وجود

... loading ...

وجود

پاکستان ، افغانستان کشیدگی

منگل 17 مارچ 2026 پاکستان ، افغانستان کشیدگی

ریاض احمدچودھری

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کیا، اِس کا ردِعمل سرحدی سلامتی اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے تھا اور پاکستان اپنی پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے گا۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دو روز قبل افغان طالبان نے پاکستان کے بہادر عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند سادہ ڈرون داغے جنہیں مار گرایا گیا جس کے نتیجے میں ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جب کہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔’افغان وزارت دفاع نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں ‘فضائی حملے’ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ‘جاری جوابی کارروائی ‘ریجیکٹ اوپریشن’ کے تسلسل میں آج شام تقریباً 5 بجے افغان فضائیہ نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں پاکستانی فوج کے سٹریٹجک مرکز ‘حمزہ’ پر فضائی حملہ کیا۔’پاک حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا تھا اور ‘یہ ہمیں اس دہشت گردانہ ذہنیت کی یاد دلاتے ہیں جس کے تحت افغان طالبان کام کر رہے ہیں۔ایک طرف تو افغان طالبان عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب وہ اپنے دہشت گرد آلہ کاروں اور ڈرونز کے ذریعے عام شہریوں کو باقاعدہ نشانہ بناتے ہیں۔پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج افغانستان پر حکمرانی کرنے والی اس کرائے کی دہشت گرد ملیشیا کی اصل حقیقت اور عزائم کے حوالے سے بالکل واضح ہیں۔پاکستان فوج نے واضح کیا کہ ‘آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک افغان طالبان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی بنیادی تشویش دور نہیں کر دیتے۔’ طالبان حکومت کے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں، افغان طالبان رجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی اور افغان طالبان کے ڈرون حملوں جیسی اس کی دیگر شکلوں کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہیں۔ ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان کے عوام کا دفاع کرتے رہیں گے اور افغان طالبان کی ایسی اشتعال انگیزیوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے بدنام ہیں، حال ہی میں ان اکاؤنٹس نے پاکستان کا طیارے مار گرانے کا بے بنیاد دعویٰ کیا، افغان رجیم اکاؤنٹس نے پائلٹوں کو گرفتار کرنے کے بھی بے بنیاد دعوے کیے تھے۔ آپریشن ”غضب للحق ”، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔ پاک افواج نے 14/15 مارچ کی درمیانی شب کچھ دیر پہلے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دیگر ٹیکنیکل تنصیبات کو مزید کامیابی سے نشانہ بنایا ، حملوں کے دوران پاک افواج نے قندھار میں انتہائی اہم ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج ٹنل کو تباہ کر دیا ۔ یہ زیر زمین ٹنل افغان طالبان اور دہشت گرد بطور ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج استعمال کرتے تھے۔
آپریشن غضب لِلحق میں 300 سے زائدطالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ کم و بیش500 زخمی کر دیئے گئے تھے،پاکستان 100سے زائد افغان پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ اور 22 پر قبضہ کر چکا تھا جبکہ افغان طالبان کے 150 سے زائد ٹینک، درجنوں بکتربند گاڑیاں اور اے پی سیز تباہ کی جا چکی تھیں۔ آپریشن میں پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید اور 27 زخمی ہوئے، قوم کو اپنے جوانوں پر فخر ہے،دہشت گردوں اور اْن کے سہولت کاروں کو ویسا ہی جواب دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے۔دو روز قبل کی گئی کارروائیوں میں پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے لغمان میں فضائی حملہ کر کے اسلحہ ڈپو، اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ کو مکمل تباہ کردیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائی میں مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا ہے،افواجِ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب کا سلسلہ جاری ہے۔افغانستان کے خلاف تنبیہی کارروائی گزشتہ سال اکتوبر میں کی گئی تھی،21 اور 22 فروری کی درمیانی شب بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی تاہم اب بھی نتیجہ وہی نکلا جو گزشتہ سال کی کارروائی کے بعد نکلا تھا کہ اْس وقت بھی افغان طالبان نے اپنا قبلہ درست کرنے کے بجائے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔ افغانستان نے اِس بار مجموعی طور پر پاک افغان سرحد کے 15سیکٹروں کے 53 مقامات سے حملہ شروع کیا جس کا ہر مقام پر فوری اور مؤثر جواب دیا گیا، بعض پاکستانی سرحدی مقامات پر کواڈ کاپٹرز اور چھوٹے ڈرونوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی تاہم اْن سب کو ناکام بنا دیا گیا۔
پاکستان کی جوابی کارروائی میں کابل، پکتیا، قندھار،ننگر ہار، خوست اور پکتیکا میں ٹارگٹڈ حملے کئے گئے، فضائی حملوں میں متعدد عسکری تنصیبات، کمانڈ مراکز، کور اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹروں کے علاوہ لاجسٹک بیسوں کو نشانہ بنایا گیا۔یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کی طرف سے کئی گئی کارروائیوں کے تمام اہداف فوجی نوعیت کے تھے اور اِس بات کو یقینی بنایا گیا کہ افغان شہری آبادی محفوظ رہے۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے وجود پیر 16 مارچ 2026
منی پورمیں عوام اور فوج آمنے سامنے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ وجود پیر 16 مارچ 2026
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر