... loading ...
بے لگام / ستار چوہدری
دواہم باتیں،میں تو سوچتا ہوں ،آپ بھی سوچیں، کیوں ۔۔۔ ؟خاموش معاشرے زوال پزیر ہوجاتے ہیں،زندہ رہنے کی آوازیں دب جاتی ہیں،خاموشی توڑنے والا فرد ہی معاشرے کو زندہ رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔مصری مصنف نووال السعداوی کہتی ہیں انسان کو شرمندہ ہونا چاہیے جب اس کا معاشرہ ناکام ہو اوروہ اسے تبدیل کرنے کیلئے کچھ پیش نہ کر سکے ۔
پہلی بات۔۔۔۔!!
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، کیا ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی یا انگریزوں نے ہم سے آزادی حاصل کی تھی ۔۔۔ ؟ کیونکہ۔۔۔ قومیں جب آزاد ہوتی ہیں تو ان کے رویے بدلتے ہیں،سوچ میں وسعت آتی ہے ، کردار میں مضبوطی آتی ہے ، اداروں میں وقار آتا ہے ۔ مگر ہم نے کیا حاصل کیا۔۔۔۔؟ ہم نے انگریز کی وردی بدل دی مگر ذہنیت نہیں بدلی، ہم نے گوروں کی کرسی پر اپنوں کو بٹھا دیا مگر رعایا والا نظام برقرار رکھا۔ ہم آج بھی طاقت کے سامنے جھکتے ہیں، آج بھی قانون کمزور کیلئے ہے اور طاقتور کے لیے راستہ، آج بھی سفارش، چاپلوسی اور مفاد پرستی ترقی کا زینہ ہیں۔ پھر سوال تو بنتا ہے ، اگر یہ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا غلامی کے دور میں تھا، تو پھر آزادی کہاں آئی۔۔۔۔؟ کبھی کبھی لگتا ہے انگریزوں نے سوچا ہوگا۔۔۔ یہ قوم خود ہی اپنے اوپر حکومت کر کے وہ سب کرے گی جو ہم کرتے تھے تو بہتر ہے ہم واپس چلے جائیں۔۔۔۔ آزادی جھنڈا لہرانے کا نام نہیں، آزادی سوچ آزاد کرنے کا نام ہے ۔۔۔ اور شاید ہم نے جھنڈا تو حاصل کر لیا مگر ذہن کی زنجیریں نہیں توڑ سکے ۔
دوسری بات۔۔۔!!
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں،جس قیامت پر ہمارا ایمان ہے ،کہیں ایسا تو نہیں،وہ بہت پہلے آچکی ہو اور ہم دوزخ میں رہ رہے ہوں۔۔۔۔؟ کبھی کبھی دل کانپ اٹھتا ہے ، یہ کیسا زمانہ ہے ۔۔۔؟ یہاں خون ہے ، ایسا خون جو زمین پر گرتا ہے او خبر بھی نہیں بنتا۔ یہاں آگ ہے ، ایسی آگ جو گھروں میں نہیں، دلوں میں جل رہی ہے ۔یہاں اندھیرے ہیں ،ایسے اندھیرے جو صرف رات کے نہیں، نظام کے ہیں۔ یہاں تشدد ہے ،لفظوں میں بھی، رویوں میں بھی، فیصلوں میں بھی۔ یہاں قید و بند ہے ، جسموں کی بھی، آوازوں کی بھی،سوچوں کی بھی۔ یہاں سزائیں ہیں، کبھی جرم سے پہلے ، کبھی بغیر جرم کے ۔ یہاں نفسا نفسی کا عالم ہے ، ہر شخص اپنی جان بچانے میں مصروف، کسی کو کسی کا درد سننے کی فرصت نہیں۔ ہم نے دوزخ کے بارے میں سنا تھا کہ وہاں آگ ہوگی، چیخیں ہوں گی، رحم نہیں ہوگا، نجات کا راستہ بند ہوگا۔ تو پھر یہ سب کچھ کیا ہے ۔۔۔۔۔؟ یہ منظر کسی جنت کا تو نہیں۔۔۔۔؟
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں ۔۔ مجھے لگتا ہے ہم آزادی کے قابل تھے مگر ذمہ داری کے قابل نہیں تھے ۔ہم نے حق مانگا مگر فرض بھول گئے ، ہم نے نعرے سیکھے مگر اصول نہیں سیکھے ۔ ہم نے جذبات کو سیاست بنا لیا اور شعور کو مذاق۔ہم نے لیڈر کو مسیحا بنا دیا اور خود کو بے بس ہجوم۔ ہم نے ووٹ کو ہتھیار سمجھا مگر امانت نہیں سمجھا۔ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا لیا اور مکالمے کو کمزوری۔ ہم نے قانون کو کتابوں تک محدود رکھا اور طاقت کو عملی آئین بنا لیا۔ ہم نے سچ کو خطرہ سمجھا اور جھوٹ کو حکمتِ عملی۔ ہم نے دیانتدار کو بے وقوف کہا اور چالاک کو ذہین۔ ہم نے تعلیم کو ڈگری سمجھا اور کردار کو غیر ضروری۔ ہم نے نوجوانوں کو نعروں میں الجھا دیا اور ان کے سوالوں سے خوف کھایا۔ ہم نے مذہب کو ہتھیار بنایا اور اخلاق کو پس پشت ڈال دیا۔ ہم نے ہر شکست کا الزام دوسروں پر رکھا اور ہر غلطی پر خود کو معاف کر دیا۔ ہم نے اداروں سے دیانت مانگی مگر خود دیانت دینے کو تیار نہ ہوئے ۔ ہم نے تبدیلی کا انتظار کیا مگر خود بدلنے کا ارادہ نہ کیا۔ ہم نے آزادی کا جشن منایا مگر غلام ذہنیت پر ماتم نہ کیا۔ ہم نے تاریخ پر فخر کیا مگر حال پر شرمندگی محسوس نہ کی۔ ہم نے آئین کو مقدس کہا مگر عمل کو اختیاری سمجھا۔ ہم نے قوم ہونے کا دعویٰ کیا مگر ہجوم سے آگے نہ بڑھ سکے ۔ ہم نے خواب بڑے دیکھے مگر نیت چھوٹی رکھی۔ ہم نے طاقت کو معیار بنایا اور انصاف کو تقریر تک محدود رکھا۔ ہم نے سچ بولنے والوں کو تنہا چھوڑ دیا اور تالیاں بجانے والوں کو آگے کر دیا۔ ہم نے ہر بار یہی کہا کہ وقت بدل جائے گا مگر وقت کو بدلنے کی کوشش نہ کی۔
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، اگر آج انگریز واپس آ جائیں تو کیا ہوگا۔۔۔؟ شاید وہ ہمیں دیکھ کر حیران ہوں۔ کہ ہم نے ان کے بغیر بھی وہی نظام زندہ رکھا ہے ۔ وہی فاصلے ، وہی ناانصافیاں، وہی تکبر، وہی غلام ذہنیت۔
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں، اگر قیامت واقعی آ جائے اور ہمیں صف ِحساب میں کھڑا کر دیا جائے ، تو ہم کیا کہیں گے ۔۔۔۔؟ کہ ہمیں موقع نہیں ملا۔۔۔؟ کہ حالات خراب تھے ۔۔۔؟ کہ سازشیں تھیں۔۔۔؟ یا یہ کہیں گے کہ ہم نے سچ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کی۔۔۔؟ ہم نے غلط کو غلط کہنے سے ڈر محسوس کیا۔۔۔؟ ہم نے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔۔۔؟ قیامت شاید زمین کے پھٹنے کا نام نہیں قیامت شاید اس دن کا نام ہے جب ضمیر مر جائے ۔ اور اگر ضمیر زندہ ہو تو پھر امید بھی زندہ ہے ۔ آزادی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ قیامت ابھی آئی نہیں۔ مگر وقت کم ضرور ہو رہا ہے ۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے ہم تاریخ کا ماتم بننا چاہتے ہیں یا تاریخ کا موڑ۔۔؟ ہم غلام ذہن رہنا چاہتے ہیں یا آزاد کردار بننا چاہتے ہیں۔۔۔؟ ہم دوزخ جیسی زندگی کا رونا روتے رہیں گے یا اسے بدلنے کی ضد کریں گے ۔۔۔۔؟
میں تو سوچتا ہوں،بلکہ۔۔۔ کبھی کبھی سنجیدگی سے سوچتا ہوں،آپ بھی سوچیں، قیامت کی گھنٹی بج چکی ہے ۔۔۔ اور اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو شاید کل تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ ہم پر قیامت آئی تھی تاریخ یہ لکھے گی کہ ہم خود قیامت تھے ۔
٭٭٭