وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کی ہمشیرہ کی گاڑی کی ٹکر کا معاملہ: حکمران اشرافیہ مکمل ننگی ہوگئی!

هفته 02 جولائی 2016 عمران خان کی ہمشیرہ کی گاڑی کی ٹکر کا معاملہ: حکمران اشرافیہ مکمل ننگی ہوگئی!

dr-uzma

عمران خان کی ہمشیرہ نے آج ذرائع ابلاغ کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ میں بچوں کے ہمراہ گلبرگ سے گزر رہی تھی اس دوران میں ایک وی آئی پی شخصیت کے اسکواڈ میں شامل پولیس وین نے سامنے سے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری جس پر میں گاڑی سے اتری تو ہمیں سڑک سے ایک طرف ہٹا دیا گیا اور مسلح اہلکاروں نے مجھ پر اور بچوں پر بندوقیں تان لیں۔ انہوں نے کہا کہ پروٹوکول میں شامل دوسری گاڑی ہمارے قریب آکر رکی جس میں سوار اہلکاروں نے ہمیں ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے خود پروٹوکول والوں سے استفسار کے نتیجے میں اُن کی جانب سے کیے گیے دعوے کے مطابق یہ دعویٰ بھی کردیا کہ مذکورہ پروٹوکول دراصل وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا تھا۔ جو واقعاتی طور پر غلط نکلا۔ کیونکہ مذکورہ پروٹوکول دراصل ایک دعوے کے مطابق فریال ٹالپور کا تھا جو اُس وقت لاہور میں موجود تھیں اور اُنہیں آزاد کشمیر پولیس کی طرف سے پروٹوکول مہیا تھا۔ جبکہ ایک دوسرے کے دعوے کے مطابق یہ پروٹوکول صدرآزاد کشمیر سردار یعقوب کا تھا۔ اس بات کو تقویت عاصم گجر کے ذرائع ابلاغ کے سامنے دیئے گیے بیان سے ملی کہ دوپہر میں صدر آزاد کشمیر سردار یعقوب میرے گھر والدہ کی تعزیت کرنے آئے تھے اور ان کے ساتھ ان کا اسکواڈ تھا اور ڈاکٹرعظمیٰ کے ساتھ مبینہ طور پر میرے گھر کے باہر بدتمیزی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سرداریعقوب کی سیکیورٹی نے ڈاکٹرعظمیٰ کی گاڑی کو روکا تاہم گاڑی کو کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ان کی شکایت پر میرے بیٹے نے باہرآکر معذرت کی اور نقصان پورا کرنے کا کہا۔ عاصم گجر کا کہنا تھا انہیں یہ واقعہ میڈیا کے ذریعے پتہ چلا اور صدر آزاد کشمیرسردار یعقوب کے ساتھ فریال تالپور نہیں تھیں جب کہ ہم میں سے کسی نے نہیں کہا کہ یہ مریم نواز کا پروٹوکول تھا۔

اس ایک واقعے کے آئینے میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا مکمل چہرہ عریاں ہو کر سامنے آجاتا ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ ٹکر اس لیے ذرائع ابلاغ کے سامنے اہمیت اختیار کر گئی کیونکہ یہ کسی اور کی گاڑی کو نہیں بلکہ عمران خان کی بہن کی گاڑی کو لگی تھی۔ روزانہ پاکستانی عوام ایسے پروٹوکول سے ہونے والی ٹکروں کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ کوئی خبر نہیں ہوتی۔ حکران اشرافیہ مغربی ممالک میں خود کو سڑکوں پر گاڑیوں کے انتظار میں تنہا کھڑے پاتے ہیں مگر پاکستان میں وہ کسی بھی طرح “انسان بننے” کو تیار نہیں۔ ایک دوسرا رویہ ردِ عمل کی سطح پر عمران خان سے متعلق سامنے آتا ہے۔ جو لاہور ہی نہیں ملک کے چپےچپے میں وقوع پزیر ہونے والے اس طرح کے پروٹوکول کے تماشوں سے آگاہ ہیں۔ مگر اُن کی غیرت دراصل بہن کی گاڑی کو ہونے والی ٹکر سے جاگی۔ وہ اِسے ایک مسئلہ بنا کر ملکی سطح پر ایک ہم آہنگ اقدام کی طرف کیوں نہیں لے جاتے؟ اور ملک سے پروٹوکول کی اس لعنت کو ختم کرنے کی مہم برپاکیوں نہیں کرتے؟ مگر عمران خان نے اپنی ہمشیرہ کی گاڑی کو لگنے والی ٹکر پر ردِ عمل کو دیتے ہوئے کسی بھی نوعیت کی ذہانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور سرے سے کوئی چھان بین کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اور صاف لفظوں میں اِسے مریم نواز کے پروٹوکول سے ہونے والی واردات مان لیا۔ اور اس کا جذباتی اظہار بھی کردیا۔ ظاہر ہے کہ اِسے حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے ہر طرح سے استعمال کرنا تھا۔ اور نون لیگ نے مسئلے کی نوعیت پر بات کرنے کے بجائے اسے سیدھا عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کافیصلہ کیا اور اپنے کرائے کے بھونپوؤں اور اپنے مالیاتی طور پر رہین منت ذرائع ابلاغ سے اس پروپیگنڈے کا پرچار شروع کرادیا کہ عمران خان اور اُن کی بہن کا دعویٰ غلط نکلا۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پروٹوکول کس کاتھا؟ بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ پروٹوکول نے ٹکر ماری۔ ٹکر کے مسئلے کو یہاں بالکل نظر انداز کرکے اسے مریم نواز کا پروٹوکول نہ ہونے کے مسئلے سے منسلک کرکے عمران خان کے لیے “جھوٹا” کے الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیئے۔

حکمران اشرافیہ کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی بالادستی کی جنگ کے سامنے عوامی مسائل پر کوئی توجہ دینے کو ہی تیار نہیں۔ ان کے لیے اصل مسئلہ اپنے ہاتھ میں طاقت کی رسیوں کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے، تاکہ وہ بوقت ضرورت ایک دوسرے کے خلاف کھینچی جاسکی۔ اس کھیل میں عوام اور پروٹوکول کا وہ دیرینہ مسئلہ مکمل نظرانداز ہو رہا ہے جو ایک طویل عرصے سے مختلف حادثات کا باعث بنتا آرہا ہے۔

دوسری جانب سی سی پی او لاہور امین وینس اور ڈی آئی جی آپریشنزعاصم گجر کے گھر پہنچے اور ان سے ڈیڑھ گھنٹے تک اس حوالے سے بات کرتے رہے جس میں پولیس افسران نے ڈاکٹرعظمی ٰکے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر پوچھ گچھ بھی کی جب کہ عاصم گجر نے سرکاری فون پرسی سی پی او کی سردار یعقوب سے بات بھی کرائی۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور امین وینس کا کہنا تھا کہ عاصم گجر کے گھر آنے والی شخصیات کے ساتھ پنجاب پولیس نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ کے ساتھ بدتمیزی کی تحقیقات کررہے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اس سلسلے میں آزاد کشمیر پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اس سے قبل عمران خان کی بہن ڈاکٹرعظمیٰ کا اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا وہ بچوں کے ہمراہ گلبرگ سے گزر رہی تھی اس دوران ایک وی آئی پی شخصیت کے اسکواڈ میں شامل پولیس وین نے سامنے سے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری جس پر میں گاڑی سے اتری تو ہمیں سڑک سے ایک طرف ہٹا دیا گیا اور مسلح اہلکاروں نے مجھ پر اور بچوں پر بندوقیں تان لیں اور پروٹوکول میں شامل دوسری گاڑی ہمارے قریب آکر رکی جس میں سوار اہلکاروں نے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر عظمی کا کہنا تھا کہ جب میں نے پوچھا یہ کون سی وی آئی پی شخصیت ہیں جس پروٹوکول میں سے کسی نے بتایا کہ یہ مریم نواز ہیں، گاڑیاں جس گھر میں رکی انہوں نے بھی کہا کہ مریم نواز آرہی ہیں اور گھر والوں نے یہ بھی کہا ہم آپ کا نقصان پورا کردیں گے۔

ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس پر افسوس ہے لیکن اس وقت میں اسلام آباد میں تھی اور وہیں یہ خبر سنی جب کہ میں اسلام آباد سے شام ساڑھے 4 بجے لاہور پہنچیں۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی لکھا کہ جھوٹوں کو رمضان میں تو کم از کم جھوٹ بولتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر