وجود

... loading ...

وجود

شمسی توانائی کی لامحدود صلاحیت ،سرمایہ کاروں کو حکومت سے مایوسی

پیر 24 اکتوبر 2016 شمسی توانائی کی لامحدود صلاحیت ،سرمایہ کاروں کو حکومت سے مایوسی

کم وبیش 3000 میگاواٹ شمسی توانائی استعمال کرنے والے ایک ملین صارف موجود ہیں،ٹرانسمیشن لائنیں،ٹیرف اور پروجیکٹ کیلیے اراضی کے ڈیجیٹل نقشے نہ ہونے سے مسائل کا سامناہے
اگر حکومت نے صنعتکاروں اور کاشتکاروں کو کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کا فوری انتظام کرنے پرتوجہ نہ دی تو عالمی منڈی میں پاکستانی سرمایہ کار تجارت میں پیچھے رہ جائیں گے۔
solar-panels
اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان کی برآمدی آمدنی مسلسل زوال کاشکار ہے جس کی وجہ سے ملک کے تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ ہماری برآمدات میں کمی کاایک بڑا سبب عالمی منڈی میں پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا کی بڑے پیمانے پر متبادل کی دستیابی اور پاکستان کی تیار کردہ اشیا کی قیمتیں اسی طرح کی اشیا تیار کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کوئی ایسا سودا کرنا پسند نہیں کرتا جس پر اسے اسی جیسے دوسرے مال کی نسبت زیادہ ادائیگی پر مجبور ہونا پڑے ، دوسری طرف پاکستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں افرادی قوت بھی دیگر ممالک یہاں تک کہ پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت مہنگی ہے ،اس کے علاوہ پاکستان میں صنعتی خام مال پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں کی بہت زیادہ شرح ہونے کی وجہ سے خام مال بھی دیگر ملکوں کی نسبت مہنگا پڑتاہے ۔اس طرح پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتاہے اور اسے عالمی منڈی میں کم قیمت پر فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان میں تیار کردہ اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافے کے حوالے سے مذکورہ موقف اپنی جگہ بالکل درست ہے اور اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اگر حکومت نے صنعتکاروں اور کاشتکاروں کو کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کا فوری انتظام کرنے پرتوجہ نہ دی تو یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوسکے گی۔
موجودہ صورت حال میں حکومت کو فوری طورپر بجلی کے ایسے ذرائع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کے ذریعہ بھاری سرمایہ کاری اور تیل وگیس پر قیمتی زرمبالہ خرچ کیے بغیر کم قیمت پر بجلی حاصل کی جاسکے ، اس حوالے سے پاکستان میں سورج کی روشنی اور ہوا سے بجلی حاصل کرنے کے آپشن موجود ہیں ،پاکستان کے جغرافیائی محل وقو ع کے پیش نظر توانائی کے حصول کے یہ دونوں ذرائع ملک کو انتہائی کم قیمت پر بلا تعطل توانائی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وسیع وعریض میدانی اور پہاڑی علاقوں سے نوازا ہے جہاں کم وبیش پورے سال سورج چمکتارہتاہے اورقدرتی ہوا کی بھی کمی نہیں ہوتی اس لیے اب حکومت کو توانائی کے مہنگے ذرائع کے بجائے توانائی کے حصول کے ان قدرتی ذرائع پر توجہ دینی ہوگی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی لامحدود صلاحیت موجود ہے لیکن اب تک ہم صرف 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے گرڈ لگانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔2012 سے ونڈ پاور یعنی ہوا سے بجلی حاصل کرنے کی تجاویز کوپذیرائی ملنا شروع ہوئی اور اب تک 477 میگاواٹ کے پراجیکٹس کی منظوری دی جاچکی ہے جس سے قابل تجدید توانائی کی قابل عمل مارکیٹ کاپتہ چلتاہے۔
نیپرا نے گزشتہ دنوں 30جون 2018 تک کے لیے شمسی بجلی کے نئے ٹیرف کااعلان کیا ہے، اس تجارت میں موجود وسعت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن نے پاکستان میں قابل تجدید توانائی خاص طورپر شمسی توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی جاری کردہ ہینڈبک ’’ پاکستان میں سولر ڈیولپرز گائیڈ برائے سرمایہ کاری ‘‘ میں شمسی توانائی کے پراجیکٹس پر کام کرنے والوں اور اس کے ڈیولپرز کے لیے ترقیاتی طریقہ کار اور اس حوالے سے ان پر عاید ہونے والی قانونی اورریگولیٹری میکانزم کے حوالے سے مفید معلومات درج ہیں۔اس میں تیاری ،معاہدے اس کی منظوری اور اس کی تکمیل تک کے مراحل کے سلسلے میں ضروریات کی وضاحت کی گئی ہے۔
پاکستان میں قابل تجدید توانائی کی مستحکم سپورٹ سب سے پہلے 2006 میں سامنے آئی جب حکومت نے قابل تجدید توانائی کی ترقی اور اس کی تیاری کی پالیسی کااعلان کیا۔جس کے تحت ہوا سے توانائی ،شمسی توانائی اور50۔50 میگاواٹ تک کے چھوٹے پن بجلی کے منصوبوں کی اجازت دینا اور اس پر عملدرآمد کیاجاناتھا۔
اگرچہ پہلے اس شعبے میں پیش رفت بہت سست رہی لیکن گزشتہ 5سال کے دوران خاص طورپر ہوا ،پن بجلی اور شمسی توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔لیکن مئی 2015 تک پنجاب میں 100 میگاواٹ کے ایک گرڈ نے کام شروع کیاتھا۔
متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے دعویٰ کیاہے کہ 1111.4 میگاواٹ کے 35 منصوبے بورڈ کے تحت زیر تکمیل ہیں۔ جبکہ 10 ڈیولپرز کے ٹیرف کی منظوری دی جاچکی ہے اور ان میں سے 100۔100 میگاواٹ کے 3 پراجیکٹس نے بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط بھی کردیے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی جاری کردہ گائیڈ میں ان پراجیکٹس کی تکمیل کی راہ میں پیش آنے والے متوقع چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے بڑے اوراہم مسائل کے بارے میں سفارشات بھی درج ہیں۔گائیڈ لائن میں ٹائم لائن اورپالیسیوں کی غیریقینی صورتحال کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا گیاہے کہ پاکستان میں اب تک نجی شعبے کاکوئی شمسی آئی پی پی اب تک مکمل نہیں ہوسکاہے،خیال کیاجاتاہے کہ 2014 اور2015 کے دوران جن پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری دی گئی تھی وہ سینٹرل پاورپرچیز ایجنسی نے ٹیرف میں کمی کرانے کے انتظار میں روک رکھی ہے۔اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کودھچکا لگا ہے۔نیپرا نے یہ واضح کردیا ہے کہ سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کو اس کے مقرر کردہ ٹیرف کو تسلیم کرناہوگا جبکہ ڈیولپرز اپنے پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت میں مسلسل توسیع کررہاہے۔جبکہ سرکاری ادارے اس حوالے سے تعاون نہیں کررہے ہیں۔مزید یہ کہ اے ای ڈی بی اورصوبائی اداروں کی جانب سے جاری کردہ لیٹر آف انٹینٹ 2015 سے اس امید پر معلق ہیں کہ نیا ٹیرف متوقع ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے والے بین الاقوامی ڈیولپرز اور سرمایہ کاروں کو اگر کوئی ایسا مقامی پارٹنر نہیں ملتا جو اراضی تک رسائی رکھتاہو تو اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ پراجیکٹس کے لیے جگہ کی نشاندہی ہے۔کیونکہ شمسی توانائی کے پراجیکٹ کے لیے موزوں جگہ کی تلاش کے لیے وقت درکار ہوتاہے۔اچھے ڈیجیٹل نقشوں کی عدم دستیابی نے معاملات کو اور زیادہ مشکل تر بنادیاہے۔اے ای ڈی بی اور سندھ کی حکومت زمین کی نشاندہی کرکے اس پراسیس کو زیادہ سرمایہ کار دوست بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔
ٹرانسمیشن کے حوالے سے آئی ایف سی کی گائیڈ میں بتایاگیاہے کہ شمسی توانائی کے کئی منصوبے نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی میں زیر التواہیں اور ریگولیٹری کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ان کی معینہ وقت کے اندر پراسیسنگ نہیں ہوپارہی ہے۔
2006کی پالیسی کے تحت این ٹی ڈی سی کو گرڈ انٹرکنکشن فراہم کرناہے لیکن اس میں وقت لگتاہے اور اس کے لیے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔آئی ایف سی نے سفارش کی ہے کہ سرمایہ کار جتنی جلد ممکن ہو این ٹی ڈی سی سے رابطہ کریں اور ڈیولپرز کو ان کے اور مقامی کنسلٹنٹ کے ساتھ مل کر بجلی گھر قائم کرنے کے لیے ایسی انتہائی مناسب جگہ تلاش کریں جہاں ٹرانسمیشن لائنز کے لیے زیادہ تعمیرات کی ضرورت نہ ہو۔شمسی توانائی کے لیے تقسیم کردہ جگہ کے ساتھ ہی مارکیٹ بھی فروغ پذیر ہے ،بجلی کی قیمت میں اضافے اور گرڈ سپلائی کے ناقابل اعتماد نظام کے سبب زیادہ سے زیادہ صنعتی اور تجارتی ادارے شمسی توانائی کی طرف راغب ہورہے ہیں اور بڑے شہروں میں گھروں کی چھتوں پر فوٹووولٹک پینلز کی تنصیب کی دوڑ شروع ہوچکی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2013 کے دوران نجی شعبے میں 350 میگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے گئے۔
ایک میگاواٹ سے کم کے پراجیکٹ کے لیے ستمبر 2015 میں میٹروں کی تنصیب کے ریگولیشنز نافذ العمل ہوئے جبکہ اگلے برسوں کے دوران اس شعبے میں زبردست تیزی متوقع ہے۔پاکستان میں کم وبیش 3000 میگاواٹ شمسی توانائی استعمال کرنے والے ایک ملین صارف موجود ہیں۔
2006 کی پالیسی کے تحت شمسی توانائی کے پراجیکٹ لگانے والے براہ راست اپنی تیار کردہ بجلی کی فراہمی کے لیے صارفین اورعام ڈسٹری بیوشن کے لیے دوسری یوٹیلٹی اداروں سے براہ راست دوطرفہ معاہدے کرسکتے ہیں۔انھیں صرف ٹرانسمیشن لائنیں استعمال کرنے کے چارجز ادا کرناہوں گے۔لیکن ابھی تک شمسی توانائی کے کسی ادارے نے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ شمسی توانائی انرجی کے حصول کاایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ختم ہونے یا جس میں کمی آنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے،یہی نہیں بلکہ شمسی توانائی محفوظ کرنے اور پھر اسے ضرورت کے مطابق استعمال کرنے پر بہت زیادہ خرچ بھی نہیں آتا لیکن ہمارے ارباب اختیار ،کوئلے ، تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر تو کروڑوں روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن قدرت کی اس بیش بہا نعمت سے فائدہ اٹھا کر ملک کی صنعتوں، زرعی شعبوں اور غریب عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد میں ہمیشہ سے ٹال مٹول سے کام لیاجاتارہاہے۔
امید کی جاتی ہے کہ اب جبکہ ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے اور پاکستانی اشیا کو بیرون ملک قابل فروخت بنانے کے لیے ان کی پیدواری لاگت کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ارباب اختیار صنعتوں کو کم قیمت اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے سولر انرجی یعنی شمسی توانائی کے پلانٹ لگانے پر توجہ دیں گے اور شمسی توانائی کے چھوٹے بڑے یونٹس کی درآمد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیاجائے گا۔


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر