وجود

... loading ...

وجود

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

اتوار 21 جون 2026 92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

ریاض احمدچودھری

92 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ بھی بھارت کو نہ بچا سکا جبکہ محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے عسکری برتری کا لوہا منوایا۔عسکری میدان میں زیادہ دفاعی اخراجات کی بنیاد پر برتری کے بھارتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔عالمی تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا کہ خطے میں جاری حالیہ تنازع میں بڑے دفاعی بجٹ کے باوجود بھارت کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ انتہائی محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پاکستان نے اپنی روایتی عسکری مہارت اور جنگی برتری کا لوہا منوا لیا ہے۔
سال 2025 میں بھارت دنیا بھر میں دفاعی اخراجات کرنے والا پانچواں بڑا ملک رہا، جس کے فوجی اخراجات 92.1 ارب ڈالر کی خطیر رقم تک پہنچ گئے تھے۔اس کے برعکس سال 2025 میں پاکستان کے کل فوجی اخراجات محض 11.9 ارب ڈالر رہے، جو کہ بھارتی اخراجات کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں۔حالیہ بجٹ دستاویزات میں کہا گیا کہ بھارت نے مالی سال 2026ـ27 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں مزید تقریباً 15 فیصد کا بھاری اضافہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان نے اپنے معاشی حالات کے پیشِ نظر مالی سال 2026ـ27 میں اپنے دفاعی بجٹ کو صرف 3 ہزار ارب روپے تک انتہائی محدود رکھا ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زمینی حقائق کے بعد پاکستان کے دفاعی بجٹ پر کیا جانے والا گمراہ کن پروپیگنڈا مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ جدید جنگوں میں صرف اندھا دھند پیسہ اور بڑا بجٹ ہی سب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ فوج کی اعلیٰ تربیت، جذبہ اور بہترین جنگی حکمتِ عملی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کھربوں ڈالرز کے ہتھیار بھی بھارت کو میدانِ جنگ میں جیت نہ دلا سکے۔ماہرین نے مزید واضح کیا کہ پاکستان کے محدود دفاعی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ فوجیوں کی تنخواہوں، پینشن اور روزمرہ کے ضروری اخراجات پر صرف ہوتا ہے۔تاہم بدلتے ہوئے علاقائی چیلنجز اور جدید جنگی تقاضوں کے باعث دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں ناگزیر اضافہ ملکی دفاع کے لیے انتہائی ضروری ہے۔محدود دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان نے معرکہ حق میں اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جسے دفاعی ماہرین نمایاں کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی دفاعی امور کے تحقیقی ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھارت دنیا کے بڑے دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل رہا، جبکہ اس کے فوجی بجٹ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بھارت کے دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات نسبتاً کم سطح پر رہنے کے باوجود سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا۔بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026ـ27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔ 2025 میں بھارت کے فوجی اخراجات 8.9 فیصد اضافے کے بعد 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے،بھارت سے جنگ کے باوجود 2025 میں پاکستان کے فوجی اخراجات 11 فیصد اضافے کے بعد صرف 11.9 ارب ڈالر رہے۔ بھارتی حکام کے مطابق بھارت نے 27ـ2026 میں دفاعی بجٹ کو تقریباً 15 فیصد اضافہ کیساتھ 80 ارب ڈالر(7.85 لاکھ کروڑ روپے) تک مختص کر دیا۔ بھارت جیسے دشمن کے باوجود بھی حکومت پاکستان نے 27ـ2026 میں دفاعی بجٹ 10.8 ارب ڈالر (3 ہزار ارب روپے) تک محدود رکھا۔
عالمی ماہرین کے مطابق 2025 میں کئی گنا زیادہ دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات بھی بھارت کو میدان جنگ میں جیت نہ دلا سکے،پاکستان کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے اکثر گمراہ کن اور حقائق کے منافی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ جدید جنگی تقاضوں اور انسدادِ دہشتگردی کی ضروریات کے باعث پاکستان کیدفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے،پاکستان کے دفاعی بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ منٹینس، تنخواہوں اور دیگرلازمی اخراجات پر خرچ ہو کر قومی معیشت کے استحکام میں معاون بنتا ہے۔ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر ثابت کیا کہ جدید جنگوں میں بجٹ کیساتھ تربیت، حکمت عملی اور دلیرانہ قیادت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر