... loading ...
پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام سے اب تک تین ادوار گزرے ہیں ۔ایک جب ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی بنائی اور پھر پھانسی پر چڑھ گئے‘ دوسرا دور بینظیر بھٹوکا تھا جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر27دسمبر2007ء تک اُن کے قتل پر محیط تھا۔ اور اب تیسرا دور بینظیربھٹو کے قتل کے بعد شروع ہوا ہے۔ پہلے دوادوار سیاسی اعتبار سے مضبوط تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو یا بینظیربھٹو کی سیاست اور حکمرانی قابل بحث ضرور ہے مگر اس میں ان کی ذہانت‘ قابلیت‘ خدادادصلاحیتوں کا عنصر نمایاں تھا ۔ ان کی سیاست اور حکمرانی پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے لیکن ان کے پاس فہم وفراست‘ جذباتیت جیسے ملے جلے معاملات تھے۔ لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد جس طرح کی سیاست اور حکمرانی آصف علی زرداری نے شروع کرائی ہے ، اس پر تو توبہ ہی کی جاسکتی ہے۔ کرپشن‘ انتظامی کمزوری ، مالی بے قاعدگی‘ غیرمستقل مزاجی‘ بدعہدی سمیت تمام بڑی اخلاقی برائیاںاس سیاست سے چپکی ہوئی ہیں۔
بعض حلقوں کے مطابق اب پارٹی ڈاکٹر عاصم حسین اور ماڈل ایان علی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔2008ء میں جب پی پی نے وفاقی حکومت بنائی اور آصف زرداری ملک کے صدر بن گئے تو اس وقت تجربہ کار سیاستدان مخدوم جاویدہاشمی نے کہا تھا کہ آصف علی زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ڈبل پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ واقعی ان کے فیصلوں پر صرف تعجب ہی کیا جاسکتا ہے اور ان کی باتوں کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ ترغیرسنجیدہ یا لطیفے سے کم نہیں ہوتیں۔ حال ہی میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے لیکن بعد میں اس فیصلے کو واپس لے لیا۔ پچھلے نو سالوں میں جو اسکینڈل سامنے آئے ہیں اس کو دیکھ کررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اُنہوں نے کرپشن ، جرائم اور سیاست کا ایسا میلاپ کردیا ہے کہ اب یہ عناصر پارٹی کے لیے لازم وملزوم بن گئے ہیں۔ پی پی کی ان دونوں حکومتوں میں ایسے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ عزیر بلوچ کو رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد لیاری کا بے تاج بادشاہ بنادیاگیا اور پھر اسی لیاری میں جب2013ء کے عام انتخابات ہوئے تو لیاری میں ٹکٹوں کی تقسیم عزیر بلوچ کے حوالے کی گئی۔ عزیر بلوچ نے ایک تقریب بلاکر اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے امیداروں سے قرآن پاک پر حلف لیا اور پھر پارٹی نے ان حلف لینے والوں کوٹکٹ دیا ، عزیر بلوچ نے ان کی حمایت کی اور وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ،الیکشن کے بعد قائم علی شاہ وزیراعلیٰ بنے اور وزیراعلیٰ بنتے ہی وہ فریال تالپر کے ساتھ لیاری گئے اورعزیر بلوچ کی دعوت میں شرکت کی۔ یوں یہ عوام کو پیغام دیاگیا کہ لیاری کا بادشاہ عزیر بلوچ ہی ہے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب عزیر بلوچ کے خلاف اویس مظفرٹپی کی منظوری سے پولیس آپریشن شروع ہوا۔ عزیر بلوچ اس آپریشن میں بچ نکلے اور پھر رحمان ملک نے پیپلز امن کمیٹی کے خلاف کہانیاں بتانا شروع کیں اور پھر عزیر بلوچ کے خلاف رینجرز نے آپریشن شروع کیا اور وہ پہلے لندن اور پھر دبئی چلے گئے‘ دبئی سے ان کو پولیس گرفتار کرکے کراچی لائی ۔پہلے ان کو حساس اداروں کے حوالے کیاگیا اور پھر حساس اداروں نے رینجرز کے حوالے کیا ۔ رینجرز نے کراچی میں فرضی مقابلہ دکھاکر ان کی گرفتاری ظاہر کی اور ان سے تفتیش کی‘ جس میں انہوں نے بڑے بڑے انکشافات کیے ۔
عزیر بلوچ کے انکشافات نے آصف علی زرداری اور فریال تالپر کی نیندیں اڑا دیں اور پھر جب عزیر بلوچ کو پولیس کے حوالے کیاگیا تو اس کے ساتھ تفتیشی رپورٹ بھی دی گئی۔ تفتیشی رپورٹ پر حکومت سندھ نے اپنی جے آئی ٹی تشکیل دی اور اس میں آصف زرداری اور فریال تالپر کے نام نکال دیے گئے، اس کام کے عوض منیر شیخ کو ڈی آئی جی سائوتھ کراچی مقرر کیاگیا اور سہیل انور سیال کی محکمہ داخلہ کی وزارت بھی پکی ہوگئی۔
عزیر بلوچ کے بعد پی پی کے دوسرے رہنما نثار مورائی تھے جس کو جب رینجرز نے گرفتار کیا تو انہوں نے عزیر بلوچ سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر انکشافات کیے جس سے پی پی کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ اس نے رینجرز کی تفتیش میں انکشاف کیا کہ کس طرح عالم بلوچ اورچیئرمین پاکستان اسٹیل ملز سید سجاد حسین شاہ کو قتل کیاگیا؟ کس نے منظوری دی؟ کس نے نگرانی کی؟ فشریز سے کس طرح ہر ماہ سات کروڑ روپے پی پی کی سب سے طاقت ور خاتون کو دیے گئے؟ اور کس طرح سرکاری اداروں میں کرپشن کرکے مزید رقم اُن کے گھر تک پہنچائی گئی۔ رینجرز نے جب تفتیشی رپورٹ کے ساتھ نثارمورائی کو پولیس کے حوالے کیاتو حکومت سندھ نے پھر جے آئی ٹی بنائی جس پر صرف ایس ایس پی رائو انوار نے دستخط کیے اور کسی ادارے کے افسر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ رائو انوار نے اپنی جے آئی ٹی میں آصف زرداری اور فریال تالپر کے نام نکال دیے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت سندھ پی پی کی ہے تو پھر پی پی قیادت ، آصف زرداری اورفریال تالپر کیوں پریشان ہیں؟ اس کی وجہ صاف ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹوں کے بعد حکومت کے لیے لازم ہوتا ہے کہ ملزم کانام لے کر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ اگر اس جے آئی ٹی میں حکومت سندھ اپنے پولیس افسران کے ذریعہ تبدیلی نہ کراتی تو پھر مجبوراً آصف زرداری اور فریال تالپر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا پڑتی اور یہ حکومت سندھ کے لیے مشکلات پیدا کرتی۔ اس لیے حکومت سندھ نے آصف زرداری اور فریال تالپر کو بچانے کے لیے اپنی مرضی کی جے آئی ٹیز بنائیں اور اس میں آصف زرداری اور فریال تالپر کا نام نکال دیا یہی وجہ ہے کہ رائو انوار بلاول ہائوس کے منظور نظر افسر بنے ہوئے ہیں۔ مگر اب سندھ حکومت کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ رینجرز نے سندھ حکومت کے دبائو کے باوجود جے آئی ٹی پر دستخط سے انکار کردیا ہے اور تفتیش کے مطابق جے آئی ٹی میں نثارمورائی کے اعتراف کے مطابق آصف زرداری اورفریال تالپر کا نام ڈالنے پر مُصرہے۔باخبر ذرائع کے مطابق رینجرز کے اختیارات میں ایک بار پھر توسیع کا معاملہ بھی اس لیے کافی دیر تک لٹکا یا گیا۔ کیونکہ حکومت سندھ اس سے قبل اس حوالے سے پیشگی کچھ ضمانتیں چاہتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا عمل مکمل ہونے کے بعد رینجرز اس معاملے پر چپ سادھے رکھتی ہے یا پھر وہ اس معاملے پر اپنے پرانے موقف پر قائم رہتی ہے۔
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...
سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...
گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...
سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...