وجود

... loading ...

وجود

پاکستان بچاؤ!

اتوار 14 جون 2026 پاکستان بچاؤ!

بے لگام / ستار چوہدری

یہ ملک کسی شکستہ گھڑی کی طرح ہے ، جس کی سوئیاں وقت نہیں، طاقت کے گرد گھومتی ہیں ۔ ہمیں بتایا گیا، یہ نظام مقدس ہے ، یہی آئین، یہی طریقہ، یہی نجات، مگربھوک کو کاغذ سے نہیں روکا جا سکتا، بیماری کو تقریروں سے نہیں۔ اور جہالت کو فیتوں سے نہیں باندھا جا سکتا۔ عدالتوں میں صدیوں پرانی فائلیں دھول اوڑھے انصاف کی لاش پر نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ تھانوں میں قانون ہتھکڑی پہنے کھڑا ہے ۔ اور مجرم کرسی پر بیٹھا چائے پی رہا ہے ۔ اس ملک کا نظام لوگوں کے لیے نہیں، لوگوں پر ہے ، یہ وہ مشین ہے جو انسان پیس کر مراعات نکالتی ہے ۔ہم نے برسوں یہ سن کر گزار دیے کہ حالات بدل رہے ہیں، ترقی آ رہی ہے ، مستقبل روشن ہے ، مگر گلیوں میں کھڑا نوجوان آج بھی اپنے کل سے خوفزدہ ہے ۔ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہے ، مگر دروازے بند ہیں۔ اس کے پاس صلاحیت ہے ، مگر راستہ سفارش مانگتا ہے ۔ وہ اپنے ملک میں اجنبی اور اپنے خوابوں میں مہاجر بن چکا ہے ۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے نوجوان کو امید نہ دے سکے ، وہ ترقی کے دعوے تو کر سکتی ہے ، ترقی نہیں۔ہم نے اسکول بنائے ، مگرسوچ کو قید رکھا۔ ہم نے ڈگریاں بانٹیں، مگر ضمیر نہیں۔ بچوں کو رٹایا گیا کہ سوال نہ کرو، صرف مان لو، کہ حکومت غلط نہیں ہو سکتی، نظام پر بات غداری ہے ۔ یہ کیسی تعلیم ہے ، جو غلامی کو تہذیب اور خاموشی کو شعور کہتی ہے ؟ یونیورسٹیوں میں نئے ذہن، پرانے سلیبس سے قتل کیے جاتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام کل کے لیے نہیں، کلون پیدا کرتا ہے ، نئے انسان نہیں۔ہم اپنے بچوں کو تاریخ تو پڑھاتے ہیں، مگر تاریخ سے سیکھنا نہیں سکھاتے ۔ ہم انہیں امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، زندگی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے ذہین لوگ تو نکلتے ہیں، مگر آزاد ذہن کم پیدا ہوتے ہیں۔ قومیں نصاب سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں، اور جس دن سوچ قید ہو جائے ، ترقی بھی قید ہو جاتی ہے ۔ہسپتالوں میں دوائیں کم۔ اور سفارشیں زیادہ ہیں، ایمبولینس جان نہیں، فائلیں لے جاتی ہے ۔ غریب بیڈ کے نیچے مرتا ہے ۔ اور امیر وی آئی پی وارڈ میں زندگی خرید لیتا ہے ۔ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں علاج نہیں، تعلق بکتا ہے ۔ جہاں ڈاکٹر بھی مجبور ہے اور مریض بھی۔ ریاست اپنے شہری کو بیماری میں اکیلا چھوڑ دیتی ہے ،کسی سرکاری ہسپتال کے دروازے پر چند گھنٹے کھڑے ہو کر دیکھ لیجیے ، وہاں بیماری سے زیادہ بے بسی نظر آتی ہے ۔ ایک ماں اپنے بچے کو اٹھائے پھرتی ہے ، ایک بوڑھا دوا کی پرچی ہاتھ میں لیے قطاروں میں کھو جاتا ہے ، اور ایک مزدور علاج اور روٹی کے درمیان فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ جب ریاست انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرے تو مسئلہ وسائل کا نہیں، ترجیحات کا ہوتا ہے ۔یہاں انصاف وقت نہیں لیتا، دام لیتا ہے ۔ جج قانون سے پہلے چہرہ دیکھتا ہے ۔ غریب اپنی سچائی کسی گلی میں گرا دیتا ہے ، کیونکہ اس کے پاس فیس نہیں ہوتی۔ یہ عدالتیں حق کی نہیں، طاقت کی محافظ ہیں۔ یہ نظام انصاف نہیں دیتا، انصاف بیچتا ہے ۔۔اور صرف عدالتیں ہی نہیں، پورا ریاستی ڈھانچہ دو پاکستانوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ ایک پاکستان وہ ہے جہاں قوانین نرم ہیں، دروازے کھلے ہیں، اور راستے ہموار ہیں۔ دوسرا پاکستان وہ ہے جہاں ہر دروازے پر سوال، ہر دفتر میں انتظار، اور ہر خواب پر مہر لگی ہوئی ہے ۔ ایک ملک میں دو قومیں آباد نہیں رہ سکتیں۔ ناانصافی آخرکار دیواروں سے نکل کر سڑکوں پر آ جاتی ہے ۔
میں کہتا ہوں یہ نظام مر چکا ہے ، اس کی رگوں میں خون نہیں، کرپشن دوڑ رہی ہے ۔ اب ہمیں نیا نظام چاہیے ، ایسا نظام جہاں بچہ اسکول جائے اور سوچ واپس لائے ۔ جہاں بیمار ہسپتال جائے اور زندگی واپس لائے ۔ جہاں عدالت میں غریب کی آواز بھی وزن رکھتی ہو۔ جہاں ٹیکس قوم بنائے اور قوم ٹیکس دے ۔ جہاں صوبے وسائل کے غلام نہیں، اختیار کے مالک ہوں۔ جہاں سیاست روزگار ہو خدمت کا، نہ کہ لوٹ مار کا۔ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں عہدے انسان سے بڑے نہ ہوں، جہاں قانون طاقتور کے دروازے پر بھی اسی طرح دستک دے جیسے کمزور کے دروازے پر دیتا ہے ۔ جہاں نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب نہ دیکھے بلکہ ملک بنانے کے خواب دیکھے ۔ جہاں حکومت عوام سے خوف کھائے اور عوام حکومت سے نہیں۔میری نئی شائع ہونیوالی کتاب ”پاکستان بچاؤ ”صرف لفاظی نہیں، ایک اعلان ہے ۔ ایک سوال ہے جو میں نے ریاست کے دروازے پر رکھ دیا ہے ۔ ایک احتجاج ہے جو خاموش رہنے سے انکار کرتا ہے ۔ یہ کتاب ان لاکھوں لوگوں کی آواز ہے جو محسوس کرتے ہیں کہ کچھ غلط ہے ، مگر جن کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔ پاکستان پرانے سسٹم سے نہیں بچ سکتا۔ اگر ہمیں زندہ قوم بننا ہے تو مرے ہوئے نظام کو دفن کرنا ہوگا۔ اور ایک نیا پاکستان، ایک نیا نظام، ایک نئی شروعات خود تخلیق کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں تب نہیں مرتیں جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، قومیں تب مرتی ہیں جب وہ تبدیلی پر یقین کھو دیتی ہیں۔ ”پاکستان بچاؤ” اسی یقین کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔
(نوٹ : میری چھٹی کتاب ” پاکستان بچاؤ ” کی تقریب رونمائی گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں منعقد ہوئی )


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

پاکستان بچاؤ! وجود اتوار 14 جون 2026
پاکستان بچاؤ!

دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں! وجود اتوار 14 جون 2026
دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر