وجود

... loading ...

وجود

حساب مانگنے پر عطاء الحق قاسمی نے سرکاری افسر کو دھمکیاں دیں!

اتوار 29 مئی 2016 حساب مانگنے پر عطاء الحق قاسمی نے سرکاری افسر کو دھمکیاں دیں!

attaul-haq-qasmi-yasir-pirzada

عطاء الحق قاسمی کے فرزند ارجمند یاسر پیر زادہ نے مدیر اعلیٰ وجود کو اپنے دھمکی آمیز فون میں یہ بھی پوچھا تھا کہ اُن کے پاس اس رپورٹ کا ثبوت کیا ہے؟ عام طور پر اس قسم کا سوال ایک بدعنوان طبیعت کے حامل شخص کی زبان سے جب نکلتا ہے ، تو مراد ثبوت کو سمجھنا یا جاننا نہیں بلکہ دوسرے کو دباؤ میں لینے کی متکبرانہ نفسیات ہوتی ہے۔ وگرنہ اس نوع کے سوال کے بعد تو ایک سنجیدہ گفتگو کا آغاز ہونا چاہیئے۔ مگر یاسر پیرزادہ نے “ذرا ہٹ کے ” رویہ اختیار کیا۔ اُنہوں نے کج بحثی کے ساتھ دھمکیاں دینا شروع کردی۔ وجود ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے اب اس پورے خاندان کی تاریخی بددیانتیوں کی سلسلہ وار داستان کو ثبوتوں اور شواہد کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ یہ خاندان تاریخی طور پر کتنے بڑے جرائم کا حصہ دار رہا ہے۔

اہل قلم کانفرنس کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی کی جانب سے محکمہ خزانہ پنجاب سے نکلوائی گئی رقم کوئی افسانہ نہیں ایک حقیقت ہے مگر یہ رقم اہل قلم میں کتنی تقسیم ہوئی اس پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات ہیں۔ یہی سوالات محکمہ خزانہ پنجاب کے افسران نے بھی اپنے سرکاری کاغذوں میں بجا طور پر اُٹھائے ہیں۔ مگر وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی دستاویز ات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاسمی خاندان نے محکمہ خزانہ پنجاب کے افسروں کو بھی اپنے بھاری بھرکم صحافتی حجم سے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی۔ جنہیں مذکورہ افسران نے سرکاری کاغذوں کا حصہ بنا کر اس خاندان کے کردار کی پوری وضاحت کردی ہے۔ ان کاغذات سے ثابت ہوتا ہے کہ یاسر پیرزادہ نے جو رویہ مدیر اعلیٰ وجود کے ساتھ اختیار کیا ، دراصل یہ رویہ وہ اس معاملے میں دوسروں کے ساتھ اختیار کرکے بھی اُنہیں ڈرا دھمکا چکے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی کا مذہبی زاویہ بُن کر یاسر پیرزادہ نے ہزاروں صفحات کالے کیے ہیں۔ مگر یہ رویہ خود اُن کے اندر غیر مذہبی اقدار کی آب وتاب میں کیسے پروان چڑھا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اُن کے خاندان کی تین گزشتہ نسلوں کی نفسیات کو ٹٹول کر ہی ڈھونڈا جاسکے گا۔ یہاں تو صرف اتنا عرض ہے کہ

کہاں تک آندھیوں کے غیظ سے آنکھیں لڑاؤ گے

عطاء الحق قاسمی کی طرح پھکڑ پن نہیں بلکہ حقیقی ہجو اور طنز کے اُس عظیم رومن شاعر جوئینل کے الفاظ ان کے کردار کی حقیقت کو بے نقاب کردیتے ہیں کہ

“گناہ ، نیکی کے لباس میں بھی دھوکا دے سکتا ہے۔”

مراسلے کے مطابق متعلقہ افسر کو یہ دھمکی دی گئی “اگر تو میرے خلاف حرکتوں سے تائب نہ ہواتو عنقریب تیرا اکلوتا بیٹا تیرے نام کے ساتھ مرحوم لکھا کرے گا۔اور تیری خاطرسی ایس ایس کی افسری قربان کرنے والی تیری بیگم کو لوگ بیوہ کہنا شروع کردیں گے۔

یاسر پیرزادہ کے والد محترم کا عرصہ دراز سے یہی شعار رہا ہے۔ اور اُس کے ثبوت کے طور پر لاہور میں بہت سے لوگوں کے حالات زندگی پر منفی طور پر اثرانداز ہونے والے عطاء الحق قاسمی کی بہت سے کہانیاں پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر آج صرف اہل قلم کانفرنس کے نام پر نکالی جانے والی رقم کا وہ مرثیہ پیش کیا جارہا ہے جو اس سے متعلقہ ایک سرکاری افسر نے اپنے ایک مراسلے میں تفصیل سے تحریر کیا ہے۔

محکمہ خزانہ حکو مت پنجاب کے ایڈیشنل سیکریٹری علی حسین ملک نے ایک مراسلہ 24 فروری 2014 ء کو تحریر کیا تھا۔ جس کا عنوان ہی “ہدایت برائے فراہمی رسید وصولی اعزازیہ ” تھا۔ یہ مراسلہ 23تا 25 نومبر 2013 میں منعقد ہونے والی چوتھی الحمرا عالمی ادبی وثقافتی کانفرنس کے حوالے سے رقوم کی تقسیم میں رسیدوں کی فراہمی کی ناکامی کے متعلق تھا۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عطاء الحق قاسمی حکومت پنجاب کے عطا کردہ دس کروڑ روپوں میں سے مبلغ چار کروڑ انتیس لاکھ انتالیس ہزار پانچ سو کاحساب دینے میں مکمل ناکام ہو گئے تھے۔جس پر محکمے نے اُنہیں حساب فہمی کے لیے ایک خط لکھا ۔ مراسلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پر عطاء الحق قاسمی نے بجائے حساب دینے کے ایک کالم لکھ کر احتجاج کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے اپنے ہمنواؤں سے بھی کالم لکھوائے۔ مذکورہ مراسلہ عطاء الحق قاسمی کے طریقہ واردات کی پوری وضاحت کرتا ہےکہ عطاء الحق قاسمی نے محکمے کی طرف سے حساب طلبی پر اُنہیں دباؤ میں لینے کے لیے وزیراعظم کو منت سماجت کرکے اپنے پرائیوٹ دفتر میں بلواکر اُس کی خبریں چھپوائیں۔ یہاں تک کہ متعلقہ افسر کو دھمکی دی گئی۔ اس دھمکی کے الفاظ مراسلے کے مطابق یہ تھے کہ “اگر تو میرے خلاف حرکتوں سے تائب نہ ہواتو عنقریب تیرا اکلوتا بیٹا تیرے نام کے ساتھ مرحوم لکھا کرے گا۔اور تیری خاطرسی ایس ایس کی افسری قربان کرنے والی تیری بیگم کو لوگ بیوہ کہنا شروع کردیں گے۔”

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محکمہ خزانہ کے جو افسر عطاء الحق قاسمی سے حساب مانگ رہے تھے، تو اس کا سیدھا سادہ طریقہ یہ تھا کہ وہ حساب دیتے۔ مگر اُنہوں نے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔ عطاء الحق قاسمی کے اس رویئے کی وضاحت خو دیاسر پیرزادہ کے ہی 28 فروری 2016 کو لکھے گئے ایک کالم کے مندرجہ ذیل ابتدائی چند فقروں سے ہوتی ہے جو اُنہوں نے “پاکستانیوں کی بحث کے فارمولے” کے عنوان سے لکھا تھا:

“ایک کسان کھیتوں میں ہل چلارہا تھا، قریب سے ایک شخص گزرا، اس نے نوٹ کیا کہ کسان کے ہل چلانے کی سمت سیدھی نہیں، سو اُس نے کسان کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کھیت میں قطار سیدھی بنے، جواب میں کسان نے کہا “تم اپنا منہ بند رکھو، مجھے پتہ ہے پچھلے برس تمہاری ۔۔۔ کس کے ساتھ بھاگ گئی تھی!”

افسوس ناک طور پر عطاء الحق قاسمی سے پیسوں کا ہل سیدھا نہ چلانے پر جب اُنہیں حساب سیدھا رکھنے یا کرنے کا کہا گیا تو اُنہوں نے بدلے میں کسان والا ہی رویہ اختیار کرلیا۔ باپ تو باپ مگر بیٹے نے بھی باپ رے باپ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ۔ پوری قوم کے طریقہ بحث پر بحث کرنے والے یاسر پیرزادہ نے اپنے اور اپنے باپ کے انداز بحث کو ملاحظہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یہاں یہ نکتہ زیر بحث نہیں کہ جو مثال یاسر پیرزادہ نے اپنے کالم میں پیش کی ہے ، اس کی وضاحت کے لیے اردو کے فصیح وبلیغ محاورے ، تاریخی حکایتیں اور زبردست قصے موجود ہیں۔ مگر آدمی اُن ہی مثالوں پر توجہ دیتا ہے جیسی اُس کی صحبت اور تربیت ہوتی ہے!!!!!!!

qasmi-letter


متعلقہ خبریں


بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

مضامین
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر