وجود

... loading ...

وجود

قیمتی یا ضروری؟

اتوار 25 اکتوبر 2026 قیمتی یا ضروری؟

نمک سستا ہے ، اس لیے بکھرجائے تو کوئی نہیں چنتا، زعفران مہنگا ہے ، اس لیے ایک ایک ذرہ سنبھال کراٹھایا جاتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ دسترخوان پرنمک نہ ہو تو کھانا بے ذائقہ رہ جاتا ہے ، مگر زعفران کے بغیر بھی دیگ چڑھ جاتی ہے ۔ نمک روزمرہ کی ضرورت ہے اور زعفران کبھی کبھار کی آرائش۔ ایک کھانے کا ذائقہ بناتا ہے ، دوسرا اسے خاص بناتا ہے ، لیکن ہماری نظر اکثر ضرورت سے زیادہ قیمت پرٹھہرتی ہے ۔

زندگی میں بھی کچھ لوگ نمک جیسے ہوتے ہیں۔ خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، کسی صلے کی خواہش رکھتے ہیں نہ اپنی موجودگی کا اشتہار لگاتے ہیں۔ وہ گھر میں ہوں تو زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے ، دفتر میں ہوں تو کام چلتا رہتا ہے ، رشتوں میں ہوں تو بکھرے ہوئے دھاگے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی اتنی مانوس ہو جاتی ہے کہ ہم اسے اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ تو ہمیشہ سے ہمارے پاس ہیں، ہمیشہ رہیں گے ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی کا ہر وقت میسر ہونا، اس کی اہمیت کم نہیں کرتا۔ بعض لوگ زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں، آرائش نہیں، اور بنیادوں کی طرف نگاہ عموماً تب اٹھتی ہے جب عمارت میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ انسان کی ایک عجیب عادت ہے ، وہ موجود چیزوں کی قدر کرنے کے بجائے غیر موجود چیزوں کے خواب دیکھتا رہتا ہے ۔ جو شخص ہرمشکل میں ساتھ کھڑا ہو، اس کی قربانی معمول لگنے لگتی ہے ، اورجو کبھی کبھارمسکرا کر مل لے ، وہ خاص بن جاتا ہے ۔ ہم مخلص لوگوں کی خاموشی کو کمزوری، ان کی سادگی کومعمولی پن اوران کی محبت کو اپنی سہولت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھرایک دن وہ شخص تھک کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ، کوئی رشتہ خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے یا کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتا ہے ۔ تب احساس ہوتا ہے کہ جسے ہم عام سمجھتے رہے ، وہ ہماری زندگی میں کتنی غیرمعمولی جگہ رکھتا تھا۔ مگر افسوس، بعض احساسات دروازے پر دستک تب دیتے ہیں جب اندر سے دروازہ کھولنے والا کوئی نہیں رہتا۔یہی معاملہ رشتوں میں بھی ہوتا ہے ۔ ماں کی دعا، باپ کی محنت، بہن بھائیوں کا ساتھ، کسی مخلص دوست کی بے غرض محبت اور شریکِ حیات کی خاموش قربانیاں اکثر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ہمیں ان کی موجودگی تو چاہیے ہوتی ہے ، مگر ان کی اہمیت کا اعتراف کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے ، ان کا فرض ہے ، ان کا کام ہے ۔ شاید اسی لیے ان کی محبت کو محبت اور قربانی کو قربانی سمجھنے کے بجائے معمول کی بات سمجھنے لگتے ہیں۔کبھی غورکیجیے ، ایک گھر میں بہت سی چیزیں اپنی اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں۔ خوب صورت پردے ، قیمتی فرنیچر، مہنگے برتن اور دیواروں پر لگی تصویریں گھرکو دلکش بنا سکتی ہیں، لیکن گھر کا اصل سکون ان چیزوں سے نہیں آتا۔ وہ کسی کے انتظار کرنے ، کسی کے خیال رکھنے ، کسی کے تھکن کے باوجود مسکرا کر حال پوچھنے اور کسی کے بغیر کہے ضرورت سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کی قیمت بازار میں نہیں لگائی جا سکتی۔ ان کا کوئی نرخ نامہ نہیں ہوتا، مگر ان کے بغیر زندگی کا ذائقہ بدل جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم قیمتی چیزوں کی قدر کیوں کرتے ہیں، قدر تو ہراچھی چیز کی ہونی چاہیے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قدر کا پیمانہ ہی غلط بنا لیا ہے ۔ ہماری نگاہ اکثراس چیز پر ٹھہرتی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے ، جبکہ جو چیزمحبت، وفاداری اورخلوص کی صورت میں مفت مل رہی ہو، اسے ہم آسانی سے دستیاب سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں، مگر جو شخص پہلے ہی ہماری فکر میں گھل رہا ہو، اس کی فکر کو معمول سمجھتے ہیں۔ شاید زندگی کی سب سے بڑی محرومی کسی قیمتی چیز کا نہ ملنا نہیں، بلکہ اس نعمت کی قدر نہ کرنا ہے جو ہمارے پاس موجود ہے ،زندگی کا حسن شاید اسی شعور میں ہے کہ ہم لوگوں کو کھونے سے پہلے ان کی قدر کرنا سیکھ لیں۔ کسی کے جانے کے بعد اس کی تصویروں سے باتیں کرنا، اس کی خوبیوں کے قصیدے پڑھنا اور اس کی کمی پر آنسو بہانا آسان ہے ، مشکل یہ ہے کہ جب وہ ہمارے سامنے موجود ہو تو اسے احساس دلائیں کہ اس کی موجودگی ہمارے لیے کتنی اہم ہے ۔

نمک سستا ہے ،اس لئے بکھر جائے تو کوئی نہیں چنتا،زعفران مہنگا ہے ،اس لئے لوگ ایک ایک ذرہ سمیٹ لیتے ہیں،حالانکہ نمک کے بغیر کھانا نہیں بنتا،زعفران کے بغیر بن جاتا ہے ۔زندگی میں کچھ لوگ نمک جیسے ہوتے ہیں،سستے نہیں، بس لوگوں کی نظر میں عام ہوتے ہیں، ان کی اصل قدر تب سمجھ آتی ہے ،جب وہ زندگی سے نکل جاتے ہیں،قدرقیمت کی نہیں،ضرورت کی ہوتی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات

بھارتی فوج میں بدعنوانی وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
بھارتی فوج میں بدعنوانی

قوموں کا زوال وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
قوموں کا زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر