وجود

... loading ...

وجود

امریکی صدر پرحملے کی منصوبہ بندی کاانکشاف،تاریخی سیکورٹی کی تیاری

اتوار 15 جنوری 2017 امریکی صدر پرحملے کی منصوبہ بندی کاانکشاف،تاریخی سیکورٹی کی تیاری

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے 20 جنوری کو امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے موقع پر ان کو قتل کرنے کے منصوبے کے انکشاف کے بعد اب تقریب حلف برداری کے موقع پر امریکا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے زبردست حفاظتی انتظامات کیے جارہے ہیں۔اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے اہل خانہ اور دیگر مہمانوں جن میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت وحکومت بھی شامل ہوں گے ،کی حفاظت کے لیے نیشنل گارڈز کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کی تقریب میں شرکت کے لیے آمدورفت کے راستوں کو بھی آخر وقت تک خفیہ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
واشنگٹن ایگزامنر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے پیش نظر تقریب حلف برداری کے موقع پر شہر اوراس کے نواح میں 5ہزار فوجی اور سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ ان پر کسی ممکنہ قاتلانہ حملے کی صورت میں ان کو بچانے کے لیے سیکڑوں چاق وچوبند اور ماہر نشانہ باز اہلکار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اہل خانہ کے گرد گھیرا ڈالے رہیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل بائوسٹر نے گزشتہ روز امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میںکہا کہ سیکورٹی خدشات کے باوجود شہر میں تقریب حلف برداری کے حوالے سے پوری تیاریاں کرلی گئی ہیں اور شہر اس تقریب کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے شہر اور معز ز مہمانوں کی حفاظت کے لیے امریکا کی تاریخ کی سب سے بڑی تیاریاں کی ہیں اور تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر سیکرٹ سروس کے اسپیشل ایجنٹ بریان ایبرٹ نے کہا کہ واشنگٹن کا فیلڈ آفس حلف برداری کی اس تقریب کے لیے پوری طرح تیا ر ہے اور اس تقریب کے لیے تمام تر تیاریاں کرلی گئی ہیں،ہم ہر متوقع اور غیر متوقع واقعے کا سامنا اور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طورپر تیار ہیں۔سیکورٹی حکام نے بتایا کہ 5ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود مختلف سیکورٹی اداروں کے 3 ہزار اہلکار بھی اسٹینڈ بائی ہوں گے اورکسی بھی لمحے ان کو طلب کیاجاسکے گا۔انھوںنے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ میری ٹیم اور اس حوالے سے کیے جانے والے سیکورٹی کے انتظامات بہت کافی ہیںاور ہم ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے اور حالات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
شہر کی پولیس کے قائم مقام سربراہ پیٹر نیو شام نے دعویٰ کیا کہ شہر ہر طرح کے ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ہم سوشل میڈیا پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ امریکا 58 ویں صدر کی تقریب حلف برداری کے موقع پر گڑبڑ پھیلانے کاارادہ رکھنے والوں کی قبل از وقت نشاندہی کرکے انھیں گرفتار کیاجاسکے۔پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا پر یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم اس تقریب کو درہم برہم کرنے اور تقریب کو ملیامیٹ کرنے کے لیے آرہے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ہی انھوںنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہم اس طرح کی دھمکیوں اور ایسے عناصر سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی کو تقریب میں خلل ڈالنے کی ہمت نہیں ہوسکے گی۔ہم نے اس حوالے سے تمام انتظامات کررکھے ہیں۔
واشنگٹن ایگزامنر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس تقریب کے انعقاد کی تیاریوں کے لیے شہر کو مجموعی طورپر 30 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے جبکہ کانگریس نے اس کے لیے 19 ملین ڈالر کے اخراجات کی علیحدہ منظوری دے رکھی ہے۔میئر نے توقع ظاہر کی کہ تقریب پر آنے والے اخراجات کی بقیہ رقم وفاقی حکومت ادا کردے گی۔
واشنگٹن میں سیکورٹی فورسز اور میئر کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے موقع پر شہر کو ایک طرح سے سیل کردیاجائے گا اور نہ صرف یہ کہ شہر کے باہر سے آنے والے لوگوں کو تقریب کے مقام سے کافی دور رکھنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ تقریب کے مقام کے اردگرداورقرب وجوار میں رہنے والے لوگوں کی بھی مکمل چھان بین کی جارہی ہے اوران کو تقریب کے دوران گھروںمیں ہی رہنے ،غیر ضروری طورپر باہر نکلنے سے گریز کرنے اور تقریب والے دن یعنی 20 جنوری سے چند روز قبل ہی سے اجنبیوں کو گھر پر مدعو کرنے اور خاص طورپر اپنے گھروں پر قیام کی اجازت دینے سے گریز کریں،اور اس حوالے سے اگر کسی بھی حلقے کی جانب سے ان سے کسی طرح معاونت کی درخواست کی جائے تو اس کی اطلاع فوری طورپر شہر کی انتظامیہ ، پولیس یا سیکورٹی اداروں کو فراہم کریںتاکہ اس شہر کا امن بحال رہے اور شہر کے مکینوں کو کسی ناخوشگوارصورتحال کاسامنا نہ کرنا پڑے۔
سیکورٹی فورسز کے ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ شہر اور تقریب کے تحفظ کے حوالے سے تمام ممکنہ حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جن کی امریکا کی اب تک کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود سیکورٹی حکام مطمئن نظر نہیں آتے،اور وہ اتنے زبردست حفاظتی انتظامات کے باوجودکسی بھی غیر متوقع واقعے کے رونماہوجانے کے خدشے کے پیش نظر خوفزدہ نظر آرہے ہیں اور دن میں کئی کئی مرتبہ اجلاس بلاکر حفاظتی انتظامات کاجائزہ لینے کے ساتھ ہی اس میں بار بار ردوبدل بھی کررہے ہیں۔تاہم توقع کی جاتی ہے کہ اس موقع پر گڑبڑ پھیلانے کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر زبردست حفاظتی انتظامات اور تیاریاں دیکھ کر کسی مہم جوئی کی ہمت نہیں کریں گے اور یہ تقریب بحفاظت اختتام پذیر ہوجائے گی۔سیکورٹی فورسز کے ذرائع کاکہناہے کہ تقریب کے بحفاظت اختتام کے بعد بھیسیکورٹی خدشات پوری طرح ختم نہیں ہوں گے اور سیکورٹی فورسز کو ممکنہ خطرات کامقابلہ کرنے کے لیے بدستور الرٹ رہناپڑے گا کیونکہ تقریب میں گڑپھیلانے کا منصوبہ بنانے والے اپنے منصوبے میں ناکامی کے بعد کوئی اور آسان ہدف تلاش کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے، اوروہ کسی بھی وقت کہیں بھی کوئی واردات کرسکتے ہیں۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر