... loading ...

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کے منصوبے ڈی ایچ اے سٹی میں بھیانک بدعنوانیوں کی تحقیقات کا دائرہ پھیلاتے ہوئے ایڈن گروپ کے حماد ارشد کے ساتھ ساتھ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔ جبکہ کامران کیانی کے بیرون ملک ہونے کے باوجود اپنے روایتی اور بھونڈے طریقے سے نہ صرف اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کرلیا ہے بلکہ اُن کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے جیسے شرجیل میمن کی بیرون ملک یقینی موجودگی کے باوجود اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ بدعنوانی کے اس بڑے واقعے میں نیب کا یہ دعویٰ ہے کہ اُس نے اپنی تحقیقات کے نتیجے میں اب تک سترہ ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں۔
نیب کے دعوے کے مطابق ملزم حماد ارشد نے تقریباً چھبیس ہزار افراد کو پلاٹوں کا جھانسہ دے کر اُن سے اربوں روپے بٹورے جبکہ ملزم نے وصول کئے گئے اربوں روپے ڈی ایچ اے لاہور سٹی کے کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے اس رقم کو اپنے ذاتی کھاتے میں جمع کرا دیا۔ نیب کے مطابق ملزم نے جتنے لوگوں کو زمین کی فروخت کرکے پیسے بٹورے اُتنی اراضی ڈی ایچ اے لاہور سٹی کے پاس نہیں تھی۔
اس ضمن میں نیب نے ہفتے کے روز حماد ارشد کا مزید دو روز کا ریمانڈ لیا ہے۔ نیب اس پورے معاملے میں مرکزی ملزمان میں حماد ارشد کے ساتھ کامران کیانی کو بھی ملوث بتاتی ہے۔ اس ضمن میں بنیادی حقائق جاننے کے لئے جب وجود ڈاٹ کام نے کامران کیانی کے بھائی بریگیڈیئر امجد کیانی سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کافی دنوں سے کیانی برادران کے خلاف بالخصوص سوشل میڈیا پر انتہائی منظم انداز میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ ابتدا میں تو خاموش رہنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے اس خاموشی کو اعترافِ جرم سمجھا گیا۔ کیانی برادران کے بارے میں ان کی انفرادی اور جداگانہ حیثیت کے بجائے ہمیشہ اشفاق پرویز کیانی کے حوالے سے بات کی گئی، جیسے وہ ہمارے کفیل ہیں اور جو بھی ہم کرتے ہیں، یا نہیں بھی کرتے، تو ان کی اجازت اور مدد سے کرتے ہیں۔ اس تازہ معاملے میں کسی قانونی شہادت، دستاویزی ریکارڈ یا ثبوت تو کجا کسی معمولی سی جھوٹی موٹی گواہی تک پیش کیے گئے بغیر ہم پر سنگین الزامات دھرے گئے، جو سرے سے بے بنیاد ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اشفاق پرویز کیانی نہ ہی ہمارے کاروباری مفادات کی کفالت کرتے ہیں، اور نہ ہی ہمیں کوئی سہولیات دیتے ہیں۔
امجد کیانی نے کہا کہ تینوں کیانی برادران نے پاک فوج کے لیے خدمات انجام دی ہیں، اس کا رتبہ، عزت و احترام ہمارے خون میں دوڑ رہا ہے۔ اس لیے ہم پاک فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے، اور اس کے بعد بھی، بلا جھجک کسی بھی ادارہ جاتی جانچ کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ڈی ایچ اے لاہور اور نیب کے حوالے سے چند خبری چینلوں پر ایسے بیانات سامنے آئے ہیں، جن کا بنیادی نشانہ کامران کیانی ہیں، اس لیے ہم کچھ معاملات واضح کردینا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ڈی ایچ اے لاہور نے بھی اپنے جوائنٹ وینچر یعنی مشترکہ منصوبے کے بارے میں آج تمام بڑے اخبارات میں پبلک نوٹس شائع کیا ہے جو حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس منصوبے میں دو اہم شراکت دار ڈی ایچ اے لاہور اور ایڈن پرائیوٹ لمیٹڈ ہیں۔ کامران کیانی اس منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ 48 گھنٹوں میں میڈیا پر بارہا اس بات کو دہرایا گیا کہ کامران کیانی ایڈن سٹی کے حق میں معاہدے کے لیے سہولت کار تھے۔ یہ کام انہوں نے کس طرح کیا؟ میڈیا پر یہ کہا گیا اور بہت واضح اشارہ دیا گیا کہ انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بھائی ہونے کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔
بریگیڈیئر امجد کیانی نے کہا کہ ڈی ایچ اے سٹی جیسے حجم کے تمام بڑے منصوبے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز کی انتہائی اعلیٰ سطح پر چلائے جاتے ہیں اور منظور کیے جاتے ہیں۔ کیا کامران ڈی ایچ اے لاہور کے پورے نظامِ مراتب (hierarchy) پر اثر انداز ہوئے تھے؟ وہ بھی 2009ء سے اب تک؟ اس بات کا کوئی ثبوت بھی ہے؟ لیکن بجائے تحقیقات کا انتظار کرنے کے اسے پہلے ہی سے ایک حقیقت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پھر اس مشترکہ منصوبے میں ڈی ایچ اے لاہور سینئر شراکت دار ہے۔ تمام پلاٹ اور فائلیں جو مارکیٹ میں پیش کی گئیں، ڈی ایچ اے ہی نے جاری کی ہوں گی، ان کے علاوہ تو کوئی کر نہیں سکتا، کامران کیانی بھی نہیں۔
ایلیسیئم فارم ہاؤس کے معاملے پر امجد کیانی نے کہا کہ یہ ڈی ایچ اے اسلام آباد اور ایلیسیئم کے مابین 2009ء میں طے پانے والا ایک مشترکہ منصوبہ تھا۔ ایلیسیئم ہر گز کامران کیانی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کی ملکیت تو سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ہی واضح ہو چکی ہے جس میں ای او بی آئی کو پچاس پلاٹ ایلیسیئم کو واپس کرنے اور ایلیسیئم کو ایک ارب روپے ای او بی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ پھر ڈی ایچ اے اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ اسے 500 ملین روپے کا نقصان ہوا، جو مالکان کو زر تلافی کے طور پر دی گئی زمینوں کی 20 فائلوں کی لاگت ہے۔ جواب میں ایلیسیئم نے 6 ہزار کینال زمین ڈی ایچ اے کو دی جس کی مالیت 12 ارب روپے ہے۔
آخر میں امجد کیانی نے کہا کہ یہ بیان دینے کا مقصد دراصل درست سمت سے معاملات کو دکھانا ہے۔ اگر ہم پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو ہم ہر گز اس سے فرار اختیار نہیں کریں گے، اور پاکستان کے تمام شہریوں کی طرح ہر قسم کی جانچ کے لیے تیار ہیں۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...