وجود

... loading ...

وجود

کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

هفته 13 جون 2026 کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

ریاض احمدچودھری

بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی رشوت خوری کے جرم میں گرفتاری نے ادارے کی اخلاقی پستی اور انتظامی بدحالی کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ اس واقعے نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اندر موجود کرپشن کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔آرمی آرڈننس کور کے کرنل ہمانشو بالی کو کولکتہ میں سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے پچاس لاکھ روپے کی بھاری رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔ وہ ایسٹرن کمانڈ میں تعینات تھے اور انہوں نے کانپور کی ایک نجی کمپنی کو ٹھیکے دلوانے کے عوض یہ رقم وصول کی تھی۔انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے کرنل ہمانشو بالی کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے فوری طور پر دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں واضح کیا گیا ہے کہ کرنل اور ان کے دیگر ساتھی افسران طویل عرصے سے ملی بھگت کر رہے تھے۔یہ افسران سرکاری ٹینڈرز جاری کرنے کے بدلے نجی کمپنیوں سے بھاری رقوم بٹورنے کا غیر قانونی دھندا کر رہے تھے۔ اس گرفتاری نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی فوج کی اعلیٰ سطح پر منظم جرائم کا جال بچھا ہوا ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج میں کرپشن کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں اور فضائیہ کے بڑھتے ہوئے حادثات محض فنی خرابیاں نہیں ہیں۔ یہ دراصل انتظامی ناکامی اور فنڈز کی خورد برد کے باعث پیدا ہونے والے سنگین مسائل کا واضح ثبوت ہیں۔
غیر مقبول مودی نے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے غیر پیشہ ور اور شکست خوردہ بھارتی فوج کوبھی اپنا آلہ کاربنا دیا ہے۔بزدل بھارتی عسکری قیادت کے منظم جرائم، اخلاقی وادارہ جاتی پستی کیخلاف بھارتی فوجی اہلکار احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے، بھارتی نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شریک بھارتی فوجی اہلکار نے بھارتی فوج کی قلعی کھول دی۔بھارتی فوجی اہلکارنے بھارتی فوج کی بدعنوانی اور ناپاک کردار کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ بھارتی فوج بھی سیاست زدہ ہو چکی ہے اور کرپشن کا کینسر فوج میں بھی آ گیا ہے۔ نوجوانوں کو کاکروچ کہنے والی سرکار کو کہتا ہوں کہ اگر آپ ایک کاکروچ کو ماریں گے، 100 مزید پیدا ہوں گے۔بھارتی فوجی اہلکار کا بیان واضح ثبوت ہے کہ ہندوتوا کے نظریہ پر کاربند بھارتی فوج میں شدید تقسیم موجود ہے، مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے مودی کی ایماء پر سیاست زدہ بھارتی فوج اقلیتوں کے قتل عام میں بھی مصروف ہے۔مودی سرکار کے زیر سایہ سیاست زدہ ہونے والی بھارتی فوج اب پیشہ ورانہ مہارت کھو چکی ہے۔ اندرونی خلفشار اور تقسیم کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور بدعنوانی اس کی نااہلی کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی فوج میں نظم و ضبط کا فقدان ہے اور افسران اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملکی وقار کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ مسلسل سامنے آنے والی بدعنوانیوں نے بھارتی عسکری ڈھانچے کی کمزوریوں کو پوری طرح آشکار کر دیا ہے۔
بھارت کی فوج، جو کبھی پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی ادارہ سمجھی جاتی رہی ہے، سیاسی گروپ بندی اور ہندوتوا نظریات کے اثرات میں مسلسل اضافے کی وجہ سے تیزی سے ایک سیاسی اور نظریاتی آلے میں تبدیل ہو رہی ہے۔مودی کے دورحکومت میں فوجی قیادت کی جانب سے سیاسی وابستگیوں اور ہندو توا نظریات کو فروغ دینے کے رجحانات نے فوج کی پیشہ ورانہ روایتی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔حالیہ شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کے افسران کی سیاسی قیادت کے ساتھ ذاتی تعلقات مضبوط ہو گئے ہیں۔ فوجی افسران اکثر حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ قریبی روابط رکھتے ہیں اورسالانہ سرکاری تقریبات، سالگرہ اور دیگر اہم مواقع پر مہنگے تحائف پیش کرکے اپنی پسندیدگی جتاتے ہیں۔ اس رویہ سے ایک سرپرستی کی ثقافت کو فروغ مل رہا ہے، جس کے تحت فوج کی موجودہ قیادت میں ہندو توا کے نظریات کو سرگرمی سے پھیلایا جا رہا ہے۔اس رحجان کی وجہ سے فوجی مقاصداور قومی سلامتی پر سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔بھارتی فوج کی اعلیٰ قیادت میں حالیہ تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ فوج میں سیاسی مداخلت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔جنرل منوج پانڈے کی چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر تعیناتی اس سیاسی مداخلت کی سب سے واضح مثال ہے۔ یہ تقرری میرٹ یا پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ بی جے پی/آر ایس ایس کے نظریات سے وفاداری کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
مودی کے دورحکومت میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے نظریاتی حامی کی چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر تقرری اس بات کا واضح پیغام ہے کہ سیاسی وفاداری کو فوجی صلاحیتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ بھارتی فوج کے افسران ترقیاں، حساس تعیناتیاں اور مالی فوائد حاصل کر نے کیلئے سیاستدانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات برقرار رکھتے ہیں، جس سے ادارے کی سا لمیت اور پیشہ ورانہ اصول بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔اعلی فوجی تربیتی اداروں، بشمول ساینک اسکولز کے گریجویٹس کا اجارہ داری کانظام بھارتی فوج میں مضبوط نیٹ ورکس قائم کر چکا ہے۔ یہ گروہ ہم خیال افراد کو ترجیح اور سرپرستی اور نظریاتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں جبکہ باصلاحیت اور مختلف رائے رکھنے والے افسران کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ میرٹ اور پیشہ ورانہ اصولوں کو منظم طریقے سے نظراندازکئے جانے نے بھارتی فوج کے افسران میں مایوسی اور بے چینی پیدا اور بھارت کی فوج کی عملی استعداد کارکو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔کرپٹ مودی کے دور اقتدار میں بھارتی دفاعی کمپنیاں اربوں کے حکومتی فنڈز لینے کے باوجود جدید ہتھیار وقت پر دینے میں ناکام ہیں۔ بھارتی سی ڈی ایس کی تنقید خود بھارتی فوج کی داخلی بدانتظامی اور ناقص پلاننگ کی گواہی دے رہی ہے۔ بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی مایوسی نے خطے میں ناکام ملٹری ماڈرنائزیشن اور اندرونی کھوکھلے پن کا پردہ چاک کر دیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر