... loading ...
بے لگام / ستارچوہدری
تین سو پچاس ارب ڈالر کہاں گئے ۔۔۔؟ یہ شاہانہ طیارے ، بچوں کے ہنی مون، یہ بیرون ملک فلیٹ، یہ آف شور کمپنیاں، یہ سیر و سیاحت کے لمبے سرکاری قافلے ، ، یہ محلات، یہ فارم ہاؤس، یہ لندن اور دبئی کی جائیدادیں، آخر یہ سب آیا کہاں سے ۔۔۔۔؟ اور اگر یہ سب عوام کی دولت سے بنا ہے تو پھر وہ عوام کہاں ہیں جن کے نام پر قرضے لیے گئے تھے ۔۔۔؟اس سوال کا جواب شاید کسی معاشی رپورٹ میں نہ ملے ، کسی پارلیمانی تقریر میں نہ ملے ، کسی سرکاری فائل میں نہ ملے ،مگر حیرت کی بات ہے کہ اس سوال کا جواب ایک پرانے افسانے میں ضرور مل جاتا ہے ۔
ایک جھونپڑی ہے ۔ سردیوں کی ایک تاریک رات ہے ۔ باہر باپ اور بیٹا، گھیسو اور مادھو۔۔۔ بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے ہیں۔۔۔ اور جھونپڑی کے اندر نوجوان بہو بدھیا دردِ زہ سے تڑپ رہی ہے ۔ اس کی چیخیں رات کے سناٹے کو چیر رہی ہیں، کبھی وہ کراہتی ہے ، کبھی پکارتی ہے ، کبھی درد سے زمین پر لیٹ جاتی ہے ۔۔۔مگر باہر بیٹھے دونوں مرد بے حسی سے آلو کھاتے رہتے ہیں۔۔۔ گھیسو کہتا ہے !!۔۔ لگتا ہے بچے گی نہیں۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا۔ جا دیکھ تو آ۔۔۔ مادھو بیزاری سے جواب دیتا ہے ،مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی،دیکھ کر کیا کروں۔۔۔؟یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا اصول بہت سادہ ہے ، کام کم، آرام زیادہ۔۔۔گھیسو ساٹھ برس کی عمر گزار چکا ہے ، مگر زندگی بھر کام سے زیادہ آرام کو ترجیح دی۔ مادھو نے بھی باپ کی روایت کو بڑی وفاداری سے آگے بڑھایا۔ دونوں باپ بیٹے گاؤں میں بدنام تھے ۔ جب کبھی کام کرتے بھی تو ایسے جیسے احسان کر رہے ہوں،گھر میں اگر کسی نے اس خاندان کو سہارا دیا تھا تو وہ یہی عورت تھی بدھیا۔۔وہ پسائی کرتی تھی، گھاس کاٹتی تھی، مزدوری کرتی تھی، اور شام کو ایک سیر آٹا لے آتی تھی تاکہ اس گھر کا چولہا جل سکے ۔ مگر اس رات وہ عورت مر رہی تھی۔۔۔ اور دونوں مرد الاؤ کے سامنے آلو کھا رہے تھے ۔صبح ہوئی تو بدھیا مر چکی تھی۔ اس کے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ اس کے پیٹ میں بچہ بھی مر چکا تھا۔اب مسئلہ یہ تھا کہ کفن کہاں سے آئے گا۔۔۔۔؟ گھیسو نے کہا !! گاؤں والوں سے مانگ لیں گے ۔دونوں گاؤں نکل پڑے ۔ لوگوں کو بتایا کہ بہو مر گئی ہے ۔ گاؤں والوں کو رحم آ گیا۔ کسی نے دو آنے دیے ، کسی نے چار آنے ، کسی نے آٹھ آنے ۔ یوں کچھ ہی دیر میں پانچ روپے جمع ہو گئے ۔۔۔ پانچ روپے ، تاکہ مرنے والی کو کفن دیا جا سکے ۔ گھیسو اور مادھو بازار کی طرف چل پڑے ۔ مگر راستے میں گھیسو رک گیا۔ اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا،لکڑی تو جلانے کیلئے مل ہی جائے گی۔ اب کفن کی کیا ضرورت ہے ۔۔؟مادھو نے بھی فوراً سر ہلا دیا۔ چند لمحوں بعد دونوں شراب خانے میں بیٹھے تھے ۔ شراب منگوائی گئی۔ کباب منگوائے گئے ۔ کچھ ہی دیر میں وہ پانچ روپے جو ایک مردہ عورت کے کفن کیلئے جمع ہوئے تھے ، دونوں باپ بیٹے کے پیٹ میں اتر چکے تھے ۔۔۔ نشے میں جھومتے ہوئے گھیسو نے کہا کفن تو ہم نے خرید لیا ہے ۔ افسانہ ختم ہو جاتا ہے ۔ مگر اصل سوال اب شروع ہوتا ہے۔
اب ذرا ایک لمحہ رک کر اپنے ملک کی طرف دیکھیے ۔
پاکستان کے ذمے اس وقت تقریباً 130ارب ڈالر بیرونی قرضہ ہے اور قریب 220ارب ڈالر اندرونی قرضہ،یعنی مجموعی طور پر تقریباً 350 ارب ڈالر۔ یہ قرضہ کس کے نام پر لیا گیا تھا۔۔۔۔؟ عوام کے نام پر۔ کہا گیا تھا اس سے ملک میں تعلیم کا انقلاب آئے گا، اسپتال بنیں گے ، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، انصاف مضبوط ہوگا، غربت ختم ہوگی۔۔۔ اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ مگر آج ذرا گردن گھما کر دیکھ لیجیے ۔ اس ملک میں کروڑوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں، سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو بستر تک نصیب نہیں، ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوجوان نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں،انصاف کا دروازہ عام آدمی کیلئے اتنا دور ہے کہ وہ خواب سا لگتا ہے ۔۔۔ اورغربت۔۔۔؟ وہ تو پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے ۔۔۔ تو پھر یہ350ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئے ۔۔۔؟۔۔۔اگر قرض سے اسکول بنتے ، اسپتال بنتے ، صنعتیں لگتیں، روزگار پیدا ہوتا، تو شاید میں یہ سوال نہ اٹھاتا کہ اربوں ڈالر کہاں گئے ۔۔۔۔؟ مجھے اس سوال کا جواب کسی معاشی رپورٹ میں نہیں مل سکا،کوئی آڈٹ رپورٹ بھی یہ جواب نہ دے سکی،ہمارے انوسٹی گیشن ادارے ،ہمارے عدالتیں بھی یہ جواب دینے سے قاصر ہیں،مجھے یہ جواب ملا تو منشی پریم چند کے افسانے ”کفن ” میں ملا۔وہاں ایک مردہ عورت کے کفن کے پیسے شراب میں اڑا دیے گئے تھے ۔۔۔اور یہاں پوری قوم کے کفن کے پیسے ،نئے طیاروں،ہنی مونوں،فلیٹوں،آف شور کمپنیوں،فارم ہاؤسوں، جائیدادوں،سیرسپاٹوں،موج مستیوں میں اڑا دیئے گئے ۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پریم چند کی کہانی میں گھیسو اورمادھو دو آدمی تھے ۔۔۔ اور ہماری کہانی میں زیادہ کردار ہیں۔۔پریم چند کے افسانے میں صرف ایک بدھیا تھی،پاکستان کے افسانے میں پوری قوم ہے ،
بہرحال ۔۔۔۔وہ بھی کفن چور تھے ،یہ بھی کفن چور ہیں۔۔
٭٭٭