وجود

... loading ...

وجود

دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

اتوار 14 جون 2026 دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

کارل جنگ نے کہا تھا: ”اپنے اندھیرے کو جاننا دوسروں کے اندھیرے سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے” ۔ یہ محض ایک نفسیاتی جملہ نہیں بلکہ انسانی وجود کے سب سے گہرے المیے کی تشریح ہے۔ انسان پوری زندگی دوسروں کو سمجھنے میں گزار دیتا ہے، مگر خود اپنے لیے ایک معمہ بنا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کے چہروں پر لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ لیتا ہے، ان کے رویوں کی وجوہات جان لیتا ہے، ان کے دکھوں اور کمزوریوں کی تشخیص کر لیتا ہے، مگر جب آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی روح سے سوال کرتا ہے تو اکثر ایک عجیب خاموشی اس کا استقبال کرتی ہے۔ یہ خاموشی لاعلمی کی خاموشی نہیں ہوتی، بلکہ برسوں کی غفلت کی خاموشی ہوتی ہے۔انسان نے تہذیبیں تعمیر کیں، ریاستیں بنائیں، فلسفے تخلیق کیے، سائنس کی حیرت انگیز فتوحات حاصل کیں، مگر اپنے ہی باطن کی سرزمین آج بھی اس کے لیے ایک غیر دریافت شدہ براعظم بنی ہوئی ہے۔ ہم دوسروں کے غصے کی تشریح کر سکتے ہیں مگر اپنے غصے کی جڑوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ ہم دوسروں کی تنہائی کو سمجھ سکتے ہیں مگر اپنی تنہائی کو مصروفیت کے شور میں دفن کر دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے زخم دیکھ لیتے ہیں مگر اپنے زخموں پر نظریں ڈالنے کی ہمت نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی جنگ باہر کی دنیا سے نہیں بلکہ اپنے اندر کے اس اجنبی سے ہوتی ہے جسے اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔لیکن روح کے قوانین بڑے عجیب ہیں۔ جو چیز نظر انداز کر دی جائے وہ ختم نہیں ہو جاتی۔ لاشعور کوئی مردہ گودام نہیں جہاں احساسات دفن ہو کر مٹ جائیں۔ وہ ایک زندہ دنیا ہے جو مسلسل سانس لیتی رہتی ہے۔ ہمارے دبائے ہوئے خوف، بھلائے ہوئے غم، ان کہے دکھ، اور نامکمل خواہشات خاموشی سے ہمارے اندر زندہ رہتے ہیں۔ وہ کبھی بے سبب اداسی بن کر لوٹتے ہیں، کبھی اچانک بھڑک اٹھنے والے غصے کی صورت میں، کبھی ایک ایسی تنہائی کے روپ میں جو لوگوں کے ہجوم کے درمیان بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مسائل ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ پیغامات ہوتے ہیں۔ ہماری روح ہمیں مسلسل کچھ بتانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔
جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بہت زیادہ محسوس کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ محسوس کرنے سے ڈرتا ہے۔ اسے ہر قیمت پر خوش نظر آنا ہے،
کامیاب دکھائی دینا ہے، مضبوط ثابت ہونا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے درد کو کمزوری سمجھ کر چھپا دیتا ہے۔ مگر جن احساسات سے ہم فرار اختیار کرتے ہیں، اکثر وہی
ہمارے سب سے بڑے استاد ثابت ہوتے ہیں۔ غم ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے لیے واقعی اہم کیا تھا۔ غصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری حدود کہاں پامال ہوئیں۔
خوف ان سچائیوں کی نشاندہی کرتا ہے جن سے ہم نظریں چرا رہے ہوتے ہیں۔ تنہائی ہمیں اس شخصیت سے ملانے آتی ہے جسے ہم نے برسوں پہلے معاشرتی
توقعات کے ہاتھوں قربان کر دیا تھا۔اصل المیہ اندھیرا نہیں ہے، کیونکہ ہر انسان کے اندر اندھیرا موجود ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ انسان پوری زندگی اس اندھیرے سے ناواقف رہ کر گزار دے۔ جو چیز شعور کی روشنی میں نہیں آتی، وہ پھر بھی ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ وہ ہمارے فیصلے تشکیل دیتی
ہے، ہمارے تعلقات کو رنگ دیتی ہے، ہماری توانائی کو خاموشی سے چاٹتی رہتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے نہیں تھکتے، بلکہ ان حصوں کے بوجھ
سے تھک جاتے ہیں جنہیں انہوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ وہ اپنی ہی روح کے انکار کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔زندگی میں ایک فیصلہ کن لمحہ تب آتا ہے
جب انسان بھاگنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب وہ اپنے اندر جھانکنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ جب وہ خوف کے بجائے تجسس کے ساتھ اپنے باطن کی طرف متوجہ ہوتا
ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ بوجھ سمجھتا تھا، وہ دراصل رہنما تھیں۔ جن زخموں سے وہ شرمندہ تھا، وہی اس کی بصیرت کا سرچشمہ بن
جاتے ہیں۔ جس خالی پن سے وہ خوفزدہ تھا، اسی کے اندر معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ پھر اندر کی دنیا شور کا منبع نہیں رہتی بلکہ حکمت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔شاید
اسی لیے انسان جس سکون کو دولت، شہرت، تعلقات، طاقت اور کامیابیوں میں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ کسی دور دراز منزل پر موجود نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ سے اس
کے اندر موجود ہوتا ہے، مگر اس کی اپنی بے توجہی کے غبار میں چھپا رہتا ہے۔ خود شناسی کوئی نئی چیز حاصل کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس پردے کو ہٹانے کا نام ہے
جو برسوں سے ہماری اپنی حقیقت اور ہمارے درمیان حائل ہے۔اور شاید زندگی کا سب سے اہم سوال بھی یہی ہے: وہ کون سا احساس ہے جس سے آپ
مسلسل بھاگ رہے ہیں؟ وہ کون سا دکھ، خوف، غصہ یا خالی پن ہے جو ہر مصروفیت، ہر کامیابی اور ہر شور کے باوجود بار بار آپ کے دروازے پر دستک دیتا
ہے؟ کیونکہ اکثر اوقات اسی سوال کے اندر وہ جواب پوشیدہ ہوتا ہے جسے ہم پوری زندگی باہر کی دنیا میں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ انسان کا سب سے طویل
سفر زمین کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نہیں، بلکہ اپنے شعور سے اپنے لاشعور تک کا سفر ہے؛ اور جو شخص یہ سفر مکمل کر لیتا ہے، وہ دنیا کو نہیں بلکہ
سب سے پہلے خود کو دریافت کر لیتا ہے۔کارل جنگ نے کہا تھا: ”اپنے اندھیرے کو جاننا دوسروں کے اندھیرے سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔” اگر اس
ایک جملے کو پاکستان کی تاریخ، پاکستانی سماج اور پاکستانی انسان کے آئینے کے سامنے رکھ دیا جائے تو شاید ہمیں اپنی اجتماعی نفسیات کی سب سے تلخ تصویر نظر آ
جائے۔ کیونکہ جس طرح ایک فرد اپنے لاشعور سے فرار اختیار کرتا ہے، اسی طرح قومیں بھی اپنے اجتماعی لاشعور سے بھاگتی ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں کو تاریخ کے
اندھیروں میں دفن کر دیتی ہیں، اپنے زخموں پر پردے ڈال دیتی ہیں، اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں اور پھر حیران ہوتی ہیں کہ ان کی
زندگیوں میں سکون، استحکام اور اعتماد کیوں پیدا نہیں ہوتا۔ ہم نے اپنی تاریخ کو ایک مقدس داستان بنا دیا ہے، حالانکہ تاریخ مقدس نہیں ہوتی، سچی یا جھوٹی
ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت بالغ ہوتی ہیں جب وہ اپنے کارناموں کے ساتھ اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرتی ہیں، مگر ہم نے اپنی اجتماعی یادداشت کو اس طرح
ترتیب دیا ہے کہ ہمیں اپنے زخم تو یاد رہتے ہیں مگر دوسروں کو دیے گئے زخم بھول جاتے ہیں، ہمیں اپنی قربانیاں یاد رہتی ہیں مگر اپنی کوتاہیاں نہیں۔
پاکستان کی تاریخ کو اگر نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صرف سیاسی واقعات کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی لاشعور کی کہانی ہے۔ تقسیمِ ہند کا صدمہ، مہاجرت کی تکلیف، شناخت کا بحران، اقتدار کی کشمکش، صوبائی محرومیاں، جنگیں، آمریتیں، مذہبی انتہاپسندی، نسلی اور لسانی تنازعات، یہ سب صرف تاریخی واقعات نہیں بلکہ وہ نفسیاتی پرتیں ہیں جو آج بھی پاکستانی انسان کے شعور کے نیچے زندہ ہیں۔ ہم نے ان کا سامنا نہیں کیا، ہم نے انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں
کی، ہم نے انہیں صرف دفن کیا ہے۔ لیکن دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں۔ وہ بار بار نئی شکلوں میں واپس آتی ہیں۔جس طرح ایک فرد اپنے دبے ہوئے
خوف کو غصے میں تبدیل کر دیتا ہے، اسی طرح قومیں بھی اپنے اجتماعی خوف کو نفرت میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں اختلاف کو دشمنی سمجھا
جاتا ہے، سوال کو بغاوت سمجھا جاتا ہے، تنقید کو غداری سمجھا جاتا ہے۔ ایک غیر محفوظ شعور ہمیشہ سوال سے خوفزدہ ہوتا ہے، کیونکہ سوال سچائی کے دروازے کھولتا
ہے، اور سچائی اکثر ان کہانیوں کو توڑ دیتی ہے جن پر ہماری نفسیاتی تسلی قائم ہوتی ہے۔پاکستانی انسان کی ایک اور بڑی المیہ کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت
کے سوال سے مسلسل بھاگ رہا ہے۔ وہ بیک وقت کئی متضاد دنیائوں میں زندہ ہے۔ اس کا ذہن جدیدئیت کے خواب دیکھتا ہے مگر اس کی سماجی ساخت
جاگیرداری کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے مگر اپنے گھروں، اداروں اور جماعتوں میں آمریت کو قبول کرتا ہے۔ وہ
انصاف کا مطالبہ کرتا ہے مگر اپنے مفاد کے لیے ناانصافی پر خاموش رہتا ہے۔ وہ مساوات کی بات کرتا ہے مگر طبقاتی برتری کو اپنے وقار کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ
تضادات محض سیاسی یا سماجی نہیں، بلکہ نفسیاتی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے ابھی تک اپنی اجتماعی ذات کو پوری طرح سمجھا ہی نہیں۔اگر جنگ
کے نظریے کو پاکستانی تاریخ پر لاگو کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غربت، کرپشن یا سیاسی عدم استحکام نہیں ہے۔ یہ سب علامات ہیں۔
اصل بیماری خود آگاہی کی کمی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو اپنے اندھیروں کو تسلیم نہ کرے، وہ بار بار انہی غلطیوں کو دہراتا ہے۔ مستقبل اس دن شروع ہوگا جب
پاکستانی انسان اپنے آپ سے سچ بولنے کی ہمت پیدا کرے گا۔ جب وہ اپنی تاریخ کو عقیدت کی نہیں بلکہ بصیرت کی نگاہ سے دیکھے گا۔ جب وہ یہ تسلیم کرے
گا کہ قومیں صرف فتوحات سے نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کے اعتراف سے بھی عظیم بنتی ہیں۔ جب وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ ہمیشہ دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے
کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرے گا۔کیونکہ قوموں کی زندگی میں بھی وہی اصول کارفرما ہوتا ہے جو افراد کی زندگی میں ہوتا ہے: جو اندھیرا تسلیم کر
لیا جائے وہ شعور بن جاتا ہے، اور جو اندھیرا چھپا دیا جائے وہ تقدیر بن جاتا ہے۔ پاکستان کی اصل جدوجہد معاشی یا سیاسی نہیں، بلکہ شعوری ہے۔ یہ اپنے ہی
لاشعور سے ملاقات کا سفر ہے۔ اور جب تک یہ ملاقات نہیں ہوتی، ہم تاریخ کے اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جہاں ہر نسل یہ سمجھتی ہے کہ مسئلہ اس سے
پہلے والوں میں تھا، جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ مسئلہ اب بھی ہمارے اندر زندہ ہوتا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

پاکستان بچاؤ! وجود اتوار 14 جون 2026
پاکستان بچاؤ!

دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں! وجود اتوار 14 جون 2026
دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر