وجود

... loading ...

وجود

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

منگل 05 مئی 2026 آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

بے لگام / ستار چوہدری

انسان تین جیلوں کا قیدی ہے ، ایسی جیلیں جن کی نہ دیواریں نظر آتی ہیں، نہ دروازے ۔مگر ان کی قید سب سے سخت ہوتی ہے ۔ پہلی جیل،دوسروں کی رائے ۔ دوسری جیل،ماضی کی زنجیریں۔ تیسری جیل،تبدیلی کا خوف۔ یہ تینوں جیلیں مل کر انسان کواس مقام پرلا کھڑا کرتی ہیں، جہاں وہ جیتا تو ہے ، مگر اپنی مرضی سے نہیں۔ وہ سوچتا کچھ اور ہے ، کرتا کچھ اور ہے ، اوربن کچھ اورجاتا ہے ۔ وہ ہر قدم سے پہلے لوگوں کی آنکھوں میں خود کو تولتا ہے ، ہر فیصلے سے پہلے ماضی کی قبروں میں اُتر جاتا ہے ۔ اورہرنئے راستے سے پہلے خوف کی دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتا ہے ،یوں آہستہ آہستہ اس کی زندگی اس کی اپنی نہیں رہتی، وہ ایک کہانی بن جاتا ہے ، جو دوسروں نے لکھی ہوتی ہے ۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ یہ جیلیں موجود ہیں، المیہ یہ ہے کہ انسان انہیں جیل سمجھتا ہی نہیں، وہ انہیں اپنی عادت، اپنی فطرت، بلکہ اپنی ” حقیقت ” مان لیتا ہے ۔ اور جب قیدی اپنی قید کو ہی زندگی سمجھنے لگے ، تو آزادی کا خیال بھی گناہ لگنے لگتا ہے ۔
سب سے خطرناک جیل وہ ہے ، جس کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں ہو۔ لوگ کیا کہیں گے ۔؟۔ یہ صرف ایک سوال نہیں، ایک مکمل نظام
ہے ۔ جو انسان کی سوچ، اس کے فیصلوں اوراس کی پہچان پرقبضہ کرلیتا ہے ۔ ایک بچہ جب بڑا ہوتا ہے ، تو اسے سکھایا نہیں جاتا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے ، اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ لوگوں کوکیا پسند آئے گا۔ وہ کپڑے بھی سوچ سمجھ کر پہنتا ہے ، بات بھی ناپ تول کر کرتا ہے ،خواب بھی وہی دیکھتا ہے جومعاشرہ منظورکرے ، یوں وہ آہستہ آہستہ اپنے اصل چہرے سے دور ہوتا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اتنا نہیں سوچتے جتنا ہم سمجھتے ہیں، مگرہم اپنی پوری زندگی ان کے خیالی فیصلوں کے مطابق گزاردیتے ہیں۔کسی کی ایک تنقید، ایک طنز، ایک ہنسی۔اورانسان اپنی پوری سمت بدل دیتا ہے ، وہ لکھنا چھوڑ دیتا ہے ، بولنا چھوڑ دیتا ہے ،آگے بڑھنا چھوڑ دیتا ہے ، صرف اس لیے کہ کہیں کوئی اسے غلط نہ کہہ دے ۔ مگر ایک سوال ہے ، اگر زندگی آپ کی ہے ، تو فیصلہ دوسروں کا کیوں؟ جب تک آپ دوسروں کی رائے کے اس قید خانے میں رہیں گے ، آپ کبھی اپنی آواز سن ہی نہیں پائیں گے ۔ اوریاد رکھیں، جو لوگ ہر ایک کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آخر میں خود کو کھو دیتے ہیں۔
کچھ لوگ آگے بڑھنے سے نہیں رکتے ، وہ پیچھے سے بندھے ہوتے ہیں۔ ماضی۔ایک ایسا بوجھ، جو نظرنہیں آتا، مگرقدم اٹھنے نہیں دیتا، کچھ یادیں زخم بن جاتی ہیں۔اورکچھ فیصلے پچھتاوا، انسان ان ہی کے گرد گھومتا رہتا ہے ، جیسے زندگی آگے نہیں، پیچھے چل رہی ہو۔ وہ ہر نئے موقع کو پرانے انجام سے جوڑ دیتا ہے ۔” پہلے بھی توناکام ہوا تھا ”۔ ” پہلے بھی دھوکہ ملا تھا ”۔ یوں وہ حال کو بھی ماضی کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے ۔مگرسچ یہ ہے ، ماضی صرف ایک سبق تھا، سزا نہیں ،جو گزرگیا، وہ ختم ہوچکا، مگرہم اسے اپنے اندرزندہ رکھتے ہیں، باربار، ہرروز۔ کچھ لوگ اپنی ایک غلطی کو پوری پہچان بنا لیتے ہیں، کچھ ایک بچھڑ جانے والے کو پوری زندگی کا اختتام سمجھ لیتے ہیں۔ اوریوں وہ آج کو بھی کھودیتے ہیں، صرف کل کے سائے میں جیتے جیتے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے ، اگر آپ ہروقت پیچھے دیکھتے رہیں گے ، تو آگے کا راستہ کیسے نظر آئے گا؟ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے ، مگرماضی کی زنجیریں انسان کو وہیں جکڑے رکھتی ہیں۔ اورجب تک یہ زنجیرنہیں ٹوٹتی، کوئی بھی نیا آغازممکن نہیں ہوتا۔
انسان کو قید رکھنے والی سب سے خاموش طاقت۔خوف ہے ۔اوران خوفوں میں سب سے بڑا خوف۔ تبدیلی کا، عجیب بات ہے ، انسان تکلیف میں رہ لیتا ہے ، مگربدلنے کا حوصلہ نہیں کرتا، وہ جانتا ہے کہ یہ راستہ غلط ہے ، یہ ماحول اسے کھوکھلا کررہا ہے ، یہ عادتیں اسے تباہ کر رہی ہیں، مگرپھربھی وہ وہیں رہتا ہے ۔ کیوں؟ کیونکہ تبدیلی،غیر یقینی لے کر آتی ہے ۔ اورغیر یقینی، انسان کوڈرا دیتی ہے ۔ وہ سوچتا ہے ، اگرمیں نے قدم بڑھایا اورناکام ہوگیا تو؟ اگر سب کچھ چھوڑ کربھی کچھ نہ ملا تو؟۔۔ یہ ” اگر” ہی وہ دیوار ہے ، جو انسان کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتی، حالانکہ سچ اس کے بالکل الٹ ہے ، سب سے بڑا خطرہ بدلنا نہیں۔بلکہ ایک ہی جگہ رکے رہنا ہے ۔ پانی بھی اگربہنا چھوڑدے ، تو وہ جوہڑبن جاتا ہے ،بدبوآنے لگتی ہے ۔اورانسان بھی اگرخود کو نہ بدلے ، تواندر سے ختم ہونے لگتا ہے ۔ تبدیلی مشکل ضرورہے ۔ مگریہی واحد راستہ ہے ، جو انسان کواس کی اصل آزادی تک لے جاتا ہے ۔اوریاد رکھیں، جو لوگ خوف کے باوجود قدم اٹھاتے ہیں، وہی اپنی تقدیر بدلتے ہیں۔
ان تینوں جیلوں کے دروازے باہر سے بند نہیں ہوتے ، ان کی کنجیاں ہمیشہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔مگرمسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی انہیں کھولنے کی کوشش ہی نہیں کی،دوسروں کی رائے سے نکلنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ آپ خود کو مان لیں، ہرکسی کوخوش کرنا ممکن نہیں۔ اورجو لوگ ہرایک کی نظرمیں اچھے بننے نکلتے ہیں، وہ اپنی نظرمیں گرجاتے ہیں،ماضی کی زنجیروں کو توڑنے کا ایک ہی طریقہ ہے ، اسے قبول کریں، اس سے سیکھیں۔ اورآگے بڑھ جائیں، جو ہوچکا، وہ بدل نہیں سکتا، مگرجو آنے والا ہے ، وہ ابھی بھی آپ کے اختیار میں ہے ۔ اورتبدیلی کے خوف سے نکلنے کا راستہ؟ وہ انتظار نہیں کرتا کہ آپ بہادر بن جائیں، وہ صرف ایک چھوٹا سا قدم مانگتا ہے ۔ یاد رکھیں، حوصلہ ہمیشہ پہلے نہیں آتا، کبھی کبھی قدم اٹھانے کے بعد پیدا ہوتا ہے ، یہ زندگی کسی اور کے اصولوں پر جینے کے لیے نہیں ملی، نہ ہی یہ ماضی کی قبروں میں دفن ہونے کے لیے ہے ۔ اورنہ ہی خوف کے سائے میں گزار دینے کے لیے ۔اگر واقعی جینا ہے ، توان تینوں جیلوں کی دیواریں گرانا ہوں گی۔ کیونکہ آزادی باہر کہیں نہیں، وہ آپ کے اندر ہی قید ہے ، اورجس دن آپ نے یہ سچ سمجھ لیا، اسی دن آپ کی زندگی، واقعی آپ کی اپنی بن جائے گی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر