وجود

... loading ...

وجود

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

اتوار 25 اکتوبر 2026 عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس )جوکہ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی سرپرست ہے کا یہ کہنا کہ کچھ عالمی طاقتیں بھارت کی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہوکر اِسے کمزور کرنے میں مصروف ہیں، بہت حیران کُن ہے ۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے یہ خدشات حقیقی ہیں اور کیاالزامات کے ٹھوس شواہد ہیں یا یہ خیالات داخلی پالیسی کے بیانیے کا حصہ ہیں؟ اِس سوال کا جواب بھارت کے عالمی تعلقات،تجارتی مفادات اور دفاعی شراکت داروں کاجائزہ لیے بغیر ممکن نہیں۔ ایک حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جس بھارت کو عالمی طاقتوں کی مبینہ سازشوں کانشانہ قراردیاجارہا ہے، وہ انھی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کی روش پر گامزن ہے۔ امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر پیش رفت ایک تازہ مثال ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بیس اکتوبر کو بھارتی دورے کے دوران کہا ہے کہ دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب آچکے محض چند امور باقی ہیں۔ اِس بیان سے واضح ہے کہ تجارتی اختلافات اور سیاسی تناؤ کے باوجودواشنگٹن اور نئی دہلی مفاہمت کی کوشش میں ہیں۔
امریکا اور بھارت کے درمیان ماضی میں تجارتی مذاکرات میں محصولات ،منڈیوں تک رسائی اور توانائی کی خریداری جیسے معاملات پر اختلاف رہے ،پھربھی دونوں نے فروری2026میں عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک پیش کیاجس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سیاست میں اختلافات کے باوجودتعاون کے راستے بند نہیں ۔اصل میں بھارت کو امریکا ایک بڑی منڈی،سرمایہ کاری کے اہم مرکز اور ایشیا میں اسٹریٹجک شراکت کے طورپر دیکھتا ہے ۔بھارت بھی امریکی منڈی،جدید ٹیکنالوجی ،سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے۔ اگر بھارت کو امریکہ کمزورکرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا تو دونوں ملکوں میں تجارتی مذاکرات ہرگز آگے نہ بڑھتے۔مگر اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ امریکہ اور بھارت کے تمام اختلاف ختم ہو چکے، تجارتی معاہدے پر بات چیت کا جاری رہنا دونوں طرف موجود تعاون کی خواہش کاعکاس ہے ،مگریہ کسی مستقل یا غیر مشروط دوستی کی ضمانت ہر گز نہیں۔
روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات ایسا پہلو ہے جو اختلافی مسائل کاباعث ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روسی تیل کی خریداری میں اضافہ اور مغربی دباؤ کے باوجود اپنے توانائی کے مفادات کوترجیح دینا ایسے فیصلے تھے جن سے بھارتی ا خلاص بارے ابہام پیداہوالیکن نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنی بڑی آبادی کی ضروریات ،توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے ۔امریکانے روسی تیل کی خریداری کی پاداش میں بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھایا مگر مذاکرات کی کھڑکی بھی کھلی رکھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مفادات کے لیے امریکا سے اختلاف کرتا ہے مگر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش بھی جاری رکھتا ہے ۔

روس سے تیل خریدنااور امریکا سے تجارتی معاہدے کی کوشش کرنا ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی کی خصوصیت رکھی ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش حاصل کرسکے لیکن بدلتی ہوئی پابندیاں ،تجارتی شرائط اور عالمی تنازعات اِس حکمت عملی کو اکثر مشکل بنا دیتے ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھارت کی یہی پالیسی توازن پیداکرتی ہے۔

فرانس سے رافیل جنگی طیاروں کاحصول،برطانیاسے دفاعی تعاون اور روسی ساختہ فوجی سازوسامان پر انحصار اِس حقیقت کی مثالیں ہیں کہ بھارت کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کی بجائے تمام دستیاب ذرائع سے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرتاہے۔ فرانس اور برطانیا کے ساتھ اُس کے تعلقات صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی،سرمایہ کاری،اور سفارتی تعاون بھی اہم پہلو ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں متحد ہوکر بھارت کو تنہا یاکمزورکرنے کی کوشش میں ہوتیں تو متنوع دفاعی اور اقتصادی شراکت داریوں کی وضاحت میں دقت ہوتی ۔یورپی یونین سے بھارت کے قریبی تعلقات ہیں ،دونوں نے 27 ؍جنوری 2026کو آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت مکمل کی جوکہ ایک بڑی پیش رفت ہے ،یہ درست ہے کہ بات چیت مکمل ہونا معاہدے کے نفاذکے برابر نہیں کیونکہ قانونی نظرثانی،دستخط، اور متعلقہ منظوریوں جیسے کئی مراحل ابھی درکار ہیں۔ مگر اِس معاہدے سے دونوں جانب کی منڈیوں تک رسائی ،تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیداہوں گے۔ یورپی ممالک بھارت سے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ وہ اِس کی بڑی منڈی اور معاشی امکانات کو اہم سمجھتے ہیں۔ اِس تناظر میں کمزورکرنے کی بات محض الزام تراشی لگتی ہے۔

کواڈ میں بھارت کی شرکت قابلِ توجہ ہے جس میں امریکا ،جاپان اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ یہ فورم ہند بحیرہ الکاہل کے خطے میں تعاون، سلامتی اوراقتصادی وتکنیکی اشتراک کو اہم سمجھتا ہے۔ اگرچہ کواڈ کوئی باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں۔ اِ س کے باوجودبھارت کی اِس میں موجودگی اہم ہے۔ نئی دہلی اِس فورم کے ذریعے علاقائی معاملات میں اپناکرداربڑھانے کی کوشش میں ہے جبکہ امریکاسمیت دیگر شراکت دار بھارت کوخطے کا اہم فریق تصور کرتے ہیں۔ اِن حقائق کی روشنی میں عالمی طاقتوں پر سازشوں کے عمومی الزامات بے جان لگتے ہیں۔ محض سیاسی اختلافات یا حکومت مخالف احتجاج کو بیرونی طاقتوں کی کاروائی قرار دینا قابلِ اعتماد تجزیے کا ہر گز متبادل نہیں ہوسکتا۔

دراصل بھارت میں معاشی عدم مساوات،بے روزگاری اور شدیدسیاسی اختلافات جیسے مسائل ہیں جن کا جائزہ لینے کی بجائے بیرونی سازش سے جوڑ دینا حکومت اور معاشرے کو اصل مسائل سے دور کر سکتا ہے۔ احتجاج میں بیرونی مالی معاونت کو سامنے نہیں لایا جاتا۔ اسی لیے شواہد کے بغیر الزام تراشی سیاسی بیانیہ تو بن سکتی ہے معتبر حقیقت نہیں ۔بھارت بڑی معیشت ،بڑی منڈی،دفاعی صلاحیت اور جغرافیائی حیثیت کی بناپر اہم ضرورہے مگر معاشی ترقی ،اداروں پر اعتماد ،سماجی ہم آہنگی،اور مستقل خارجہ پالیسی بھی عالمی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

امریکا سے تجارتی بات چیت،روس سے توانائی کی خریداری ،فرانس اور برطانیاسے دفاعی تعاون ،یورپی یونین سے آزاد تجات کی طرف پیش رفت اور کواڈ میں شرکت ایسی خارجہ پالیسی ہے جو عالمی طاقتوں سے تعلقات قائم رکھنے میں مددگار ہے مگر ہراندرونی اختلاف کو عالمی سازش قراردیناغلط ہے کیونکہ ایسے کوئی ٹھوس شواہدنہیں ۔یادرہے عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن سے زیادہ اہم مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ بھارتی مثال کا بھی یہی سبق ہے کہ کامیاب ریاستیں الزام تراشی کی بجائے اپنے مفادات،داخلی مسائل اور سفارتی امکانات کاحقیقت پسندانہ جائزہ لیتی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قیمتی یا ضروری؟ وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
قیمتی یا ضروری؟

عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
عالمی طاقتوں پر بھارت کو کمزورکرنے کا الزام

تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
تعلیمی اداروں کی ناقص عمارتیں ،دو سانحات

بھارتی فوج میں بدعنوانی وجود اتوار 25 اکتوبر 2026
بھارتی فوج میں بدعنوانی

قوموں کا زوال وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
قوموں کا زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر