... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق بعض بھارتی مسلمانوں کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر سوگ منانے کے عمل کو ہندو انتہا پسند عناصر نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انتہا پسند ہندو حلقے موجودہ صورتحال میں تمام بھارتی مسلمانوں کو غدار اور بے حس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہندوتوا نظریے پر کاربند بھارت میں غم، تنقید یا خاموشی بھی مذہبی بنیادوں پر طے ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ انتہاپسند نریندر مودی کے زیر اقتدار بھارت میں مسلمانوں کی وفاداری ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بھارت سے ہزاروں کلومیٹر دور جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ بھارتی مسلمانوں کیلئے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ اور مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کی وفاداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگی تنازعات کے تناظر میں مودی حکومت مذہبی تقسیم کو ہوا دے کر داخلی انتشار کو بڑھا رہی ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے محض مسلمان دشمنی کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا مہم شروع کی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر کے بھارتی مسلمانوں کو غدار قرار دینا مودی کے ہندو راشٹرا کے مذموم عزائم کی ایک کڑی ہے۔
بھارت میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منافرت کی مہم چلانے والے ملک، سماج اور آئین کے دشمن ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف 1,300 سے زائد نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کی جانب سے شائع کردہ 2025 کے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر سالانہ رپورٹ بھارت میں نفرت کی سیاست کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور منظم نفرت انگیز جرائم کے تشویشناک معمول بننے کی تصدیق کرتی ہے۔رپورٹ میں 21 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 1,318 براہ راست نفرت انگیز تقاریر کے واقعات درج کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب 668 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار وقتی یا الگ تھلگ واقعات کے بجائے نفرت کے ایک مسلسل اور پھیلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے 1,156 تقاریر براہِ راست مسلمانوں کے خلاف تھیں، جبکہ 133 میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں سامنے آئیں، جو مجموعی واقعات کا 12 فیصد ہیں اور 2024 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے کہا،”اس کی وجہ واضح طور پر آر ایس ایس اور حکمراں جماعت بی جے پی ہے، جن کی آئیڈیالوجی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکانا ہے اور اسے فروغ دیا جا رہا ہے اور مضبوط کیا جا رہا ہے۔””بی جے پی کا کام ہی سماج میں ہندو مسلم صف بندی کرنا ہے، تاکہ فساد ہو اور ہندو متحد ہوں، چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اس لیے ہندو ووٹ کی بنیاد پر وہ اقتدار میں ا?جائے اور اقتدار پر برقرار رہے۔”
حکومت تاہم اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے کہ سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔سی ایس او ایچ کی رپورٹ میں ایک واضح سیاسی رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی۔ تقریباً 88 فیصد نفرت انگیز تقاریر کے واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں، بی جے پی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی ریاستوں یا بی جے پی کے زیرِ انتظام مرکز کے علاقوں میں پیش آئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
سی ایس او ایچ کی ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایویان لیڈگ کا کہنا تھا کہ ”پورے سال نفرت انگیز تقاریر کی بلند سطح برقرار رہی۔ پچھلے برسوں کے برعکس، انتخابی ادوار کے باہر بھی یہ سلسلہ کم نہیں ہوا۔”یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت والی اتر پردیش میں نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کا نمبر ہے۔ یہ پانچوں ریاستیں مجموعی طور پر ملک بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 65 فیصد واقعات کی ذمہ دار رہیں۔ اس کے برعکس، اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت ریاستوں میں 2025 میں 154 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی ہے۔رپورٹ میں منظم ہندوتوا گروہوں کو عوامی نفرت انگیز تقاریر کے بڑے محرکات قرار دیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو 289 واقعات سے جوڑا گیا، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کا نمبر آیا۔ گزشتہ سال کے دوران 160 سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو منتظم یا شریک منتظم کے طور پر شناخت کیا گیا۔
٭٭٭