وجود

... loading ...

وجود

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

جمعه 27 فروری 2026 تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

محمد آصف

انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی انحصار فرد کے کردار پر ہوتا ہے ۔ جب فرد کا کردار مضبوط،متوازن اور اخلاقی اقدار سے مزین
ہو تو معاشرہ امن، عدل اور باہمی احترام کا گہوارہ بن جاتا ہے ، اور جب کردار میں کمزوری، خود غرضی اور اخلاقی انحطاط در آئے تو اجتماعی
زندگی انتشار اور بدامنی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اسی لیے اسلام نے عقائد و عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق و کردار کو غیر معمولی اہمیت دی ہے ۔
قرآن مجید اور سنتِ نبوی ۖ میں تشکیلِ کردار کے ایسے جامع اصول بیان ہوئے ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے
ہیں۔ عصرِ حاضر کے پیچیدہ سماجی چیلنجز کے تناظر میں ان اصولوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ، کیونکہ جدید دور میں جہاں سہولیات اور
معلومات کی فراوانی ہے وہیں فکری انتشار، اخلاقی بحران اور سماجی بے راہ روی بھی نمایاں ہے ۔
قرآن مجید انسان کی کردار سازی کا آغاز ایمان اور تقویٰ سے کرتا ہے ۔ تقویٰ دراصل باطنی نگرانی کا احساس ہے کہ انسان ہر حال میں
اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے ۔ یہ احساس انسان کے اعمال کو سنوارتا اور اسے برائی سے روکتا ہے ۔ قرآن میں بارہا تقویٰ کو کامیابی کا
ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ جب فرد کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف راسخ ہو جائے تو وہ خلوت و جلوت میں یکساں طرزِ عمل اختیار کرتا ہے ۔
اس طرح کردار کی بنیاد اخلاص، دیانت اور ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے ۔ عصرِ حاضر میں جہاں مادی مفادات کو زندگی کا مقصدبنا لیا گیا ہے، وہاں تقویٰ کا تصور انسان کو مادہ پرستی سے نکال کر اخلاقی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
سنت ِنبوی ۖ کردار سازی کا عملی نمونہ پیش کرتی ہے ۔ رسول اکرم ۖ کو قرآن نے”اُسوۂ حسنہ” قرار دیا۔ آپ ۖ کی زندگی
سچائی، امانت، حلم، عفو و درگزر اور عدل و انصاف کا پیکر تھی۔ مکہ کے کافر بھی آپ ۖ کو صادق و امین کہتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
کردار کی اصل بنیاد صداقت اور امانت ہے ۔ آج کے دور میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور بدعنوانی معاشرتی مسائل کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اگر سیرتِ نبوی ۖ کے اصولوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنایا جائے تو اعتماد کی فضا بحال ہو سکتی ہے اور سماجی نظام مضبوط بنیادوں پر
استوار ہو سکتا ہے ۔
قرآن و سنت نے عدل و انصاف کو بھی کردار سازی کا اہم ستون قرار دیا ہے ۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ انصاف کرو، خواہ وہ اپنے خلاف ہی
کیوں نہ ہو۔ یہ تعلیم انسان کو تعصب، گروہی مفادات اور ذاتی خواہشات سے بلند ہو کر حق کا ساتھ دینے کی ترغیب دیتی ہے ۔ عصرِ حاضر
میں نسلی، لسانی اور مسلکی تعصبات نے معاشروں کو تقسیم کر رکھا ہے ۔ اگر عدل کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور رواداری
کو فروغ مل سکتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ گھریلو، معاشی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو پر محیط ہے ۔
حیا اور پاکدامنی بھی اسلامی کردار کا بنیادی جزو ہیں۔ قرآن مرد و زن دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے ۔
جدید میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں فحاشی اور بے راہ روی عام ہو چکی ہے ، جس سے خاندانی نظام متاثر ہو رہا ہے ۔ اسلام کا تصورِ حیا فرد کو
اندرونی پاکیزگی عطا کرتا ہے اور اسے غیر اخلاقی رویوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اگر نوجوان نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حیا اور عفت
کی تعلیم دی جائے تو معاشرتی بگاڑ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے ۔
اسلامی تعلیمات میں صبر اور برداشت کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے ۔ قرآن صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیتا ہے اور سنتِ نبوی ۖ میں
مشکلات کے باوجود استقامت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ آج کے دور میں عدم برداشت، جلد بازی اور غصہ معاشرتی تنازعات کو بڑھا
رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر معمولی اختلاف بھی شدید جھگڑوں میں بدل جاتا ہے ۔ صبر اور حلم کا رویہ اپنانا کردار سازی کے لیے ناگزیر ہے ،
کیونکہ یہی اوصاف انسان کو جذباتی ردِ عمل کے بجائے حکمت اور تدبر کی راہ دکھاتے ہیں۔
امانت و دیانت کا اصول بھی قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے ۔ قرآن اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں
کو ادا کرو۔ دیانت داری صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ہر ذمہ داری میںشامل ہے ، خواہ وہ عہدہ ہو، علم ہو یا سماجی حیثیت۔ موجودہ
دور میں کرپشن اور بدعنوانی ریاستی اور سماجی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر امانت و دیانت کو اجتماعی قدر کے طور پر فروغ دیا جائے تو
اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور معاشی انصاف کو تقویت مل سکتی ہے ۔
معاشرتی تعلقات میں حسنِ سلوک بھی کردار سازی کا اہم جزو ہے ۔ قرآن والدین کے ساتھ احسان، پڑوسیوں کے حقوق اور یتیموں کی
کفالت کی تاکید کرتا ہے ۔ سنتِ نبوی ۖ میں حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا ہے ۔ آج کے دور میں خاندانی نظام کمزور پڑ رہا ہے
اور بزرگ تنہائی کا شکار ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں باہمی احترام، تعاون اور ہمدردی کا درس دیتی ہیں، جو سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہیں۔
عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز میں ایک بڑا مسئلہ فکری انتشار اور مذہبی انتہاپسندی بھی ہے ۔ قرآن اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے اور
امت کو”امتِ وسط” قرار دیتا ہے ۔ سنتِ نبوی ۖ میں بھی شدت پسندی سے منع کیا گیا ہے ۔ اگر قرآن و سنت کے معتدل اور متوازن
اصولوں کو صحیح طور پر سمجھ کر پیش کیا جائے تو انتہاپسندی کے رجحانات کا سدباب ممکن ہے ۔ کردار سازی کا مطلب صرف انفرادی نیکی نہیں بلکہ
اجتماعی توازن اور رواداری کا فروغ بھی ہے ۔
تعلیم کا میدان بھی کردار سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں علم کو نور قرار دیا گیا ہے ،لیکن یہ علم اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب اس کے ساتھ اخلاقی تربیت شامل ہو۔ موجودہ نظامِ تعلیم میں فنی مہارتوں پر زور دیا جاتا ہے ، مگر اخلاقی اقدار کی تعلیم نسبتاً کمزور ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو علم اور اخلاق کو یکجا کرے ، تاکہ طلبہ نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر کامیاب ہوں بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوں۔
خلاصہ یہ کہ قرآن و سنت نے تشکیلِ کردار کے جو اصول عطا کیے ہیں وہ جامع، متوازن اور ہمہ گیر ہیں۔ ایمان، تقویٰ، عدل، صداقت،
امانت، صبر، حیا اور حسنِ سلوک جیسے اوصاف فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔ عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز خواہ وہ اخلاقی
انحطاط ہوں، فکری انتشار ہو یا معاشی بدعنوانی، ان کا پائیدار حل اسلامی تعلیمات میں موجود ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصولوں کو
محض نظری مباحث تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی زندگی میں نافذ کیا جائے ۔ جب قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنایا
جائے گا تو ایک متوازن، پرامن اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے گی، اور یہی اسلام کا حقیقی پیغام اور انسانی فلاح کا راستہ ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر