وجود

... loading ...

وجود

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

بدھ 18 مارچ 2026 نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی ایک زمانے میں اپنی فقرے بازی کے لیے مشہور تھے مثلاً”دو مئی دیدی گئی” جیسے بے شمار نعرے خوب چلا کرتے تھے لیکن اب وہ خودفقرے بازی کا شکار ہورہے ہیں ۔ آئے دن ان پر کسے جانے والے طعنوں تشنوں کا طوفان آیا ہوا ہے ۔ اے آئی (جعلی ذہانت) کی مدد سے ان کا مذاق اڑانے والے ویڈیوز سے سماجی ذرائع ابلاغ اٹا پڑا ہے ۔ آپریشن سیندور کے بعدجب ٹرمپ نے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان کردیا اور مودی سرکار نے اس کو بلا چوں چرا تسلیم بھی کرلیا تو نعرہ لگا ‘نریندر سرینڈر’ اور پھر وہ موقع بموقع دوہرایا جاتا رہا۔ مثلاً جب ہندوستان سے کہا گیا روس سے تیل نہ خریدو اور سرکار نے اس حکم کی تعمیل میں سرِ تسلیم کر لیا تو پھر ایک بار ‘نریندر سرینڈر’کے نعرے کی گونج سنائی دی۔ امریکہ نے جب فرمان جاری کیا کہ چابہار بندرگا ہ سے نکل جاو ٔاور ہم لوگ بوریا بستر گول کر کے چلے آئے تو پھر یہ نعرے کی بازگشت ہوئی ۔ حکومت ہندجب امریکی ٹیرف کی تمام نامعقول شرائط کو قبول کرلیا تب بھی سرینڈرہونے کاالزام لگا مگر جب سے ایندھن کا بحران پیدا ہوا ہے اس فقرے میں تبدیلی آگئی ہے ۔ اب کہا جارہا ہے ‘نریندر ، سلنڈر غائب’۔ یعنی جب عوام کے چولہے پر مشکل آئی تو مودی جی پھونک مار کر چھو منتر ہوگئے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی پر فی الحال ایک اہم ترین عالمی فورم برکس کے صدارت کی ذمہ داری ہے اس لیے انہیں مشرق وسطیٰ کی جنگ پر تمام اہم ارکان کو اعتماد میں لے کر ایک بیان جاری کرنا چاہیے تھا لیکن وہاں تو چین اور روس نے ایران کی حمایت کردی ہے ۔ اس لیے برکس کا بیان بھی لامحالہ امریکہ کے خلاف ہوتا اس لیے وہ اپنی اس ذمہ داری کو بھول گئے یعنی عالمی منظر نامہ سے غائب ہوگئے ۔ قومی سطح پر ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے ایندھن کا مسئلہ حل کرنے کی خاطر انہیں دہلی میں بیٹھ کر کام کرنا چاہیے مگر وہ بی جے پی کے پرچار منتری کی حیثیت سے مغربی بنگال میں انتخابی مہم چلارہے ہیں اور عالمی و قومی دونوں منظر ناموں سے اپنے جڑواں بھائی نیتن یاہو کی طرح غائب ہیں۔ ان دونوں کا مجازی باپ امریکہ تو اپنے بڑے بیٹے اسرائیل کو سنبھالنے کے لیے باپ میدان میں آگیا مگر جنگ سے ایک دن قبل بلند بانگ دعویٰ کرنے والے چھوٹے بھائی نے مشکل کی گھڑی میں طوطا چشمی آنکھیں پھیر لیں۔ ایران نے جب اسرائیل کا مار مار کر برا حال کردیا تو ہندوستان نے اس کی کوئی مدد نہیں کی ۔
فی الحال سوشل میڈیا میں بڑے پیمانے پر نیتن یاہو کے موت کی خبریں گردش کررہی ہیں لیکن اگر وہ غلط ہیں نیز موصوف کسی نامعلوم بنکر میں روپوش ہے تب بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا ؟ یہ صاحب بڑے جوش و خروش سے آئے ۔ اسرائیل کی ایوان میں ایک نہایت اہم اعزاز وصول کیا ۔ خوب چکنی چپڑی باتیں کیں ۔ جنگ و امن میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور واپس جاکر ان سب کو پوری طرح فراموش کردیا ۔ وہ ضرور سوچے گا کہ ایران نے تو حماس سے دوستی کوخوب نبھایا ۔ نہ صرف خود اس کی مدد کرتا رہا بلکہ اپنے حلیف حوثی اور حزب اللہ کے توسط سے بھی ان کی پشت پناہی کی اور بلا خوف وخطر تمام خطرات سے کھیل گیا جبکہ اس کا نام نہاد بھائی بالکل نکماّ نکلا۔ ویسے مستقبل میں بھی اسرائیل ایک گاہک کے طور پر تو ہندوستان کے ساتھ تعلق رکھے گا مگر کبھی بھی اسے اپنا بھائی نہیں سمجھے گا کیونکہ ایسا بھائی کس کام کاجو نازک حالات میں دُم دبا کر بیٹھ جائے ۔
پاسداران انقلاب نے امریکہ کوخبر دار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب حملہ آوروں سے تعلق رکھنے والے کسی جہاز کو گزرنے کا حق نہیں، اگر تمہیں کوئی شک ہے تو قریب آ کر دیکھ لو۔ اس کے بعد انشورنس کمپنیوں نے اپنا پریمیم بہت بڑھا دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بحری دستے سے ان جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کہا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ اس کا کام نہیں ہے ۔ امریکہ اگر ہندوستان کی طرف آنے والے جہازوں کی حفاظت کرنے کا اہل ہوتا تو مودی ایران سے بات نہیں کرتے ۔ ٹرمپ کی بے بسی کے بعد مجبورا ً وزیر اعظم نریندر مودی کا صدر مسعود پزشکیان کو فون کرکے بات کرنا ایک بے معنیٰ مشق ہے ۔ مودی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ”وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب جناب ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی”۔ اس گفتگو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بجائے صدر پزشکیان نے وزیر اعظم کو ایران کی موجودہ صورتحال اور خطے کی حالیہ پیش رفت کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
اس پر وزیر اعظم مودی نے اپنا گھسا پٹا پروچن سناتے ہوئے خطہ میں سلامتی کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان کے اس مستقل موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ”۔ سوال یہ ہے کہ گفتگو تو جاری تھی اس کے دوران حملہ کرکے اس میں رکاوٹ کرنے کا کام نیتن یاہو نے کیوں کیا اور کیا مودی اس کی مذمت کریں گے اگر نہیں تو یہ مشورہ کھوکھلا ہے ۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے ایران سمیت خطے میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور بہبود کے بارے میں ہندوستان کی ترجیح کو اجاگر کیا اور توانائی اور سامان کی بلا روک ٹوک ٹرانزٹ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا لیکن ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ اس بے نتیجہ گفتگو کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ مودی کی یہ رسوائی ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ اب انہیں تیل کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے پاسداران اور پزشکیان کی شرائط کے آگے بھی سرینڈر ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔انہیں قبول کرنے کے بعد پہلا آئل ٹینکرہر مز سے ہوکر ممبئی آچکا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک مرتبہ جو کمر جھکتی ہے پھر وہ جھکتی ہی چلی جاتی ہے ۔ اسی لیے راہل گاندھی بار بار وزیر اعظم کو ایک کومپرومائزڈ بلیک میل ہونے والا رہنما کہتے ہیں اور ان الزامات کی تردید کرنا بی جے پی کے لیے ممکن نہیں ہے ۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ہم سایہ چین بھی تو ہماری طرح کثیر آبادی والا ملک ہے ۔ وہ بھی ہماری طرح تیل کی دولت سے محروم ہے مگر وہاں کے سربراہِ مملکت پر مودی جیسا برا وقت کیوں نہیں آیا؟ اس کی دووجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ کہ اس نے روس اور ایران جیسے صحیح دوست چُنے اور وہاں سے تیل کی برآمد کا پختہ انتظام کیا جس پر موجودہ بحران اثر انداز نہیں ہوسکا ۔ یہ ممالک ہندوستان کے بھی قریبی دوست رہے ہیں لیکن مودی نے امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی کے لیے دونوں کو چھوڑ دیا۔ اب حالت یہ ہے کہ اسرائیل تو خود تیل کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اس لیے ہندوستان کو کہاں سے دے گا ؟ ویسے امریکہ کی داداگیری جس طرح ہندوستان پر چلتی اتنی چین پر نہیں چل سکتی۔امریکہ نے وینزویلا سے تیل لوٹ کر ہندوستان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے لیے وہ مکیش امبانی کے ساتھ مل کر امریکہ کے اندر ریفائنری تعمیر کرنا چاہتا ہے ۔ ہندوستان کے بھگت خوش ہورہے ہیں کہ اس طرح ملک کا نام روشن ہورہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سے ہندوستان کی عوام کا کیا فائدہ ہوگا؟
ماضی میں روس مجبوری کے اندر ہندوستان کو سستا تیل بیچتا تھا ۔ اس کی صفائی ہندوستان میں ہوتی تھی اس سے ہمارے ملک کے لوگوں کو روزگار اور ٹرانسپورٹ کرنے والوں کو کام ملتا تھا ۔ سرکار ی خزانے میں ٹیکس آجاتا تھا ۔ اب امبانی کی امریکی ریفائنری وہاں کے لوگ کام کریں گے ۔ اس سے وہ تیل خاصا مہنگا ہوکر اگر ہندوستان آئے گا تو یہاں کے لوگوں کو اس کی اونچی قیمت چکانی پڑے گی لیکن مودی جی کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ ان کو تو امبانی سے ملنے والا چندہ بڑھ جائے گا۔ اس کا استعمال میڈیا پر خرچ کرکے ہوا سازی کے لیے کیا جائے گا اور اس طرح وہ انتخابی جیت درج کرواتے رہیں گے ۔ گودی میڈیا میں ہندو مسلم کھیل کر عوام کو ورغلانے کا کھیل زور و شور سے جاری رہے گا۔ سرکاری خزانے سے لوگوں کا روپیہ انہیں کو ریوڑی کی مانند بانٹ کر ان کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جائے گا۔ اس کے باوجود جو کسر رہ جائے گی اس کو پورا کرنے کی خاطر الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹ چرا لیے جائیں گے ۔ بی جے پی کی سرکار میں عوام قطار میں کھڑی ہوکر گیس خریدتی رہے گی ۔ ان حقائق کا انکار کرکے اسے حزب اختلاف کی چال بتایا جاتا رہے گا ۔ مودی سرکار کی اقتدار میں رہنے کی چانکیہ نیتی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ نیپال جیسا انقلاب ہندوستان میں برپا نہیں ہوجاتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر