... loading ...
امریکا میں نسل پرستی کی بنیاد پر نفرتوں کاپرچار کرنے والے گروپ یوں تو ہمیشہ ہی سے سرگرم رہے ہیں ، یہ کبھی’’ اسکن ہیڈ ‘‘کے نام سے سامنے آتے ہیں اور کبھی ’’لیو امریکا‘‘ کے نام پر مہم چلاتے نظر آتے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ان نسل پرست نفرت کے پرچارک گروپوں کی سرگرمیوں اورتعداد دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،سدرن پاورٹی لا سینٹر کی رپورٹ کے مطابق نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران جس طرح تارکین اور خاص طورپر اسلام کو ہدف تنقید بنایا اور اپنی تقریروں میں امریکا میں بیروزگاری اور شدت پسندی کا سارا ملبہ، ساری ذمہ داری ان پر ڈالنے کی کوشش کی، اس سے نسل پرست گروپوں اور انتہائی دائیں بازو کے نفرت کے پرچارکوں کو شہ ملی اور ان کی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ۔
رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یوں تو امریکا میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا گروپ ہمیشہ ہی سے تارکین وطن اوریہاں تک کہ ملک کی سیاہ فام آبادی کے خلاف رہاہے اور موقع ملتے ہی ان کے خلاف کوئی نہ کوئی تخریبی کارروائی کر گزرتاہے ، جس میں مساجد کے سامنے یا مساجد کے دروازے پر خنزیر کا سر رکھ دینا، مساجد کو آگ لگانے کی کوشش ، مساجد پر اشتعال انگیز نعرے لکھنا جیسے قبیح عمل شامل ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اب وہ حکومت کو اپنی ان حرکتوں کاسرپرست تصور کرنے لگے ہیں۔
سینٹرکی سالانہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں برسر عمل مسلم دشمن یا مسلم مخالف گروپوں کی تعداد 2015ء میں 34 تھی لیکن 2016ء میں ان گروپوں کی تعداد بڑھ کر 101 ہوگئی،یعنی ان کی تعداد میں کم وبیش 3 گنا اضافہ ہوگیا ۔ان گروپوں کی تعداد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے کی تجویز تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015ء میں شام کے پناہ گزینوں کے بحران اوراس کے بعدسان برنارڈینو اوراورلانڈو میں دہشت گردوں کے حملے کے واقعے کے بعد شامی پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کامطالبہ کیاتھا اور کہا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پرپابندی عائد کردیں گے بلکہ امریکا میں موجود مسلمانوں کو اپنے آبائی وطن واپس بھجوا دیں گے۔ایک اور رپورٹ کے مطابق2016ء میں امریکا میں برسرعمل مسلم مخالف 101 گروپوں کے علاوہ پورے امریکا میں مجموعی طورپر 917 نسل پرست گروپ کام کررہے تھے جبکہ 2015ء میں ان کی مجموعی تعداد 892 اور 2014ء میں 784 تھی۔
رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ امریکا میں حکومت مخالف منظم گروپوں، جن میں مسلح انتہا پسند گروپ بھی شامل ہیں، کی تعداد میںکم وبیش 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے، ان کی تعداد2015 ء میں 998 تھی جو 2016ء میں کم ہوکر 628 رہ گئی تھی۔اس کمی کی وجوہات میں حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلیاں اور تارکین اور مسلمانوں کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کاپرچار شامل ہے۔سینٹر کے ایک بنیادی رکن مارک پوٹوک کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب نے امریکا میں انتہا پسند دائیں بازو کے خیالات رکھنے والوں میں بجلی دوڑادی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کئی معاملات میں انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کے ہم خیال اور ہم نوا ہیں۔جس کی وجہ سے حکومت مخالف گروپوںکی سرگرمیوں میں کمی اور نسل پرستانہ اور نفرت پر مبنی گروپوں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔پوٹوک کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں نفرت کے پرچارکوں اور انتہا پسند بائیں بازو کے گروپوں کو جس طرح بڑھاوا دیاہے امریکا کی تاریخ میں اس کی کوئی نذیر نہیں ملتی۔
پوٹوک کاکہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ہی تفرقہ ڈالنے والی باتوں سے کیاتھا۔ مثال کے طورپرجون2015 ء میںانہوں نے اپنی تقریر میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والے تارکین کو جرائم پیشہ اورزنا کار قرار دیاتھا۔اس کے بعد دسمبر میں اپنی تقریر میں انہوںنے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے لیے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے کی تجویز دی اور اس پر اصرار کیا۔جبکہ اس سے قبل جارج بش اور بارک اوباما یہ واضح اعلان کرچکے تھے کہ مٹھی بھر جہادی گروپ کے ارکان تمام مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تقریروں اورٹوئٹر پیغامات میں مسلسل مختلف گروپوں کو نشانہ بناتے رہے اور اس طرح ان کا ہدف بننے والے گروپوں کی تعداد سیکڑوں سے بھی تجاوز کرگئی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف گروپوں کے خلاف اپنے خیالات اور جذبات کااظہار صرف اپنی تقریروں اور ٹوئٹس تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ ایسی امیجز ، خاکے اور دیگر اشیا بھی ٹوئٹر پر ڈالیں جن سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ یہودیوںکے خلاف بھی جذبات مشتعل ہوئے،اور سفید فاموں کی برتری کے خیالات اورجذبات میں اضافہ ہوا۔
اس حوالے سے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ ملک میں مختلف گروپوں اور کمیونیٹیز کے درمیان نفرتیں بونے میں مصروف ہیں بلکہ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کی بیٹی ایوانکا اور ان کاداماد جرید کشنیٹ قدامت پسند یہودی ہیں۔
ایف بی آئی کی 2015ء کی رپورٹ کے مطابق مسلم مخالف گروپوں کی تعداد میں 67 فیصد اضافہ ہوا جس کے ساتھ ہی مسلم مخالف جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیاجارہاہے،ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 267 مسلم مخالف جرائم ریکارڈ کئے گئے،جو کہ 2001ء کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھے۔ٹرمپ کے انتخاب کے بعد پہلے 10 دن کے دوران مسلم مخالف 867 جرائم ریکارڈ کئے گئے جن میں 300 سے زیادہ میں براہ راست مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیاتھا۔
ایف بی آئی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ نفرت انگیز جرائم کی تعداد میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہواہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ نسلی اورمذہبی اقلیتوں کے خلاف 2015 ء کے دوران مجموعی طورپر 5 ہزار818 جرائم ریکارڈ کئے گئے جس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب سے امریکا میں نسل پرستی کو بڑھاوا ملا ہے۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...