... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
انسان تین جیلوں کا قیدی ہے ، ایسی جیلیں جن کی نہ دیواریں نظر آتی ہیں، نہ دروازے ۔مگر ان کی قید سب سے سخت ہوتی ہے ۔ پہلی جیل،دوسروں کی رائے ۔ دوسری جیل،ماضی کی زنجیریں۔ تیسری جیل،تبدیلی کا خوف۔ یہ تینوں جیلیں مل کر انسان کواس مقام پرلا کھڑا کرتی ہیں، جہاں وہ جیتا تو ہے ، مگر اپنی مرضی سے نہیں۔ وہ سوچتا کچھ اور ہے ، کرتا کچھ اور ہے ، اوربن کچھ اورجاتا ہے ۔ وہ ہر قدم سے پہلے لوگوں کی آنکھوں میں خود کو تولتا ہے ، ہر فیصلے سے پہلے ماضی کی قبروں میں اُتر جاتا ہے ۔ اورہرنئے راستے سے پہلے خوف کی دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتا ہے ،یوں آہستہ آہستہ اس کی زندگی اس کی اپنی نہیں رہتی، وہ ایک کہانی بن جاتا ہے ، جو دوسروں نے لکھی ہوتی ہے ۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ یہ جیلیں موجود ہیں، المیہ یہ ہے کہ انسان انہیں جیل سمجھتا ہی نہیں، وہ انہیں اپنی عادت، اپنی فطرت، بلکہ اپنی ” حقیقت ” مان لیتا ہے ۔ اور جب قیدی اپنی قید کو ہی زندگی سمجھنے لگے ، تو آزادی کا خیال بھی گناہ لگنے لگتا ہے ۔
سب سے خطرناک جیل وہ ہے ، جس کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں ہو۔ لوگ کیا کہیں گے ۔؟۔ یہ صرف ایک سوال نہیں، ایک مکمل نظام
ہے ۔ جو انسان کی سوچ، اس کے فیصلوں اوراس کی پہچان پرقبضہ کرلیتا ہے ۔ ایک بچہ جب بڑا ہوتا ہے ، تو اسے سکھایا نہیں جاتا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے ، اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ لوگوں کوکیا پسند آئے گا۔ وہ کپڑے بھی سوچ سمجھ کر پہنتا ہے ، بات بھی ناپ تول کر کرتا ہے ،خواب بھی وہی دیکھتا ہے جومعاشرہ منظورکرے ، یوں وہ آہستہ آہستہ اپنے اصل چہرے سے دور ہوتا جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اتنا نہیں سوچتے جتنا ہم سمجھتے ہیں، مگرہم اپنی پوری زندگی ان کے خیالی فیصلوں کے مطابق گزاردیتے ہیں۔کسی کی ایک تنقید، ایک طنز، ایک ہنسی۔اورانسان اپنی پوری سمت بدل دیتا ہے ، وہ لکھنا چھوڑ دیتا ہے ، بولنا چھوڑ دیتا ہے ،آگے بڑھنا چھوڑ دیتا ہے ، صرف اس لیے کہ کہیں کوئی اسے غلط نہ کہہ دے ۔ مگر ایک سوال ہے ، اگر زندگی آپ کی ہے ، تو فیصلہ دوسروں کا کیوں؟ جب تک آپ دوسروں کی رائے کے اس قید خانے میں رہیں گے ، آپ کبھی اپنی آواز سن ہی نہیں پائیں گے ۔ اوریاد رکھیں، جو لوگ ہر ایک کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آخر میں خود کو کھو دیتے ہیں۔
کچھ لوگ آگے بڑھنے سے نہیں رکتے ، وہ پیچھے سے بندھے ہوتے ہیں۔ ماضی۔ایک ایسا بوجھ، جو نظرنہیں آتا، مگرقدم اٹھنے نہیں دیتا، کچھ یادیں زخم بن جاتی ہیں۔اورکچھ فیصلے پچھتاوا، انسان ان ہی کے گرد گھومتا رہتا ہے ، جیسے زندگی آگے نہیں، پیچھے چل رہی ہو۔ وہ ہر نئے موقع کو پرانے انجام سے جوڑ دیتا ہے ۔” پہلے بھی توناکام ہوا تھا ”۔ ” پہلے بھی دھوکہ ملا تھا ”۔ یوں وہ حال کو بھی ماضی کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے ۔مگرسچ یہ ہے ، ماضی صرف ایک سبق تھا، سزا نہیں ،جو گزرگیا، وہ ختم ہوچکا، مگرہم اسے اپنے اندرزندہ رکھتے ہیں، باربار، ہرروز۔ کچھ لوگ اپنی ایک غلطی کو پوری پہچان بنا لیتے ہیں، کچھ ایک بچھڑ جانے والے کو پوری زندگی کا اختتام سمجھ لیتے ہیں۔ اوریوں وہ آج کو بھی کھودیتے ہیں، صرف کل کے سائے میں جیتے جیتے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے ، اگر آپ ہروقت پیچھے دیکھتے رہیں گے ، تو آگے کا راستہ کیسے نظر آئے گا؟ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے ، مگرماضی کی زنجیریں انسان کو وہیں جکڑے رکھتی ہیں۔ اورجب تک یہ زنجیرنہیں ٹوٹتی، کوئی بھی نیا آغازممکن نہیں ہوتا۔
انسان کو قید رکھنے والی سب سے خاموش طاقت۔خوف ہے ۔اوران خوفوں میں سب سے بڑا خوف۔ تبدیلی کا، عجیب بات ہے ، انسان تکلیف میں رہ لیتا ہے ، مگربدلنے کا حوصلہ نہیں کرتا، وہ جانتا ہے کہ یہ راستہ غلط ہے ، یہ ماحول اسے کھوکھلا کررہا ہے ، یہ عادتیں اسے تباہ کر رہی ہیں، مگرپھربھی وہ وہیں رہتا ہے ۔ کیوں؟ کیونکہ تبدیلی،غیر یقینی لے کر آتی ہے ۔ اورغیر یقینی، انسان کوڈرا دیتی ہے ۔ وہ سوچتا ہے ، اگرمیں نے قدم بڑھایا اورناکام ہوگیا تو؟ اگر سب کچھ چھوڑ کربھی کچھ نہ ملا تو؟۔۔ یہ ” اگر” ہی وہ دیوار ہے ، جو انسان کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتی، حالانکہ سچ اس کے بالکل الٹ ہے ، سب سے بڑا خطرہ بدلنا نہیں۔بلکہ ایک ہی جگہ رکے رہنا ہے ۔ پانی بھی اگربہنا چھوڑدے ، تو وہ جوہڑبن جاتا ہے ،بدبوآنے لگتی ہے ۔اورانسان بھی اگرخود کو نہ بدلے ، تواندر سے ختم ہونے لگتا ہے ۔ تبدیلی مشکل ضرورہے ۔ مگریہی واحد راستہ ہے ، جو انسان کواس کی اصل آزادی تک لے جاتا ہے ۔اوریاد رکھیں، جو لوگ خوف کے باوجود قدم اٹھاتے ہیں، وہی اپنی تقدیر بدلتے ہیں۔
ان تینوں جیلوں کے دروازے باہر سے بند نہیں ہوتے ، ان کی کنجیاں ہمیشہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔مگرمسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی انہیں کھولنے کی کوشش ہی نہیں کی،دوسروں کی رائے سے نکلنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ آپ خود کو مان لیں، ہرکسی کوخوش کرنا ممکن نہیں۔ اورجو لوگ ہرایک کی نظرمیں اچھے بننے نکلتے ہیں، وہ اپنی نظرمیں گرجاتے ہیں،ماضی کی زنجیروں کو توڑنے کا ایک ہی طریقہ ہے ، اسے قبول کریں، اس سے سیکھیں۔ اورآگے بڑھ جائیں، جو ہوچکا، وہ بدل نہیں سکتا، مگرجو آنے والا ہے ، وہ ابھی بھی آپ کے اختیار میں ہے ۔ اورتبدیلی کے خوف سے نکلنے کا راستہ؟ وہ انتظار نہیں کرتا کہ آپ بہادر بن جائیں، وہ صرف ایک چھوٹا سا قدم مانگتا ہے ۔ یاد رکھیں، حوصلہ ہمیشہ پہلے نہیں آتا، کبھی کبھی قدم اٹھانے کے بعد پیدا ہوتا ہے ، یہ زندگی کسی اور کے اصولوں پر جینے کے لیے نہیں ملی، نہ ہی یہ ماضی کی قبروں میں دفن ہونے کے لیے ہے ۔ اورنہ ہی خوف کے سائے میں گزار دینے کے لیے ۔اگر واقعی جینا ہے ، توان تینوں جیلوں کی دیواریں گرانا ہوں گی۔ کیونکہ آزادی باہر کہیں نہیں، وہ آپ کے اندر ہی قید ہے ، اورجس دن آپ نے یہ سچ سمجھ لیا، اسی دن آپ کی زندگی، واقعی آپ کی اپنی بن جائے گی۔
٭٭٭