... loading ...

بہت کم لوگوں کومعلوم ہوگا کہ سندھ حکومت سے اختیارات کی بھیک مانگنے والے دنیا کے ساتویں سب سے بڑے شہر کراچی کے میئر کے زیر انتظام بلدیہ کراچی ،ڈی ایم سیز اور یونین کونسلوں کو اس شہر کی ایک تہائی زمین پر بھی دسترس حاصل نہیں ۔ اس شہر کی باقی دوتہائی سے زیادہ زمینیں مختلف سرکاری اداروں نے آپس میں تقسیم کررکھی ہیں، جہاں بلدیہ کراچی یا میئر کراچی کا کوئی حکم یا اختیار نہیں چلتا،بلکہ ان علاقوں میں متعلقہ محکموں کے قوانین ہی نافذ ہیں اور ان ہی پر عملدرآمد کرنا ضروری ہوتاہے۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ اس شہر کی دوتہائی زمینوں پر مختلف سرکاری ادارے قابض ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کو تیار نہیں اور ان علاقوں میں شہری سہولتوں کے فقدان کا الزام بھی بلدیہ کراچی کے سر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کراچی کے معاملات کا گہری نظر سے جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس وقت 15 مختلف وفاقی، صوبائی، خودمختار ادارے کراچی کی زمین کے دعویدار ہیں اور اپنے اس دعوے کی بنیاد پر اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے جسم کو گِدھوں کی طرح نوچنے میں مصروف ہیں اور ٹیکسوں اور دیگر مدات کے نام پر بھاری رقم بٹور رہے ہیں ۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی ادارہ جس میں کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں، اس کے عوض شہریوںکو کسی طرح کی سہولت پہنچانے کو تیار نظر نہیں آتا۔
کراچی کی زمینوں کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان، پاکستان ریلوے، کنٹونمنٹ بورڈز ،پورٹ قاسم اتھارٹی ،کراچی پورٹ ٹرسٹ،پاکستان اسٹیل ملز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز ،پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ،پاکستان کوسٹ گارڈ، وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل ،ایواکیو ٹرسٹ بورڈ اور اسپورٹس بورڈز مجموعی طورپر اس شہر کے کم وبیش ایک تہائی حصے یعنی 32.1 فیصد زمین کے مالک ہیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کے زیر کنٹرول ادارے جن میں سندھ ریونیو بورڈ، سندھ کچی آبادیز اتھارٹی ،گوٹھ آباد اسکیم، کوآپریٹو سوسائٹیز،سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ،ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی ،کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اوقاف اور مذہبی امور کا محکمہ اور سندھ پولیس مجموعی طورپر اس شہر کے36.8 فیصد حصے کے مالک ہیں۔
اس شہر کا بقیہ 30.09 فیصد حصہ بلدیہ عظمیٰ کراچی، 6 ضلعی بلدیاتی کارپوریشنوں ، ضلع کونسل کراچی اور246 یونین کونسلوں کے پاس ہے۔اس طرح کراچی شاید دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جس کی زمین کے اتنی بڑی تعداد میں دعویدار موجود ہیں اور ان کے علاقوں میں بلدیاتی قوانین کااطلاق نہیں ہوتا، جبکہ دنیا کے دیگر تمام بڑے شہروں جن میں ٹوکیو، یوکوہاما، اوساکا، کوبے ، کویوٹو،ماسکو، بیجنگ، شنگھائی، گینگ ژائو،فوشان، نیویارک ، واشنگٹن ڈی سی ،بینکاک، جکارتہ، منیلا، سائو پالو، میکسیکو سٹی، دہلی ، ممبئی ،کولکتہ ،قاہرہ، بینکاک ،لاس اینجلس اور دوسرے شہر شامل ہیں ،ایک ہی بلدیاتی ادارے کے ماتحت کام کرتے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ ان تمام شہروں میں شہریوں کو بہم پہنچائی جانے والی سہولتوں میں یکسانیت موجود ہے اور ان شہروں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے کبھی کوئی اختلاف رونما نہیں ہوتا۔
اس صورت حال میں کراچی کے میئر وسیم اختر کا یہ مؤقف زیادہ غلط نہیں ہے کہ کراچی شہر کی زمینوں کے اتنی بڑی تعداد میں دعویداروں کی موجودگی کے سبب انتظامی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے ،اس کے علاوہ مختلف محکموں میں موجود بد انتظامی، زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے تنازعات ،شہر میں موجود بڑی تعداد میں پسماندہ بستیاں ،ٹریفک کا غیر معمولی دبائو اور ناقص انفرااسٹرکچر اس شہر کی منصوبہ بندی اور سسٹم کی ناکامی کا سبب بنتاہے۔
شہر کی زمین کی ملکیت کے بڑی تعداد میں دعویداروں کی وجہ سے اب بلدیہ عظمیٰ کراچی، ضلعی کونسلیں، کے ڈی اے ، شہر میں موجود 6 کنٹونمنٹ بورڈز، پورٹ قاسم اتھارٹی، پاکستان ریلوے ،پاکستان اسٹیل، سائٹ، شہر میں موجود کمشنری نظام شہریوں کو صحت وصفائی اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے،سڑکوں کی صفائی، پلوں کی تعمیر ،سڑکوں کی تعمیر سڑکوں کی دیکھ بھال ،اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہیں۔ یہ ادارے شہر میں کمرشل بنیادوں پر آویزاں کیے جانے والے اشتہاری بورڈز کی تنصیب ۔رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر کی منظوری ،پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی دیکھ بھال ،تجاوزات کے خاتمے ،آگ بجھانے کے انتظامات،برساتی نالوں کی صفائی، شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کے انتظامات کے نام پر ٹیکس وصول کرتے ہیں اورٹیکسوں کی وصولی کے حوالے سے ان میں سے کوئی بھی محکمہ کسی سے پیچھے نظر نہیں آتا۔
جہاں تک پاکستان کے 1973 ء کے آئین کے تحت بلدیاتی نظام کو دیے گئے اختیارات کاتعلق ہے تو آئین کی دفعہ 140 اے کے تحت یہ قرار دیاگیاہے کہ ہر صوبہ قانون کے مطابق لوکل گورنمنٹ کا ایک سسٹم قائم کرے گا اوراس کے لیے ترقیاتی ،سیاسی ،انتظامی اور مالیاتی نظام وضح کرے گا اس کے ساتھ ہی صوبہ لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندوں کے اختیارات کا بھی تعین کرے گا۔لیکن آئین کی اس دفعہ کے برعکس سندھ کی حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012ء ترمیم شدہ2013ء نافذ کردیا جس کی وجہ سے 1979ء کا لوکل گورنمنٹ کانظام دوبارہ نافذ ہوگیا جو کہ آئین کی متعلقہ دفعات کے برعکس اور متضاد ہے۔کے ڈی اے کی بحالی اور ترمیم کاایکٹ 2016ء ،سندھ بلڈنگ کنٹرول ترمیمی ایکٹ 2013ء ،سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ایکٹ 2014ء ،لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ، 1993ء ، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ1993ء کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ایکٹ1996ء ،سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ2016,ء ، سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکسشن ایکٹ 2014 ء کو بھی میئر کراچی آئین کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔
1973ء کے آئین کی دفعہ 7 کے تحت وفاقی حکومت(پارلیمنٹ), صوبائی حکومت(اسمبلی) اور پاکستان کے دیگر لوکل اور دیگر اداروں کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاذ کے اختیارات کی وضاحت موجود ہے۔1973ء کے آئین کے تحت مملکت کو لوکل گورنمنٹ کے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کی مدد کرنے کاپابند بنایاگیاہے اور واضح طورپر یہ کہاگیاہے کہ ریاست کو سرکاری اداروں کی مرکزیت کو اس طرح ختم کرنا چاہیے کہ عوام کی ضروریات تیزی سے پوری کی جاسکیں اور ان کے کام آسانی سے انجام دیے جاسکیں۔
8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...
اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...
دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...
محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...
داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...
ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...
کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...
خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...
جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...
عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...
قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...
9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...