وجود

... loading ...

وجود

امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کا انکشاف

جمعه 13 جنوری 2017 امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کا انکشاف

امریکا کی تمام50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کے موجود اور فعال ہونے کے شواہد سامنے آگئے ہیں ،ان شواہد سے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کی ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے جس میں کہاگیاتھا کہ داعش نے امریکا میںاپنے پیر مضبوطی سے جمالیے ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے اپنی رپورٹ میں لکھاتھا کہ میرے دوستوں کے جمع کردہ اور ان کی جانب سے’’ ڈس اوبیڈینس میڈیا ڈاٹ کام ‘‘ میں شائع کرائے جانے والے شواہد سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کافعال نیٹ ورک موجود ہے۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھاتھا کہ اس بات کے شواہدموجود ہیں کہ نہ صرف یہ کہ داعش کانیٹ ورک پورے امریکا میں خطرناک حد تک فعال ہے بلکہ وہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کرنے اور تاریخ کی بدترین تباہی پھیلا نے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ داعش نے امریکا کی مختلف ریاستوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کررکھے ہیں جو کہ امریکا میں ان کی فوجی قوت کی موجودگی کا ایک ثبوت ہے، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ داعش مختلف ریاستوں میں قائم ان تربیتی کیمپوں کو جو کہ آپریشنز سینٹر/ سیلز کو فرنچائز کررہی ہے، رپورٹ میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ داعش کے قائم کردہ ان تربیتی مراکز سے عام آدمی بھی واقف ہیں لیکن میڈیا بوجوہ ان کو عوام سے چھپائے رکھنے کی کوشش کررہاہے، رپورٹ کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک تربیتی مرکز سے لوگ 1980سے واقف ہیں۔
دوسری جانب سین ہینی ٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ داعش نے امریکا میں جماعت الفقرا کے نام سے اپنا نیٹ ورک پھیلایاہے،اور اس جماعت کے دفاتر اور اڈے امریکا میں 35مقامات پر قائم ہیں، رپورٹ میںامریکا میں اسلامی جہادیوں جیسی فوجی تربیت کی ویڈیو فلمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ ’’نیوز سائٹ ڈبلیو این ڈی‘‘ کی رپورٹ میں ان کیمپوں کی تعداد کم از کم 22بتائی گئی ہے۔ کلیرین پراجیکٹ نے ایف بی آئی کے ڈاکومنٹس کے حوالے سے ایک رپورٹ دی ہے جس میں کہاگیاہے کہ 2014 میں ایف بی آئی نے بعض ایسی رپورٹوں اورحقائق کی بنیاد پر جن سے اس تنظیم کے بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونے یا اس کی تیاری کے حوالے سے سرگرمیوں کی بنیاد پر اس تنظیم کے خلاف تفتیش کی تھی۔یہ تفتیش ان کے کمپائونڈ میں فائرنگ کے تبادلے کے ایک اتفاقی واقعے کے بعد کی گئی تھی۔
رپورٹ میںانکشاف کیاگیا ہے کہ ٹیکساس میں جماعت الفقرا کا ایک کیمپ محمود برگ میں قائم ہے ۔ جماعت الفقرانے یہ جگہ خریدنے کے بعد یہاں اپنا کیمپ قائم کیاتھا۔رپورٹ کے مطابق جماعت الفقرا پاکستان میں قائم کی گئی ایک تنظیم ہے اور اس کا سربراہ مبارک علی گیلانی امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اورقتل میںمبینہ طورپر براہ راست ملوث تھا۔اس حوالے سے اس سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن اسے گرفتار نہیںکیاگیاتھا۔یاد رہے کہ ڈینیل پرل کو قتل کرنے والے گروہ کا تعلق عراق میں قائم القاعدہ سے تھا،جو کہ داعش کی اولین شکل تھی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے2002سے داعش کااس نیٹ ورک سے رابطہ تھا۔
ہینیٹی کی رپورٹ اور ڈبلیو این ڈی کی ویڈیو ز دونوں سے اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے کہ جماعت الفقرا نے اللہ کے سپاہی کے نام سے ایک ویڈیوتیار کی تھی جس میں مبارک علی گیلانی کو یہ کہتے سنا جاسکتاہے کہ دشمن کو نیست نابود کرنے کے لیے جنگ کررہے ہیں۔ ہم شیطان اور اس کی جڑوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور شیطان کی جڑ امریکا ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ نے جماعت الفقرا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیاہے۔ایسی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جن میں ان اسلامی جہادی نیم فوجی گروپوں کی فوٹیج دیکھی جاسکتی ہیں جن میں ان گروپوں کے بارے میں رپورٹیں اور فلمیں شامل ہیں۔
امریکا کی 50ریاستوں میں داعش کی موجودگی اور ان کے فعال ہونے کے حوالے سے ان انکشافات نے امریکی انٹیلی جنس کے اداروں کے علاوہ پوری انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب جبکہ چند دن بعد ہی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے کاحلف اٹھانے والے ہیں،امریکا کی ہرریاست میں داعش کی موجودگی کی خبریں امریکی سیکورٹی فورسز کے علاوہ خود ایف بی آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں، ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد امریکی سی آئی اے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کو تقویت ملے گی کہ امریکی سی آئی اے ایک ایسے سفید ہاتھی سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو خزانے سے بھاری تنخواہیں مراعات اور دیگر سہولتیں تو حاصل کرتاہے لیکن اس ادارے نے اب تک کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس پر فخر کیاجاسکے۔ امریکی سی آئی اے کے بارے میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کے حامی حلقوں کاکہناہے کہ سی آئی اے انٹیلی جنس کا وہ ادارہ ہے جو ہمیشہ کسی بڑی کارروائی اورتباہ کاری کے بعد ہوش میں آتا ہے۔اس حلقے کاکہنا ہے کہ اگر سی آئی اے واقعی فعال اور ملک کی سلامتی کے لیے کارآمد ہوتی تو شاید 9/11کاسانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اور امریکا کو عراق پر فوج کشی کرکے پوری دنیا میں رسوا نہ ہونا پڑتا۔
سی آئی اے کے مخالف حلقوں کاکہناہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے بعد ہوش میں آنے کے حوالے سے شہرت رکھنے والا یہ ادارہ بعد از وقت ہوش میں آنے کے بعد بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے کسی بڑے نیٹ ورک کو پکڑنے اورناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام آج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ، اور امریکی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔
دوسری طرف بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے صدارت سنبھالنے سے پہلے امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک خاص خوف کی فضا پیدا کررہی ہے جس کے لیے داعش کا نام استعمال کیا جار ہا ہے تاکہ اس خوف کی فضا میں نو منتخب صدر کو اپنی مرضی کے فیصلوں پر مجبور رکھا جائے۔ جہاں تک جماعت الفقراء اور مبارک علی گیلانی کے حوالے سے حقائق کا تعلق ہے تو ماضی میں بھی اس حوالے سے خاصی باتیں افسانوی رنگ میں بیان کی جاتی رہی ہیں مگر اس میں سے اکثر باتیں بعد ازاں غلط ثابت ہو ئی ہیں۔ اس لیے ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ ایک طرف امریکا او رداعش کے درمیان خفیہ تعلقات کے حوالے سے حقائق سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف اُسے خود امریکا کے لیے ایک خطرہ بنا کر بھی پیش کیا جارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر