وجود

... loading ...

وجود

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

پیر 27 اپریل 2026 اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

محمد آصف

قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی ۖ کا مطالعہ ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے ۔ یہ وہ سرچشمۂ ہدایت ہیں جن کے بغیر ہم اصل اسلام
سے جڑ ہی نہیں سکتے ۔ اسلام محض ایک مذہبی شناخت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ، اور اس ضابطے کو سمجھنے کے لیے براہِ راست
قرآن و سنت سے تعلق ناگزیر ہے ۔ ہر شخص اپنی علمی و ذہنی استعداد کے مطابق ان مقدس مصادر سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے ۔ کوئی عام فہم
آیات سے اخلاقی سبق لیتا ہے ، کوئی احادیث سے روزمرہ زندگی کے آداب سیکھتا ہے ، اور کوئی ان میں غور و فکر کر کے ایمان کی تازگی حاصل
کرتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دین کے بعض مسائل نہایت دقیق، گہرے اور اجتہادی نوعیت کے ہوتے ہیں جن کے لیے وسیع
علم، عربی زبان پر عبور، اصولِ فقہ سے واقفیت اور ہزاروں احادیث پر نظر درکار ہوتی ہے ۔ یہ کام ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال کافی ہے ۔ اگر کسی کو معمولی نزلہ، زکام یا بخار ہو جائے تو عموماً وہ پیناڈول کی گولی استعمال کر لیتا
ہے ۔ یہ ایک عمومی اور آسان علاج ہے جس سے وقتی افاقہ ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر معاملہ ہارٹ سرجری، دماغی امراض یا کسی مہلک اور پیچیدہ
بیماری کا ہو تو کیا ہم خود علاج کرنے بیٹھ جائیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ ہم فوراً کسی ماہر اور سرٹیفائیڈ ڈاکٹر سے رجوع کریں گے جو برسوں کی تعلیم،
تجربے اور مہارت کے بعد اس قابل ہوا ہے کہ پیچیدہ مسائل کا درست حل تجویز کر سکے ۔ اسی طرح دین کے سادہ اور بنیادی مسائل تو ہر شخص
قرآن و سنت سے سمجھ سکتا ہے ، لیکن جب مسئلہ اجتہادی نوعیت اختیار کر جائے ، مختلف دلائل میں تطبیق درکار ہو، یا بظاہر متعارض نصوص کو جمع
کرنا ہو، تو ہمیں اعلیٰ پایہ کے علماء کرام کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ جیسے ایک ہی بیماری کے بارے میں مختلف ڈاکٹروں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے ، اسی طرح
ایک ہی علمی یا فقہی مسئلے پر مختلف علماء کی آراء بھی مختلف ہو سکتی ہیں۔ میڈیکل سائنس میں اگر دو ماہرین کسی علاج کے طریقے پر اختلاف
کریں تو وہ ایک دوسرے کو میڈیکل سائنس سے خارج نہیں کرتے ، بلکہ ہر ایک اپنے علم، تحقیق اور تجربے کی بنیاد پر رائے دیتا ہے ۔ یہی
حال فقہی اختلاف کا ہے ۔ ائمہ اور مجتہدین کا اختلاف دراصل علمی وسعت اور تحقیق کا مظہر ہے ، نہ کہ تفرقہ یا گمراہی کی علامت۔ ان کا
اختلاف ہمارے لیے آسانی اور وسعت پیدا کرتا ہے ۔ اگر ایک رائے پر عمل مشکل ہو تو دوسری رائے میں سہولت مل جاتی ہے ، اور یوں
شریعت کا حسن نمایاں ہوتا ہے ۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی خاص عالم یا فقہ کی پیروی کرتا ہے تو گویا وہ ایک انسان
کی رائے پر عمل کر رہا ہے ۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ایک مستند اور متقی عالم کی رائے دراصل قرآن و سنت ہی سے ماخوذ ہوتی ہے۔ وہ اپنی طرف سے کوئی نیا دین ایجاد نہیں کرتا بلکہ نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں مسئلے کا حل پیش کرتا ہے ۔ عام مسلمان چونکہ براہِ راست
دلائل کے استنباط کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے وہ ایک ماہر عالم کی رہنمائی قبول کرتا ہے ۔ گویا وہ عالم کی ذات کی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعبیر کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔ جیسے میڈیکل سائنس میں وقت کے ساتھ ساتھ نئے مسائل سامنے آئے اور ان کے حل کے لیے نئے شعبہ جات قائم ہوئے ، اصول و ضوابط مرتب کیے گئے ، اور تخصصات وجود میں آئے ، اسی طرح علمِ دین میں بھی باقاعدہ اصول تشکیل دیے گئے ۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر فقہ کے مختلف مکاتب فکر وجود میں آئے ، جیسے فقہ حنفی، فقہ مالکی، فقہ شافعی، فقہ حنبلی اور فقہ جعفریہ۔ ان سب کی بنیاد قرآن و سنت ہی پر ہے ، البتہ اصولِ استنباط میں کچھ اختلافات کی وجہ سے جزوی مسائل میں فرق پایا جاتا ہے ۔ یہ اختلاف دراصل علمی تنوع ہے ، نہ کہ تضاد۔
ان فقہی مکاتب کی بنیاد رکھنے والے ائمۂ کرام ہمارے لیے باعثِ احترام اور قابلِ تقلید ہیں۔ وہ نہ صرف حافظِ قرآن تھے بلکہ لاکھوں احادیث کے حافظ اور ماہر بھی تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگیاں علمِ دین کے حصول اور اس کی تدوین میں صرف کیں۔ ان کی تقویٰ، دیانت اور اخلاص کی گواہی تاریخ دیتی ہے ۔ لہٰذا اگر آج کوئی شخص کسی بھی معتبر فقہ کی پیروی کرتا ہے تو درحقیقت وہ قرآن و سنت ہی کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں ”صراط الذین انعمت علیھم” یعنی ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام فرمایا، اختیار کرنے کی دعا سکھائی گئی ہے ۔ مفسرین کے مطابق اس میں انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین شامل ہیں۔ ائمۂ مجتہدین بھی انہی صالحین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دین کو سمجھنے اور سمجھانے میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض ایسے لوگ بھی سامنے آتے ہیں جن کا علم ناقص ہوتا ہے ، مگر وہ دین کے بڑے بڑے مسائل میں رائے
زنی شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے جھگڑے اور الزام تراشی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان نسل
کنفیوژن کا شکار ہو جاتی ہے ۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص خود کو مفتی اور مفسر سمجھنے لگا ہے ، حالانکہ دین کا علم باقاعدہ محنت، اساتذہ کی
صحبت اور سالہا سال کی ریاضت سے حاصل ہوتا ہے ۔ ایسے افراد سے محتاط رہنا چاہیے جو امت کو تقسیم کرنے اور علماء کی توہین کرنے میں
مصروف رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل کامیابی نہ تو محض مناظروں میں ہے اور نہ ہی دوسروں کو غلط ثابت کرنے میں، بلکہ اصل کامیابی
دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے اور حضور نبی اکرم ۖ کی سچی محبت کو بسانے میں ہے ۔ جب دل میں تقویٰ اور عشقِ رسول ۖ ہوگا تو
انسان خود بخود اعتدال، برداشت اور احترام کا راستہ اختیار کرے گا۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بنائے گا بلکہ اسے علمی وسعت سمجھے گا۔ وہ اپنے
مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے مسلک کا احترام کرے گا۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اپنی
استطاعت کے مطابق دین سیکھیں، اور جہاں معاملہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہو وہاں مستند علماء کی طرف رجوع کریں۔ جیسے ہم اپنی جان کے
معاملے میں ماہر ڈاکٹر پر اعتماد کرتے ہیں، ویسے ہی اپنی آخرت کے معاملے میں ماہر علماء پر اعتماد کریں۔ اختلاف کو فتنہ نہ بنائیں بلکہ اسے
رحمت سمجھیں۔ ائمہ کرام کی خدمات کا اعتراف کریں اور ان کے قائم کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں۔ اگر ہم اس توازن کو
قائم کر لیں یعنی براہِ راست قرآن و سنت سے تعلق بھی ہو اور مستند علماء کی رہنمائی بھی تو ہم نہ صرف فکری انتشار سے بچ سکتے ہیں بلکہ امتِ
مسلمہ کے اتحاد اور اعتدال کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اصل اسلام سے جوڑتا ہے ، اور یہی وہ طرزِ
فکر ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر