... loading ...
ریاض احمدچودھری
ہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو صرف سرحدی جھڑپوں، مہاجرین اور ٹی ٹی پی تک محدود سمجھ رہے ہیں لیکن یہ محض مسائل کی بالائی سطح ہے۔ آئی سی جی کا سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ تھا، ”طالبان اعلانیہ طور پر ٹی ٹی پی کے ساتھ تعلق سے انکار کرتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے وہ خود مانتے ہیں کہ نظریاتی اور قبائلی روابط کی وجہ سے وہ ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کر سکتے۔”اور اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے، ” اگر طالبان نے ٹی ٹی پی پر سختی کی تو اس کے ارکان داعش خراسان میں شامل ہو جائیں گے، جو کہیں زیادہ خطرناک اور عالمگیر تنظیم ہے۔”
لووی انسٹی ٹیوٹ (سڈنی) کے مطابق افغانستان افیون سے میتھ ایمفیٹامین کی طرف منتقل ہو کر ”عالمی منشیات کا مرکز” بننے کی راہ پر ہے، جبکہ روس نے چند روز پہلے ہی افغانستان میں ہزاروں غیرملکی جہادیوں کی موجودگی کی خبر دی ہے۔ یعنی افغانستان میں ہر وہ چیز موجود ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے اس پورے خطے کو غیرمستحکم کیا جا سکتا ہے۔ایسٹ ایشیا فورم (آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی) کے مطابق پاک افغان سرحد پر امن کے لیے، ”محض فوجی حکمت عملی کام نہیں دے گی۔ پشتون سرحدی علاقوں میں سیاسی مشغولیت ضروری ہے۔ بغیر پائیدار سکیورٹی تعاون کے یہ دونوں ممالک طویل عرصے تک تصادم کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔”
پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امن قائم ہوجائے یہ دلی سرکار کو پسند نہیں۔ پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرنا چانکیہ کا پرانا نسخہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرافغانستان سے اٹھ رہی ہے۔ دہشت گردی کی تربیت کے بھارتی مراکز افغانستان سے پاکستان میں کارروائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے بھارت نے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں، تربیت گاہیں ہیں۔ یہ تربیت گاہیں بھارت کے قونصل خانے ہیں۔ بھارت کے یہ قونصل خانے کالعدم تحریک طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں۔ بھارت کے یہ خفیہ ٹھکانے مختلف دہشت گرد گروہوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں۔نئی دہلی افغانستان کی طرف سے پاکستان کا گھیراؤ کرنا چاہتا ہے۔پاک افغان کشیدگی کی بنیادی وجہ وہ دہشت گرد گروپس ہیں، جنہیں طالبان حکومت نے نہ صرف پناہ دے رکھی ہے، بلکہ اْنہیں یہ چْھوٹ بھی حاصل ہے کہ جب چاہیں، پاکستان میں داخل ہوکر دہشت گردی کی وارداتیں کریں، جن میں فوجی جوان و افسران کے ساتھ، معصوم شہری بھی شہید ہو رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی سفارتی رابطہ ہو، جس کے ذریعے پاکستان نے طالبان حکومت کو وارننگ نہ دی ہو کہ اپنی سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال روکنا اْس کی ذمّے داری ہے۔
بھارت کی جانب سے افغانستان کو ہتھیاروں کی بالواسطہ فراہمی کے اس معاہدے پر پاکستان برہمی ظاہر کرسکتا ہے کیونکہ یہ اسلحہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں میں تقسیم کر کے بھارت اور افغانستان پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا اور بھارت نے رواں سال اپنی سرزمین پر تربیت پانے والے افغان فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1100 کردی۔
بھارت تیزی سے افغانستان میں قدم جما رہا ہے، چین کی نظریں افغانستان کی تین ٹریلین ڈالر کی معدنیات پر ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی نایاب دھاتوں کی تلاش میں ہیں، جبکہ روس خاموشی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں فی الحال پاکستان اور طالبان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکی فوج کی جگہ بھارتی فوج کو دی جا رہی ہے ۔ بھارت افغانستان کی سرحد پر بیٹھ کر علیحدگی کی تحریکیں منظم کر رہا ہے ۔پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ افغانستان میں ہندوستانی فوج کی موجودگی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کا انڈیا کو خطے کی سپر پاور بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ اگرمودی سرکار نے اپنے انتخابی منشور پر عمل کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی بند نہ کی تودوقومی نظریہ پھر سے بھرپور انداز میں زندہ ہو گا اور ہندوستان کے پچیس کروڑ مسلمان متحدو بیدار ہوجائیں گے جس سے کشمیر سمیت پورے بھار ت کے مظلوم مسلمانوں کا آزادیاں ملیں گی۔ امت مسلمہ کا وجود زخمی ہے، اللہ کے دشمنوں نے ہر جگہ جنگیں برپا کر رکھی ہیں،وہ سازشوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بداعتمادی پیدا کر رہے ہیں اور اس خطہ کو خاص طور پرامریکہ اورا س کے اتحادیوںنے نشانہ بنا رکھاہے۔ افغانستان میں 7لاکھ افغانی اور ڈرون حملوںکے نتیجے میں ہزاروں قبائلی مسلمان شہید ہوئے ہیں۔ ان کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بنا، یہاں تشدد کو ابھارا گیا۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میںیہاں خودکش حملے ہوئے جس میں مسلمان ہی لقمہ اجل بنے۔خطے میں دشمن کی حکمت عملی ناکام بنانے کیلئے پاکستان میںچلتی ہوئی گولی کو روکنا اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر کو کم کرنابہت ضروری ہے۔بعض نام نہاد تجزیہ نگار پاکستانی عوام کی صحیح رہنمائی نہیں کر رہے’ قوم کے مور ال کو گرا یاجارہا ہے۔ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں رہے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں درست نہیں ہیں۔ اتحادیوں کی افغانستان میں شکست مسلمانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔اب تو امریکی جرنیل بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے فوجیوں کے پاس اپنی عزتوں و حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے مسلمانوں کے مقابلہ کی تربیت نہیں ہے۔
روس کی طرح امریکہ بھی افغانستان میں بری طرح شکست سے دوچار ہوا ہے۔اتحادی ممالک اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستانی فوج کو سمجھتے ہیں اورشکست کا بدلہ لینے کیلئے وطن عزیز پاکستان کے خلاف خوفناک منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں۔علیحدگی کی تحریکوں کو منظم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
٭٭٭