے پر نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں مِلا جْلا ردِ عمل ہوا ہے۔عدالتی فیصلے کی خبر ذرائع ابلاغ کے ذریعے شورش زدہ علاقے میں پہنچتے ہی کئی لوگوں نے سوشل میڈیا کا رخ کرکے اپنے خیالات، تاثرات اور آراء کا کھل کر اظہار کرنا شروع کیا۔ بیشتر نے پاکستان کی عدلیہ کی تعریف کی اور کہا کہ یہ آزاد اور بے باک ہے اور عہدوں، طاقت اور رسائی کی پرواہ کئے بغیر ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے دلیرانہ فیصلے سْناتی آئی ہے۔بعض نے ان کا تقابل بھارت کی عدلیہ سے کرنے کو کوشش کی اور شکایتی انداز میں کہا کی بھارت میں عدالتوں نے بارہا حکومتوں کے دباؤ میں آکر مقدمات پر فیصلے سْنائے ہیں۔ کئی ایک نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی بعض اہم شخصیات کے نام بھی پانامہ دستاویزات میں آئے تھے، لیکن حکومت اور عدلیہ نے اسے نظرانداز کر دیا، یہاں تک کہ ان میں سے کم سے کم دو کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔چند ایک کی یہ رائے تھی کہ نواز شریف نے جھوٹ کا سہارا لیا تھا اور ایک ایسے ملک میں جسے، ان کے بقول، اسلام اور مسلمانوں کے نام پر قائم کیا گیا ہو ایسے شخص کو وزیرِ اعظم بنے رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔اگرچہ بھارت نواز کشمیری جماعتوں اور لیڈروں کی طرف سے پاکستان سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اور نواز شریف کی معزولی پر تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا تاہم استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے قائدین کا کہنا ہے کہ اس سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی منفی یا مثبت اثر نہیں پڑے گا۔کشمیر کے سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ: “یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم ہمیشہ چاہتے ہیں پاکستان میں سیاسی استحکام قائم رہے۔ اس فیصلے سے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بدل سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کون نئی حکومت بناتا ہے۔ لیکن، جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے اس پر پاکستان کا ایک اصولی مؤقف ہے اور یہ ملک کی متواتر قومی پالیسی کا حصہ ہے”۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کی بھی کم و بیش یہی رائے تھی۔ کشمیر سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے سربراہ پروفیسر شیخ شوکت حسین نے کہا کہ: “پاکستان کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہاں کے ادارے مضبوط نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے کی وہاں کے قومی ادارے بالخصوص عدلیہ خاصی مضبوط اور مستحکم ہے”۔ انہوں نے مزید کہا: “پاکستان کی کشمیر، چین اور نیو کلیائی امور پرناقابلِ تحریف پالیسیاں رہی
ہیں۔ ان میں حکومتوں کی تبدیلی سے کوئی اثر پڑا ہے اور نہ پڑے گا”۔تاہم، فیس بْک استعمال کرنے والے ایک کشمیری نے لکھا: “نواز شریف کی کابینہ میں ایسے11 وزیر شامل تھے جو کشمیری نژاد ہیں جیسے خود نواز شریف اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار۔ اس لئے عدالتی فیصلہ کشمیریوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں”۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر