وجود

... loading ...

وجود

خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

جمعه 03 فروری 2017 خوف کی علامت سمجھا جانے والا ایک اور گینگ وار کا سرغنہ بابا لاڈلہ رینجرز کے ہاتھوں ہلاک

کراچی کے علاقے لیاری پھول پتی لین میں رینجرزنے سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں گینگ وار کمانڈر بابا لاڈلا سمیت3 ملزمان ہلاک کردیے۔ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ 3ملزمان تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے تھے، ملزمان کے قبضے سے آٹومیٹیک اسلحہ اوردستی بم برآمد ہوئے ہیں۔ترجمان رینجرز کے مطابق علاقے میں ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پرسرچ آپریشن کیا گیا تھا، کارروائی کے دوران عمارتوں کی چھتوں سے رینجرزپرفائرنگ کی گئی ، کارروائی کے دوران نور محمد عرف بابا لاڈلامارا گیا جبکہ بابا لاڈلاکے2قریبی ساتھی بھی مقابلے میں مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بابا لاڈلالیاری آپریشن کے آغاز سے غائب تھا، بابالاڈلا لیاری گینگ وار کا مطلوب ترین کردار تھا اور خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
بابا لاڈلا کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوگیا ہے۔ایم ایل او سول اسپتال کے مطابق ملزم بابا لاڈلا کو 6گولیاں لگیں،گولیاں گردن ، سینے ، پیٹ اور ٹانگوں پر لگیں۔ ٹانگوں پر گولیاں دائیں جانب سے جبکہ گردن، سینے اور پیٹ پر بائیں جانب سے لگیں۔ ہلاکت کے بعدمقتول دہشت گردوں کی رشتے دار خواتین سول اسپتال پہنچ گئیں۔لیاری گینگ وار کا اہم کمانڈر بابا لاڈلا قتل کی متعدد وارداتوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
10اکتوبر 1977کو لیاری کے علاقے چاکیواڑہ میں پیدا ہونے والے نور محمد کے بارے میں کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا گینگسٹر بنے گا جس سے لیاری پناہ مانگے گا۔1980کی دہائی کے آخر میں بدنام ڈاکو اور منشیات فروش حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کے ساتھ ساتھ عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ کو بھی جرائم کی تربیت دی۔ابتدا میں تینوں ایک ساتھ کام کرتے رہے لیکن1997 میں ہی اغوا کی ایک واردات کے دوران حاجی لالو اور رحمان میں اختلافات ہوگئے جس کے بعد حاجی لالو نے اپنے بیٹے ارشد پپو کی سربراہی میں اپنا الگ گروہ بنا لیا۔عبدالرحمان اپنے گروہ کو لے کر الگ کام کرنے لگا،بابالاڈلہ رحمان ڈکیت کا سب سے اہم رکن تھا ۔بابا لاڈلہ9اگست2009کو رحمان ڈکیت کے مارے جانے کے بعد لیاری کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ عزیر بلوچ کے ساتھی بابا لاڈلا کا اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بھتا خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم میں کوئی ثانی نہیں تھا ۔اس دوران ارشد پپو کو بھی بھائی اور ساتھی سمیت سفاک انداز میں قتل کردیا گیا۔2013 رمضان المبارک کے آخری ایام میں چاکیواڑہ میں فٹ بال میچ کے دوران دھماکے کے بعد عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ میں اختلافات ہوگئے اور پھر بابا لاڈلہ نے غفا رزکری اور ارشد پپو کے بچ جانے والے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنا گروہ علیحدہ منظم کر لیا۔کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے بعد بابا لاڈلا کے کراچی سے فرار ہوجانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیںجبکہ 2014 میں پاک ایران سرحدکے قریب مبینہ مقابلے میں بابا لاڈلا کے مارے جانے کی خبر بھی آئی تھی۔
4روزقبل پکڑے جانے کی متضاد اطلاع
سندھ رینجرز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مصدقہ اطلاعات پر لیاری گینگ وار کمانڈر کی موجودگی پر کارروائی کی گئی ۔دہشت گردوں نے رینجرز کو دیکھتے ہی شدید مزاحمت کی جو35منٹ تک جاری رہی ۔ترجمان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب اور بدنام زمانہ دہشت گرد نور محمد عرف بابا لاڈلا مارا گیا۔ کارروائی میں بابا لاڈلا کے دو ساتھی سکندر عرف سکو اور یاسین عرف ماما بھی مارے گئے ۔یہ دہشت گرد متعدد وارداتوں اور سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ تمام وارداتوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔سندھ رینجرز کے مطابق بابا لاڈلا نے لیاری میں متعدد ٹارچر سیل بنا رکھے تھے ، ملزم 74 سے زائد وارداتوں میں پولیس کومطلوب تھااور سندھ حکومت نے25لاکھ روپے اس کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔بابالاڈلہ نے یکم ستمبر 2010میں ملا لطیف نامی شخص کا تشدد کے ذریعے قتل کیا تھا، اپریل2012میں پولیس پارٹی پر حملہ کیا، حملے میں ہیڈ کانسٹیبل فیاض اور پولیس کانسٹیبل طفیل جاں بحق ہوئے، ڈالیما کے رہائشی حاجی اسلم اور اس کے بیٹوں کو قتل کیا، بابا لاڈلا نے عزیر بلوچ کے ساتھ مل کرارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کا قتل کیا۔باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ بابا لاڈلہ اور اس کے دو ساتھیوں کو چار روز قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ارشد پپو گروپ اور رحمن ڈکیت میں اختلافات لیاری گینگ وار کی وجہ بنے
لیاری گینگ وارکے اہم کردار ارشد پپوکو مخالفین نے لیاری غریب شاہ روڈ پر قتل کرکے اس کی لاش کوجلا دیا جبکہ مخالفین کی فائرنگ سے اس کابھائی بھی ماراگیا، ارشدپپوکیخلاف مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، منشیات فروشی اور دوسرے سنگین جرائم کے الزام میں سیکڑوں مقدمات درج تھے۔لیاری گینگ وار کا باقاعدہ آغازسال2002میں اس وقت ہوا جب رحمان ڈکیت، اور ارشد پپو کے باپ حاجی لالو کے درمیان اختلافات شروع ہوئے جس کے بعد رحمان گروپ اور ارشد پپو گروپ نے ایک دوسرے کے کارندوں کو چن چن کرقتل کرنا شروع کردیا، جنوری 2003میں گینگ وار اس وقت شدت اختیار کرگئی جب ارشد پپو گروپ نے معروف ٹرانسپورٹر ماما فیضو کو اغوا کے بعد قتل کردیا ، اس واقعے کے بعد سے دونوں گروپوں نے لیاری اور اس سے جڑے علاقوں میں اپنی اپنی حدود متعین کرلیں، یوں بیشتر علاقے عام شہریوں اور مخالفین کے لیے نو گو ایریاز بنتے گئے ۔ارشد پپونے اپنے والد یعنی حاجی لالو جیسے شاطر شخص کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے جرائم کی دنیا میں کئی بااثر اور اہم افراد سے تعلقات مضبوط کیے، ارشدپپو کے قریبی ساتھیوں میں سے غفار زکری زندہ ہے جبکہ دوسرے جرائم پیشہ افراد کو مخالف گروپ نے ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جس کے بعد سے ارشد پپو گروپ کیلئے مشکل وقت شروع ہوگیا تھا۔
ظفر بلوچ کے قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ
کالعدم لیاری امن کمیٹی اورپیپلز پارٹی کے رہنما ظفر بلوچ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ظفر بلوچ جب سول اسپتال سے واپس گھر جا رہے تھے تو بزنجو چوک پر 4موٹر سائیکلوں پر سوار 8نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، ظفر بلوچ کو سینے میں گولیاں لگیں اور انہیں زخمی حالت میں نجی اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ظفر بلوچ پر حملے کے نتیجے میں ان کے ہمراہ موجود ان کا گارڈ علی محمد جاں بحق جب کہ دوسرا شخص زخمی ہو گیاتھا۔ ذرائع کے مطابق ظفربلوچ پر 4موٹرسائیکلوں پر سوار 8افراد نے اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایاتھا اور شبہ یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس قتل کے پیچھے بھی بابا لاڈلہ تھا جس کی تصدیق بعد میں گرفتار ہونے والے بابا لاڈلہ کے قریبی ساتھیوں نے کردی تھی۔
لالہ اورنگی بھی گرفتاری دینے کے باوجود
مبینہ مقابلے میں مارا گیا
قبل ازیں ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار بابا لاڈلہ کے منحرف کمانڈر لالہ اورنگی نے بھی رینجرز حکام کو اورنگی ٹاؤن سے گرفتاری دے دی تھی تاہم مارا گیا، فیض محمد بلوچ عرف لالہ اورنگی نے مومن آباد تھانے کی حدود فقیر کالونی پریشان چوک سے گرفتاری دی تھی۔ملزم نے گرفتاری دینے سے قبل رینجرز کے اہم افسران سے رابطہ کر کے اپنی جان کی ضمانت چاہی تھی اور یقین دہانی کے بعد اس نے گرفتاری دیدی تاہم رینجرز ترجمان نے لالہ اورنگی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔واضح رہے کہ لالہ اورنگی، بابا لاڈلا گروپ کا اہم کمانڈر تھا اور لیاری پھول پتی لائن میں بابا لاڈلا کے بھائی زاہد لاڈلا کے ساتھ رہائش اختیار کی ہوئی تھی، لالہ اورنگی نے 2شادیاں کیں تھیں اوراس کے4 بچے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ لالہ اورنگی نے مبینہ طور پر لیاری کی کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس کی شکایت بابا لاڈلا سے کی گئی تھی، بابا لاڈلا نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے واقعے کی تصدیق کے بعد لالہ اورنگی کی موت کے احکامات جاری کیے تھے تاہم موت کا پروانہ جاری ہونے کا قبل ازوقت علم ہونے پر وہ گروپ سے منحرف ہوکر عزیر گروپ کے کمانڈر سرور بلوچ کی پناہ میں چلا گیا تھا تاہم دوسرے ہی روز سرور بلوچ بھی رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔سرور کی ہلاکت کا شبہ اس کے گروپ کے لوگوں نے لالہ اورنگی پر کیا، ان کو شبہ تھا کہ لالہ اورنگی نے رینجرز کو سرور کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، سرور کی ہلاکت کے بعد لالہ اورنگی اپنے پرانے گھر اورنگی ٹائون فقیر کالونی میں چلا گیا اور اپنے طور پر رینجرز حکام سے اپنی گرفتاری کے لیے رابطے شروع کر دیے تھے۔بعد ازاں وہ بھی مبینہ مقابلے میں مارا گیاتھا۔
غفار ذکری کاجرگے میں عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ کوقتل کرنے کا ناکام منصوبہ
چند سال قبل غفار ذکری گروپ نے عذیربلوچ اوربابا لاڈلہ کوقتل کرنے کے منصوبے کے تحت امن جرگہ بلوایا تھا، بابالاڈلہ اورعذیربلوچ کے کارندوں نے سیزفائرکے اعلان کومسترد کرتے ہوئے آخری دم تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیاتھا، لیاری میں جاری قبضے کی جنگ کااختتام دونوں گروپوں میں سے کسی ایک گروہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بعدہوناتھا۔ ایک روز اچانک لیاری میں عذیربلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ گروپ کے درمیان مذاکرات کیلیے امن پارک میں جرگہ بلایاگیا اور یہ خبر بھی پھیلائی گئی کہ مذکورہ گروپ میں مذاکرات باہمی تعلقات سے لیاری بزرگ کمیٹی وسینٹرل کمیٹی کے معززافراد کے درمیان طے پائے گی اورکچھ دیر بعد لیاری میں یہ بات گشت کرنے لگی کہ دونوں گروپوں میں صلح ہوگئی ۔مذکورہ جرگہ، کمیٹی کے امیدعلی ساجدی کی سربراہی میں رکھا گیاتھا،امید علی ساجدی لیاری گینگ وار کے اہم ملزم غفار ذکری کاماموں بتایا جاتا ہے، نور محمد عرف بابا لاڈلہ کوکسی نے بتایا کہ تمھیں مارنے کی منصوبہ کی گئی ہے ،جرگے میں شرکت کرنے یاواپسی پر قتل کردیے جاؤ گے۔ذرائع نے بتایاکہ بابالاڈلہ نے علاقے کی مسجدوں سے اعلان کیاہے کہ میری طر ف سے جنگ بندنہیں کی گئی، یہ جنگ جاری رہے گی اور یہ بھی کہا کہ عذیربلوچ لیاری کے معصوم عوام کو بے وقوف بنارہا ہے اور معصوم لوگوں کے خون سے پیسوں کے پہاڑکھڑے کر کے مسقط میں کاروبار کر رہاہے۔جرگے کے حوالے سے شہر کے دیگر علاقوں سے تربیت یافتہ لڑکوں کے گروپس کولیاری طلب کرلیاگیا تھا، دبئی چوک،پھول پتی لائن ، بہار کالونی ، گل محمد لائن اور سلاٹر ہاؤس پر بابا لاڈلانے قبضہ کرلیا تھا۔رینجرز اور پولیس لیاری کے متاثرہ گلیوں میں گھسنے میں ناکام ہو گئے تھے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر