وجود

... loading ...

وجود

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

بدھ 15 اپریل 2026 بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

ریاض احمدچودھری

بھارت میں اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مئی اور جولائی کے درمیان 1,880 افراد کو بنگلہ دیش میں زبردستی پھینک دیا گیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے حسن شاہ نامی شہری کو مغربی بنگال سے حراست میں لیا اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور کشتی کے ذریعے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب چھوڑ دیا۔حسن شاہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس شہریت کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن اپنے عروج پر ہے جہاں سیکڑوں مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک قرار دے کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ مئی اور جولائی 2025 کے درمیان 1,880 افراد کو بنگلہ دیش میں زبردستی پھینک دیا گیا جن میں سے 110 کو بنگلہ دیش نے “غلط طور پر دیے گئے بھارتی شہری” کے طور پر واپس بھیج دیا۔رپورٹ میں بھارتی پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بھی شامل ہیں جیسے کہ شہریوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور سرحد پار پھینکنا۔یہ رپورٹ بھارت کی جانب سے شہریت کے متنازع قوانین اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں شدید عدم تحفظ پایا جا رہا ہے۔
بھارت میں بی جے پی کے اقتدار میں خواتین کا مستقبل تاریک اور خواتین کو متعدد سنجیدہ مسائل کاسامنا ہے۔مودی سرکار کے تیسرے دورِ حکومت میں بھارتی خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے، بھارتی ریاست بنگال کے شہر کلکتہ میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور ان کوصنفی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بنانے کے یکے بعد دیگرے کئی واقعات رپورٹ ہورے ہیں۔ حال ہی میں مغربی بنگال کے نواحی علاقے نندی گرام میں بی جے پی کے کارکنوں نے سیاسی مخالفت کی بنا پر ایک خاتون کو برہنہ کر کے 300 میٹر تک پیدل چلنے پہ مجبور کیا، برہنہ کئے جانے والی خاتون کے گھر والوں کو بھی بی جے پی کے کارکنان کی جانب سے مارا پیٹا گیا اور گھر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔متاثرہ خاتوں کا کہنا ہے کہ میں بی جے پی کے ساتھ تھی، لیکن حال ہی میں ٹی ایم سی( آل انڈیا ترنمول کانگریس) میں شامل ہوئی، جس کی وجہ سے مجھ پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں بی جے پی کے بوتھ صدر تاپس داس سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ٹی ایم سی کے ترجمان کنال گھوش نے دعویٰ کیاہے کہ متاثرہ خاندان ٹی ایم سی کی حمایت کرتا ہے، اس لیے بی جے پی نے سیاسی انتقام کی وجہ سے خاتون کے خلاف یہ ظلم کیا۔صنفی کارکن ستابدی داس کا کہناہے کہ بی جے پی کی خواتین سے نفرت اور بدسلوکی کی ایک طویل تاریخ ہے، بی جے پی ایک بدتمیز اور بد تہذیب سیاسی پارٹی ہے۔
بھارت میں لوگ اس وقت سڑکوں پر ہیں اور آر،جی کارہسپتال میں ہونے والے انسانیت سوز واقعہ کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں، مگر ایسے واقعات کم ہونے کی بجائے زیادہ ہورہے ہیں۔یاد رہے کہ مودی سرکار کو اس وقت شدید ریاستی اور عالمی دباؤ کا سامنا ہے اور بی جے پی کے کارکن اپنی پارٹی کے لئے مزید شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں، بھارتی خواتین آئے روز بی جے پی کی انتہا پسندانہ سوچ کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔نریندر مودی کے ادوارِ حکومت کے دوران ہونے والے تاریخ کے بدترین واقعات کی وجہ سے خواتین کے لیے بھارت کو دنیا کا غیر محفوظ ترین ملک قرار دیا جا چکا ہے، خواتین سے زیادتی روز کا معمول بن گیا ہے، جہاں نظامِ انصاف مفلوج اور ریاست خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔بھارت میں نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی خواتین بھی مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں، خواتین کی عصمت دری اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث بھارت کو دنیا میں ریپ کیپٹل کے طور پر جانا جاتا ہے۔راجستھان میں فرانسیسی سیاح خاتون سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، جو بھارت کے عالمی سطح پر سیاہ چہرے پر ایک اور بدنما داغ ہے، اْدے پور میں کمپنی کے ایک ملازم نے فرانسیسی سیاح خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد بھارتی اپوزیشن نے اس واقعے کو عالمی سطح پر بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ کے لیے ایک نیا خطرہ قرار دیتے ہو ئے مودی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 19 مارچ 2025 کو کرناٹک کے شہر ہمپی میں اسرائیلی سیاح خاتون اور اْس کی میزبان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018 سے 2025 کے دوران ہر سال 30 سے 34 ہزار ریپ کیسز رپورٹ ہوئے، رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون ریپ کی رپورٹ درج کراتی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 2022 میں ریپ کے 1,98,285 زیر التوا کیسز میں صرف 18,517 نمٹائے گئے جب کہ 90 فیصد سے زائد مقدمات تاحال توجہ کے طالب ہیں۔ بھارت میں بڑھتے ریپ کیسز پر عالمی میڈیا کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس سے مودی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوتی ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر