وجود

... loading ...

وجود

حمص میں شامی انٹیلی جنس سربراہ ہلاک، امریکی جنرل کاخفیہ دورہ

اتوار 26 فروری 2017 حمص میں شامی انٹیلی جنس سربراہ ہلاک، امریکی جنرل کاخفیہ دورہ

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ نے بتایا ہے کہ شام کے مغربی شہرحمص شہر میں سکیورٹی اداروں کے صدر دفاتر پر دو خودکش حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ ہلاک شدگان میں حمص میں شامی فوجی انٹیلی جنس کی شاخ کا سربراہ اور بشارالاسد کا قریبی ساتھی جنرل حسن دعبول بھی شامل ہے۔ پہلی کارروائی میں شامی حکومت کے زیر کنٹرول تیسرے شہر حْمص میں ریاستی سکیورٹی کے صدر دفتر اور دوسری میں فوجی انٹیلی جنس کے صدر دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔
گزشتہ روز ترک افواج نے آپریشن فرات ڈھال میں الباب کو داعش سے خالی کراکر اس پر فتح پالیا ہے تاہم ترک تجزیہ کاروں کو اس کامیابی پر عالمی میڈیا کی بے رخی کا شکوہ ہے جس نے داعش پر ترک فوج کی فتح کو بالکل اہمیت نہیں دی۔
ادھر امریکا کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے شام کے شمالی علاقے کا خفیہ دورہ کیا ہے اور کرد باغی لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان باغی لیڈروں کا تعلق شام میں سرگرم باغی گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔
رپورٹس کے مطابق حْمص شہر میں ان دنوں شامی حکومت اور بشار نواز مسلح عناصر کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ سکیورٹی اداروں کے مراکز پر ہونے والے ان حملوں کو روکا جا سکے۔دوسری جانب شامی اپوزیشن گروپوں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب حمص کے نواح میں بشار حکومت کے زیر کنٹرول گاؤں جبورین کے علاقوں پر راکٹ گرینیڈز داغے۔ ادھر شامی لڑاکا طیاروں نے گزشتہ رات حمص کے شمالی نواح میں غرناطہ گاؤں کے کئی علاقوں پر بم باری کی۔
قبل ازیں حمص میں سکیورٹی اڈوں پر مسلح حملہ آوروں اور خودکش بمباروں کے حملے میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ۔ریاستی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس کا مقامی کمانڈر بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔جہادی تنظیم تحریر الشام نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔مزاحمت کاروں نے ایک امن معاہدے کے تحت دسمبر 2015 میں حمص کو خالی کر دیا تھا جس کے بعد سے یہ شہر حکومت کے کنٹرول میں ہے۔شام میں جاری جنگ کی مانیٹرنگ کرنے والی تنظیم سیریئن آبرزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے شہر میں ملٹری سکیورٹی کے صدر دفتر اور ریاستی سکیورٹی کے ایک دفتر کو نشانہ بنایا۔یہ حملے غوثہ اور مہتھا کے علاقوں میں کیے گئے ہیں جہاں عموماً سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات ہوتے ہیں۔ریاستی ٹی وی کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھی مانے جانے والے آرمی انٹیلیجنس کے صوبائی چیف جنرل حسن دابل بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔تحریر الشام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ان کے پانچ سرفروش شامل تھے۔
تحریر الشام اس وقت وجود میں آئی تھی جب جبہۃ الفتح الشام نے (جسے النصرا فرنٹ بھی کہا جاتا ہے) گذشتہ جولائی میں القاعدہ سے باضابطہ تعلقات ختم کر دیے تھے اور شام میں چار دیگر چھوٹی تنظیموں سے اتحاد کر لیا تھا۔
اسی ماہ تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ ماضی میں طاقتور اسلام پسند باغی گروہ احرار الشام کے سابق سربراہ ہاشم الشیخ اب ان کی قیادت کریں گے۔
ادھر ایک روز قبل بھی شام میں مزاحمت کاروں کے زیرِ قبضہ قصبے الباب میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کی وجہ سے مزاحمت کاروں کی ایک سکیورٹی پوسٹ تباہ ہو گئی۔
یہ گاؤں شمال مغربی قصبے الباب سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جہاں سے ترک حمایت یافتہ مزاحمت کاروں نے جمعرات کو دولتِ اسلامیہ کو پیچھے دکھیلا تھاشامی حزب اختلاف کی خبر ایجنسی کا کہنا تھا شہری یہاں الباب واپسی کی اجازت طلب کرنے کے لیے کھڑے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔
یہ قصبہ 2012 میں شامی مزاحمت کاروں کے کنٹرول میں آیا جس کے بعد 2014 کے اوائل میں یہ داعش کے قبضے میں چلا گیا تھا اور یہ کئی غیر ملکی جہادیوں اور ان کے خاندانوں کا گڑھ بن گیاتھا۔بعد ازاں گزشتہ روز ترک افواج نے آپریشن فرات ڈھال میں الباب کو داعش سے خالی کراکر اس پر فتح پالیا ہے ۔ترک میڈیا کے مطابق شمالی شام کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنے کے زیر مقصد 24اگست کو ترکی کی قیادت میں شروع ہونے والے فرات ڈھال آپریشن کے دائرہ کار میں الباب پر مکمل طور پر کنٹرول قائم کر لیا گیا ہے تاہم ترک تجزیہ کاروں کو اس کامیابی پر عالمی میڈیا کی بے رخی کا شکوہ ہے جس نے داعش پر ترک فوج کی فتح کو بالکل اہمیت نہیں دی۔ترک حکام کے مطابق دہشت گرد تنظیم کے قبضے میں ہونے والے ایک شہر کو نجات دلائے جانے کو اہمیت نہ دینے والے بی بی سی نے الباب کے نواحی علاقے سْسیان گاؤں کی خبر کو نمایاں بنانے کو ترجیح دی ہے۔ترک تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک دور میں دہشت گرد تنظیم داعش کو ترکی سے جوڑنے کے لیے جھوٹے الزامات عائد کرنے کی دوڑ میں شامل ہونے والے عالمی ذرائع ابلاغ کے نامور ادارے اب ترک مسلح افواج کی الباب کو داعش سے پاک کرنے اور اس کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نظر انداز کرنے میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے تازہ صورتحال کو محض ایک سطر ی خبر کے ساتھ ہی رائے عامہ تک پہنچانے پر اکتفا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت عیاں ہے کہ یہ میڈیا ادارے ترکی کی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں کامیابیوں سے عالمی رائے عامہ کو آگاہی کرانے سے عاری ہیں۔
امریکی سی این این چینل نے بھی بی بی سی کی طرح سسیان گاوں میں حملے کی خبر کو وسیع جگہ دی ہے۔اسی طرح امریکی نیو یارک ٹائمز اور واشنگٹن ٹائمز نے بھی بڑے دھیمے لہجے میں الباب کی خبر کو شائع کیا ہے۔واضح رہے کہ ترک مسلح افواج کی زیر حمایت آزاد شامی فوج نے شام کے شمال میں واقع قصبے الباب کے مرکز کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔آزاد شامی فوج نے الباب کے مرکز کو مکمل طور پر داعش کے قبضے سے واگزار کروانے کے بعد داعش کی طرف سے علاقے میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی کاروائیاں شروع کر دی ہیں۔آزاد شامی فوج کے کمانڈر احمد ال شہابی نے کہا ہے کہ الباب کنٹرول میں آ گیا ہے اور بارودی سرنگوں کی موجودگی کی وجہ سے ہم محتاط طریقے سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کے لیے الباب کا محاصرہ کرتے ہوئے محتاط طریقے سے دہشت گردوںکو پسپا کیا گیا۔
ادھر امریکا کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ نے شام کے شمالی علاقے کا خفیہ دورہ کیا ہے اور کرد باغی لیڈروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان باغی لیڈروں کا تعلق شام میں سرگرم باغی گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے انتہائی خفیہ انداز میں شمالی شام کا ایک اور دورہ کیا ہے۔ جمعہ 24فروری کو جنرل ووٹل نے شمالی شام کے کرد علاقے میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے مرکزی نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دورے کی تصدیق سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے کر دی ہے۔
شمالی شام کے اِس باغی گروپ کے ترجمان طلال سیلو نے بتایا کہ امریکی جنرل کے ساتھ شام کی مجموعی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی ایف کی عسکری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیلو نے بتایا کہ امریکی جنرل نے مستقبل میں بھاری ہتھیار فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ جنرل ووٹل ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے اعلیٰ فوجی افسر ہیں جنہوں نے شمالی شام کا دورہ کرتے ہوئے مقامی باغی رہنماؤں سے ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا ہے۔طلال سیلو نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جنرل نے وعدہ کیا ہے کہ حلب کے ایک شہر مَنبِج کو ترک فوجی حملے سے بچایا جائے گا۔ امریکی فوج کے ہیڈکوارٹرز پینٹاگون نے جنرل ووٹل کے دورے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
جنرل ووٹل گزشتہ برس مئی میں بھی شمالی شام کا ایک دورہ کر چکے ہیں۔سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ یہ تنظیم 2015 میں قائم کی گئی تھی۔


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر