... loading ...
کم وبیش 3000 میگاواٹ شمسی توانائی استعمال کرنے والے ایک ملین صارف موجود ہیں،ٹرانسمیشن لائنیں،ٹیرف اور پروجیکٹ کیلیے اراضی کے ڈیجیٹل نقشے نہ ہونے سے مسائل کا سامناہے
اگر حکومت نے صنعتکاروں اور کاشتکاروں کو کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کا فوری انتظام کرنے پرتوجہ نہ دی تو عالمی منڈی میں پاکستانی سرمایہ کار تجارت میں پیچھے رہ جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان کی برآمدی آمدنی مسلسل زوال کاشکار ہے جس کی وجہ سے ملک کے تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ ہماری برآمدات میں کمی کاایک بڑا سبب عالمی منڈی میں پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا کی بڑے پیمانے پر متبادل کی دستیابی اور پاکستان کی تیار کردہ اشیا کی قیمتیں اسی طرح کی اشیا تیار کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کوئی ایسا سودا کرنا پسند نہیں کرتا جس پر اسے اسی جیسے دوسرے مال کی نسبت زیادہ ادائیگی پر مجبور ہونا پڑے ، دوسری طرف پاکستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا موقف ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں افرادی قوت بھی دیگر ممالک یہاں تک کہ پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت مہنگی ہے ،اس کے علاوہ پاکستان میں صنعتی خام مال پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں کی بہت زیادہ شرح ہونے کی وجہ سے خام مال بھی دیگر ملکوں کی نسبت مہنگا پڑتاہے ۔اس طرح پاکستان میں تیار ہونے والی اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتاہے اور اسے عالمی منڈی میں کم قیمت پر فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان میں تیار کردہ اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافے کے حوالے سے مذکورہ موقف اپنی جگہ بالکل درست ہے اور اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اگر حکومت نے صنعتکاروں اور کاشتکاروں کو کم قیمت پر بجلی کی فراہمی کا فوری انتظام کرنے پرتوجہ نہ دی تو یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوسکے گی۔
موجودہ صورت حال میں حکومت کو فوری طورپر بجلی کے ایسے ذرائع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کے ذریعہ بھاری سرمایہ کاری اور تیل وگیس پر قیمتی زرمبالہ خرچ کیے بغیر کم قیمت پر بجلی حاصل کی جاسکے ، اس حوالے سے پاکستان میں سورج کی روشنی اور ہوا سے بجلی حاصل کرنے کے آپشن موجود ہیں ،پاکستان کے جغرافیائی محل وقو ع کے پیش نظر توانائی کے حصول کے یہ دونوں ذرائع ملک کو انتہائی کم قیمت پر بلا تعطل توانائی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وسیع وعریض میدانی اور پہاڑی علاقوں سے نوازا ہے جہاں کم وبیش پورے سال سورج چمکتارہتاہے اورقدرتی ہوا کی بھی کمی نہیں ہوتی اس لیے اب حکومت کو توانائی کے مہنگے ذرائع کے بجائے توانائی کے حصول کے ان قدرتی ذرائع پر توجہ دینی ہوگی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی لامحدود صلاحیت موجود ہے لیکن اب تک ہم صرف 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے گرڈ لگانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔2012 سے ونڈ پاور یعنی ہوا سے بجلی حاصل کرنے کی تجاویز کوپذیرائی ملنا شروع ہوئی اور اب تک 477 میگاواٹ کے پراجیکٹس کی منظوری دی جاچکی ہے جس سے قابل تجدید توانائی کی قابل عمل مارکیٹ کاپتہ چلتاہے۔
نیپرا نے گزشتہ دنوں 30جون 2018 تک کے لیے شمسی بجلی کے نئے ٹیرف کااعلان کیا ہے، اس تجارت میں موجود وسعت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن نے پاکستان میں قابل تجدید توانائی خاص طورپر شمسی توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے گائیڈ لائن جاری کی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی جاری کردہ ہینڈبک ’’ پاکستان میں سولر ڈیولپرز گائیڈ برائے سرمایہ کاری ‘‘ میں شمسی توانائی کے پراجیکٹس پر کام کرنے والوں اور اس کے ڈیولپرز کے لیے ترقیاتی طریقہ کار اور اس حوالے سے ان پر عاید ہونے والی قانونی اورریگولیٹری میکانزم کے حوالے سے مفید معلومات درج ہیں۔اس میں تیاری ،معاہدے اس کی منظوری اور اس کی تکمیل تک کے مراحل کے سلسلے میں ضروریات کی وضاحت کی گئی ہے۔
پاکستان میں قابل تجدید توانائی کی مستحکم سپورٹ سب سے پہلے 2006 میں سامنے آئی جب حکومت نے قابل تجدید توانائی کی ترقی اور اس کی تیاری کی پالیسی کااعلان کیا۔جس کے تحت ہوا سے توانائی ،شمسی توانائی اور50۔50 میگاواٹ تک کے چھوٹے پن بجلی کے منصوبوں کی اجازت دینا اور اس پر عملدرآمد کیاجاناتھا۔
اگرچہ پہلے اس شعبے میں پیش رفت بہت سست رہی لیکن گزشتہ 5سال کے دوران خاص طورپر ہوا ،پن بجلی اور شمسی توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔لیکن مئی 2015 تک پنجاب میں 100 میگاواٹ کے ایک گرڈ نے کام شروع کیاتھا۔
متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے دعویٰ کیاہے کہ 1111.4 میگاواٹ کے 35 منصوبے بورڈ کے تحت زیر تکمیل ہیں۔ جبکہ 10 ڈیولپرز کے ٹیرف کی منظوری دی جاچکی ہے اور ان میں سے 100۔100 میگاواٹ کے 3 پراجیکٹس نے بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر دستخط بھی کردیے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی جاری کردہ گائیڈ میں ان پراجیکٹس کی تکمیل کی راہ میں پیش آنے والے متوقع چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے بڑے اوراہم مسائل کے بارے میں سفارشات بھی درج ہیں۔گائیڈ لائن میں ٹائم لائن اورپالیسیوں کی غیریقینی صورتحال کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا گیاہے کہ پاکستان میں اب تک نجی شعبے کاکوئی شمسی آئی پی پی اب تک مکمل نہیں ہوسکاہے،خیال کیاجاتاہے کہ 2014 اور2015 کے دوران جن پراجیکٹس کے لیے ٹیرف کی منظوری دی گئی تھی وہ سینٹرل پاورپرچیز ایجنسی نے ٹیرف میں کمی کرانے کے انتظار میں روک رکھی ہے۔اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کودھچکا لگا ہے۔نیپرا نے یہ واضح کردیا ہے کہ سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کو اس کے مقرر کردہ ٹیرف کو تسلیم کرناہوگا جبکہ ڈیولپرز اپنے پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے مقررہ مدت میں مسلسل توسیع کررہاہے۔جبکہ سرکاری ادارے اس حوالے سے تعاون نہیں کررہے ہیں۔مزید یہ کہ اے ای ڈی بی اورصوبائی اداروں کی جانب سے جاری کردہ لیٹر آف انٹینٹ 2015 سے اس امید پر معلق ہیں کہ نیا ٹیرف متوقع ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہونے والے بین الاقوامی ڈیولپرز اور سرمایہ کاروں کو اگر کوئی ایسا مقامی پارٹنر نہیں ملتا جو اراضی تک رسائی رکھتاہو تو اس کے لیے ایک بڑا مسئلہ پراجیکٹس کے لیے جگہ کی نشاندہی ہے۔کیونکہ شمسی توانائی کے پراجیکٹ کے لیے موزوں جگہ کی تلاش کے لیے وقت درکار ہوتاہے۔اچھے ڈیجیٹل نقشوں کی عدم دستیابی نے معاملات کو اور زیادہ مشکل تر بنادیاہے۔اے ای ڈی بی اور سندھ کی حکومت زمین کی نشاندہی کرکے اس پراسیس کو زیادہ سرمایہ کار دوست بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔
ٹرانسمیشن کے حوالے سے آئی ایف سی کی گائیڈ میں بتایاگیاہے کہ شمسی توانائی کے کئی منصوبے نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی میں زیر التواہیں اور ریگولیٹری کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ان کی معینہ وقت کے اندر پراسیسنگ نہیں ہوپارہی ہے۔
2006کی پالیسی کے تحت این ٹی ڈی سی کو گرڈ انٹرکنکشن فراہم کرناہے لیکن اس میں وقت لگتاہے اور اس کے لیے فنڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔آئی ایف سی نے سفارش کی ہے کہ سرمایہ کار جتنی جلد ممکن ہو این ٹی ڈی سی سے رابطہ کریں اور ڈیولپرز کو ان کے اور مقامی کنسلٹنٹ کے ساتھ مل کر بجلی گھر قائم کرنے کے لیے ایسی انتہائی مناسب جگہ تلاش کریں جہاں ٹرانسمیشن لائنز کے لیے زیادہ تعمیرات کی ضرورت نہ ہو۔شمسی توانائی کے لیے تقسیم کردہ جگہ کے ساتھ ہی مارکیٹ بھی فروغ پذیر ہے ،بجلی کی قیمت میں اضافے اور گرڈ سپلائی کے ناقابل اعتماد نظام کے سبب زیادہ سے زیادہ صنعتی اور تجارتی ادارے شمسی توانائی کی طرف راغب ہورہے ہیں اور بڑے شہروں میں گھروں کی چھتوں پر فوٹووولٹک پینلز کی تنصیب کی دوڑ شروع ہوچکی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2013 کے دوران نجی شعبے میں 350 میگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے گئے۔
ایک میگاواٹ سے کم کے پراجیکٹ کے لیے ستمبر 2015 میں میٹروں کی تنصیب کے ریگولیشنز نافذ العمل ہوئے جبکہ اگلے برسوں کے دوران اس شعبے میں زبردست تیزی متوقع ہے۔پاکستان میں کم وبیش 3000 میگاواٹ شمسی توانائی استعمال کرنے والے ایک ملین صارف موجود ہیں۔
2006 کی پالیسی کے تحت شمسی توانائی کے پراجیکٹ لگانے والے براہ راست اپنی تیار کردہ بجلی کی فراہمی کے لیے صارفین اورعام ڈسٹری بیوشن کے لیے دوسری یوٹیلٹی اداروں سے براہ راست دوطرفہ معاہدے کرسکتے ہیں۔انھیں صرف ٹرانسمیشن لائنیں استعمال کرنے کے چارجز ادا کرناہوں گے۔لیکن ابھی تک شمسی توانائی کے کسی ادارے نے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ شمسی توانائی انرجی کے حصول کاایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ختم ہونے یا جس میں کمی آنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے،یہی نہیں بلکہ شمسی توانائی محفوظ کرنے اور پھر اسے ضرورت کے مطابق استعمال کرنے پر بہت زیادہ خرچ بھی نہیں آتا لیکن ہمارے ارباب اختیار ،کوئلے ، تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر تو کروڑوں روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن قدرت کی اس بیش بہا نعمت سے فائدہ اٹھا کر ملک کی صنعتوں، زرعی شعبوں اور غریب عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد میں ہمیشہ سے ٹال مٹول سے کام لیاجاتارہاہے۔
امید کی جاتی ہے کہ اب جبکہ ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے اور پاکستانی اشیا کو بیرون ملک قابل فروخت بنانے کے لیے ان کی پیدواری لاگت کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ارباب اختیار صنعتوں کو کم قیمت اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لیے سولر انرجی یعنی شمسی توانائی کے پلانٹ لگانے پر توجہ دیں گے اور شمسی توانائی کے چھوٹے بڑے یونٹس کی درآمد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیاجائے گا۔
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...