... loading ...
نمک سستا ہے ، اس لیے بکھرجائے تو کوئی نہیں چنتا، زعفران مہنگا ہے ، اس لیے ایک ایک ذرہ سنبھال کراٹھایا جاتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ دسترخوان پرنمک نہ ہو تو کھانا بے ذائقہ رہ جاتا ہے ، مگر زعفران کے بغیر بھی دیگ چڑھ جاتی ہے ۔ نمک روزمرہ کی ضرورت ہے اور زعفران کبھی کبھار کی آرائش۔ ایک کھانے کا ذائقہ بناتا ہے ، دوسرا اسے خاص بناتا ہے ، لیکن ہماری نظر اکثر ضرورت سے زیادہ قیمت پرٹھہرتی ہے ۔
زندگی میں بھی کچھ لوگ نمک جیسے ہوتے ہیں۔ خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، کسی صلے کی خواہش رکھتے ہیں نہ اپنی موجودگی کا اشتہار لگاتے ہیں۔ وہ گھر میں ہوں تو زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے ، دفتر میں ہوں تو کام چلتا رہتا ہے ، رشتوں میں ہوں تو بکھرے ہوئے دھاگے جڑے رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی اتنی مانوس ہو جاتی ہے کہ ہم اسے اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے یہ تو ہمیشہ سے ہمارے پاس ہیں، ہمیشہ رہیں گے ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی کا ہر وقت میسر ہونا، اس کی اہمیت کم نہیں کرتا۔ بعض لوگ زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں، آرائش نہیں، اور بنیادوں کی طرف نگاہ عموماً تب اٹھتی ہے جب عمارت میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ انسان کی ایک عجیب عادت ہے ، وہ موجود چیزوں کی قدر کرنے کے بجائے غیر موجود چیزوں کے خواب دیکھتا رہتا ہے ۔ جو شخص ہرمشکل میں ساتھ کھڑا ہو، اس کی قربانی معمول لگنے لگتی ہے ، اورجو کبھی کبھارمسکرا کر مل لے ، وہ خاص بن جاتا ہے ۔ ہم مخلص لوگوں کی خاموشی کو کمزوری، ان کی سادگی کومعمولی پن اوران کی محبت کو اپنی سہولت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھرایک دن وہ شخص تھک کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ، کوئی رشتہ خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے یا کوئی اپنا ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتا ہے ۔ تب احساس ہوتا ہے کہ جسے ہم عام سمجھتے رہے ، وہ ہماری زندگی میں کتنی غیرمعمولی جگہ رکھتا تھا۔ مگر افسوس، بعض احساسات دروازے پر دستک تب دیتے ہیں جب اندر سے دروازہ کھولنے والا کوئی نہیں رہتا۔یہی معاملہ رشتوں میں بھی ہوتا ہے ۔ ماں کی دعا، باپ کی محنت، بہن بھائیوں کا ساتھ، کسی مخلص دوست کی بے غرض محبت اور شریکِ حیات کی خاموش قربانیاں اکثر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ہمیں ان کی موجودگی تو چاہیے ہوتی ہے ، مگر ان کی اہمیت کا اعتراف کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے ، ان کا فرض ہے ، ان کا کام ہے ۔ شاید اسی لیے ان کی محبت کو محبت اور قربانی کو قربانی سمجھنے کے بجائے معمول کی بات سمجھنے لگتے ہیں۔کبھی غورکیجیے ، ایک گھر میں بہت سی چیزیں اپنی اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں۔ خوب صورت پردے ، قیمتی فرنیچر، مہنگے برتن اور دیواروں پر لگی تصویریں گھرکو دلکش بنا سکتی ہیں، لیکن گھر کا اصل سکون ان چیزوں سے نہیں آتا۔ وہ کسی کے انتظار کرنے ، کسی کے خیال رکھنے ، کسی کے تھکن کے باوجود مسکرا کر حال پوچھنے اور کسی کے بغیر کہے ضرورت سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کی قیمت بازار میں نہیں لگائی جا سکتی۔ ان کا کوئی نرخ نامہ نہیں ہوتا، مگر ان کے بغیر زندگی کا ذائقہ بدل جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم قیمتی چیزوں کی قدر کیوں کرتے ہیں، قدر تو ہراچھی چیز کی ہونی چاہیے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قدر کا پیمانہ ہی غلط بنا لیا ہے ۔ ہماری نگاہ اکثراس چیز پر ٹھہرتی ہے جسے حاصل کرنے کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے ، جبکہ جو چیزمحبت، وفاداری اورخلوص کی صورت میں مفت مل رہی ہو، اسے ہم آسانی سے دستیاب سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہم کسی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بے چین رہتے ہیں، مگر جو شخص پہلے ہی ہماری فکر میں گھل رہا ہو، اس کی فکر کو معمول سمجھتے ہیں۔ شاید زندگی کی سب سے بڑی محرومی کسی قیمتی چیز کا نہ ملنا نہیں، بلکہ اس نعمت کی قدر نہ کرنا ہے جو ہمارے پاس موجود ہے ،زندگی کا حسن شاید اسی شعور میں ہے کہ ہم لوگوں کو کھونے سے پہلے ان کی قدر کرنا سیکھ لیں۔ کسی کے جانے کے بعد اس کی تصویروں سے باتیں کرنا، اس کی خوبیوں کے قصیدے پڑھنا اور اس کی کمی پر آنسو بہانا آسان ہے ، مشکل یہ ہے کہ جب وہ ہمارے سامنے موجود ہو تو اسے احساس دلائیں کہ اس کی موجودگی ہمارے لیے کتنی اہم ہے ۔
نمک سستا ہے ،اس لئے بکھر جائے تو کوئی نہیں چنتا،زعفران مہنگا ہے ،اس لئے لوگ ایک ایک ذرہ سمیٹ لیتے ہیں،حالانکہ نمک کے بغیر کھانا نہیں بنتا،زعفران کے بغیر بن جاتا ہے ۔زندگی میں کچھ لوگ نمک جیسے ہوتے ہیں،سستے نہیں، بس لوگوں کی نظر میں عام ہوتے ہیں، ان کی اصل قدر تب سمجھ آتی ہے ،جب وہ زندگی سے نکل جاتے ہیں،قدرقیمت کی نہیں،ضرورت کی ہوتی ہے ۔
٭٭٭