وجود

... loading ...

وجود

گیتا کے ساز پر پاک بھارت تعلقات کا سُر چھیڑنے والے پاکستانی ذرائع ابلاغ تاریخی حقائق سے بے خبر نکلے

بدھ 28 اکتوبر 2015 گیتا کے ساز پر پاک بھارت تعلقات کا سُر چھیڑنے والے پاکستانی ذرائع ابلاغ تاریخی حقائق سے بے خبر نکلے

dunya-geo

پاکستانی ذرائع ابلاغ نامعلوم وجوہات کی بناء پر بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی خواہشات کے مستقل اسیر رہے ہیں۔ مگر بھارت سے پاکستان کے ساتھ مسلسل توہین آمیز رویے اور طاقت ور حلقوں کی جانب سے جیو ٹیلی ویژن کو عبرت کا نشان بنائے جانے کے بعد قدرے محتاط ہو گئے تھے ۔ اس دوران میں پاکستانی گلوکاروں عاطف اسلم اور غزل گائیک غلام علی کے پروگرامات کی شیوسینا کی دھمکیوں کے بعد منسوخی نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بھارت کی مذمت پر مجبور کئے رکھا۔ بعد ازاں شیوسینا نے خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر خود بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بھارتی منتظم اور صحافی سدھیندر کلکرنی کے چہرے پر کالک پوٹ دی۔ اور پاک بھارت کرکٹ کی طے شدہ سیریز پر بات چیت کے لیے پی سی بی کے حکام کو بھارت میں مدعو کرکے توہین آمیز طریقے سے بھارت سے بغیر بات چیت و ملاقات واپسی پر مجبور کردیا گیا۔ان واقعات نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے پاس مذمت کے لیے کوئی راستا ہی نہیں چھوڑا تھا ۔ مگر اب یوں لگتا ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ گیتا کے بھارت پہنچنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، صدر پرنب مکھر جی اور وزیر خارجہ ششما سواراج کے کچھ گرمجوشی پر مبنی الفاظ اورعارضی تاثر کو مستقل سمجھ کر اِسے دونوں ممالک کے درمیان تبدیلی کا ایک خوشگوار موقع باور کرانے پر تُل گئے ہیں۔

افسوس ناک طور پر کامران خان نے بھارتی صحافی سے یہ سوال پوچھتے ہوئے تمام تاریخی حقائق نظر انداز کر دیئے کہ کیا گیتا کے بعد پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کے بھی کوئی امکانات پیدا ہوئے ہیں؟ اس سوال سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ایک ملک کے طور پر اپنی پسند ناپسند اور کسی انتخاب کے حق سے سرے سے ہی محروم ہے اورتعلقات کے بناؤ بگاڑ کی پہل کاری سمیت سب کچھ بھارت کے ہاتھ میں ہے اور ہم تعلقات کی خرابی میں صرف رونے دھونے اور تعلقات کی بہتری کی صورت میں صرف بغلیں بجانے کے کام پر مامور ایک لاچار ملک کے کمزور شہر ی ہیں۔ ایک خودمختار ملک کے طور پر آخر اس کے شہریوں کی کوئی عزت نفس کا ذرا لحاظ تو کہیں پر ہونا چاہیے۔ مگر پاکستانی ذرائع ابلاغ آج بھارت سے آنے والے خوشگوار پیغامات کے ڈھول بجانے میں مصروف رہے۔ اُنہیں نریندر مودی کے ٹوئٹر پیغام میں نوازشریف کے شکریے، پرنب مکھر جی کے بیان میں گیتا پاک بھارت اتحاد کی علامت ، اور شمشاسواراج کے بیان میں واقعی دونوں ممالک کے درمیان سردمہری کی برف پگھلتی نظر آئی۔ تاریخی حقائق سے نابلد ایسے ذرائع ابلاغ کے وابستگان کے بارے میں پاکستانی عوام کے اندر ضمیر فروشوں کی اصطلاح رائج ہو چکی ہے ، تو یہ کچھ اتنی غلط بھی نہیں۔

تاریخی حقائق سے نابلد ایسے ذرائع ابلاغ کے وابستگان کے بارے میں پاکستانی عوام کے اندر ضمیر فروشوں کی اصطلاح رائج ہو چکی ہے ، تو یہ کچھ اتنی غلط بھی نہیں

اچانک بھارت کے حق میں غیر محسوس طور پر فضا ہموار کرنے والی خبروں کو جگہ دینے والے ذرائع ابلاغ کو یاد کرنا چاہیے کہ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر سمجھے جانے والے قائد اعظم بالاخر کیوں ہندوؤں سے الگ ایک الگ ملک کے تصور سے وابستہ ہوئے؟قائد اعظم سے بھی زیادہ ذہین ان ٹی وی میزبانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت میں “مہاآتما ” سمجھے جانے والے گاندھی کا قتل کیوں ہوا؟گاندھی کو 30 جنوری 1948ء کو ایک ہندوقوم پرست اور انتہاپسند” ناتھو رام گوڈسے “اور اس کے ساتھی “نارائن آپٹے” نے محض اس لیے قتل کیا تھا کہ گاندھی تقسیم ہند کے بعد اس پر اصرار کررہے تھے کہ بھارت کو پاکستان کے اثاثے تقسیم ِ ہند کے طے شدہ اصول اور ضابطے کے تحت ادا کر دینے چاہیے۔ بھارت کے اُس وقت کے دیگر رہنما جو کانگریس سے ہی وابستہ تھے اور گاندھی کو مہاآتما سمجھ کر اُن کے پیر چھوتےتھے، مگر گاندھی کی اس رائے کو ماننے کے لیے تیارنہ تھے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ان چمکتے دمکتے میزبانوں کو پتا ہونا چاہئے کہ تب کسی بی جے پی کاوجود بھی نہ تھا۔ مگر ہندو انتہا پسند تب بھی یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان کو اگر اس کا حصہ دے دیا گیا تو وہ مضبوط ہو جائےگا اور تب نہرو اور سردار پٹیل سمجھتے تھے کہ پاکستان کسی بھی وقت (خدانخواستہ) ٹوٹ کر ان کی جھولی میں واپس آ گرے گا۔

گیتا پر پاکستان کے حسن سلوک پر بھارتی اعترافات سے پاگل ہو نے والے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو یہ پتا ہونا چاہئے کہ حالیہ بی جے پی کی حکومت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اس وقت بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کسی طرح گاندھی کے دونوں قاتلوں کو پھانسی دینے والےدن یعنی 15 نومبر 1949ء کو ایک سرکاری دن کے طور پر منانا چاہیے۔ شاید یہ ممکن نہ ہو سکے مگر بھارت کی انتہا پسند ہندو جماعتیں گاندھی کو نہیں ان دوقاتلوں کو اپنے ہیرو کے طور پر مانتی ہیں۔ مودی بھی اُن ہی عناصر میں شامل ہیں۔ جس کے دامن پر گجرات کے مسلمانوں کا خون ہے۔ اور جو اس قتل عام پر ایک ٹی وی پروگرام میں اُتنے ہی افسوس کا اظہار کرنے پر تیار ہوئے جو راہ چلتے کتے کے گاڑی سے کچلے جانے پر ہوتا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے ان دانشور وں کو بھارتی آئین کے مدون “ڈاکٹر امبیدکر” کی زندگی کا بھی مطالعہ کر نا چاہئے جو اچھوت ہونے کے باعث برہمنوں کی ایسی نفرت کا نشانا بنا کہ اُس نے بالاخر اپنے ہندو مذہب کو ہی ترک کر دیا اور کہا کہ یہ میرے اختیار میں تو نہ تھا کہ میں کس مذہب میں آنکھیں کھولوں مگر یہ میرے اختیار میں ضرور ہے کہ میں کس مذہب پر مروں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے بھارتی دیوانوں کی خدمت میں یہ بھی عرض ہے کہ اگر وہ تاریخ کے روزنوں میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں تو کم ازکم حال کے جن واقعات پر اپنی قیمتی آراء سے ہمیں بلاضرورت نوازتے رہتے ہیں ، کچھ اُن ہی واقعات کو پوری طرح تول ٹٹول لیا کریں ۔ کسی پروگرام کے کرنے سے پہلے وہ جتنی محنت اپنے لباس کی تیاری اور خود اپنے جسم اور چہروں کے داغوں اور مہاسوں کو چھپانے کے لیے کرتے ہیں ، اُتنی ہی نہیں توا س سے کچھ کم ہی سہی اپنے پروگرام کے مواد پر بھی کر لیا کریں۔ ششما سوراج نے اُسی پریس کانفرنس میں ایک سوال میں یہ واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ دیگر معاملات کو گیتا کے مسئلے کے ساتھ نہ جوڑ کر دیکھاجائے یہ ایک انسانی مسئلہ ہے ۔ اور اس انسانی مسئلے کو سیاسی مسئلوں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ اُس پریس کانفرنس میں تب کوئی ایک صحافی بھی ایسا نہ تھا جو ششما سوراج سے سوال کرتا کہ جو مسلمان ، اچھوت ، عیسائی اور کشمیری بھارتی فوجیوں اور ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں روزانہ مارے جاتے ہیں ۔ جو گئو کشی کے نام پر حالیہ مسلم دشمن لہر میں انتہا پسند ہندوؤں کا نشانا بنے ، کیا یہ انسانی مسئلہ ہے یا نہیں؟ بھارت میں ہندو ذہنیت کی تہہ داریوں سے ان ٹی وی میزبانوں کو کوئی آگاہی نہیں ہے تو وہ ہمیں اپنی “لیاقت ” کے نشانے پر تو نہ رکھیں ۔


متعلقہ خبریں


عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر وجود - جمعرات 07 مئی 2026

ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھ...

ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار،معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ شدید بمباری ہوگی،امریکی صدر

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

مضامین
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون وجود جمعرات 07 مئی 2026
بھارت کاجنگی جنونبھارت کاجنگی جنون

شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں! وجود جمعرات 07 مئی 2026
شعور تک درد کے بغیرپہنچنا ممکن نہیں!

کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟ وجود جمعرات 07 مئی 2026
کیا ریڈ لائن منصوبہ واقعی مقررہ معیار اور وقت پر مکمل ہوگا؟

بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر