وجود

... loading ...

وجود

خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

جمعه 03 فروری 2017 خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

کراچی کے علاقے لیاری پھول پتی لین میں رینجرزنے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں گینگ وار کمانڈر بابا لاڈلا سمیت3 ملزمان ہلاک کردیے۔ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ 3ملزمان تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تھے، ملزمان کے قبضے سے آٹومیٹیک اسلحہ اوردستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ترجمان رینجرز کے مطابق علاقے میں ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پرسرچ آپریشن کیا گیا تھا، کارروائی کے دوران عمارتوں کی چھتوں سے رینجرزپرفائرنگ کی گئی ، کارروائی کے دوران نور محمد عرف بابا لاڈلامارا گیا جبکہ بابا لاڈلاکے2قریبی ساتھی بھی مقابلے میں مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بابا لاڈلالیاری آپریشن کے آغاز سے غائب تھا، بابالاڈلا لیاری گینگ وار کا مطلوب ترین کردار تھا اور خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
بابا لاڈلا کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگیا ہے۔ایم ایل او سول اسپتال کے مطابق ملزم بابا لاڈلا کو 6گولیاں لگیں،گولیاں گردن ، سینے ، پیٹ اور ٹانگوں پر لگیں۔ ٹانگوں پر گولیاں دائیں جانب سے جبکہ گردن، سینے اور پیٹ پر بائیں جانب سے لگیں۔ ہلاکت کے بعدمقتول دہشت گردوں کی رشتے دار خواتین سول اسپتال پہنچ گئیں۔لیاری گینگ وار کا اہم کمانڈر بابا لاڈلا قتل کی متعدد وارداتوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
10اکتوبر 1977کو لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں پیدا ہونے والے نور محمد کے بارے میں کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا گینگسٹر بنے گا جس سے لیاری پناہ مانگے گا۔1980کی دہائی کے آخر میں بدنام ڈاکو اور منشیات فروش حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کے ساتھ ساتھ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ کو بھی جرائم کی تربیت دی۔ابتدا میں تینوں ایک ساتھ کام کرتے رہے لیکن1997 میں ہی اغوا کی ایک واردات کے دوران حاجی لالو اور رحمان میں اختلافات ہوگئے جس کے بعد حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کی سربراہی میں اپنا الگ گروہ بنا لیا۔عبدالرحمان اپنے گروہ کو لے کر الگ کام کرنے لگا،بابالاڈلہ رحمان ڈکیت کا سب سے اہم رکن تھا ۔بابا لاڈلہ9اگست2009کو رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد لیاری کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ عزیر بلوچ کے ساتھی بابا لاڈلا کا اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتا خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں کوئی ثانی نہیں تھا ۔اس دوران ارشد پپو کو بھی بھائی اور ساتھی سمیت سفاک انداز میں قتل کردیا گیا۔2013 رمضان المبارک کے آخری ایام میں چاکیواڑہ میں فٹ بال میچ کے دوران دھماکے کے بعد عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ میں اختلافات ہوگئے اور پھر بابا لاڈلہ نے غفا رزکری اور ارشد پپو کے بچ جانے والے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنا گروہ علیحدہ منظم کر لیا۔کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے بعد بابا لاڈلا کے کراچی سے فرار ہوجانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیںجبکہ 2014 میں پاک ایران سرحدکے قریب مبینہ مقابلے میں بابا لاڈلا کے مارے جانے کی خبر بھی آئی تھی۔
4روزقبل پکڑے جانے کی متضاد اطلاع
سندھ رینجرز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مصدقہ اطلاعات پر لیاری گینگ وار کمانڈر کی موجودگی پر کارروائی کی گئی ۔دہشت گردوں نے رینجرز کو دیکھتے ہی شدید مزاحمت کی جو35منٹ تک جاری رہی ۔ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب اور بدنام زمانہ دہشت گرد نور محمد عرف بابا لاڈلا مارا گیا۔ کارروائی میں بابا لاڈلا کے دو ساتھی سکندر عرف سکو اور یاسین عرف ماما بھی مارے گئے ۔یہ دہشت گرد متعدد وارداتوں اور سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ تمام وارداتوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔سندھ رینجرز کے مطابق بابا لاڈلا نے لیاری میں متعدد ٹارچر سیل بنا رکھے تھے ، ملزم 74 سے زائد وارداتوں میں پولیس کومطلوب تھااور سندھ حکومت نے25لاکھ روپے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔بابالاڈلہ نے یکم ستمبر 2010میں ملا لطیف نامی شخص کا تشدد کے ذریعے قتل کیا تھا، اپریل2012میں پولیس پارٹی پر حملہ کیا، حملے میں ہیڈ کانسٹیبل فیاض اور پولیس کانسٹیبل طفیل جاں بحق ہوئے، ڈالیما کے رہائشی حاجی اسلم اور اس کے بیٹوں کو قتل کیا، بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ کے ساتھ مل کرارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کا قتل کیا۔باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ بابا لاڈلہ اور اس کے دو ساتھیوں کو چار روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ارشد پپو گروپ اور رحمن ڈکیت میں اختلافات لیاری گینگ وار کی وجہ بنے
لیاری گینگ وارکے اہم کردار ارشد پپوکو مخالفین نے لیاری غریب شاہ روڈ پر قتل کرکے اس کی لاش کوجلا دیا جبکہ مخالفین کی فائرنگ سے اس کابھائی بھی ماراگیا، ارشدپپوکیخلاف مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دوسرے سنگین جرائم کے الزام میں سیکڑوں مقدمات درج تھے۔لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغازسال2002میں اس وقت ہوا جب رحمان ڈکیت، اور ارشد پپو کے باپ حاجی لالو کے درمیان اختلافات شروع ہوئے جس کے بعد رحمان گروپ اور ارشد پپو گروپ نے ایک دوسرے کے کارندوں کو چن چن کرقتل کرنا شروع کردیا، جنوری 2003میں گینگ وار اس وقت شدت اختیار کرگئی جب ارشد پپو گروپ نے معروف ٹرانسپورٹر ماما فیضو کو اغوا کے بعد قتل کردیا ، اس واقعے کے بعد سے دونوں گروپوں نے لیاری اور اس سے جڑے علاقوں میں اپنی اپنی حدود متعین کرلیں، یوں بیشتر علاقے عام شہریوں اور مخالفین کے لیے نو گو ایریاز بنتے گئے ۔ارشد پپونے اپنے والد یعنی حاجی لالو جیسے شاطر شخص کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے جرائم کی دنیا میں کئی بااثر اور اہم افراد سے تعلقات مضبوط کیے، ارشدپپو کے قریبی ساتھیوں میں سے غفار زکری زندہ ہے جبکہ دوسرے جرائم پیشہ افراد کو مخالف گروپ نے ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کے بعد سے ارشد پپو گروپ کیلئے مشکل وقت شروع ہوگیا تھا۔
ظفر بلوچ کے قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ
کالعدم لیاری امن کمیٹی اورپیپلز پارٹی کے رہنما ظفر بلوچ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ظفر بلوچ جب سول اسپتال سے واپس گھر جا رہے تھے تو بزنجو چوک پر 4موٹر سائیکلوں پر سوار 8نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، ظفر بلوچ کو سینے میں گولیاں لگیں اور انہیں زخمی حالت میں نجی اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ظفر بلوچ پر حملے کے نتیجے میں ان کے ہمراہ موجود ان کا گارڈ علی محمد جاں بحق جب کہ دوسرا شخص زخمی ہو گیاتھا۔ ذرائع کے مطابق ظفربلوچ پر 4موٹرسائیکلوں پر سوار 8افراد نے اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایاتھا اور شبہ یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ تھا جس کی تصدیق بعد میں گرفتار ہونے والے بابا لاڈلہ کے قریبی ساتھیوں نے کردی تھی۔
لالہ اورنگی بھی گرفتاری دینے کے باوجود
مبینہ مقابلے میں مارا گیا
قبل ازیں ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار بابا لاڈلہ کے منحرف کمانڈر لالہ اورنگی نے بھی رینجرز حکام کو اورنگی ٹاؤن سے گرفتاری دے دی تھی تاہم مارا گیا، فیض محمد بلوچ عرف لالہ اورنگی نے مومن آباد تھانے کی حدود فقیر کالونی پریشان چوک سے گرفتاری دی تھی۔ملزم نے گرفتاری دینے سے قبل رینجرز کے اہم افسران سے رابطہ کر کے اپنی جان کی ضمانت چاہی تھی اور یقین دہانی کے بعد اس نے گرفتاری دیدی تاہم رینجرز ترجمان نے لالہ اورنگی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ لالہ اورنگی، بابا لاڈلا گروپ کا اہم کمانڈر تھا اور لیاری پھول پتی لائن میں بابا لاڈلا کے بھائی زاہد لاڈلا کے ساتھ رہائش اختیار کی ہوئی تھی، لالہ اورنگی نے 2شادیاں کیں تھیں اوراس کے4 بچے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ لالہ اورنگی نے مبینہ طور پر لیاری کی کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کی شکایت بابا لاڈلا سے کی گئی تھی، بابا لاڈلا نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے واقعے کی تصدیق کے بعد لالہ اورنگی کی موت کے احکامات جاری کیے تھے تاہم موت کا پروانہ جاری ہونے کا قبل ازوقت علم ہونے پر وہ گروپ سے منحرف ہوکر عزیر گروپ کے کمانڈر سرور بلوچ کی پناہ میں چلا گیا تھا تاہم دوسرے ہی روز سرور بلوچ بھی رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔سرور کی ہلاکت کا شبہ اس کے گروپ کے لوگوں نے لالہ اورنگی پر کیا، ان کو شبہ تھا کہ لالہ اورنگی نے رینجرز کو سرور کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، سرور کی ہلاکت کے بعد لالہ اورنگی اپنے پرانے گھر اورنگی ٹائون فقیر کالونی میں چلا گیا اور اپنے طور پر رینجرز حکام سے اپنی گرفتاری کے لیے رابطے شروع کر دیے تھے۔بعد ازاں وہ بھی مبینہ مقابلے میں مارا گیاتھا۔
غفار ذکری کاجرگے میں عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کوقتل کرنے کا ناکام منصوبہ
چند سال قبل غفار ذکری گروپ نے عذیربلوچ اوربابا لاڈلہ کوقتل کرنے کے منصوبے کے تحت امن جرگہ بلوایا تھا، بابالاڈلہ اورعذیربلوچ کے کارندوں نے سیزفائرکے اعلان کومسترد کرتے ہوئے آخری دم تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیاتھا، لیاری میں جاری قبضے کی جنگ کااختتام دونوں گروپوں میں سے کسی ایک گروہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعدہوناتھا۔ ایک روز اچانک لیاری میں عذیربلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ گروپ کے درمیان مذاکرات کیلیے امن پارک میں جرگہ بلایاگیا اور یہ خبر بھی پھیلائی گئی کہ مذکورہ گروپ میں مذاکرات باہمی تعلقات سے لیاری بزرگ کمیٹی وسینٹرل کمیٹی کے معززافراد کے درمیان طے پائے گی اورکچھ دیر بعد لیاری میں یہ بات گشت کرنے لگی کہ دونوں گروپوں میں صلح ہوگئی ۔مذکورہ جرگہ، کمیٹی کے امیدعلی ساجدی کی سربراہی میں رکھا گیاتھا،امید علی ساجدی لیاری گینگ وار کے اہم ملزم غفار ذکری کاماموں بتایا جاتا ہے، نور محمد عرف بابا لاڈلہ کوکسی نے بتایا کہ تمھیں مارنے کی منصوبہ کی گئی ہے ،جرگے میں شرکت کرنے یاواپسی پر قتل کردیے جاؤ گے۔ذرائع نے بتایاکہ بابالاڈلہ نے علاقے کی مسجدوں سے اعلان کیاہے کہ میری طر ف سے جنگ بندنہیں کی گئی، یہ جنگ جاری رہے گی اور یہ بھی کہا کہ عذیربلوچ لیاری کے معصوم عوام کو بے وقوف بنارہا ہے اور معصوم لوگوں کے خون سے پیسوں کے پہاڑکھڑے کر کے مسقط میں کاروبار کر رہاہے۔جرگے کے حوالے سے شہر کے دیگر علاقوں سے تربیت یافتہ لڑکوں کے گروپس کولیاری طلب کرلیاگیا تھا، دبئی چوک،پھول پتی لائن ، بہار کالونی ، گل محمد لائن اور سلاٹر ہاؤس پر بابا لاڈلانے قبضہ کرلیا تھا۔رینجرز اور پولیس لیاری کے متاثرہ گلیوں میں گھسنے میں ناکام ہو گئے تھے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر