وجود

... loading ...

وجود

بھارت کے بھوکے مہمان

جمعرات 26 فروری 2026 بھارت کے بھوکے مہمان

افتخار گیلانی

معروف ہندوستانی سفارت کار آنجہانی ستندر لامبا ایک قصہ بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے ۔ نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ وسط ایشیا کی نئی آزاد ریاستیں اپنی سفارتی پہچان بنا رہی تھیں۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے انہیں ان نو آزا ریاستوں کا دورہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ کرغیزستان میں صدر عسکر آکایف نے لامباکے اعزا ز میں عشائیہ کا اہتمام کیا اور ان کو اپنے پاس ہی بٹھا کر ایک خاص کرغیز پکوان سے متعارف کروایا۔یہ بھیڑ کی سالم آنکھ پلیٹ میں رکھی ہوئی تھی، اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ابھی بھی دیکھ رہی ہے ۔ صدر نے ایک آنکھ ان کی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ ان کے ملک کی خاص ڈش ہے اور اسے پورا نگلنا چاہیے تاکہ معدے میں جا کر آہستگی سے تحلیل ہو۔ایک تجربہ کار سفیر کی سنجیدگی اور نفاست کے ساتھ لامبانے بڑی مشقت سے آنکھ حلق سے نیچے اتاری۔ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ صدر نے پوچھا، ذائقہ کیسا ہے ؟سفارتی نزاکت اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ اسے ناگوار کہیں یا منہ بنالیں۔ انہوں نے تعریف کر دی۔صدر خوش ہوئے اور دوسری آنکھ بھی ان کی پلیٹ میں رکھ دی۔ پورا وفد خاموشی سے اس آزمائش کا تماشا دیکھتا رہا جب لامبا دوسری آنکھ حلق سے نیچے اتارنے کی جدوجہد کر رہے تھے ۔ہوٹل واپس پہنچ کر ہی انہوں نے کھانے کا آرڈر دے کر بھوک مٹائی۔
آج کل دہلی کی سرکاری ضیافتوں کا منظر اسی قصے کی یاد دلاتا ہے ۔ہندوستان آنے والے غیر ملکی معززین کو نہایت نفاست سے آراستہ ایسی ویجیٹیرین ڈشز پیش کی جاتی ہیں، جو نارمل سبزی خوروں کے لیے بھی معمہ ہیں۔ یہ مہمان ہوٹل جاکر پھر اصلی کھانا کھاتے ہیں۔دہلی کے سفارتی حلقوں میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ حال ہی میں جب بحر ہندمیں واقع افریقی جزیرہ سی شلز کے صدر پیٹرک ہرمنیے کے اعزاز میں ان کے حالیہ نئی دہلی دورے کے دوران راشٹرپتی بھون یا صدراتی محل میں ضیافت دی گئی، تو ہوٹل واپس جاکر روم سروس سے انہوں نے کھانا منگوایا۔اس ضیافت کا مینو کارڈ شاعری کا نمونہ تھا۔ سفید کدو اور ناریل کا سوپ، منی اوڈپم کری پتے کے تیل کے ساتھ۔ کوشمبری، بھنا ہوا نناس دہی کے جھاگ کے ساتھ، کٹہل اور کچے کیلے ، سرسوں کی تہہ کے ساتھ گجرات کا ڈھوکلا۔مین کورس میں گجراتی انداز کے آلو، بھنے ہوئے بینگن، پنیر اور مشروم شامل تھے ۔
یہ کوئی ایک واقعہ نہیں تھا۔ بعض سفارتی ذرائع کے مطابق ایک عرصے سے دیگر مہمان بھی راشٹرپتی بھون اور حیدرآباد ہاؤس کی ضیافتوں سے لوٹ کر اپنے ہوٹلوں میں خاموشی سے کھانا منگواتے دیکھے گئے ہیں۔سرکاری کھانا مسکراہٹوں کے ساتھ تناول کیا جاتا ہے ۔ اصل عشائیہ آدھی رات کو وہ اپنے ہوٹل روم میں کھاتے ہیں۔رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے دعویٰ کیا تھا کہ 2023میں جی 20سربراہان مملکت کو دی گئی ضیافت کے بعد، جہاں باجرہ کھلایا گیا تھا، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے کمرے میں روٹی، پنیر اور کولڈ کٹس منگوائے ۔ ابھی حال ہی میں نئی دہلی میں مصنوی ذہانت کے سمٹ میں آئے مندوبین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی پکوان ‘ورنِلا’ تھا، جسے ‘رنگین اور دلکش’ قرار دیا گیا۔اس میں ننھی پالک کی کرکری تہہ، دہی کا گولا، املی اور کھجور کی چٹنی، پرانی دہلی کے مسالے کے ساتھ دھنیا کی چٹنی اور جوار کی کرکری شامل تھی۔مینو میں منسیاڑی کی راجما، پہاڑی چاول، کماؤنی آلو اور سبز کے گٹکے ، ریشمی ٹماٹر اناری شامل تھے ۔یعنی بنیادی طور پر راجما چاول ان کو کھلا یا گیا۔روٹی کے لیے مینو میں کشمیری گردہ تھا۔ حالانکہ کشمیر میں گردہ کو عموماً چائے کے ساتھ کھایا جاتا ہے نہ کہ ڈنر یا مین کورس میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے ۔
اب دہلی کی سیاسی راہداریوں میں سوال گردش کر رہا ہے ، کیا میزبان کو اپنی غذائی ترجیحات مہمان پر نافذ کرنی چاہیے ؟ اور کیا ضیافت سے بھوکے پیٹ لوٹتا مہمان کسی کامیاب سفارت کاری کی علامت ہے ؟جن رہنماؤں کی عادت بھنے ہوئے گوشت، اسٹیک، پائی، گرل مچھلی اور بھرپور کورسز کی ہو، ان کے لیے سبک سبزی خور پیشکشیں کسی معمہ سے کم نہیں ہے ۔حتیٰ کہ کچھ سبزی خور بھی کہتے ہیں کہ بعض پکوان کھانے سے زیادہ کسی غزل کے قطعات معلوم ہوتے ہیں۔انڈین ایکسپریس میں کالم نویس کومی کپور معروف صحافی آنجہانی ایم وی کامت کا حوالہ دے کر لکھتی ہیں کہ رچرڈ نکسن جب ابھی امریکہ کے صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہوئے تھے ، تو ہندوستان دورے کے دوران اس وقت کے وزیر خزانہ مرارجی دیسائی نے انہیں عشائیہ دیا، جو انتہائی حد تک ویجیٹیرین تھا۔کالم نویس کے بقول نکسن نے اس ضیافت کا موازنہ پاکستان میں ان کے اعزاز میں ہوئی شاندار ضیافتوں سے کیا۔ نکسن کے صدراتی دور میں ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے ۔
روایت رہی ہے کہ جب ہندوستانی لیڈران بیرون ملک دوروں پر ہوتے ہیں، تو میزبان ان کے لیے سبزی کی خوراک متبادل کے بطور رکھتے ہیں، مگر ساتھ ہی وسیع دسترخوان بھی سجاتے ہیں۔دہلی کے راشٹرپتی بھون اور حیدرآباد ہاؤس میں بھی طویل عرصے تک مہمان ملک کے ذوق کا ایک آدھ پکوان شامل کرنا رواج ہوتا تھا۔ تاکہ مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں اور اس دوران غیر رسمی بات چیت کے دور بھی چلتے تھے ۔ 2011میں عوامی سفارت کاری کے ماہر پال راکاؤر نے لکھا تھا کہ دل جیتنے کا راستہ معدے سے ہو کر گزرتا ہے ۔انیسویں صدی میں غالباً فرانس نے کھانے کو سفارت کاری کی زبان بنایا۔ آگست ایسکوفیئر کے ترتیب دیے گئے عشائیے طاقت کی نمائشی تقریبات ہوتے تھے۔ 14ویں صدر میں مشہور سیاح ابن بطوطہ نے حکمرانوں کی فراوانی کو ان کے پیش کردہ کھانوں سے پرکھا۔ 1972میں چین میں نکسن کے اعزاز میں ضیافتیں ریاستی مہارت کی مثال بن گئیں۔نیویارک ٹائمز نے ان کی تراکیب تک شائع کیں۔جاپان نے 2005میں اپنی غذائی سفارت کاری کو ادارہ جاتی شکل دی۔ جنوبی کوریا نے 77ملین ڈالر گلوبل ہنسک پر خرچ کیے ، جسے کمچی سفارت کاری کہا گیا۔ امریکہ نے 2012 میں کلنری ڈپلومیسی پارٹنرشپ شروع کی اور 80سے زائد شیف مختلف سفارت خانوں میں بھیجے ۔کشمیر کی وازوان ضیافتوں کو بھی بعض موقعوں پر سیاسی اور سفارتی سطح پر استعمال کیا گیا ہے ۔ 1955میں سویت لیڈر نکیتا خروشچیف جب ہندوستان کے دورے پر آئے ، تو وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے یقینی بنایا کہ وہ سرینگر بھی جائیں۔ایک مشہور تصویر میں اس وقت کے وزیر اعظم کشمیر بخشی غلام محمد، خروشچیف کے منہ میں کانٹے سے مشہور کشمیری ڈش گوشتابہ ٹھونس رہے ہیں اور خروشچیف کہہ رہے ہیں کہ ایسی ضیافت والے خطہ کو وہ کسی اور کے قبضہ میں نہیں جانے دیں گے ۔انہوں نے ہندوستانی لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سویت یونین تو بس ان دوپیکر پہاڑوں کے پیچھے ہے ۔’بس آواز دینے کی ضرورت ہے ، سویت یونین مدد کے لیے پہنچے گا’۔ گو یہ جملے انہوں نے مذاق میں ہی کہے ہوں گے ، مگر حقیقت ہے کہ خروشچیف کی واپسی پر سوویت یونین نے اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق قراردادوں کو ویٹو کرنا شروع کردیا۔اس سے پہلے سلامتی کونسل متفقہ قرارداد منظور کر چکی تھی جس میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کی بات کی گئی تھی۔ وادی کی گلیوں میں آج بھی زبان زد عام ہے کہ کشمیر کو گوشتابہ کے عوض بیچا گیا ۔
تاریخ یقینا زیادہ پیچیدہ ہے ، مگر قصہ اس لیے زندہ ہے کہ کھانا اور طاقت اکثر ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں۔شیخ محمد عبداللہ نے اپنی خودنوشت آتش چنار میں لکھا ہے کہ انہوں نے قید کے دوران خروشچف کے جہازوں کو کڈ جیل کے اوپر سے گزرتے دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ سری نگر میں دی گئی ضیافت اب کشمیر کو سپر پاور رقابت میں الجھا دے گی۔ سلاخوں کے پیچھے بھی وہ اس ضیافت کی علامت کو سمجھتے تھے ۔اپریل 1985 میں کھانا پھر سیاسی آزمائش کی علامت بنا ۔ وزیر اعلیٰ غلام محمد شاہ، کانگریس پارٹی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے متوقع قدم سے سیاسی غیر یقینی کا شکار تھے ۔ انہوں نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کو نئی دہلی میں جموں و کشمیر ہاؤس میں دعوت دی۔سری نگر سے ماہر باورچی اور وازوان کے اجزا خصوصی طور پر منگوائے گئے ۔ چند منتخب صحافی بھی مدعو تھے ۔ عشائیہ کے بعد جب شاہ کی حکومت کے مستقبل پر سوال کیا گیا، تو گاندھی، جو ابھی لذت کام و دہن میں مصروف تھے ، نے کہا کہ کانگریس ابھی شاہ حکومت کی حمایت جاری رکھے گی۔ یعنی وازوان نے شاہ حکومت کو گرنے سے بچا لیا۔ دسترخوان نے سیاست کو سہارا دیا۔
سابق فرانسیسی وزیر اعظم ژاں پیئر رافران کا قول ہے کہ میز وہ جگہ ہے جہاں طاقت اثر انداز ہوتی ہے اور تعلقات بنتے ہیں۔یہ سب مودی حکومت کو ایک اہم سوال کے سامنے کھڑا کردیتا ہے ۔باجرہ، دیسی اناج اور سبزی خور روایت پر فخر بجا ہے ۔ یہ پائیدار اور مقامی پیداوار کی علامت ہیں۔مگر سرکاری ضیافت زرعی نمائش نہیں ہوتی ہے ۔ یہ تہذیبوں کا ملاپ ہوتی ہے ۔غذائی سفارت کاری یکطرفہ خطاب نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ مکالمہ ہوتا ہے ۔سامنے والے کے ذوق کو سننا بھی اس کا حصہ ہے ۔ ضیافت ثقافتی بیان بن سکتی ہے ، مگر انجانے میں صبر کا امتحان بھی بن سکتی ہے ۔اگر کوئی صدر سرکاری عشائیے کے بعد روم سروس منگوائے تو منظر کچھ عجیب سا لگتا ہے ۔سفارت کاری آسودگی پیدا کرنے کا فن ہے ۔ جس میں حکمت عملی اور طعام دونوں کام آتے ہیں۔شاید حل راجما، باجرہ یا سفید کدو کو ترک کرنا نہیں ہے ، بلکہ مہمانوں کی پسند کا بھی خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے ۔
آخرکار دل کا راستہ معدے سے ہو کر ہی گزرتا ہے ۔ اور سفارت کاری میں خالی معدہ اکثر سرد مہری چھوڑ جاتا ہے ۔اس پر داؤ لگانا کہاں کی دانشمندی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے!

ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش وجود جمعرات 26 فروری 2026
ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش

ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر