... loading ...
ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ‘لائف سپورٹ’
(وینٹی لیٹر) پر ہے ۔یہ بات اگر درست بھی تب بھی اس جنگ بندی تجویر لے کر ایران تو آیا نہیں تھا ۔ یہ تو امریکہ کی یکطرفہ تجویر تھی جسے
ایران نے قبول کیا اب اگر وہ دم توڑ دیتی ہے تو اس میں امریکہ ہی کا نقصان ہے ۔ ایران تو پہلے بھی ‘تنگ آمد بجنگ آمد’ کی کیفیت میں تھا اور
اب بھی ہے ۔ امریکی پیشکش کے جواب میں ایران نے امریکہ کے سامنے اپنی تجویز پھر سے رکھی ۔ اس تجویز میں ہر محاذ پر جنگ ختم کرنے ،
خاص طور پر لبنان میں لڑائی روکنے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ ان سے انکار
نہیں کرسکتے لیکن اس کے ساتھ ایران جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ طلب کیا اور کیوں نہ کرے ؟ ایران پر بلاوجہ حملہ کیا گیا۔ اس
سے جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی آخر کون کرے گا؟ یہ جرمانہ ضروری ہے تاکہ امریکہ یا کوئی اور ملک کم ازکم اس نقصان کے ڈر سے کسی پر
حملہ نہ کرے ۔ورنہ تو یہ تماشا جاری رہے گا۔
ایران کا ایک نہایت معقول مطالبہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی طرح کا حملہ نہ ہونے کی ضمانت اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے احترام
کو شامل کیا جائے ۔ ایران نے قیام امن کی خاطر امریکی پابندیوں بشمول ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا تو اس میں کیا غلط ہے ؟ویسے اس پابندی کے باوجود ایرانی تیل کی تجارت زور سے شور جاری ہے لیکن امریکہ کو رسوا کرنے کے لیے اس پابندی کو ہٹانا لازمی ہے ۔ایران کی ان تجاویز کے سامنے آتے ہی ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے بغیر پورا پڑھے لکھ دیا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے ۔ ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ”ہم نے کسی قسم کی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہم نے صرف ایران کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا ہے ۔ٹرمپ کی اس حماقت کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل بڑھ گئیں، جس سے صاف ظاہر ہوا کہ دنیا اس کشیدگی کے حوالے سے کتنی حساس ہے ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پہلے جنگ ختم کی جائے لیکن سوال یہ ہے کہ جنگ کس نے اور کیوں شروع کی تھی؟ اور جنگ بندی کی بھی پیشکش کس نے کی تھی؟ ٹرمپ کیا چاہتے ہیں وہ خود نہیں جانتے آخر وہ جنگ بندی چاہتے ہیں یاناکہ بندی ؟ کیونکہ دونوں اندھیرے اور اجالے کی مانند ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔
امریکی صدر عنقریب چینی دورے پر صدر شی جن پنگ کے ذریعہ ایران کو رعایتیں دینے اور اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈلوانا
چاہتے ہیں مگر چین تو ایران پر پابندیوں کے شکار خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔ اس لیے وہ تو الٹا امریکہ پر دباو ڈالے گا۔امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ہفتہ بھی امریکہ کی سینٹرل کمانڈر کے سپہ سالار ایڈمرل بریڈ کوپر کے مشورے کیا تھامگر یہ معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔
وہ ایران میں فوجی کارروائیوں کی ایک نئی لہر شروع کرنا چاہتے ہیں مگرہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔ امریکہ اس نازک جنگ بندی کے دوران
ایران پر آخری بڑا حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتا ہے کہ ایران پر مختصر اور شدید حملوں کے ذریعہ بنیادی ڈھانچے کے
اہداف کو نشانہ بنایا جائے ، تاکہ جنگ بندی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو توڑا جا سکے ۔دوسرا منصوبہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرکے
اسے تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے سے متعلق ہے ۔ اس ناپاک منصوبے کے ذریعہ ایک اسپیشل فورس آپریشن کے ذریعہ انتہائی افزودہ
یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانا بھی مقصود ہے ۔ اس سے قبل ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ ڈالنے کے
لیے ناکہ بندی کو جا ری رکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے خیال میں ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ہے ۔ ایران اب دباؤ میں گھٹتے ہوئے
محسوس کر رہے ہیں، اور آگے ان کے لیے حالات مزید خراب ہوں گے ۔ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیا
جائے گا سوال یہ ہے کہ اس طرح کی دھمکی دینے کا حق امریکہ کو کس نے دے دیا جو ماضی میں دو مرتبہ ایٹم بم استعمال کرچکا ہے ۔
ایکسیوس نامی معروف ویب سائیٹ نے حال میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے جوہری مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے
اور ناکہ بندی ختم کرنے کی ایرانی تجویز کو مسترد کر دیا ہے ۔امریکی صدر نے پابندیوں میں نرمی سے پیشتر ایران کے ذریعہ امریکی تحفظات
دور کرنے کی شرط لگائی ہے ۔ ٹرمپ کے خیال میں اگر ایران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو وہ فوجی کارروائی پر غور کیا جائے گاالبتہ ایک اور تھنک
ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کی ایک تحقیق کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی طرف سے پیش کی گئی نئی تجاویز پر
تہران کے مزید جھکنے کے امکانات کم ہیں۔آئی ایس ڈبلیوکے مطابق ایرانی انقلابی گارڈز کے سربراہ میجر جنرل احمد واحدی کا سخت موقف
اب تہران میں غالب رائے بن چکا ہے ۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اور اپنے جوہری پروگرام پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کو
تیار نہیں دکھائی دیتا۔ ایران کی قیادت میں یہ اتفاق پایا جا رہا ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا،
جوہری معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ امریکی فورسز نے پچھلے دنوں ایران سے منسلک ایک بحری جہاز کو قبضے میں لیا۔ صدر ٹرمپ نے
اس کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے جہاز سنبھال لیا، ہم نے کارگو سنبھال لیا، ہم نے تیل سنبھال لیا۔ یہ بہت منافع بخش کاروبار
ہے ۔ ہم بحری قزاقوں کی طرح ہیں، ہم کھیل نہیں کھیل رہے ‘۔ اس کو’چوری اور سینہ زوری’ کہتے ہیں اور اسے منافع بخش کہنا نہایت شرمناک
ہے ۔ ٹرمپ جیسے لوگوں سے علامہ اقبال فرماتے ہیں
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دُکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے منہ میاں مٹھو بنتے ہوئے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو انتہائی ذہانت پر مبنی اقدام قرار دیا۔ وہ
اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ تہران کو بالآخر اپنی شکست تسلیم کرنا ہوگی، اور جب تک وہ اپنے جوہری عزائم ترک نہیں کرتا کسی معاہدے کی کوئی
گنجائش نہیں۔ٹرمپ فرماتے ہیں کہ ناکہ بندی امریکی بحریہ کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی فوج کے ساتھ کوئی بھی
چالاکی نہیں کر سکتا۔ اپنی ہوشیاری بیان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ ‘امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے
محاصرے کے نفاذ کے لیے ‘بحری قزاقوں کی طرح’ عمل کر رہی ہے ۔’ اس ایک فقرے نے ایرانی دفترِ خارجہ کوامریکہ پر چڑھ دوڑنے کا نادر
موقع فراہم کردیا ۔ ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اس فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ‘قزاقی’ قرار دیا اور فخر جتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔’اُن کا مزید کہنا تھا کہ ‘امریکی صدر کے اس بیان کو محض زبانی لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف امریکی اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا براہِ راست اور سنگین اعتراف قرار دیا جا رہا ہے ‘۔
اسرائیل کے نیتن یاہو کے مطابق موجودہ ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، البتہ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے ،لیکن اسرائیل
کاانتخاب قریب ہے اور اس میں ان کا خاتمہ یقینی ہے ۔اسماعیل بقائی کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں امریکہ سے بہت زیادہ امید
نہیں ہے اس لیے انہوں عالمی برادری، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بین الاقوامی قانون کی کھلی اور سنگین
خلاف ورزیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے ساری دنیا کو اس پرابھارا کہ اسے ہر صورت معمول کا حصہ بننے سے روکنا چاہیے ۔
یہ بات اس لیے اہم ہے کہ دنیا کا ہر ملک ایران کی مانند مزاحمت نہیں کرسکتا۔ وینزویلا کی مثال ساری دنیا کے سامنے ہے اور کیوبا کے ساتھ
بھی یہی زیادتی کرنے کی کوشش کی گئی تو کیا ہوگا یہ کہا نہیں جاسکتا۔ عالمی برادری کو متحد ہوکر عملاً کمزوروں کی مدد کے لیے سامنے آنا چاہیے ۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اساتذہ کے عالمی دن کا حوالہ دے کرکہا کہ ‘اگر آج ہم وطن کے دفاع کے محاذ پر ایسی مناظر دیکھ رہے ہیں
جنھوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے تو اس کا سہرا اُن اساتذہ کو جاتا ہے جنھوں نے ہمارے بچوں کو ایمان، قربانی، انسانیت اور ایران سے
محبت کے سبق دیا ہے ‘۔دوران جنگ بھی اساتذہ کے اس اہم کردار کی ستائش کرنا قابلِ ستائش ہے کیونکہ علامہ اقبال کے اس خواب کو
شرمندۂ تعبیر کرنے کی ذمہ داری کو اساتذۂ کرام سے بہتر کون ادا کرسکتا ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا
لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
٭٭٭