وجود

... loading ...

وجود

امریکی صدر پرحملے کی منصوبہ بندی کاانکشاف،تاریخی سیکورٹی کی تیاری

اتوار 15 جنوری 2017 امریکی صدر پرحملے کی منصوبہ بندی کاانکشاف،تاریخی سیکورٹی کی تیاری

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے 20 جنوری کو امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے موقع پر ان کو قتل کرنے کے منصوبے کے انکشاف کے بعد اب تقریب حلف برداری کے موقع پر امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے زبردست حفاظتی انتظامات کیے جارہے ہیں۔اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے اہل خانہ اور دیگر مہمانوں جن میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت وحکومت بھی شامل ہوں گے ،کی حفاظت کے لیے نیشنل گارڈز کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کی تقریب میں شرکت کے لیے آمدورفت کے راستوں کو بھی آخر وقت تک خفیہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
واشنگٹن ایگزامنر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے پیش نظر تقریب حلف برداری کے موقع پر شہر اوراس کے نواح میں 5ہزار فوجی اور سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ان پر کسی ممکنہ قاتلانہ حملے کی صورت میں ان کو بچانے کے لیے سیکڑوں چاق وچوبند اور ماہر نشانہ باز اہلکار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کے گرد گھیرا ڈالے رہیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل بائوسٹر نے گزشتہ روز امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میںکہا کہ سیکورٹی خدشات کے باوجود شہر میں تقریب حلف برداری کے حوالے سے پوری تیاریاں کرلی گئی ہیں اور شہر اس تقریب کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے شہر اور معز ز مہمانوں کی حفاظت کے لیے امریکا کی تاریخ کی سب سے بڑی تیاریاں کی ہیں اور تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر سیکرٹ سروس کے اسپیشل ایجنٹ بریان ایبرٹ نے کہا کہ واشنگٹن کا فیلڈ آفس حلف برداری کی اس تقریب کے لیے پوری طرح تیا ر ہے اور اس تقریب کے لیے تمام تر تیاریاں کرلی گئی ہیں،ہم ہر متوقع اور غیر متوقع واقعے کا سامنا اور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طورپر تیار ہیں۔سیکورٹی حکام نے بتایا کہ 5ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود مختلف سیکورٹی اداروں کے 3 ہزار اہلکار بھی اسٹینڈ بائی ہوں گے اورکسی بھی لمحے ان کو طلب کیاجاسکے گا۔انھوںنے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ میری ٹیم اور اس حوالے سے کیے جانے والے سیکورٹی کے انتظامات بہت کافی ہیںاور ہم ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے اور حالات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
شہر کی پولیس کے قائم مقام سربراہ پیٹر نیو شام نے دعویٰ کیا کہ شہر ہر طرح کے ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ہم سوشل میڈیا پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امریکا 58 ویں صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر گڑبڑ پھیلانے کاارادہ رکھنے والوں کی قبل از وقت نشاندہی کرکے انھیں گرفتار کیاجاسکے۔پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا پر یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم اس تقریب کو درہم برہم کرنے اور تقریب کو ملیامیٹ کرنے کے لیے آرہے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ہی انھوںنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہم اس طرح کی دھمکیوں اور ایسے عناصر سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی کو تقریب میں خلل ڈالنے کی ہمت نہیں ہوسکے گی۔ہم نے اس حوالے سے تمام انتظامات کررکھے ہیں۔
واشنگٹن ایگزامنر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس تقریب کے انعقاد کی تیاریوں کے لیے شہر کو مجموعی طورپر 30 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے جبکہ کانگریس نے اس کے لیے 19 ملین ڈالر کے اخراجات کی علیحدہ منظوری دے رکھی ہے۔میئر نے توقع ظاہر کی کہ تقریب پر آنے والے اخراجات کی بقیہ رقم وفاقی حکومت ادا کردے گی۔
واشنگٹن میں سیکورٹی فورسز اور میئر کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے موقع پر شہر کو ایک طرح سے سیل کردیاجائے گا اور نہ صرف یہ کہ شہر کے باہر سے آنے والے لوگوں کو تقریب کے مقام سے کافی دور رکھنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ تقریب کے مقام کے اردگرداورقرب وجوار میں رہنے والے لوگوں کی بھی مکمل چھان بین کی جارہی ہے اوران کو تقریب کے دوران گھروںمیں ہی رہنے ،غیر ضروری طورپر باہر نکلنے سے گریز کرنے اور تقریب والے دن یعنی 20 جنوری سے چند روز قبل ہی سے اجنبیوں کو گھر پر مدعو کرنے اور خاص طورپر اپنے گھروں پر قیام کی اجازت دینے سے گریز کریں،اور اس حوالے سے اگر کسی بھی حلقے کی جانب سے ان سے کسی طرح معاونت کی درخواست کی جائے تو اس کی اطلاع فوری طورپر شہر کی انتظامیہ ، پولیس یا سیکورٹی اداروں کو فراہم کریںتاکہ اس شہر کا امن بحال رہے اور شہر کے مکینوں کو کسی ناخوشگوارصورتحال کاسامنا نہ کرنا پڑے۔
سیکورٹی فورسز کے ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ شہر اور تقریب کے تحفظ کے حوالے سے تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جن کی امریکا کی اب تک کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود سیکورٹی حکام مطمئن نظر نہیں آتے،اور وہ اتنے زبردست حفاظتی انتظامات کے باوجودکسی بھی غیر متوقع واقعے کے رونماہوجانے کے خدشے کے پیش نظر خوفزدہ نظر آرہے ہیں اور دن میں کئی کئی مرتبہ اجلاس بلاکر حفاظتی انتظامات کاجائزہ لینے کے ساتھ ہی اس میں بار بار ردوبدل بھی کررہے ہیں۔تاہم توقع کی جاتی ہے کہ اس موقع پر گڑبڑ پھیلانے کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر زبردست حفاظتی انتظامات اور تیاریاں دیکھ کر کسی مہم جوئی کی ہمت نہیں کریں گے اور یہ تقریب بحفاظت اختتام پذیر ہوجائے گی۔سیکورٹی فورسز کے ذرائع کاکہناہے کہ تقریب کے بحفاظت اختتام کے بعد بھیسیکورٹی خدشات پوری طرح ختم نہیں ہوں گے اور سیکورٹی فورسز کو ممکنہ خطرات کامقابلہ کرنے کے لیے بدستور الرٹ رہناپڑے گا کیونکہ تقریب میں گڑپھیلانے کا منصوبہ بنانے والے اپنے منصوبے میں ناکامی کے بعد کوئی اور آسان ہدف تلاش کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے، اوروہ کسی بھی وقت کہیں بھی کوئی واردات کرسکتے ہیں۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

مضامین
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

پاکستان بچاؤ! وجود اتوار 14 جون 2026
پاکستان بچاؤ!

دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں! وجود اتوار 14 جون 2026
دفن شدہ سچائیاں مردہ نہیں ہوتیں!

کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر