... loading ...
پاکستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ایک اہم معاشی مسئلہ بن چکا ہے ۔ روٹی بنیادی غذا ہے ، اس لیے اس کی قیمت میں اضافے کا اثر براہِ راست گھرانوں کے ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے۔کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک کے اخراجات میں اضافہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیتا ہے ۔ جب گھر کا بجٹ روٹی پوری کرنے میں ہی ختم ہونے لگے تو علاج، بچوں کی تعلیم، لباس اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک کٹھن امتحان بن جاتا ہے ۔ یوں غریب خاندان مہنگائی کے ہاتھوں اپنی خواہشات ہی نہیں، بلکہ اپنی ضروریات بھی قربان کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اس صورت حال میں آٹے کی مہنگائی محض بازار میں قیمت بڑھنے کا معاملہ نہیں رہتی بلکہ غذائی تحفظ، عوامی فلاح اور معاشی انصاف سے جڑ جاتی ہے ۔
آٹے کی قیمتوں کا تعین کئی عوامل سے ہوتا ہے ۔ گندم کی پیداوار، کاشت کے اخراجات، سرکاری خریداری، ذخائر کی دستیابی، نقل و حمل،
پسائی اور منڈی میں طلب و رسد اس عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اگر پیداوار توقع سے کم ہو، گندم کی فراہمی میں تاخیر ہو یا مختلف علاقوں میں
رسد کا توازن برقرار نہ رہے تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس گندم کی مناسب دستیابی کے باوجود اگر ترسیل اور تقسیم کا نظام کمزور ہو تو صارف کو سستا آٹا فراہم کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس لیے قیمتوں کے مسئلے کو صرف پیداوار کی کمی سے منسوب کرنے کے بجائے پورے نظام کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔
گندم کی کاشت پر آنے والے اخراجات بھی آٹے کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کسان کو بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور آب
پاشی کے لیے رقم خرچ کرنا پڑتی ہے ۔ زرعی مشینری، مزدوروں کی اجرت اور زمین کی تیاری کے اخراجات بھی اس کی پیداواری لاگت میں شامل ہوتے ہیں۔ جب یہ اخراجات بڑھتے ہیں تو کسان اپنی فصل کی بہتر قیمت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ تاہم پیداواری لاگت
میں اضافے کا سارا بوجھ صارف پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں۔ ضروری ہے کہ زرعی شعبے کی لاگت کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسان اور صارف دونوں کو فائدہ پہنچ سکے ۔
حکومتی خریداری کا نظام اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ فصل تیار ہونے کے بعد کسان کو اپنی پیداوار فروخت کرنے اور زرعی
اخراجات پورے کرنے کے لیے بروقت رقم درکار ہوتی ہے ۔ اگر خریداری مراکز دیر سے قائم ہوں، طریقۂ کار پیچیدہ ہو یا ادائیگی میں تاخیر
ہو تو چھوٹے کاشت کار مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں فوری ضرورت کے باعث اپنی گندم درمیانی تاجروں کو فروخت کرنا پڑتی ہے ۔ حکومت کو فصل کی کاشت سے پہلے خریداری کی پالیسی واضح کرنی چاہیے ، مراکز تک رسائی آسان بنانی چاہیے اور ادائیگی کا شفاف نظام قائم کرنا چاہیے ۔
ذخیرہ اندوزی بھی گندم کی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کا سبب بن سکتی ہے ۔ فصل کی کٹائی کے بعد گندم کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ سال بھر آٹے کی تیاری کے لیے خام مال دستیاب رہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص قیمت بڑھنے کی توقع میں دانستہ طور پر گندم بازار میں لانے سے گریز کرے اور اس کے نتیجے میں مصنوعی قلت پیدا ہو تو نقصان صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے قانونی طور پر گندم محفوظ رکھنے اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے ۔ ہر ذخیرہ غیر قانونی نہیں، لیکن مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع حاصل کرنے کی کوشش قابلِ گرفت ہونی چاہیے ۔
اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے گوداموں میں موجود گندم، خریداری، فروخت اور ترسیل کا درست ریکارڈ رکھنا ضروری ہے ۔ متعلقہ
اداروں کو منڈیوں میں گندم کی آمد و اخراج پر نظر رکھنی چاہیے اور جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کے شواہد ملیں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے ۔ صرف چھاپوں اور اعلانات سے مستقل نتائج حاصل نہیں ہوتے ۔ مؤثر نگرانی کے لیے شفاف معلومات، باقاعدہ معائنوں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یکساں قانونی کارروائی کا نظام درکار ہے ۔گندم کی دستیابی اور صارف تک اس کی رسائی کے درمیان ترسیل کا نظام اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ایک علاقے میں گندم وافر ہو سکتی ہے ، لیکن دوسرے علاقے میں نقل و حمل کے اخراجات یا انتظامی رکاوٹوں کے باعث آٹا مہنگا فروخت ہو سکتا ہے ۔ ڈیزل کی قیمت، گاڑیوں کے کرائے ، سڑکوں کی حالت اور ترسیلی انتظامات
لاگت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح گندم کو نامناسب گوداموں میں رکھنے سے اس کے خراب ہونے یا ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔
حکومت کو ذخیرہ کرنے کی سہولتیں بہتر بنانے ، ضیاع روکنے اور ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں میں گندم پہنچانے کے انتظامات کرنے چاہئیں۔ آٹے کی قیمت صرف گندم کے نرخ سے طے نہیں ہوتی۔ گندم کی پسائی، ملوں کی بجلی، مشینری کی دیکھ بھال، مزدوروں کی اجرت، پیکنگ اور خوردہ دکانوں تک ترسیل کے اخراجات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر ان مراحل میں لاگت بڑھ جائے تو صارف کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے ۔ اس لیے حکومت کو گندم سے آٹا تیار ہونے اور پھر بازار تک پہنچنے کے تمام مراحل کا جائزہ لینا چاہیے ۔
اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ حقیقی اخراجات کی وجہ سے ہے یا کہیں ناجائز منافع خوری بھی اس میں شامل ہے ۔
عمومی مہنگائی اس صورت حال کو مزید سنگین بناتی ہے ۔ جب بجلی، گیس، ایندھن اور دوسری بنیادی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو گھرانوں کے
مجموعی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ تنخواہ دار افراد اور دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدنی اگر اسی رفتار سے نہ بڑھے تو ان کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے ۔ ایسے خاندان خوراک کی خریداری محدود کرنے ، علاج مؤخر کرنے یا بچوں کی دوسری ضروریات میں کمی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یوں بنیادی غذائی اشیا کی مہنگائی معاشرے کے مختلف طبقات کو متاثر کرتی ہے ، لیکن اس کا سب سے زیادہ بوجھ محدود آمدنی رکھنے والے گھرانوں پر پڑتا ہے ۔
آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے غذائی اثرات بھی اہم ہیں۔ جب خاندان اپنے بجٹ کا بڑا حصہ روٹی اور دوسری بنیادی اشیا پر خرچ
کرتے ہیں تو دودھ، انڈوں، دالوں، پھلوں اور سبزیوں جیسی غذائیت بخش اشیا خریدنے کی گنجائش کم ہو سکتی ہے ۔ بچوں کی متوازن غذا متاثر ہونے سے ان کی نشوونما اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔ بزرگوں اور ایسے افراد کے لیے بھی مناسب غذا کا حصول مشکل ہو سکتا ہے جنہیں خصوصی غذائی ضروریات درپیش ہوں۔ اس لیے آٹے کی قیمتوں میں استحکام کو صحتِ عامہ اور غذائی تحفظ کی پالیسی کا حصہ سمجھنا چاہیے ۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی وجوہات کا بروقت جائزہ لے اور مسئلے کے مطابق اقدامات کرے ۔
گندم کی متوقع پیداوار، سرکاری ذخائر، صوبائی ضروریات اور منڈی کی طلب کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جائیں۔ سرکاری
گندم ضرورت کے مطابق بروقت جاری کی جائے اور اس بات کی نگرانی کی جائے کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ صارف تک پہنچے ۔
محض نرخ نامے جاری کرنا کافی نہیں؛ بازار میں دستیابی، تھوک اور خوردہ قیمتوں اور آٹا ملوں کی فراہمی کو بھی مسلسل جانچنا ضروری ہے ۔
کسانوں کی مدد کے ساتھ آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ہدفی امداد کا نظام بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ کم آمدنی والے خاندانوں کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کرنے یا مالی معاونت دینے کے لیے شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے ۔ مستحق افراد کی شناخت اور امداد کی
بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ سہولت ان لوگوں تک پہنچے جنہیں واقعی ضرورت ہے ۔ تاہم امداد مستقل انتظامی اصلاحات کا متبادل نہیں ہونی چاہیے ۔ طویل مدتی حل کے لیے زرعی پیداوار بہتر بنانا، گندم کا ضیاع روکنا اور منڈی کے نظام کو شفاف بنانا ضروری ہے ۔
گندم اور آٹے کی قیمتوں کا مسئلہ پیداوار، زرعی اخراجات، حکومتی پالیسی، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور عوام کی قوتِ خرید سے جڑا ہوا ہے ۔
اس کا مؤثر حل اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ان تمام عوامل پر مربوط انداز میں توجہ دے ۔ کسان کو مناسب معاوضہ، تاجر کو واضح قواعد اور صارف کو مناسب قیمت پر آٹا دستیاب ہونا چاہیے ۔ گندم کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ اس کی منصفانہ خریداری، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور بروقت تقسیم کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
روٹی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے ۔ عوام کو سستا اور معیاری آٹا فراہم کرنا محض وقتی رعایت یا انتظامی اعلان نہیں بلکہ مستقل معاشی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے ۔ حکومت کی کارکردگی کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ گندم کی فراہمی کا نظام کتنا شفاف ہے ، ناجائز منافع خوری کی روک تھام کس حد تک مؤثر ہے اور کم آمدنی والے خاندان اپنی بنیادی غذائی ضروریات کتنی آسانی سے پوری کر سکتے ہیں۔ جب کسان اور صارف دونوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا تو گندم کی منڈی میں استحکام پیدا کرنے اور عام آدمی کی مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔
٭٭٭