... loading ...

کراچی میں امن وامان اور اقتدار کی رسہ کشی کا کھیل 7 دسمبر کی رات تک اپنے عروج پر رہا ۔ رینجرز کے سندھ میں قیام کی مدت میں توسیع کا معاملہ سندھ کی سائیں سرکار نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں حائل دشواریوں سے نتھی کرکے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے مشکل ترین بنا کر دکھایا ۔ وزیرا عظم میاں نوازشریف اپنی کابینہ کے دو اہم اراکین وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے ساتھ کراچی پہنچے۔ تو گورنر ہاؤس اہم ترین اجلاسوں کا مرکز بن گیا۔ کراچی میں ایک اجلاس اعلیٰ ترین عسکری قیادت کے درمیان ہوا ۔ جن میں فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل نوید مختار شریک ہوئے۔ اس اہم ترین اجلاس کا کراچی میں ذکر تو ہوا مگر ذرائع ابلاغ نے اس اجلاس کی متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا۔ اس کے برعکس وزیراعظم میاں نوازشریف اور قائم علی شاہ کے درمیان ہونے والے ایک انتہائی اہم اجلاس کے بارے میں ذرائع ابلاغ نے نہ صرف ہر قسم کی قیاس آرائیاں کی بلکہ اس کی اندرونی کہانیاں تک بیان کر ڈالی۔ ان دونوں اجلاسوں کے علاوہ ایک اجلاس وزیراعظم میاں نوازشریف کی سربراہی میں عسکری اور سول اداروں کے ساتھ وفاقی اور سندھ حکومت کے ذمہ داران کا ہوا۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔
اس مشترکہ اجلاس میں فوجی سربراہ نے اپنے عزم کو غیر مبہم الفاظ میں دہر ا دیا کہ کراچی آپریشن میں فورسز نے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب یہاں سے آپریشن کی سمت موڑی نہیں جاسکتی۔ وزیر داخلہ نے بھی عسکری قیادت سے ہم آہنگ ایک موقف اختیار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہو رہا ہے، جو ہر صورت میں جاری رہے گا۔ اگر اس سے کوئی ہمیں شکایتیں ہیں تو اس کا ذکر اس پلیٹ فارم پر کرنا چاہئے ذرائع ابلاغ میں کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ اس پر وزیر اعظم نے وزیراعلیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کوئی بات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں ۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے تحفظات کا کھلا ذکر کیا۔ اُنہوں نے وزیرداخلہ کو اپنی شکایتوں کا مرکز بناتے ہوئے اس پلیٹ فارم پر براہ راست فوجی اداروں کا ذکر کرنے سے یہاں گریز کیا، اور ایف آئی اے کا مسئلہ اُٹھا دیا۔ اُنہوں نے وزیرداخلہ کو کہا کہ اُنہوں نے ایف آئی اے کو خصوصی اختیارات دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف ایک ماہ کے لئے ہیں اوراُنہوں نے سندھ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ اس اجلاس میں قائم علی شاہ پہلی مرتبہ حاوی نظر آئے اور وزیرداخلہ اُن کے کسی سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں دے پائے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے براہ راست ایف آئی اے کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اُٹھائے جانے والی ہزاروں فائلوں کے بارے میں پوچھا کہ اُس پر اب تک کیا کارروائی ہوئی۔ وزیرداخلہ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ چوہدری نثار نے اس موقع پر بس اتنا کہا کہ وہ اس معاملے میں پوچھ کر بتائیں گے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے درمیان ون ٹوون ملاقات میں قائم علی شاہ نے سندھ حکومت کے اصل تحفظات کا ذکر کیا ۔ اورڈاکٹر عاصم حسین کا مسئلہ اُٹھا یا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رینجرز ڈاکٹر عاصم حسین کو تین ماہ تک اپنے پاس رکھ چکی ہے اور اب قانونی طور پر وہ پولیس کی تحویل میں ہیں اب رینجرز کو اُن سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے مگر وہ اُن سے جڑے ہر مسئلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر وزیراعلیٰ سے رینجرز کی مدت ِ قیام میں توسیع کے مسئلے کو حل کرنے کا کہا۔ جس پر قائم علی شاہ نے اس مسئلے کو حل کرنے کی حامی بھری مگر ڈاکٹر عاصم حسین کے مسئلے پر اُن سے ضمانت چاہی۔
فوجی اور سیاسی قوتوں کے مشترکہ اجلاس میں شریک ایک اہم افسر نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اس موقع پر خود کو ایک غیر جانب دار پوزیشن پر رکھا۔ اور کسی موقع پر بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ اُن کا کسی جانب جھکاؤ ہیں۔ جب مذکورہ افسر سے سوال پوچھا گیا کہ نوازشریف کی یہ پوزیشن دونوں فریقین کے لئے قابلِ قبول تھی یا نہیں ؟ اس پر مذکورہ افسر کا جواب نہایت دلچسپ تھا کہ اس پوزیشن کو جس فریق نے اپنے لئے پسند کیا ، یہ پوزیشن دراصل اُن کے حق میں سمجھی جانے چاہئے۔ وجود ڈاٹ کام نے سوال کیا کہ میاں نوازشریف کی اس پوزیشن کو کس نے پسند کیا ۔ تو اُنہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ کسی بھی شک کے بغیر یہ پوزیشن سائیں سرکار کے لئے پسندیدہ تھی۔
وجود ڈاٹ کام کواپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قائم علی شاہ نے رات گئے سابق صدر آصف علی زرداری سے ان تمام اجلاسوں کی روداد فون کرکے بیان کی ہے۔ جس کے بعد اُن دونوں رہنماؤں کے درمیان رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کے معا ملے پر بھی بات ہوئی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کا معاملہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔تاہم سندھ حکومت اس کے عوض ڈاکٹر عاصم حسین کے معاملے سے رینجرز کی” زبردستی پر مبنی دلچسپی ” ختم کرانے کی پوری کوشش کرے گی۔
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...