وجود

... loading ...

وجود

کفن چور

منگل 17 مارچ 2026 کفن چور

بے لگام / ستارچوہدری

تین سو پچاس ارب ڈالر کہاں گئے ۔۔۔؟ یہ شاہانہ طیارے ، بچوں کے ہنی مون، یہ بیرون ملک فلیٹ، یہ آف شور کمپنیاں، یہ سیر و سیاحت کے لمبے سرکاری قافلے ، ، یہ محلات، یہ فارم ہاؤس، یہ لندن اور دبئی کی جائیدادیں، آخر یہ سب آیا کہاں سے ۔۔۔۔؟ اور اگر یہ سب عوام کی دولت سے بنا ہے تو پھر وہ عوام کہاں ہیں جن کے نام پر قرضے لیے گئے تھے ۔۔۔؟اس سوال کا جواب شاید کسی معاشی رپورٹ میں نہ ملے ، کسی پارلیمانی تقریر میں نہ ملے ، کسی سرکاری فائل میں نہ ملے ،مگر حیرت کی بات ہے کہ اس سوال کا جواب ایک پرانے افسانے میں ضرور مل جاتا ہے ۔
ایک جھونپڑی ہے ۔ سردیوں کی ایک تاریک رات ہے ۔ باہر باپ اور بیٹا، گھیسو اور مادھو۔۔۔ بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے ہیں۔۔۔ اور جھونپڑی کے اندر نوجوان بہو بدھیا دردِ زہ سے تڑپ رہی ہے ۔ اس کی چیخیں رات کے سناٹے کو چیر رہی ہیں، کبھی وہ کراہتی ہے ، کبھی پکارتی ہے ، کبھی درد سے زمین پر لیٹ جاتی ہے ۔۔۔مگر باہر بیٹھے دونوں مرد بے حسی سے آلو کھاتے رہتے ہیں۔۔۔ گھیسو کہتا ہے !!۔۔ لگتا ہے بچے گی نہیں۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا۔ جا دیکھ تو آ۔۔۔ مادھو بیزاری سے جواب دیتا ہے ،مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی،دیکھ کر کیا کروں۔۔۔؟یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا اصول بہت سادہ ہے ، کام کم، آرام زیادہ۔۔۔گھیسو ساٹھ برس کی عمر گزار چکا ہے ، مگر زندگی بھر کام سے زیادہ آرام کو ترجیح دی۔ مادھو نے بھی باپ کی روایت کو بڑی وفاداری سے آگے بڑھایا۔ دونوں باپ بیٹے گاؤں میں بدنام تھے ۔ جب کبھی کام کرتے بھی تو ایسے جیسے احسان کر رہے ہوں،گھر میں اگر کسی نے اس خاندان کو سہارا دیا تھا تو وہ یہی عورت تھی بدھیا۔۔وہ پسائی کرتی تھی، گھاس کاٹتی تھی، مزدوری کرتی تھی، اور شام کو ایک سیر آٹا لے آتی تھی تاکہ اس گھر کا چولہا جل سکے ۔ مگر اس رات وہ عورت مر رہی تھی۔۔۔ اور دونوں مرد الاؤ کے سامنے آلو کھا رہے تھے ۔صبح ہوئی تو بدھیا مر چکی تھی۔ اس کے منہ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ اس کے پیٹ میں بچہ بھی مر چکا تھا۔اب مسئلہ یہ تھا کہ کفن کہاں سے آئے گا۔۔۔۔؟ گھیسو نے کہا !! گاؤں والوں سے مانگ لیں گے ۔دونوں گاؤں نکل پڑے ۔ لوگوں کو بتایا کہ بہو مر گئی ہے ۔ گاؤں والوں کو رحم آ گیا۔ کسی نے دو آنے دیے ، کسی نے چار آنے ، کسی نے آٹھ آنے ۔ یوں کچھ ہی دیر میں پانچ روپے جمع ہو گئے ۔۔۔ پانچ روپے ، تاکہ مرنے والی کو کفن دیا جا سکے ۔ گھیسو اور مادھو بازار کی طرف چل پڑے ۔ مگر راستے میں گھیسو رک گیا۔ اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا،لکڑی تو جلانے کیلئے مل ہی جائے گی۔ اب کفن کی کیا ضرورت ہے ۔۔؟مادھو نے بھی فوراً سر ہلا دیا۔ چند لمحوں بعد دونوں شراب خانے میں بیٹھے تھے ۔ شراب منگوائی گئی۔ کباب منگوائے گئے ۔ کچھ ہی دیر میں وہ پانچ روپے جو ایک مردہ عورت کے کفن کیلئے جمع ہوئے تھے ، دونوں باپ بیٹے کے پیٹ میں اتر چکے تھے ۔۔۔ نشے میں جھومتے ہوئے گھیسو نے کہا کفن تو ہم نے خرید لیا ہے ۔ افسانہ ختم ہو جاتا ہے ۔ مگر اصل سوال اب شروع ہوتا ہے۔
اب ذرا ایک لمحہ رک کر اپنے ملک کی طرف دیکھیے ۔
پاکستان کے ذمے اس وقت تقریباً 130ارب ڈالر بیرونی قرضہ ہے اور قریب 220ارب ڈالر اندرونی قرضہ،یعنی مجموعی طور پر تقریباً 350 ارب ڈالر۔ یہ قرضہ کس کے نام پر لیا گیا تھا۔۔۔۔؟ عوام کے نام پر۔ کہا گیا تھا اس سے ملک میں تعلیم کا انقلاب آئے گا، اسپتال بنیں گے ، نوجوانوں کو روزگار ملے گا، انصاف مضبوط ہوگا، غربت ختم ہوگی۔۔۔ اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوگا۔ مگر آج ذرا گردن گھما کر دیکھ لیجیے ۔ اس ملک میں کروڑوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں، سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو بستر تک نصیب نہیں، ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوجوان نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں،انصاف کا دروازہ عام آدمی کیلئے اتنا دور ہے کہ وہ خواب سا لگتا ہے ۔۔۔ اورغربت۔۔۔؟ وہ تو پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہے ۔۔۔ تو پھر یہ350ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئے ۔۔۔؟۔۔۔اگر قرض سے اسکول بنتے ، اسپتال بنتے ، صنعتیں لگتیں، روزگار پیدا ہوتا، تو شاید میں یہ سوال نہ اٹھاتا کہ اربوں ڈالر کہاں گئے ۔۔۔۔؟ مجھے اس سوال کا جواب کسی معاشی رپورٹ میں نہیں مل سکا،کوئی آڈٹ رپورٹ بھی یہ جواب نہ دے سکی،ہمارے انوسٹی گیشن ادارے ،ہمارے عدالتیں بھی یہ جواب دینے سے قاصر ہیں،مجھے یہ جواب ملا تو منشی پریم چند کے افسانے ”کفن ” میں ملا۔وہاں ایک مردہ عورت کے کفن کے پیسے شراب میں اڑا دیے گئے تھے ۔۔۔اور یہاں پوری قوم کے کفن کے پیسے ،نئے طیاروں،ہنی مونوں،فلیٹوں،آف شور کمپنیوں،فارم ہاؤسوں، جائیدادوں،سیرسپاٹوں،موج مستیوں میں اڑا دیئے گئے ۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پریم چند کی کہانی میں گھیسو اورمادھو دو آدمی تھے ۔۔۔ اور ہماری کہانی میں زیادہ کردار ہیں۔۔پریم چند کے افسانے میں صرف ایک بدھیا تھی،پاکستان کے افسانے میں پوری قوم ہے ،
بہرحال ۔۔۔۔وہ بھی کفن چور تھے ،یہ بھی کفن چور ہیں۔۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر