وجود

... loading ...

وجود

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بدھ 29 اپریل 2026 آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

حاصل مطالعہ
عبد الرحیم

اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل بھی جائے تو انرجی ایگزیکٹوز اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صنعت اب اس پر بھروسہ نہیں کرے گی جتنا وہ کرتی تھی۔آبنائے ہرمز کا اب معمول پر آنا نہیں ہوگا۔خطے کے ارکان اب انفراسٹرکچر تعمیر یا اس میں توسیع یا بحال کر رہے ہیں جو آبنائے ہرمز کو نظر انداز کر دیں گے۔جو قومیں اس خطے سے ایندھن در آمد کرتی ہیں، کسی اور جگہ سے تیل اور گیس حاصل کرنے کیلئے دوڑ لگا رہی ہیں، ایندھن کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں اور متبادل کا رخ کر رہی ہیںمثلاً کوئلہ۔
آئندہ خواہ کچھ بھی ہو جائے،ایران نہیں بھولے گا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی کی بندش کرنا کتنا آسان ہے۔ دوسرے معنوں میں انرجی کمپنیوں اور صارفین کو بہت مختلف مستقبل کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ متحدہ عرب امارات کیلئے کاروبار کے خصوصی ایلچی بدر جعفر کا کہنا ہے کہ جونہی میزائل گرتے ہیںاور ڈرون نشانہ بناتے ہیںتو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہم واپس اس مرحلے پر نہیں جائیں گے۔
موجودہ بحران کو روکنے کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے تیل کے معتدبہ حصے کا رخ آبنائے ہرمز سے دور بندرگاہوں کی طرف موڑ دیا ہے، پائپ لائنوں کے ذریعہ جو کسی بحران کی تیاری کے پیش نظر برسوںقبل تعمیر کی گئی تھیں۔عراق نے بھی حال ہی میں ایک پائپ لائن میں تیل کا تھوڑا سا حصہ ترکی کو بھیجنا شروع کر دیا ہے جو برسوں سے سیاسی اور مسلح جنگ کی بناء پرکام نہیں کر رہی تھی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ہر روز70 لاکھ بیرل سے زائد تیل روزانہ ان میں سے ایک روٹ پر خلیج فارس سے جہازوں کے ذریعہ باہر بھیجا جارہا ہے۔ لیکن یہ 2 کروڑ بیرل تیل کا معمولی حصہ ہے جوجنگ سے قبل روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ایران اور وینزویلا کے خصوصی نمائندے ایلو ئیٹ ابرامز کا کہنا ہے کہ2030 یا 2035 میں کم اہم ہوگی۔لوگ متبادل تلاش کریں گے۔عراق جس کا کوئی اور ساحل نہیں ہے،نے شام کے راستے بحیرہ روم تک نئی پائپ لائن تعمیر کرنے کا آغاز کر رہی ہے۔ توانائی کے درآمد کنندگان خلیج فارس سے متنوع بنانے کیلئے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔وہ امریکہ سے زیادہ ایندھن خرید رہے ہیں یا ایٹمی بجلی گھر دوبارہ شروع کرنے کیلئے پلان بنا رہے ہیں۔
گرین انرجی کی طرف عالمی منتقلی کی رفتار تیز
ایران میں جنگ کے نتیجہ میںفروری اور مارچ کے درمیان دنیا نے قدرتی ایندھن کے استعمال کو نہ صرف کم کیا بلکہ نئی گرین انرجی پر رقم خرچ کی۔چین کی سولر،بیٹری اور ای وی برآمدات میں39 فی صد اضافہ ہوا۔ اس عرصے کے دوران صرف چین کی سولر بر آمدات میں دگنے سے زیادہ اضافہ ہوا،جنوبی کوریا میں مارچ میں نئی ای وی رجسٹریشن میں گزشتہ سال کے مقابلے میںدگنا اضافہ ہوا۔ نیوزی لینڈ میں دو ہفتوں میں رجسٹریشن دگنی ہو گئی۔ حالیہ ہفتوں میں فرانس،بھارت، انڈونیشیا،ترکی اور بہت سے دوسرے ممالک نے کلین انرجی میں نئی سرمایہ کاریوں اور نئے اقدامات کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں قدرتی ایندھن کو مرکزی اہمیت دی۔ اب وہ” پیٹرو اسٹیٹ” کی طرح کام کر رہا ہے جبکہ چین ”الیکٹرو اسٹیٹ ”کی طرح نظر آرہا ہے۔
ایشیا میں جنگ کے اثرات
پولیسٹر اور نائیلون پیٹرولیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش جو گارمنٹس کا مرکز ہے۔ یہاں کپڑے وال مارٹ،زارا اور یونیکلو کیلئے تیار کئے جاتے ہیں،پیداوار اور شپمنٹس کے شیڈولزمیں شدید رکاوٹیں عام ہیں۔بنگلہ دیشی گارمنٹ فیکٹری گروپ ٹیم کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ ہیل نقیب کا کہنا ہے کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔دھاگے کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔بھارت میں ایندھن کی قلت کی بناء پر پورا صنعتی شعبہ ہفتوں کیلئے بندہو گیا ہے۔ورکرز شہروں سے دیہات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تاکہ گندم کی کٹائی کریں اور اس کے دانے الگ کریں۔ فلپائن میں سبزیاں کھیتوں میں گل سڑ رہی ہیں کیونکہ کسان انہیں ماکیٹ تک لے جانے کی لاگت برداشت نہیں کر سکتے۔
طلبہ امتحاں میںنقل کیوں کرتے ہیں؟
کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے تعلیم ایک سرمایہ کاری ہے۔کسی بھی سرمایہ کاری کی طرح اس کے ساتھ لاگت آتی ہے۔ فوری لاگت آمدنی کا چلا جانا ہے۔اسکول میں بچہ کام نہیں کر رہا۔ایک غریب خاندا ن کیلئے یہ پیٹ پالنا اور زندہ رہنے کے درمیان فرق ہے۔ایک شہری کچی آبادی میں ایک ماں نے کہا کہ اسکول سے روٹی نہیں آتی یعنی اسکول میز پر کھانا نہیں رکھتا۔دوسری لاگت غیر یقینی صورتحال ہے۔تعلیم معاوضہ کو یقینی نہیں بناتا۔نوجوان گریجویٹس کو بائیکا موٹر سائیکل چلاتے دیکھتے ہیں۔
جب لیبر مارکیٹ تعلیمی قابلیت کا معاوضہ دینے میں ناکام رہتی ہے تو تعلیم کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔پاکستان میں ڈگریاں روزگار نہیں دیتیں۔ایسے نظام میں جہاں ملاز متیں اہلیت کی بجائے تعلقات کی بنیاد پر ملتی ہیں جس سے پڑھنے کی ترغیب ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ میںنقل ہوتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر