... loading ...
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل بھی جائے تو انرجی ایگزیکٹوز اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صنعت اب اس پر بھروسہ نہیں کرے گی جتنا وہ کرتی تھی۔آبنائے ہرمز کا اب معمول پر آنا نہیں ہوگا۔خطے کے ارکان اب انفراسٹرکچر تعمیر یا اس میں توسیع یا بحال کر رہے ہیں جو آبنائے ہرمز کو نظر انداز کر دیں گے۔جو قومیں اس خطے سے ایندھن در آمد کرتی ہیں، کسی اور جگہ سے تیل اور گیس حاصل کرنے کیلئے دوڑ لگا رہی ہیں، ایندھن کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں اور متبادل کا رخ کر رہی ہیںمثلاً کوئلہ۔
آئندہ خواہ کچھ بھی ہو جائے،ایران نہیں بھولے گا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ جہاز رانی کی بندش کرنا کتنا آسان ہے۔ دوسرے معنوں میں انرجی کمپنیوں اور صارفین کو بہت مختلف مستقبل کیلئے تیار رہنا ہو گا۔ متحدہ عرب امارات کیلئے کاروبار کے خصوصی ایلچی بدر جعفر کا کہنا ہے کہ جونہی میزائل گرتے ہیںاور ڈرون نشانہ بناتے ہیںتو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہم واپس اس مرحلے پر نہیں جائیں گے۔
موجودہ بحران کو روکنے کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے تیل کے معتدبہ حصے کا رخ آبنائے ہرمز سے دور بندرگاہوں کی طرف موڑ دیا ہے، پائپ لائنوں کے ذریعہ جو کسی بحران کی تیاری کے پیش نظر برسوںقبل تعمیر کی گئی تھیں۔عراق نے بھی حال ہی میں ایک پائپ لائن میں تیل کا تھوڑا سا حصہ ترکی کو بھیجنا شروع کر دیا ہے جو برسوں سے سیاسی اور مسلح جنگ کی بناء پرکام نہیں کر رہی تھی۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ہر روز70 لاکھ بیرل سے زائد تیل روزانہ ان میں سے ایک روٹ پر خلیج فارس سے جہازوں کے ذریعہ باہر بھیجا جارہا ہے۔ لیکن یہ 2 کروڑ بیرل تیل کا معمولی حصہ ہے جوجنگ سے قبل روزانہ آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔ پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران ایران اور وینزویلا کے خصوصی نمائندے ایلو ئیٹ ابرامز کا کہنا ہے کہ2030 یا 2035 میں کم اہم ہوگی۔لوگ متبادل تلاش کریں گے۔عراق جس کا کوئی اور ساحل نہیں ہے،نے شام کے راستے بحیرہ روم تک نئی پائپ لائن تعمیر کرنے کا آغاز کر رہی ہے۔ توانائی کے درآمد کنندگان خلیج فارس سے متنوع بنانے کیلئے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔وہ امریکہ سے زیادہ ایندھن خرید رہے ہیں یا ایٹمی بجلی گھر دوبارہ شروع کرنے کیلئے پلان بنا رہے ہیں۔
گرین انرجی کی طرف عالمی منتقلی کی رفتار تیز
ایران میں جنگ کے نتیجہ میںفروری اور مارچ کے درمیان دنیا نے قدرتی ایندھن کے استعمال کو نہ صرف کم کیا بلکہ نئی گرین انرجی پر رقم خرچ کی۔چین کی سولر،بیٹری اور ای وی برآمدات میں39 فی صد اضافہ ہوا۔ اس عرصے کے دوران صرف چین کی سولر بر آمدات میں دگنے سے زیادہ اضافہ ہوا،جنوبی کوریا میں مارچ میں نئی ای وی رجسٹریشن میں گزشتہ سال کے مقابلے میںدگنا اضافہ ہوا۔ نیوزی لینڈ میں دو ہفتوں میں رجسٹریشن دگنی ہو گئی۔ حالیہ ہفتوں میں فرانس،بھارت، انڈونیشیا،ترکی اور بہت سے دوسرے ممالک نے کلین انرجی میں نئی سرمایہ کاریوں اور نئے اقدامات کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں قدرتی ایندھن کو مرکزی اہمیت دی۔ اب وہ” پیٹرو اسٹیٹ” کی طرح کام کر رہا ہے جبکہ چین ”الیکٹرو اسٹیٹ ”کی طرح نظر آرہا ہے۔
ایشیا میں جنگ کے اثرات
پولیسٹر اور نائیلون پیٹرولیم سے حاصل ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش جو گارمنٹس کا مرکز ہے۔ یہاں کپڑے وال مارٹ،زارا اور یونیکلو کیلئے تیار کئے جاتے ہیں،پیداوار اور شپمنٹس کے شیڈولزمیں شدید رکاوٹیں عام ہیں۔بنگلہ دیشی گارمنٹ فیکٹری گروپ ٹیم کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ ہیل نقیب کا کہنا ہے کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔دھاگے کی قیمت دگنی ہوگئی ہے۔بھارت میں ایندھن کی قلت کی بناء پر پورا صنعتی شعبہ ہفتوں کیلئے بندہو گیا ہے۔ورکرز شہروں سے دیہات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تاکہ گندم کی کٹائی کریں اور اس کے دانے الگ کریں۔ فلپائن میں سبزیاں کھیتوں میں گل سڑ رہی ہیں کیونکہ کسان انہیں ماکیٹ تک لے جانے کی لاگت برداشت نہیں کر سکتے۔
طلبہ امتحاں میںنقل کیوں کرتے ہیں؟
کم آمدنی والے گھرانوں کیلئے تعلیم ایک سرمایہ کاری ہے۔کسی بھی سرمایہ کاری کی طرح اس کے ساتھ لاگت آتی ہے۔ فوری لاگت آمدنی کا چلا جانا ہے۔اسکول میں بچہ کام نہیں کر رہا۔ایک غریب خاندا ن کیلئے یہ پیٹ پالنا اور زندہ رہنے کے درمیان فرق ہے۔ایک شہری کچی آبادی میں ایک ماں نے کہا کہ اسکول سے روٹی نہیں آتی یعنی اسکول میز پر کھانا نہیں رکھتا۔دوسری لاگت غیر یقینی صورتحال ہے۔تعلیم معاوضہ کو یقینی نہیں بناتا۔نوجوان گریجویٹس کو بائیکا موٹر سائیکل چلاتے دیکھتے ہیں۔
جب لیبر مارکیٹ تعلیمی قابلیت کا معاوضہ دینے میں ناکام رہتی ہے تو تعلیم کی ساکھ ختم ہو جاتی ہے۔پاکستان میں ڈگریاں روزگار نہیں دیتیں۔ایسے نظام میں جہاں ملاز متیں اہلیت کی بجائے تعلقات کی بنیاد پر ملتی ہیں جس سے پڑھنے کی ترغیب ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ میںنقل ہوتی ہے۔
٭٭٭