وجود

... loading ...

وجود

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

هفته 02 مئی 2026 آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بے لگام / ستار چوہدری

کبھی کبھی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ لفظ سامنے پڑے ہوتے ہیں، کاغذ خالی ہوتا ہے ، وقت بھی میسر ہوتا ہے ۔ مگر موضوع نہیں ملتا، اورعجیب بات یہ ہے کہ یہی کیفیت صرف ایک لکھنے والے کی نہیں، پورے معاشرے کی ہے ۔آج ہرشخص بول رہا ہے ، مگربات نہیں کر رہا،ہرکوئی مصروف ہے ، مگر مقصد نہیں جانتا، ہرچہرہ زندہ ہے ، مگر اندر سے جیسے کچھ مر چکا ہے ، میں آج کالم لکھنے بیٹھا تو سوچا، کیا لکھوں؟ مہنگائی پر؟ وہ تو سب لکھ رہے ہیں، سیاست پر؟ وہاں سچ کم اور شورزیادہ ہے ، رشتوں پر؟ وہ اب موضوع نہیں، مسئلہ بن چکے ہیں۔
پھرخیال آیا۔شاید اصل موضوع یہی ہے کہ ہم سب ”موضوع ” کھو چکے ہیں ۔شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس موضوع نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ سے دور بھاگ رہے ہیں، کیونکہ سچ ہمیشہ موضوع بننے کے قابل ہوتا ہے ، مگر سچ لکھنا آسان نہیں ہوتا، وہ چبھتا ہے ، وہ اپنے ہی اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے اور ہم نے ایک عجیب عادت بنا لی ہے ،ہم دوسروں پر لکھ سکتے ہیں، مگر خود پرنہیں، ہم مہنگائی پرکالم لکھتے ہیں، مگر اپنی خواہشات کی مہنگائی نہیں دیکھتے ، ہم سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہیں، مگر اپنے چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھول جاتے ہیں، ہم معاشرے
کے زوال کا رونا روتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس زوال میں ہمارا حصہ کتنا ہے ۔اسی لیے شاید ہمیں موضوع نہیں ملتا، کیونکہ اصل موضوع ہم خود ہیں۔اور ہم خود کو موضوع بنانے سے ڈرتے ہیں ۔آج کا انسان باہرکی دنیا میں بہت بہادرہے ، مگر اندرسے بہت کمزور، وہ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے جملے لکھ دیتا ہے ، مگر رات کو تنہائی میں اپنے ہی سوالوں سے ہار جاتا ہے ۔اورایک وقت آتا ہے جب انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ، سوائے ایک سچے جملے کے ۔
جب ایک فرد خود سے نظریں چرا لیتا ہے ، تو پھر پورا معاشرہ آئینوں سے ڈرنے لگتا ہے ۔آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے اورجھوٹ کو حکمت کا نام دے دیا گیا ہے ، ہرشخص نے اپنے اپنے چہرے پر ایک خوبصورت نقاب سجا رکھا ہے ، اتنا خوبصورت کہ اب اصل چہرہ خود اسے بھی یاد نہیں، رشتے اب احساس پر نہیں، مفاد پر کھڑے ہیں، دوستیاں سچائی سے نہیں، ضرورت سے جڑی ہیں ۔اور باتیں دل سے نہیں، ماحول دیکھ کر کی جاتی ہیں ، ایسے میں اگر کوئی سچ لکھنے بیٹھ جائے ، تو وہ صرف کالم نہیں لکھتا وہ کئی چہروں سے نقاب اتار دیتا ہے ۔اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں معاشرہ بے چین ہو جاتا ہے ، کیونکہ معاشرہ سچ نہیں پڑھنا چاہتا، وہ صرف وہی پڑھنا چاہتا ہے جو اسے اچھا لگے ، اسی لیے آج موضوع نہیں ملتا۔ کیونکہ ہم نے اپنے لیے موضوعات کا دائرہ خود محدود کر لیا ہے ، ہم صرف وہی بات کرنا چاہتے ہیں جو محفوظ ہو، جو تالیاں لے آئے ، جو کسی کو ناراض نہ کرے ، مگر سچ یہ ہے کہ جو تحریر کسی کو تکلیف نہ دے ، وہ اکثرکسی کو بدل بھی نہیں سکتی۔
ہم سب سچ سے نہیں، اپنے آپ سے بھاگ رہے ہیں، یہ جو ہم بار بار کہتے ہیں کہ موضوع نہیں مل رہا، اصل میں یہ ایک بہانہ ہے ، ایک پردہ ہے ، جو ہم نے اپنے اور اپنے سچ کے درمیان ڈال رکھا ہے ، کیونکہ اگر واقعی ہم لکھنے بیٹھ جائیں نا، تو سب سے پہلا جملہ یہی ہوگا کہ ہم ٹھیک نہیں ہیں، ہم تھکے ہوئے ہیں، الجھے ہوئے ہیں ۔اورسب سے بڑھ کر ہم اندر سے خالی ہو چکے ہیں، مگر یہ بات مان لینا آسان نہیں ہوتا، اس لیے ہم موضوع ڈھونڈتے رہتے ہیں، مہنگائی، سیاست، حالات، لوگ، تاکہ ہمیں خود پر لکھنا نہ پڑے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے ، اگر ایک انسان ہمت کر کے اپنے اندر اتر جائے ، تو اسے ہزار موضوع مل جاتے ہیں، اس کی خاموشیاں، اس کے ڈر، اس کے ادھورے خواب۔اور وہ سارے سچ، جو وہ دنیا سے تو کیا، خود سے بھی چھپاتا ہے ، مگر ہم یہ راستہ چنتے ہی نہیں، کیونکہ یہ راستہ آسان نہیں، یہ راستہ انسان کو توڑ دیتا ہے ۔اورپھراسی ٹوٹنے سے ایک نیا سچ جنم لیتا ہے ۔
توپھر سوال یہ نہیں کہ موضوع کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟ کیونکہ سچ یہ ہے ، ہر دور کا سب سے بڑا موضوع، اس دور کا انسان ہوتا ہے ۔اور آج کا انسان عجیب موڑ پر کھڑا ہے ، وہ سب کچھ جانتا ہے ، مگر کچھ بدلتا نہیں، وہ سچ سن لیتا ہے ، اسے مان بھی لیتا ہے ، مگر اسے جینے کی ہمت نہیں کرتا، ہم وہ لوگ ہیں، جو اچھی تحریریں پڑھ کر سر ہلا دیتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں ایک جملہ بھی نافذ نہیں کرتے ، ہمیں لفظوں سے محبت ہے ، مگر سچ سے نہیں، اسی لیے شاید آج کے کالم دلچسپ تو ہوتے ہیں، مگر مؤثر نہیں ہوتے ، کیونکہ وہ قاری کو چھیڑتے ہیں، بدلتے نہیں۔ تو آج اگر واقعی کوئی نیا موضوع چاہیے تو وہ یہ نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے اندر کیا نہیں ہو رہا، کیونکہ انقلاب ہمیشہ سڑکوں پرنہیں آتا، کبھی کبھی وہ ایک انسان کے اندرآتا ہے ، خاموشی سے ، بغیر شورکے ، مگر ہمیشہ کے لیے ۔اور جس دن یہ اندر والا انقلاب آ گیا نا۔ اس دن آپ کو موضوع ڈھونڈنا نہیں پڑے گا، آپ خود ایک موضوع بن چکے ہوں گے ۔اگرپھر بھی آپ کو لگے ،موضوع نہیں مل رہا، تو ایک بارخاموش ہو کر اپنے اندر جھانکیں، شاید وہاں ایک چیخ بند ہے ، ایک سچ رکا ہوا ہے ، ایک کہانی دم توڑ رہی ہے ، اور وہی آپ کا اصل موضوع ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

بھارت میں مذہبی آزادی ناپید وجود هفته 02 مئی 2026
بھارت میں مذہبی آزادی ناپید

گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر