وجود

... loading ...

وجود

شامی صدر نے امریکیوں کوحملہ آورقراردے دیا

بدھ 15 مارچ 2017 شامی صدر نے امریکیوں کوحملہ آورقراردے دیا

شام کے صدر بشارالاسد نے کہاہے کہ شام کی حکومت کی اجازت کے بغیر شام میں داخل ہونے والی تمام فوجیں جارح اور حملہ آور ہیں ،جن میں امریکی فوج بھی شامل ہے جو شام میں مسلسل حملہ آور افواج کا کردار ادا کررہی ہے۔
چینی میڈیا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے شام کے صدر بشارالاسد نے کہا کہ امریکی فوجوں کو جو اس وقت شام کے علاقے مان بیج کے علاقے میں موجود ہیں ،شام میں داخل ہونے کی کسی نے اجازت نہیں دی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہماری مرضی اور اجازت کے بغیر شام میں داخل ہونے والی تمام افواج جن میں امریکا کے علاوہ ترک فوجی بھی شامل ہیں، ہمارے نزدیک حملہ آور اور جارح فوجی ہیں اور ہم اسی حیثیت میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کاحق رکھتے ہیں۔
ایک چینی صحافی کے سوال پر کہ کیا آپ نے شام کے صوبے حلب کے شہر مانب جی میں امریکی فوجوں کو داخلے کی اجازت دی تھی ، بشارالاسد نے کہا کہ قطعی نہیں۔ہم نے ان کو کوئی اجازت نہیں دی اور نہ ہی امریکی حکومت نے اس حوالے سے ہم سے کوئی مشورہ کیا۔
بشارالاسد نے کہا کہ یہ غیر ملکی فوجیں یہاں کیوں آئی ہیں؟ کیا یہ داعش سے لڑنے آئی ہیں ؟ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امریکی فوج کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکی ہے اس نے کہیں بھی فتح حاصل نہیں کی ہے۔ہر جنگ میں انھوںنے ہزیمت اٹھائی ہے، عراق میں انھیں شکست ہوئی اور آخر کار انھیں وہاں سے فوج واپس بلانا پڑی ،صومالیہ میں بھی ان کی فوجوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور جان بچاکر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا، افغانستان کی مثال آپ کے سامنے ہے، ماضی میں جائیں تو ویت نام ان کی شکست کا منہ بولتا ثبوت موجود ہے۔بشارالاسد نے کہا کہ امریکی حکومت نے دنیا میں جہاں بھی اپنی فوج بھیجی وہاں اسے ناکامی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا، ہاں امریکی مداخلت اور جارحیت سے متعلقہ ممالک میں حالات مزید بگڑے ہیں ، امریکا صرف گڑبڑ ہی پیدا کرسکتاہے۔امریکی مسائل پیدا کرنے میں یکتا ہیں، مسائل پیدا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، یہ تباہی پھیلا سکتے ہیں لیکن کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کرسکتے کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔
امریکی وزارت دفاع پنٹاگن نے مارچ کے اوائل میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی فوج کو شام کے صوبے حلب کے شہر مانب جی میں امریکی حمایت یافتہ کردوں اور ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان لڑائی کو روکنے کیلئے بھیجاگیاہے۔بشارالاسد نے کہا کہ اگر شام میں غیر ملکی مداخلت نہ ہوتی تو شام میں جاری خانہ جنگی کی صورت حال پر چند ماہ میں قابو پایاجاسکتاتھا۔اس جنگ کو غیر ملکی مداخلت نے پیچیدہ بنادیا۔
شام کے صدر بشارالاسد نے دعویٰ کیا کہ شام کی فوجیں اب داعش کے مضبوط گڑھ مانب جی سے 100 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر رقہ کے قریب پہنچ چکی ہیں اور جلد ہی اس شہر سے بھی داعش کا صفایا کردیاجائے گا۔انھوںنے کہا کہ اس مہینے کے اوائل میں سب سے پہلے مانب جی میں امریکی فوجیوں کی آمد کی نشاندہی ہوئی تھی، اس وقت یہ دعویٰ کیاجارہاتھا کہ امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز کے درمیان مانب جی اور الباب کے درمیان واقع کم وبیش 20 دیہات امریکی فوجیوں کے حوالے کرنے کا معاہدہ ہوگیا ہے ان دیہات پر اب شام کی حکومت ترک افواج کی مدد سے قبضہ کرچکی ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن کے ایک ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس نے صحافیوں کو بتایا کہ شام کی افواج کو معلوم ہے کہ ہم کہاں ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ شامی افواج کہاں ہیں اس لئے دونوں کے درمیان کسی طرح کی لڑائی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ دونوں ہی کا مقصد داعش کے خلاف لڑنا ہے۔گزشتہ دنوں امریکا کی زیر قیادت اتحادی افواج نے تصدیق کی تھی کہ امریکی میرینز اور فوج کے 400 فوجی شام پہنچے ہیں جہاں وہ رقہ پر قبضے کیلئے داعش کے ساتھ جنگ میں مدد دیں گے جبکہ 500 امریکی فوجی پہلے ہی سے شام میں موجود ہیں ،شام میں امریکا کی اتحادی افواج کے ترجمان امریکی فضائیہ کے کرنل جون ڈوریان نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے امریکی فوجیوں کی شام آمد کامقصد رقہ میں دہشت گردوں کو جلد شکست سے دوچار کرنا ہے۔
وہائٹ ہائوس کے بل کلنٹن دور کے پریس سیکریٹری ڈی ڈی مائیرز کا کہناہے کہ ہم نے اس سے قبل اتنی طویل خانہ جنگی نہیں دیکھی،اے بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکا شام کی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام میں اپنے مستقل قدم جمانا چاہتاہے ۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ امریکا کو اپنے اس طرح کے ارادے کوعملی شکل دینے میں بڑی مشکلات کاسامنا کرنا پڑسکتاہے، اور زبردستی اس طرح کی کوشش کے نتیجے میں امریکا کو خود ان حلقوں سے بھی لڑائی مول لینا پڑسکتی ہے جن کی حمایت اور مدد کے نام پر اس نے شام میں اپنی فوجیں داخل کی ہیں اور اگر ایسا ہوا تو امریکی فوجوں کو شام میں بیک وقت دومحاذوں پر لڑنا بہت مشکل ہوگا اور اس لڑائی میں اسے افغانستان سے زیادہ جانی اور مالی نقصان کاسامنا کرنا پڑسکتاہے۔یہی نہیں بلکہ اتنا بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود امریکی افواج کو شام کے مقامی باشندوں اور آبادیوں کی حمایت حاصل نہیں ہوسکے گی اور انھیں مسلسل اپنے مخالفین بلکہ جان کے دشمنوں کے درمیان دن گزارنا ہوں گے جو کہ کسی بھی ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوج کیلئے زیادہ عرصے تک ممکن نہیں ہوسکتا۔
کیرول عدل


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر