وجود

... loading ...

وجود
منگل 21 اپریل 2026

گرین لینڈ کے گلیشیر پگھلنے لگے۔۔ پانی کے عالمی ذخائرخطرے میں

جمعه 07 اکتوبر 2016 گرین لینڈ کے گلیشیر پگھلنے لگے۔۔ پانی کے عالمی ذخائرخطرے میں

green-land-glaicersگرین لینڈ کے گلیشیئر جو پوری دنیا میں پانی کی مستقبل کی ضروریات کی تکمیل کے لیے امید کی ایک کرن کی حیثیت رکھتے ہیں مسلسل سکڑ رہے ہیں اور گلیشیئر سکڑنے کایہ عمل دنیا میں گرمی میں اضافے کے بعد سے نہیں شروع ہوا بلکہ گلیشیئر پگھلنے کا یہ عمل گزشتہ 100 سال یعنی ایک صدی سے جاری ہے۔ اس امر کا انکشاف ڈنمارک کے ماہرین کی جانب سے شائع کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی کے ماہرین 19 ویں صدی کے آخر سے اب تک مغربی گرین لینڈمیں اٹلانٹک جزیرے ڈسکو پر تجربات کرتے رہے ہیں۔ اپنے ان تجربات اور مشاہدات کے بعد انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دنیا نے مستقبل میں پانی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے جن گلیشیئر ز پر تکیہ کیا ہوا ہے وہ جن پتّوں پہ تھے وہی ہوا دینے لگے ہیں۔۔ یعنی بتدریج گھلتے جارہے ہیں، سکڑتے جارہے ہیں اور ان کے گھلنے اور سکڑنے کا یہ عمل گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے اور اس عمل کو روکنا فی الوقت ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔
ماہرین کی ٹیم نے جس میں ماہر ارضیات جیکب کلیمنٹ اور نیل ٹویس کنڈ سن شامل تھے ، گلیشیئرپگھلنے کی یہ روح فرسا خبر ڈسکو جزیرے پر 247 سے 350 گلیشیئرز کے مشاہدے کے بعد جاری کی ہے ۔انھوں نے ڈسکو جزیرے پر گلیشیئر کی نقل وحرکت کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ رائے قائم کی ہے کہ یہ گلیشیئر بتدریج پگھل رہے ہیں اور ان کی نقل وحرکت میں تیزی آتی جارہی ہے۔19 ویں صدی کے نقشوں اور مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی تازہ ترین تصاویر کے جائزے کے بعد ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ 70 فی صد گلیشیئر 1880 سے مسلسل پگھل رہے ہیں اور اس کی وجہ سے سالانہ 8 میٹر کی شرح سے سکڑتے جارہے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ ہم نے گرین لینڈ کے جزیرے ڈسکو میں گلیشیئر سے ڈھکے ہوئے 95 فیصد علاقے کا جائزہ لیا ہے ۔اس جائزے کے دوران ظاہر ہونے والے نتائج سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف ڈسکو جزیرے کے گلیشیئر بلکہ پورے گرین لینڈ کے گلیشیئر اسی رفتار سے پگھل رہے ہیں اور بتدریج سکڑتے جارہے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار 1964 سے 1985 کے دوران سب سے زیادہ رہی اور اس دوران ان گیلیشیئر ز کے حجم میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی ۔
ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ 1920 سے 1930 کے دوران یعنی 10 سال کے عرصے میں گرین لینڈ کے درجہ حرارت میں3 سے 4 درجہ سینٹی گریڈ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ 1995 کے بعد درجہ حرارت میں شدت کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں برف پگھلنے کی رفتار بھی بڑھ گئی۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ اگلے برسوں کے دوران گلیشیئر کے پگھلنے کا عمل اور بھی زیادہ تیز ہوجانے کا خدشہ ہے اور اس طرح یہ گلیشیئر اور زیادہ تیزی کے ساتھ ختم ہونا شروع ہوجائیں گے ۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ 19 ویں صدی کے بعد گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافے کا بنیادی سبب ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی طور پر گرمی کی شدت میں اضافہ ہے جس کابنیادی سبب آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹ پڑنا اور دیگر متعلقہ عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ گرمی کی شدت میں اضافے کا ایک بڑا سبب انسانی عمل بھی ہے جس میں گرین ہاؤسز کی گیس اور کارخانوں سے نکلنے والی گرمی ہے جس میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے اس کو جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت میں کمی آتی جارہی ہے ۔اور اس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اس سے نہ صرف ماحول میں تبدیلی آرہی ہے بلکہ انسان کے استعمال کے پانی کے وسائل مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔
ماہرین نے اپنے جائزے میں بتایا ہے کہ دنیا کے بعض دوسرے علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے اور بہت سے گلیشیئر50 میٹر یومیہ کی رفتار سے سکڑ رہے ہیں یعنی پگھل رہے ہیں۔جبکہ اس سے پہلے ان کے سکڑنے یاپگھلنے کی شرح 20 میٹر سالانہ تھی ماہرین نے بتایا کہ ہم نے مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر اور جمع کردہ اعدادوشمار کی روشنی میں یہ پتہ چلایا ہے کہ دنیا کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی گلیشیئر موجود ہیں جو بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے ان گلیشیئر کی تعداد کا اندازہ 20 لگایا گیا تھا لیکن اب ان کی تعداد کا تخمینہ 75 لگایا گیا ہے ۔
بڑھتی گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی اطلاع دینے والے ڈنمارک کے دونوں ماہرین نے اپنی یہ رپورٹ گزشتہ دنوں کیمبرج میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پیش کی تھی اور اب اس رپورٹ کی روشنی میں کیمبرج یونیورسٹی اور دوسری یونیورسٹیوں کے ماہرین اس تحقیق اور ریسرچ کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

مضامین
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار وجود منگل 21 اپریل 2026
بھارتی فوجی بدترین ذہنی دباؤ کا شکار

انسان ہونا آسان نہیں! وجود منگل 21 اپریل 2026
انسان ہونا آسان نہیں!

مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ وجود منگل 21 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت اور توانائی کی جنگ

آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر