وجود

... loading ...

وجود

طیبہ تشددکیس:ملزم جج کوبچانے کے لیے عدلیہ وکلاء گٹھ جوڑ

اتوار 29 جنوری 2017 طیبہ تشددکیس:ملزم جج کوبچانے کے لیے عدلیہ وکلاء گٹھ جوڑ

اسلام آباد میں ایک ڈسٹرکٹ اورایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کی اہلیہ کی جانب سے اپنی گھریلو ملازمہ کم عمر بچی پر انسانیت سوز ظلم کی خبر پر اس ملک کا ہر فرد کانپ اٹھاتھا ،لیکن لوگوں کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات اس واقعے کے فوری بعد نچلی عدالت کے دوججوں اور ایک وکیل کی مبینہ پھرتیوں کی وجہ سے پہنچی جنھوں نے واقعے کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد اپنے ساتھی جج اور اس کی اہلیہ کو بچانے اورصاف بری کردینے کی کوششیں شروع کردی تھیں، انصاف اور قانون کی بالادستی کا حلف اٹھانے والے ان لوگوں نے اپنے ساتھی جج اور اس کی اہلیہ کو صاف بری کرنے کے لیے راتوں رات راضی نامہ بھی تیار کرایا اور اسے عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ہی اس کی منظوری دیتے ہوئے مقدمہ داخل دفتر کردینے کاحکم بھی جاری کردیاتھا،ااگر میڈیا میں اس واقعے کی بھرپور کوریج نہ ہوتی اورمیڈیا میں کوریج کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس واقعے کااز خود نوٹس نہ لیتے تو ملزم جج اب بھی اپنے عہدے پرفائز ہوتا اور اس کی اہلیہ کسی اور بے بس ملازمہ پر اپنے مظالم کے ہتھکنڈے آزما رہی ہوتی۔یہ ہمارے سماج کو وہ تاریک پہلو ہے جس کے باعث پوری قوم کا سرشرمندگی سے جھک جاتا ہے
اس واقعے کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔
3جنوری کو دو ججوںاور ایک وکیل نے مل کر ایک دوسرے جج اور اس کی اہلیہ کو اپنی گھریلو ملازمہ پر تشدد کے الزامات سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ وسیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر پراپنی 10سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے الزام میں مقدمہ قائم کیاگیاتھا لیکن ایڈیشنل سیشن جج محمد عطاربانی اور ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف محمود جبکہ وکیل راجہ ظہورالحسن نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کہجج اور انکی اہلیہ دونوں ان الزامات سے صاف بری ہوجائیں۔
ایڈیشنل سیشن جج محمد عطاربانی نے نہ صرف یہ کہ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو جلدبازی میں کسٹڈی میں دینے کافیصلہ سنایا اورطیبہ اور اس کے والدین کو عدالت کے باہر موجود صحافیوں کے سوالوں سے بچانے کے لیے اپنے چیمبر کے راستے باہر جانے کی سہولت فراہم کی۔جس کے بعد طیبہ اور اس کے والدین کم وبیش8دن تک غائب رہے۔بعد میں سپریم کورٹ میں یہ راز کھلا کہ وکیل راجہ ظہورالحسن نے اسے اسلام آباد کے برما ٹائون میں رکھاہواتھا۔اس وقت وکیل راجہ ظہورالحسن نے عدالت کے باہر موجود صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہاتھا کہ اس کیس پر فاتحہ پڑھ لو کیونکہ طیبہ نصف گھنٹہ قبل اپنے والدین کے ساتھ عدالت سے جاچکی ہے اور اب تو وہاں بھی پہنچ چکی ہوگی جہاں اسے جانا تھا۔ اس کے بعد اسے یہ معاملہ ایک ہی دن میں طے کرادینے پر مبارکبادیں بھی دی گئیںجو وہ خوش دلی سے وصول کرتارہا۔
3جنوری کو ایڈیشنل سیشن جج محمد عطاربانی نے انڈسٹریل ایریا اسلام آباد تھانے کے ایس ایچ او کو یہ حکم بھی دیاتھا کہ طیبہ کو ہرحالت میں آج ہی عدالت کے سامنے پیش کرے اور اس حوالے سے اپنی رپورٹ بھی آج ہی پیش کرے۔یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کو ان کے والدین کی مرضی ومنشا کے بغیر کرائسس سینٹر میں رکھا گیاتھا۔اس کیس میں درخواست دہندگان طیبہ کے والدین تھے اوروہی اس کے فطری اور قدرتی سرپرست تھے۔ طیبہ کمسن تھی اور وہ کرائسس سینٹر میں نہیں بلکہ اپنے والدین کے پاس ہی زیادہ محفوظ رہ سکتی تھی۔
طیبہ کو کرائسس سینٹر بھیجنے کے فیصلے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے انھوں نے طیبہ بی بی کو اس کے والدین کے سپرد کرنے کاحکم دیااور کہا کہ یہ لوگ ہی اس کو بحفاظت رکھنے کے ذمہ دار ہیں،اس لئے اب اس درخواست پر کسی مزید کارروائی کی ضرورت نہیں ہے ،اس لئے اسے داخل دفتر کردیاجائے۔
ایڈیشنل سیشن جج آصف محمود نے وکیل اور طیبہ کاچچا ہونے کے دعویدار شخص کی شناخت کے بعددونوں فریقوں کے درمیان مصالحت کی منظوری بھی دی۔اسی دن ایڈیشنل سیشن جج آصف محمود نے ملزمہ ماہین کی ضمانت قبل از گرفتاری کی منظوری بھی دی اورپولیس پر اس معاملے میں بدنیتی کامظاہرہ کرنے کاالزام بھی عاید کیا۔غالباً پولیس پر بدنیتی کایہ الزام ریکارڈپر بھی محفوظ ہے۔
3جنوری کو اپنے حکم میں انھوں نے کسی بات کی وضاحت نہیں کی سوائے یہ لکھنے کہ،کہ پولیس ریکارڈ متعلقہ لوگوں کوواپس کردیاجائے اور یہ فائل ریکارڈ روم کے حوالے کردی جائے۔ جب سپریم کورٹ نے اس معاملے میں از خود نوٹس لیاتو سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے مشکوک حالات میں کی گئی مصالحت،اس حوالے سے برتی جانے والی جلد بازی،گھریلو ملازمہ کی جلد بازی میں سپردگی اور کمسن طیبہ کے سرپرستوں کے وکیل کے مشتبہ کردار پر شدید اعتراضات کااظہار کیااور اس مقدمے میں سنگین سقم کی نشاندہی کی۔
11جنوری کوعدالت عظمیٰ میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ وکیل جس نے اللہ کے نام پر معافی نامہ لکھاتھا وہ ملزمان کارشتہ دار ہے۔اس مقدمے میں کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ کے والدین نے عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ اسے جج او ر اس کی اہلیہ کے درمیان کسی مصالحت یا معاہدے کاکوئی علم نہیں وہ ناخواندہ ہیں اور وکیل نے ان سے کہاتھا کہ حلف نامے کے کاغذات پر انگوٹھا لگا نے کی صورت میں ہی اس کی بیٹی اسے واپس مل سکتی ہے۔
اس انکشاف کے بعد عدالت نے راضی نامے کو مسترد کردیا اورججوں اوروکیل کے کرداراورطریقہ کار پرعدم اطمینان اورناخوشگواری کااظہار کیا۔عدالت نے اس موقع پر پولیس کی تفتیشی رپورٹ میںبھی سقم کی نشاندہی کی۔
ماہر قانون اسد جمال ایڈووکیٹ نے اس کیس میں ججوںکے کردار کی تفتیش کرانے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کامطالبہ کیاہے۔انھوں نے 3جنوری کوغائب ہوجانے پر متعلقہ
پراسیکیوٹرزکابھی محاسبہ کرنے کامطالبہ کیا ہے۔اسد جمال ایڈووکیٹ کاکہناہے کہ پولیس کی تفتیش کو بدنیتی قراردینا پولیس کے لیے اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عدلیہ اپنے ہی کسی ساتھی کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔
معروف ماہر قانون اسما جہانگیرنے25جنوری کو عدالت عظمیٰ کوبتایاکہ اس کیس میں ثابت ہوگیاہے کہ نچلی عدالتوں کے افسران ایک دوسرے کوبچانے کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں۔مقدمے کی سماعت کرنے والے عدالتی بینچ نے یہ پوائنٹ نوٹ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ مقدمے کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔
رضوان شہزاد


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر