وجود

... loading ...

وجود

حساب مانگنے پر عطاء الحق قاسمی نے سرکاری افسر کو دھمکیاں دیں!

اتوار 29 مئی 2016 حساب مانگنے پر عطاء الحق قاسمی نے سرکاری افسر کو دھمکیاں دیں!

attaul-haq-qasmi-yasir-pirzada

عطاء الحق قاسمی کے فرزند ارجمند یاسر پیر زادہ نے مدیر اعلیٰ وجود کو اپنے دھمکی آمیز فون میں یہ بھی پوچھا تھا کہ اُن کے پاس اس رپورٹ کا ثبوت کیا ہے؟ عام طور پر اس قسم کا سوال ایک بدعنوان طبیعت کے حامل شخص کی زبان سے جب نکلتا ہے ، تو مراد ثبوت کو سمجھنا یا جاننا نہیں بلکہ دوسرے کو دباؤ میں لینے کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وگرنہ اس نوع کے سوال کے بعد تو ایک سنجیدہ گفتگو کا آغاز ہونا چاہیئے۔ مگر یاسر پیرزادہ نے “ذرا ہٹ کے ” رویہ اختیار کیا۔ اُنہوں نے کج بحثی کے ساتھ دھمکیاں دینا شروع کردی۔ وجود ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے اب اس پورے خاندان کی تاریخی بددیانتیوں کی سلسلہ وار داستان کو ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ یہ خاندان تاریخی طور پر کتنے بڑے جرائم کا حصہ دار رہا ہے۔

اہل قلم کانفرنس کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی کی جانب سے محکمہ خزانہ پنجاب سے نکلوائی گئی رقم کوئی افسانہ نہیں ایک حقیقت ہے مگر یہ رقم اہل قلم میں کتنی تقسیم ہوئی اس پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات ہیں۔ یہی سوالات محکمہ خزانہ پنجاب کے افسران نے بھی اپنے سرکاری کاغذوں میں بجا طور پر اُٹھائے ہیں۔ مگر وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی دستاویز ات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاسمی خاندان نے محکمہ خزانہ پنجاب کے افسروں کو بھی اپنے بھاری بھرکم صحافتی حجم سے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی۔ جنہیں مذکورہ افسران نے سرکاری کاغذوں کا حصہ بنا کر اس خاندان کے کردار کی پوری وضاحت کردی ہے۔ ان کاغذات سے ثابت ہوتا ہے کہ یاسر پیرزادہ نے جو رویہ مدیر اعلیٰ وجود کے ساتھ اختیار کیا ، دراصل یہ رویہ وہ اس معاملے میں دوسروں کے ساتھ اختیار کرکے بھی اُنہیں ڈرا دھمکا چکے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کا مذہبی زاویہ بُن کر یاسر پیرزادہ نے ہزاروں صفحات کالے کیے ہیں۔ مگر یہ رویہ خود اُن کے اندر غیر مذہبی اقدار کی آب وتاب میں کیسے پروان چڑھا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اُن کے خاندان کی تین گزشتہ نسلوں کی نفسیات کو ٹٹول کر ہی ڈھونڈا جاسکے گا۔ یہاں تو صرف اتنا عرض ہے کہ

کہاں تک آندھیوں کے غیظ سے آنکھیں لڑاؤ گے

عطاء الحق قاسمی کی طرح پھکڑ پن نہیں بلکہ حقیقی ہجو اور طنز کے اُس عظیم رومن شاعر جوئینل کے الفاظ ان کے کردار کی حقیقت کو بے نقاب کردیتے ہیں کہ

“گناہ ، نیکی کے لباس میں بھی دھوکا دے سکتا ہے۔”

مراسلے کے مطابق متعلقہ افسر کو یہ دھمکی دی گئی “اگر تو میرے خلاف حرکتوں سے تائب نہ ہواتو عنقریب تیرا اکلوتا بیٹا تیرے نام کے ساتھ مرحوم لکھا کرے گا۔اور تیری خاطرسی ایس ایس کی افسری قربان کرنے والی تیری بیگم کو لوگ بیوہ کہنا شروع کردیں گے۔

یاسر پیرزادہ کے والد محترم کا عرصہ دراز سے یہی شعار رہا ہے۔ اور اُس کے ثبوت کے طور پر لاہور میں بہت سے لوگوں کے حالات زندگی پر منفی طور پر اثرانداز ہونے والے عطاء الحق قاسمی کی بہت سے کہانیاں پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر آج صرف اہل قلم کانفرنس کے نام پر نکالی جانے والی رقم کا وہ مرثیہ پیش کیا جارہا ہے جو اس سے متعلقہ ایک سرکاری افسر نے اپنے ایک مراسلے میں تفصیل سے تحریر کیا ہے۔

محکمہ خزانہ حکو مت پنجاب کے ایڈیشنل سیکریٹری علی حسین ملک نے ایک مراسلہ 24 فروری 2014 ء کو تحریر کیا تھا۔ جس کا عنوان ہی “ہدایت برائے فراہمی رسید وصولی اعزازیہ ” تھا۔ یہ مراسلہ 23تا 25 نومبر 2013 میں منعقد ہونے والی چوتھی الحمرا عالمی ادبی وثقافتی کانفرنس کے حوالے سے رقوم کی تقسیم میں رسیدوں کی فراہمی کی ناکامی کے متعلق تھا۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عطاء الحق قاسمی حکومت پنجاب کے عطا کردہ دس کروڑ روپوں میں سے مبلغ چار کروڑ انتیس لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو کاحساب دینے میں مکمل ناکام ہو گئے تھے۔جس پر محکمے نے اُنہیں حساب فہمی کے لیے ایک خط لکھا ۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پر عطاء الحق قاسمی نے بجائے حساب دینے کے ایک کالم لکھ کر احتجاج کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے اپنے ہمنواؤں سے بھی کالم لکھوائے۔ مذکورہ مراسلہ عطاء الحق قاسمی کے طریقہ واردات کی پوری وضاحت کرتا ہےکہ عطاء الحق قاسمی نے محکمے کی طرف سے حساب طلبی پر اُنہیں دباؤ میں لینے کے لیے وزیراعظم کو منت سماجت کرکے اپنے پرائیوٹ دفتر میں بلواکر اُس کی خبریں چھپوائیں۔ یہاں تک کہ متعلقہ افسر کو دھمکی دی گئی۔ اس دھمکی کے الفاظ مراسلے کے مطابق یہ تھے کہ “اگر تو میرے خلاف حرکتوں سے تائب نہ ہواتو عنقریب تیرا اکلوتا بیٹا تیرے نام کے ساتھ مرحوم لکھا کرے گا۔اور تیری خاطرسی ایس ایس کی افسری قربان کرنے والی تیری بیگم کو لوگ بیوہ کہنا شروع کردیں گے۔”

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محکمہ خزانہ کے جو افسر عطاء الحق قاسمی سے حساب مانگ رہے تھے، تو اس کا سیدھا سادہ طریقہ یہ تھا کہ وہ حساب دیتے۔ مگر اُنہوں نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ عطاء الحق قاسمی کے اس رویئے کی وضاحت خو دیاسر پیرزادہ کے ہی 28 فروری 2016 کو لکھے گئے ایک کالم کے مندرجہ ذیل ابتدائی چند فقروں سے ہوتی ہے جو اُنہوں نے “پاکستانیوں کی بحث کے فارمولے” کے عنوان سے لکھا تھا:

“ایک کسان کھیتوں میں ہل چلارہا تھا، قریب سے ایک شخص گزرا، اس نے نوٹ کیا کہ کسان کے ہل چلانے کی سمت سیدھی نہیں، سو اُس نے کسان کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کھیت میں قطار سیدھی بنے، جواب میں کسان نے کہا “تم اپنا منہ بند رکھو، مجھے پتہ ہے پچھلے برس تمہاری ۔۔۔ کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی!”

افسوس ناک طور پر عطاء الحق قاسمی سے پیسوں کا ہل سیدھا نہ چلانے پر جب اُنہیں حساب سیدھا رکھنے یا کرنے کا کہا گیا تو اُنہوں نے بدلے میں کسان والا ہی رویہ اختیار کرلیا۔ باپ تو باپ مگر بیٹے نے بھی باپ رے باپ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ۔ پوری قوم کے طریقہ بحث پر بحث کرنے والے یاسر پیرزادہ نے اپنے اور اپنے باپ کے انداز بحث کو ملاحظہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یہاں یہ نکتہ زیر بحث نہیں کہ جو مثال یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم میں پیش کی ہے ، اس کی وضاحت کے لیے اردو کے فصیح وبلیغ محاورے ، تاریخی حکایتیں اور زبردست قصے موجود ہیں۔ مگر آدمی اُن ہی مثالوں پر توجہ دیتا ہے جیسی اُس کی صحبت اور تربیت ہوتی ہے!!!!!!!

qasmi-letter


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر